Urdu Class 9 Lesson 6: Naam Dev-Mali (Maulvi Abdul Haq) Notes

سبق 6: نام دیو-مالی (Naam Dev-Mali (Maulvi Abdul Haq))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے چھٹے سبق ‘نام دیو-مالی’ پر مبنی ہیں، جو مولوی عبد الحق کی کتاب ‘چند ہم عصر’ سے ماخوذ ایک خاکہ ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں سبق کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

مولوی عبد الحق 1870ء میں ہاپوڑ (یوپی، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد سکول اور کالج کی تعلیم علی گڑھ میں حاصل کی، جہاں انھیں سر سید احمد خاں، مولانا حالی، مولانا شبلی نعمانی، پروفیسر تھامس آرنلڈ اور نواب محسن الملک جیسے اہلِ علم سے استفادے کا موقع ملا۔ ملازمت کا آغاز حیدر آباد دکن کے ایک سکول سے کیا، بعد ازاں عثمانیہ کالج، اورنگ آباد کے پرنسپل بنے اور 1930ء میں سبک دوش ہوئے۔

مولوی عبد الحق 1912ء میں ‘انجمن ترقی اردو’ کے سیکرٹری منتخب ہوئے اور اسے ایک فعال علمی ادارہ بنا دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1949ء میں انجمن کا دفتر لے کر کراچی آ گئے۔ ان کی ساری زندگی اردو زبان کی خدمت اور اس کی ترقی و بقا کی جدوجہد میں گزری، اسی لیے قوم نے انھیں ‘بابائے اردو’ کا لقب دیا۔ انھوں نے کراچی میں اردو آرٹس کالج، اردو سائنس کالج، اردو کامرس کالج اور اردو لا کالج کے قیام کو عملی جامہ پہنایا اور ‘اردو’ و ‘قومی زبان’ کے نام سے رسالے جاری کیے۔ یہ مولوی عبد الحق ہی کی کوششیں تھیں جن کی بدولت قائدِ اعظم نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔

مولوی عبد الحق کی تحریر بے ساختگی اور سادگی کی حامل ہے، وہ جگہ جگہ ہندی الاصل الفاظ بڑی خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں اور ان کا اسلوب بول چال کی زبان سے قریب ہے۔ ان کی کتاب ‘چند ہم عصر’ میں انھوں نے اپنے 23 ہم عصروں کے خاکے لکھے ہیں۔ زیرِ نصاب خاکہ ‘نام دیو-مالی’ اسی کتاب سے لیا گیا ہے، جو ایک ایسے مالی کا خاکہ ہے جس کا اوڑھنا بچھونا اس کے پودے تھے۔ مولوی عبد الحق کا انتقال 1961ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

ذات پات پر مصنف کے خیالات اور نام دیو کا تعارف

مصنف کے مطابق ذات پات کا امتیاز مصنوعی ہے اور رفتہ رفتہ نسلی بن گیا ہے — سچائی، نیکی اور حسن کسی ایک ذات کی میراث نہیں، بلکہ نیچ سمجھی جانے والی ذات میں بھی ویسی ہی خوبیاں پائی جا سکتی ہیں جیسی اونچی ذات میں۔ نام دیو مقبرہ رابعہ دورانی، اورنگ آباد (دکن) کے باغ کا مالی تھا، جسے مصنف نے اپنے بنگلے کے سامنے چمن بنانے کا کام سونپا تھا۔

نام دیو کی اپنے کام میں محویت

مصنف اپنے کمرے کی کھڑکی سے نام دیو کو دیکھتے کہ وہ پودے کے سامنے بیٹھا اس کے پتے صاف کرتا، آہستہ آہستہ پانی دیتا، مٹی درست کرتا اور ہر رخ سے پودے کو نہار کر مسکراتا۔ اسے دیکھ کر مصنف کو یہ احساس ہوا کہ کام اسی وقت حقیقی کام بنتا ہے جب اس میں لذت آنے لگے — بے مزہ کام محض بگاڑ ہے۔

پودوں سے اولاد جیسی محبت

نام دیو کی کوئی اولاد نہ تھی، اس لیے وہ اپنے پودوں اور درختوں ہی کو اپنی اولاد سمجھتا اور ماں کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا۔ انھیں سرسبز و شاداب دیکھ کر ویسا ہی خوش ہوتا جیسے ماں اپنے بچوں کو دیکھ کر خوش ہوتی ہے، اور ہر پودے کے پاس بیٹھ کر گویا اس سے باتیں کرتا محسوس ہوتا۔

بیمار پودوں کی خدمت

کسی پودے میں کیڑا لگ جانے یا کوئی روگ پیدا ہونے پر نام دیو سخت فکرمند ہو جاتا، بازار سے دوائیں لاتا اور ایک ہمدرد ڈاکٹر کی طرح دن بھر اس کی تیمار داری کرتا، یہاں تک کہ پودا صحت یاب ہو جاتا۔ اسی محنت کے باعث اس کے لگائے ہوئے پودے ہمیشہ پروان چڑھتے اور کوئی پودا کبھی ضائع نہ ہوا۔

جڑی بوٹیوں کی شناخت اور مفت علاج

برسوں باغ میں رہنے کے باعث نام دیو کو جڑی بوٹیوں کی خوب شناخت ہو گئی تھی، خصوصاً بچوں کے علاج میں اسے بڑی مہارت حاصل تھی۔ دور دور سے لوگ اس کے پاس علاج کے لیے آتے، اور وہ باغ کی جڑی بوٹیوں سے بلا معاوضہ اور بڑی شفقت سے ان کا علاج کرتا۔

صفائی پسندی اور نظم و ضبط

نام دیو خود بھی صاف ستھرا رہتا اور اپنے چمن کو بھی رسوئی کے چوکے کی طرح پاک صاف رکھتا — کہیں گھاس پھونس نظر نہ آتی، روشیں درست، کٹائی چھنٹائی وقت پر ہوتی۔ باغ کے دیگر مالی اکثر کاہلی کے باعث ڈانٹ کھاتے، مگر نام دیو کو کبھی ٹوکنے کی نوبت نہ آئی۔

خشک سالی میں پودوں کی آبیاری

ایک سال شدید خشک سالی کے باعث باغ کے اکثر پودے تلف ہو گئے، مگر نام دیو کا اپنا چمن ہرا بھرا رہا۔ وہ دور دور سے پانی کے گھڑے اٹھا کر لاتا، اور جب قلت مزید بڑھی تو راتوں کو بھی گدلا پانی ڈھونڈ کر اپنے پودوں کو سیراب کرتا رہا۔

انعام سے انکار

مصنف نے اس کی بے مثل کارگزاری پر اسے انعام دینا چاہا تو نام دیو نے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اپنی اولاد جیسے پودوں کی پرورش پر کوئی انعام کا مستحق نہیں ہوتا — یہ تو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔

شاہی باغ میں منتقلی اور المناک موت

جب مقبرہ رابعہ دورانی کا باغ ڈاکٹر سید سراج الحسن کی نگرانی میں دوبارہ آباد ہوا، تو وہ نام دیو کے بڑے قدردان بن کر اسے شاہی باغ لے گئے، جہاں تربیت یافتہ غیر ملکی مالیوں کے ہجوم میں بھی نام دیو اپنی سچی لگن سے ممتاز رہا۔ ایک دن انجانے میں شہد کی مکھیوں کا چھتا چھڑ گیا، سب مالی بھاگ کر چھپ گئے مگر بے خبر نام دیو اپنے کام میں لگا رہا اور مکھیوں کے ڈنک سے بے دم ہو کر جاں بحق ہو گیا — مصنف اسے ایک طرح کی شہادت قرار دیتے ہیں۔

مصنف کا اختتامی تجزیہ — نیکی اور بڑائی کا معیار

مصنف کے مطابق نام دیو کو کبھی اپنے کام پر فخر یا غرور نہ تھا، وہ ہر ایک سے محبت اور خدمت کرتا مگر کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ نیک کام کر رہا ہے۔ مصنف کے نزدیک نیکی و بڑائی کا اصل معیار یہ ہے کہ انسان اپنی فطری صلاحیت کو کمال تک پہنچانے کی کوشش کرے اور مخلوقِ خدا کو اس سے فائدہ پہنچائے — اسی معیار پر نام دیو، ذات کا نیچ ہونے کے باوجود، بہت سے شریفوں سے زیادہ نیک اور بڑا تھا۔

سیاق و سباق کے ساتھ تشریح

نثر پارہ (موضوع: نام دیو کی پودوں سے محبت اور ان کی بیماری میں خدمت) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: مولوی عبد الحق — سبق کا عنوان: نام دیو-مالی۔ مشکل الفاظ کے معنی: پرورش (پرورش کرنا، پالنا)، نگہداشت (دیکھ بھال)، توانا (طاقتور، صحت مند)، کیرا (پودوں کو لگنے والا کیڑا یا بیماری)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں مصنف مولوی عبد الحق نام دیو کی اپنے پودوں سے محبت بیان کرتے ہیں۔ نام دیو، جس کی کوئی اولاد نہ تھی، اپنے پودوں اور درختوں ہی کو اپنی اولاد سمجھتا اور ماں کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا تھا۔ وہ ہر پودے کے پاس بیٹھ کر اسے پیار کرتا اور اس سے گویا باتیں کرتا محسوس ہوتا۔ کسی پودے میں بیماری لگ جانے پر وہ اس قدر فکرمند ہو جاتا کہ بازار سے دوائیں لاتا اور ایک ہمدرد ڈاکٹر کی طرح دن بھر اس کی تیمار داری کرتا، یہاں تک کہ پودا صحت یاب ہو جاتا — اسی لیے اس کے لگائے ہوئے پودے ہمیشہ پروان چڑھتے اور کوئی پودا کبھی ضائع نہ ہوتا۔

نثر پارہ (موضوع: خشک سالی میں نام دیو کی اپنے پودوں کی آبیاری کے لیے انتھک کوشش) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: مولوی عبد الحق — سبق کا عنوان: نام دیو-مالی۔ مشکل الفاظ کے معنی: قحط (خشک سالی، پانی کی شدید کمی)، نڈھال (تھکا ہارا، بے حال)، آبِ حیات (زندگی بخش پانی، امرت)۔ تشریح: اس نثر پارے میں مصنف اس سال کا ذکر کرتے ہیں جب بارش نہ ہونے کے باعث شدید خشک سالی پیدا ہو گئی اور باغ کے اکثر پودے سوکھ کر تلف ہو گئے، مگر نام دیو کا اپنا چمن ہرا بھرا رہا۔ وہ دور دور سے پانی کے گھڑے اپنے سر پر اٹھا کر لاتا اور اپنے پودوں کو سیراب کرتا؛ جب پانی کی قلت مزید بڑھی تو راتوں کو بھی پانی ڈھونڈنے نکل پڑتا۔ یہ پانی اگرچہ آدھا مٹی ملا گدلا پانی ہوتا، لیکن مصنف کے نزدیک وہی پودوں کے لیے زندگی بخش آبِ حیات تھا۔

اہم الفاظ کے معنی

عزم و استقلال

پختہ ارادہ اور ثابت قدمی۔

بے ساختگی

بناوٹ کے بغیر، فطری روانی۔

کارگزار

اپنے کام میں مستعد اور محنتی۔

کارگزاری

محنت، خدمت گزاری۔

مسکن

رہنے کی جگہ، ٹھکانہ۔

سنسان

ویران، اجاڑ۔

تن درست

صحت مند۔

استعداد

صلاحیت، لیاقت۔

درجہ کمال

اعلیٰ ترین مقام۔

خلقِ خدا

اللہ کی مخلوق، لوگ۔

خاکہ

نام دیو کی شخصیت کے نمایاں پہلو: خاکے میں بیان کیے گئے نام دیو کے کردار کے آٹھ نمایاں پہلوؤں کا خاکہ۔

نام دیو کی شخصیت کے نمایاں پہلو - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

نام دیو-مالی کا تعلق کس ذات سے تھا؟

نام دیو کا تعلق ایک نیچ سمجھی جانے والی ذات سے تھا۔

نام دیو کو اپنے پودوں سے کس حد تک لگاؤ تھا؟

نام دیو، جس کی کوئی اولاد نہ تھی، اپنے پودوں کو اولاد کی طرح سمجھتا اور ماں کی طرح ان کی پرورش اور نگہداشت کرتا تھا۔

نام دیو کا اگر کوئی پودا بیمار پڑ جاتا تو وہ اس کے لیے کیا کرتا؟

وہ بازار سے دوائیں لاتا اور ایک ہمدرد ڈاکٹر کی طرح اس کی تیمار داری کرتا، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جاتا۔

نام دیو کی موت کیسے واقع ہوئی؟

شہد کی مکھیوں کے غضب ناک حملے سے شدید ڈنک لگنے کے باعث نام دیو کی موت واقع ہوئی۔

مصنف کے مطابق نیکی اور بڑائی کا معیار کیا ہے؟

مصنف کے مطابق نیکی و بڑائی کا معیار یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو کمال تک پہنچانے کی کوشش کرے اور اس سے مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچائے۔

نام دیو باغبانی کے علاوہ کس ہنر میں مہارت رکھتا تھا؟

باغبانی کے علاوہ نام دیو کو جڑی بوٹیوں کی شناخت تھی اور خاص طور پر بچوں کے علاج میں مہارت رکھتا تھا۔

مولوی عبد الحق کو کس خدمت کی بنا پر ‘بابائے اردو’ کا لقب دیا گیا؟

مولوی عبد الحق کو اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے ان کی بے پناہ خدمات کے اعتراف میں ‘بابائے اردو’ کا لقب دیا گیا۔

خاکہ ‘نام دیو-مالی’ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟

یہ خاکہ مولوی عبد الحق کی کتاب ‘چند ہم عصر’ سے ماخوذ ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

خاکہ ‘نام دیو-مالی’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

نام دیو کون تھا اور اس کی پودوں سے کیسی وابستگی تھی؟

نام دیو مقبرہ رابعہ دورانی کے باغ کا مالی تھا، جس کی کوئی اولاد نہ ہونے کے باعث وہ اپنے پودوں کو ہی اولاد سمجھتا اور ماں کی طرح ان کی پرورش کرتا تھا۔

نام دیو نے خشک سالی کے دوران اپنے باغ کو کیسے بچایا؟

شدید خشک سالی میں جب دوسرے پودے تلف ہو گئے، نام دیو دور دور سے پانی لا کر اور راتوں کو بھی پانی ڈھونڈ کر اپنے پودوں کو سیراب کرتا رہا۔

شاہی باغ میں نام دیو کا کیا کردار تھا؟

ڈاکٹر سید سراج الحسن نام دیو کو مقبرے کے باغ سے شاہی باغ لے گئے، جہاں تربیت یافتہ غیر ملکی مالیوں کے ہجوم میں بھی نام دیو اپنی محنت اور لگن سے ممتاز رہا۔

نام دیو کی موت کیسے ہوئی اور مصنف نے اسے کیا قرار دیا؟

شہد کی مکھیوں کے حملے سے شدید ڈنک لگنے کے باعث نام دیو اپنے کام کے دوران ہی چل بسا، جسے مصنف نے ایک طرح کی شہادت قرار دیا۔

مولوی عبد الحق کی شخصیت اور اردو کے لیے ان کی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کریں۔

مولوی عبد الحق کہاں پیدا ہوئے اور تعلیم کہاں حاصل کی؟

مولوی عبد الحق 1870ء میں ہاپوڑ میں پیدا ہوئے اور علی گڑھ میں تعلیم حاصل کی، جہاں انھیں سر سید احمد خاں اور مولانا حالی جیسے اساتذہ سے استفادے کا موقع ملا۔

انھیں ‘بابائے اردو’ کا لقب کیوں دیا گیا؟

اردو زبان کی ترویج و ترقی کے لیے ان کی بے پناہ خدمات، بالخصوص انجمن ترقی اردو کی سرپرستی، کی بنا پر قوم نے انھیں ‘بابائے اردو’ کا خطاب دیا۔

انھوں نے اردو کے فروغ کے لیے کون سے ادارے قائم کیے؟

انھوں نے کراچی میں اردو آرٹس کالج، اردو سائنس کالج، اردو کامرس کالج اور اردو لا کالج جیسے اداروں کے قیام کو عملی جامہ پہنایا۔

ان کی نثر نگاری کی خصوصیات کیا ہیں؟

ان کی نثر بے ساختگی اور سادگی کی حامل ہے، وہ ہندی الاصل الفاظ خوبصورتی سے استعمال کرتے ہیں اور ان کا اسلوب بول چال کی زبان سے قریب ہے۔ ان کی مشہور تصنیف ‘چند ہم عصر’ ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

خاکہ ‘نام دیو-مالی’ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟ (الف) آثار الصنادید (ب) چند ہم عصر (ج) رحمتِ عالم (د) مقالاتِ سر سید

درست جواب: (ب) چند ہم عصر۔ یہ خاکہ مولوی عبد الحق کی کتاب ‘چند ہم عصر’ سے ماخوذ ہے۔

نام دیو کس باغ کا مالی تھا؟ (الف) شالیمار باغ (ب) مقبرہ رابعہ دورانی کا باغ (ج) شاہی باغ (د) ہاپوڑ کا باغ

درست جواب: (ب) مقبرہ رابعہ دورانی کا باغ۔ نام دیو مقبرہ رابعہ دورانی، اورنگ آباد کے باغ کا مالی تھا۔

نام دیو اپنے پودوں کو کیا سمجھتا تھا؟ (الف) اپنا دوست (ب) اپنی اولاد (ج) اپنا کاروبار (د) اپنا شوق

درست جواب: (ب) اپنی اولاد۔ کوئی اولاد نہ ہونے کے باعث نام دیو اپنے پودوں کو ہی اپنی اولاد سمجھتا تھا۔

نام دیو کس چیز سے بچوں کا علاج کرتا تھا؟ (الف) گولیوں سے (ب) جڑی بوٹیوں سے (ج) انجکشن سے (د) دعاؤں سے

درست جواب: (ب) جڑی بوٹیوں سے۔ نام دیو اپنے باغ کی جڑی بوٹیوں سے بچوں کا علاج کرتا تھا۔

نام دیو کی موت کس سبب سے ہوئی؟ (الف) بیماری سے (ب) درخت سے گر کر (ج) شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے (د) بڑھاپے سے

درست جواب: (ج) شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے۔ شہد کی مکھیوں کے غضب ناک حملے سے نام دیو کی موت واقع ہوئی۔

ڈاکٹر سید سراج الحسن نام دیو کو کہاں لے گئے؟ (الف) دہلی (ب) شاہی باغ (ج) کراچی (د) حیدرآباد

درست جواب: (ب) شاہی باغ۔ ڈاکٹر صاحب نام دیو کو مقبرے کے باغ سے شاہی باغ لے گئے۔

مولوی عبد الحق کو کس لقب سے یاد کیا جاتا ہے؟ (الف) بابائے قوم (ب) بابائے اردو (ج) شاعرِ مشرق (د) حکیم الامت

درست جواب: (ب) بابائے اردو۔ مولوی عبد الحق کو ‘بابائے اردو’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

مولوی عبد الحق نے 1912ء میں کس انجمن کی سیکرٹری کی ذمہ داری سنبھالی؟ (الف) انجمن حمایتِ اسلام (ب) انجمن ترقی اردو (ج) انجمن پنجاب (د) انجمن اسلامیہ

درست جواب: (ب) انجمن ترقی اردو۔ مولوی عبد الحق 1912ء میں انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔

مصنف کے نزدیک نیکی و بڑائی کا معیار کیا ہے؟ (الف) دولت (ب) عبادت کی کثرت (ج) صلاحیت کو کمال تک پہنچانا (د) شہرت

درست جواب: (ج) صلاحیت کو کمال تک پہنچانا۔ مصنف کے نزدیک اپنی صلاحیت کو کمال تک پہنچانا اور مخلوقِ خدا کو فائدہ پہنچانا ہی نیکی و بڑائی کا معیار ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • مولوی عبد الحق (1870ء-1961ء): ‘بابائے اردو’، انجمن ترقی اردو کے سیکرٹری، مصنف ‘چند ہم عصر’، اردو کالجوں کے بانی۔
  • نام دیو مقبرہ رابعہ دورانی کے باغ کا مالی — پودوں کو اولاد کی طرح پالتا، بیمار پودوں کی ڈاکٹر کی طرح تیمار داری کرتا۔
  • خشک سالی میں نام دیو کی انتھک آبیاری، جڑی بوٹیوں سے بچوں کا مفت علاج، صفائی پسندی اور انعام سے انکار۔
  • شاہی باغ میں منتقلی — تربیت یافتہ مالیوں میں بھی نام دیو کی محنت و لگن ممتاز رہی۔
  • شہد کی مکھیوں کے ڈنک سے المناک موت — مصنف کے نزدیک ایک طرح کی شہادت۔ نیکی و بڑائی کا معیار: صلاحیت کو کمال تک پہنچانا۔

امتحانی نکات

  • نثر پارے کی تخریج لکھتے وقت ہمیشہ مصنف کا نام، سبق کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
  • خاکے کے اہم واقعات (بیمار پودوں کی خدمت، خشک سالی، شاہی باغ، شہد کی مکھیاں) کی صحیح ترتیب یاد رکھیں۔
  • مولوی عبد الحق کی اردو کے لیے خدمات (انجمن ترقی اردو، اردو کالجز، قومی زبان کا درجہ) نمایاں طور پر یاد رکھیں۔
  • خلاصہ لکھتے وقت خاکے کے تمام اہم پہلوؤں کو ایک منطقی ترتیب سے مختصراً بیان کریں۔
  • اہم تراکیب (عزم و استقلال، بے ساختگی، استعداد وغیرہ) کے معنی اور استعمال کی مشق کریں۔