Urdu Class 9 Lesson 9: Ibtidai Hisab (Ibn-e-Insha) Notes

سبق 9: ابتدائی حساب (Ibtidai Hisab (Ibn-e-Insha))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے نویں سبق ‘ابتدائی حساب’ پر مبنی ہیں، جو ابنِ انشا کا لکھا ہوا ایک طنزیہ و مزاحیہ مضمون ہے، جو ان کی کتاب ‘اردو کی آخری کتاب’ سے لیا گیا ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں سبق کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خاں تھا، مگر ان کا قلمی نام ‘ابنِ انشا’ اتنا مشہور ہوا کہ لوگ ان کا اصل نام بھول گئے۔ وہ ضلع جالندھر (مشرقی پنجاب، انڈیا) کی تحصیل نکودر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد کھیتی باڑی کرتے تھے۔ لدھیانہ سے میٹرک پاس کیا؛ آگے تعلیم جاری رکھنے کی خواہش تھی مگر تنگ دستی کے باعث ملازمت اختیار کرنا پڑی، تاہم انھوں نے پرائیویٹ طور پر تعلیم جاری رکھی اور پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔

قیامِ پاکستان کے بعد ابنِ انشا ہجرت کر کے لاہور آئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہو گئے۔ اپنی محنت اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت ترقی کرتے ہوئے وہ سرکاری ادارے ‘پاکستان نیشنل سنٹر’ کے سربراہ اور یونیسکو (UNESCO) کے پاکستان دفتر کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ یونیسکو سے وابستگی کے باعث انھیں مشرق و مغرب کے مختلف ممالک کے سفر کے مواقع ملے، جس کے نتیجے میں اردو ادب میں کئی خوب صورت سفرناموں کا اضافہ ہوا، جن میں ‘آوارہ گرد کی ڈائری’، ‘دنیا گول ہے’، ‘ابنِ بطوطہ کے تعاقب میں’ اور ‘چلتے ہو تو چین کو چلیے’ شامل ہیں۔

ان کی کتاب ‘اردو کی آخری کتاب’، جو مولانا محمد حسین آزاد کی مشہور کتاب ‘اردو کی پہلی کتاب’ کی پیروڈیوں (تحریف نگاری) کا مجموعہ ہے، طنز و مزاح کے اعلیٰ نمونوں سے بھرپور ہے۔ ابنِ انشا نے خود لکھا ہے کہ یہ کتاب ذہنی طور پر بالغ قارئین کے لیے ہے، کیوں کہ اسے پوری طرح سمجھنے کے لیے تاریخ، جغرافیائی سرحدوں اور معاشرتی حالات کا شعور درکار ہوتا ہے۔ زیرِ نصاب سبق ‘ابتدائی حساب’ اسی کتاب سے ماخوذ ہے۔ ابنِ انشا کا انتقال 1978ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

تعارف — ریاضی کی اصطلاحات میں سماجی طنز

ابنِ انشا اس مضمون میں ریاضی کے چار بنیادی قاعدوں — جمع، تفریق، ضرب، تقسیم — کے ساتھ ساتھ الجبرا اور جیومیٹری کی اصطلاحات کو محض ایک بہانہ بنا کر معاشرے، سیاست اور روزمرہ زندگی کی بے اعتدالیوں پر لطیف اور کاٹ دار طنز کرتے ہیں۔ ہر ریاضی اصطلاح کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی حقیقت چھپی ہوتی ہے۔

جمع کا قاعدہ

مصنف کے مطابق جمع کا قاعدہ ہر ایک کے لیے مختلف ہے — عام آدمی کے لیے مہنگائی کے باعث کچھ جمع ہی نہیں ہو پاتا، انکم ٹیکس والے آدھا لے جاتے ہیں، تجارت کے قاعدے میں دس اور ایک مل کر گیارہ کے بجائے کچھ اور ہو جاتے ہیں اور رشوت کے قاعدے میں حاصلِ جمع اور بھی زیادہ نکل آتا ہے۔ ایک ‘زبانی جمع خرچ’ کا قاعدہ بھی ہے، جو محض ملکی مسائل حل کرنے کے وعدوں کے کام آتا ہے۔

تفریق کا قاعدہ

مصنف تفریق کو کسی کو سندھی، بنگالی یا مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کر کے پیدا کی جانے والی نفرت اور امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جو لوگ زیادہ جمع کرتے ہیں وہی زیادہ تفریق بھی پیدا کرتے ہیں، اور عام آدمی اس قاعدے کو پسند نہیں کرتا کیوں کہ تفریق سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ضرب کا قاعدہ

تیسرے قاعدے ضرب کی مصنف کئی قسمیں بتاتے ہیں — ضربِ خفیف، ضربِ شدید، ضربِ کاری — اور کہتے ہیں کہ حاصلِ ضرب کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ضرب کس چیز سے لگائی گئی، پھر کی، لاٹھی کی یا بندوق کی۔ آدمی کو آدمی سے ضرب دیں تو حاصلِ ضرب بھی آدمی ہی ہوتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ زندہ ہو۔

تقسیم کا قاعدہ

مصنف کے نزدیک تقسیم حساب کا سب سے متنازع قاعدہ ہے، جس پر سب سے زیادہ جھگڑے ہوتے ہیں۔ اس کی مثالیں دیتے ہوئے وہ چوروں کے مال بانٹنے، اہل کاروں کی رشوت بانٹنے اور بالآخر یہ طنز کرتے ہیں کہ آسان تقسیم کا فارمولا یہ ہے کہ حقوق خود اپنے پاس رکھے جائیں اور فرائض دوسروں میں بانٹ دیے جائیں۔

ابتدائی الجبرا

مصنف الجبرا کو ‘جبراً پڑھائے جانے والا حساب’ قرار دیتے ہوئے اس کے سب سے مشہور لفظ ‘لا’ پر لفظی مزاح کرتے ہیں — جیسے لامکاں، لادوا، لاولد وغیرہ میں ‘لا’ نفی کے معنی دیتا ہے، مگر لاہور، لازمی جیسے الفاظ میں یہ استثنا کی صورت میں آ جاتا ہے۔ وہ اسے آج کل کی عملی زندگی، خصوصاً دکان داروں کی ‘پیسہ لا، اور لا’ والی روزمرہ زبان سے بھی جوڑتے ہیں۔

ابتدائی جیومیٹری — خطوط کی اقسام

مصنف جیومیٹری کو ‘لکیروں کا کھیل’ کہتے ہوئے مختلف خطوط پر طنز کرتے ہیں: خطِ مستقیم (سیدھا آدمی نقصان اٹھاتا ہے)، خطِ تقدیر (جسے مٹانا مشکل ہے)، خطِ ڈاک (جس پر دگنے پیسے دینے پڑتے ہیں)، خطِ نسخہ (جو ڈاکٹروں کی بدنیتی یا لاپروائی کی علامت ہے) اور خطِ استوا (جہاں دن رات برابر ہونے کی طرح مساوات نظر آنی چاہیے)۔ متوازی خطوط پر بھی وہ طنزیہ تبصرہ کرتے ہیں کہ ان کے آپس میں کبھی نہ ملنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

ابتدائی جیومیٹری — نقطہ، دائرہ اور مثلث

نقطے کے بارے میں مصنف طنزیہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ایک نقطہ جگہ نہیں گھیرتا، مگر بہت سے نقطوں سے سارا ملک گھیرا جا سکتا ہے۔ دائرے پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ ‘دائرۂ اسلام’ کی مثال دیتے ہیں کہ پہلے اس میں لوگوں کو داخل کیا جاتا تھا، اب صرف خارج کیا جاتا ہے۔ مثلث کے تین کونوں پر بھی مختصر طنزیہ اشارہ کرتے ہیں۔

سیاق و سباق کے ساتھ تشریح

نثر پارہ (موضوع: تفریق کے قاعدے کے ذریعے قومی و مذہبی امتیاز پر طنز) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: ابنِ انشا — سبق کا عنوان: ابتدائی حساب۔ مشکل الفاظ کے معنی: تفریق (فرق ڈالنا، جدائی پیدا کرنا)، آزمودہ (آزمایا ہوا، تجربے میں پرکھا ہوا)، حاصلِ تفریق (تفریق کرنے کا نتیجہ)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں ابنِ انشا حساب کے دوسرے قاعدے ‘تفریق’ کو معاشرتی امتیاز اور تعصب سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ کسی کو یہ کہہ کر کہ ‘تم سندھی ہو تو سندھی نہیں ہو’، یا ‘تم بنگالی ہو تو بنگالی نہیں ہو’، یا ‘تم مسلمان ہو تو مسلمان نہیں ہو’ — اسی کو تفریق پیدا کرنا کہتے ہیں۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جو لوگ زیادہ جمع کر لیتے ہیں وہی زیادہ تفریق بھی پیدا کرتے ہیں، اور عام آدمی اس قاعدے کو ناپسند کرتا ہے کیوں کہ اسے تفریق سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ اقتباس نسلی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر پیدا کیے جانے والے تعصب پر ایک کاٹ دار طنز ہے۔

نثر پارہ (موضوع: دائرۂ اسلام کی مثال کے ذریعے اخراج و شمولیت کے رویے پر طنز) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: ابنِ انشا — سبق کا عنوان: ابتدائی حساب۔ مشکل الفاظ کے معنی: دائرہ (گول شکل، حلقہ)، داخل کرنا (شامل کرنا)، خارج کرنا (نکال باہر کرنا)۔ تشریح: اس اقتباس میں ابنِ انشا جیومیٹری کی اصطلاح ‘دائرہ’ کو ‘دائرۂ اسلام’ سے جوڑ کر ایک لطیف مگر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ پہلے زمانے میں لوگوں کو اس دائرے میں داخل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی، مگر آج کل صرف خارج کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس مختصر جملے کے ذریعے مصنف فرقہ وارانہ تنگ نظری اور دوسروں کو دین سے خارج قرار دینے کے رجحان پر گہرا اور مؤثر طنز کرتے ہیں۔

اہم الفاظ کے معنی

تفریق

فرق ڈالنا، جدائی پیدا کرنا۔

حاصلِ ضرب

ضرب دینے کا نتیجہ۔

آزمودہ

آزمایا ہوا، تجربے میں پرکھا ہوا۔

قناعت

تھوڑے پر صبر و اطمینان۔

مستثنیات

استثنا کی صورتیں، الگ سے قواعد۔

خطِ مستقیم

سیدھی لکیر۔

خطِ استوا

زمین کے وسط میں فرضی گولائی کی لکیر، Equator۔

متوازی خطوط

وہ لکیریں جو کبھی آپس میں نہ ملیں۔

پیروڈی (تحریف نگاری)

کسی مشہور تحریر کی طنزیہ نقل۔

طنز و مزاح

کسی خامی کی طرف ہنسی مذاق کے ذریعے اشارہ کرنا۔

خاکہ

حساب کی اصطلاحات میں چھپا سماجی طنز: مضمون میں بیان کیے گئے چھ حسابی قاعدوں پر مصنف کے طنزیہ نکتوں کا خاکہ۔

حساب کی اصطلاحات میں چھپا سماجی طنز - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

مصنف کے مطابق جمع کے قاعدے پر عمل کرنا آسان کیوں نہیں؟

مصنف کے مطابق مہنگائی کے باعث سب کچھ خرچ ہو جاتا ہے اور کچھ جمع نہیں ہو پاتا، اس لیے جمع کا قاعدہ آسان نہیں۔

مصنف کے نزدیک تفریق پیدا کرنے کا کیا مطلب ہے؟

مصنف کے نزدیک کسی کو سندھی، بنگالی یا مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کرنا ہی تفریق پیدا کرنا ہے۔

ضرب کی کون کون سی قسمیں بیان کی گئی ہیں؟

ضربِ خفیف، ضربِ شدید اور ضربِ کاری جیسی قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

تقسیم کے قاعدے پر سب سے زیادہ جھگڑے کیوں ہوتے ہیں؟

کیوں کہ تقسیم کا مطلب بانٹنا ہے اور مال، حقوق اور فرائض کی تقسیم پر اکثر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

الجبرا کو یہ نام کیوں دیا گیا؟

چوں کہ طلبہ اس سے گھبراتے ہیں اور یہ جبراً پڑھایا جاتا ہے، اسی لیے اسے الجبرا کہا جاتا ہے۔

مصنف کے مطابق خطِ تقدیر کی کیا خصوصیت ہے؟

خطِ تقدیر فرشتوں کی سیاہی سے کھینچا جاتا ہے اور اسے مٹانا مشکل ہوتا ہے۔

مصنف نے متوازی خطوط پر کیا طنز کیا ہے؟

مصنف کے مطابق متوازی خطوط کبھی آپس میں نہیں ملتے، اور کتابوں کے دعوے کے برعکس انھیں ملانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کبھی نہیں کی گئی۔

دائرۂ اسلام کی مثال سے مصنف نے کیا طنز کیا ہے؟

مصنف نے طنز کیا ہے کہ پہلے لوگوں کو اس دائرے میں داخل کیا جاتا تھا، مگر اب صرف خارج کرنے کا عمل جاری ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

مضمون ‘ابتدائی حساب’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

مصنف نے جمع اور تفریق کے قاعدوں پر کیا طنز کیا ہے؟

مصنف نے جمع کو انکم ٹیکس اور رشوت جیسے معاشی مسائل سے، اور تفریق کو قومی، لسانی اور مذہبی امتیاز پیدا کرنے سے جوڑ کر طنز کیا ہے۔

ضرب اور تقسیم کے قاعدوں میں کیا سماجی حقیقتیں چھپی ہیں؟

ضرب مختلف قسم کے تشدد اور طاقت کے استعمال کی علامت ہے، جب کہ تقسیم میں مصنف حقوق اپنے پاس رکھنے اور فرائض دوسروں میں بانٹنے کے رویے پر طنز کرتے ہیں۔

الجبرا کے بارے میں مصنف کا کیا نقطۂ نظر ہے؟

مصنف الجبرا کو جبراً پڑھائے جانے والے مضمون کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کے لفظ ‘لا’ پر دل چسپ لفظی مزاح کرتے ہیں۔

جیومیٹری کے حوالے سے مصنف نے کیا خاص باتیں بیان کی ہیں؟

مصنف نے مختلف خطوط (تقدیر، ڈاک، نسخہ، استوا) اور دائرۂ اسلام کی مثال کے ذریعے سماجی و مذہبی رویوں پر بھرپور طنز کیا ہے۔

ابنِ انشا کی طنز و مزاح نگاری کی خصوصیات پر روشنی ڈالیں۔

ابنِ انشا کی کتاب ‘اردو کی آخری کتاب’ کی نوعیت کیا ہے؟

یہ کتاب مولانا محمد حسین آزاد کی ‘اردو کی پہلی کتاب’ کی پیروڈیوں کا مجموعہ ہے، جس میں طنز و مزاح کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔

ابنِ انشا اپنی تحریر میں مزاح کس تکنیک سے پیدا کرتے ہیں؟

وہ عام اصطلاحات (ریاضی، جیومیٹری) کو معاشرتی و سیاسی حقائق پر لاگو کر کے اور لفظی مشابہت سے دل چسپ مزاح پیدا کرتے ہیں۔

ابنِ انشا نے خود اپنی کتاب کے بارے میں کیا لکھا ہے؟

انھوں نے لکھا کہ یہ کتاب ذہنی طور پر بالغ قارئین کے لیے ہے، کیوں کہ اسے سمجھنے کے لیے تاریخ اور معاشرتی شعور درکار ہوتا ہے۔

‘ابتدائی حساب’ کا مجموعی پیغام کیا ہے؟

پیغام یہ ہے کہ روزمرہ کی سادہ اصطلاحات کے پیچھے بھی سنجیدہ سماجی و سیاسی حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں، جنھیں مزاح کے پردے میں بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

مصنف کے نزدیک زبانی جمع خرچ کا قاعدہ کس کام آتا ہے؟ (الف) بچوں کو بہلانے کے لیے (ب) دوستوں کو خوش کرنے کے لیے (ج) گھر کے مسائل حل کرنے کے لیے (د) ملکی مسائل حل کرنے کے لیے

درست جواب: (د) ملکی مسائل حل کرنے کے لیے۔ مصنف کے مطابق یہ آزمودہ قاعدہ ملکی مسائل حل کرنے کے کام آتا ہے۔

‘میں سندھی ہوں تو سندھی نہیں ہے’ — اسے کیا کہتے ہیں؟ (الف) جمع کرنا (ب) تفریق پیدا کرنا (ج) ضرب دینا (د) تقسیم کرنا

درست جواب: (ب) تفریق پیدا کرنا۔ مصنف کے مطابق کسی کی شناخت سے انکار کرنا تفریق پیدا کرنا کہلاتا ہے۔

آدمی کو آدمی سے ضرب دیں تو حاصلِ ضرب کیا ہوتا ہے؟ (الف) گائے (ب) آدمی (ج) محاورہ (د) عدد

درست جواب: (ب) آدمی۔ مصنف کے مطابق حاصلِ ضرب بھی آدمی ہی ہوتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ زندہ ہو۔

مصنف کے مطابق سب سے زیادہ جھگڑے کس قاعدے پر ہوتے ہیں؟ (الف) جمع کے قاعدے پر (ب) تفریق کے قاعدے پر (ج) ضرب کے قاعدے پر (د) تقسیم کے قاعدے پر

درست جواب: (د) تقسیم کے قاعدے پر۔ مصنف کے مطابق سب سے زیادہ جھگڑے تقسیم کے قاعدے پر ہوتے ہیں۔

خطِ استوا کہاں ہوتا ہے؟ (الف) جہاں سمندر ہو (ب) جہاں دن رات برابر ہوں (ج) جہاں راتیں بڑی ہوں (د) جہاں دن بڑے ہوں

درست جواب: (ب) جہاں دن رات برابر ہوں۔ مصنف کے مطابق خطِ استوا اس لیے ہوتا ہے تاکہ کہیں تو دن رات برابر ہوں اور مساوات نظر آئے۔

مصنف کے مطابق دائرے میں قطر کی لمبائی نصف قطر سے کتنی زیادہ ہوتی ہے؟ (الف) ڈگنی (ب) تگنی (ج) چار گنی (د) کئی گنا

درست جواب: (الف) ڈگنی۔ مصنف طنزیہ لکھتے ہیں کہ دائرے میں قطر کی لمبائی ہمیشہ نصف قطر سے دگنی ہوتی ہے۔

‘ابتدائی حساب’ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟ (الف) اردو کی پہلی کتاب (ب) اردو کی آخری کتاب (ج) دنیا گول ہے (د) چلتے ہو تو چین کو چلیے

درست جواب: (ب) اردو کی آخری کتاب۔ یہ سبق ابنِ انشا کی کتاب ‘اردو کی آخری کتاب’ سے ماخوذ ہے۔

‘اردو کی آخری کتاب’ دراصل کس کتاب کی پیروڈی ہے؟ (الف) اردو کی پہلی کتاب از مولانا محمد حسین آزاد (ب) آبِ حیات از مولانا محمد حسین آزاد (ج) نیرنگِ خیال از مولانا محمد حسین آزاد (د) دیوانِ غالب

درست جواب: (الف) اردو کی پہلی کتاب از مولانا محمد حسین آزاد۔ ‘اردو کی آخری کتاب’ مولانا محمد حسین آزاد کی ‘اردو کی پہلی کتاب’ کی پیروڈیوں کا مجموعہ ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • ابنِ انشا (اصل نام شیر محمد خاں، 1927ء-1978ء): مشہور طنز و مزاح نگار اور سفرنامہ نگار، کتاب ‘اردو کی آخری کتاب’۔
  • جمع: مہنگائی، انکم ٹیکس اور رشوت پر طنز۔ تفریق: قومی، لسانی اور مذہبی امتیاز پر طنز۔
  • ضرب: مختلف طرح کے تشدد و طاقت پر طنز۔ تقسیم: حقوق اپنے پاس، فرائض دوسروں پر — سب سے متنازع قاعدہ۔
  • الجبرا: جبراً پڑھایا جانے والا مضمون، ‘لا’ کے لفظی مزاح کی مثالیں۔
  • جیومیٹری: خطوط، نقطہ، دائرہ (‘دائرۂ اسلام’ کی مثال) اور مثلث کے ذریعے سماجی و مذہبی رویوں پر طنز۔

امتحانی نکات

  • نثر پارے کی تشریح لکھتے وقت ہمیشہ مصنف کا نام، سبق کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
  • مضمون کے چھ اہم حصوں (جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، الجبرا، جیومیٹری) کی ترتیب اور ہر ایک میں چھپے طنز کو یاد رکھیں۔
  • ابنِ انشا کی دیگر مشہور تصانیف، خصوصاً ان کے سفرنامے، امتحان کے لیے یاد رکھیں۔
  • طنز و مزاح کی تعریف اور اس صنف کی خصوصیات واضح الفاظ میں بیان کرنے کی مشق کریں۔
  • خلاصہ لکھتے وقت مضمون کے ہر حصے کا لبِ لباب ایک منطقی ترتیب سے مختصراً بیان کریں۔