سبق 19: کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا (Kash Toofan Mein Safine Ko Utara Hota (Ghazal – Parveen Fana Syed))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے انیسویں اور آخری سبق پر مبنی ہیں، جو معروف شاعرہ پروین فنا سید کی غزل ‘کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا’ ہے اور کتاب کی چار غزلوں میں سے چوتھی اور آخری غزل ہے۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں شعر وار تشریح، استعارہ اور تصورِ فنا کا تعارف، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
شاعر کا تعارف
پروین فنا سید کا اصل نام پروین سید تھا۔ شاعری کے آغاز میں انھوں نے ‘فنا’ تخلص اختیار کیا اور یوں پروین فنا سید کے نام سے معروف ہوئیں۔ نصاب کے مطابق ان کا تعلق لاہور سے تھا۔ ان کے والد سید ناصر حسین رضوی محکمہ جیل خانہ جات میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے عہدے پر فائز تھے، جب کہ ان کی والدہ سیدہ افتخار النساء امورِ خانہ داری کی ماہر خاتون تھیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت نصاب کے مطابق آپ گورداسپور (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں مقیم تھیں، جہاں کے ہندو مسلم فسادات نے ان کے ذہن کو بہت متاثر کیا، جس کے اثرات بعد میں ان کی شاعری میں بھی جھلکتے ہیں۔
انھوں نے گوجرانوالہ سے اعلیٰ نمبروں میں میٹرک پاس کیا اور لاہور آ کر لاہور کالج برائے خواتین میں پری میڈیکل کلاس میں داخلہ لیا۔ لیڈی ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھتی تھیں، مگر شدید علالت کے باعث یہ خواب پورا نہ ہو سکا، کیوں کہ معالجین نے انھیں کچھ عرصہ دباؤ والے کاموں سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ اس کے باوجود ہمت نہ ہاری اور ایک سال بعد انٹرمیڈیٹ کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کر لیا۔ بعد ازاں ان کی شادی سید احمد سے ہوئی، جو اس وقت پاک فوج میں افسر تھے۔ شادی کے بعد لاہور کالج برائے خواتین ہی سے گریجویشن کی، اور امورِ خانہ داری میں ایسی مصروف ہوئیں کہ مزید تعلیم کا خیال ترک کر دیا۔
پروین فنا سید کو فنِ مصوری اور موسیقی سے گہری دل چسپی تھی۔ ان کے فن کا باقاعدہ تعارف 1958ء میں ہوا، جب ریڈیو پاکستان راول پنڈی سے پہلی بار ان کا کلام نشر ہوا۔
نصاب کے مطابق پروین فنا سید ابتدائی دور میں ادا جعفری (1923ء-2015ء) کے اسلوب سے متاثر تھیں اور انھی کے رنگ میں شاعری کرتی تھیں۔ بعد میں فیض احمد فیض سے اصلاح لی اور اپنا الگ شعری رنگ اختیار کیا، جو تادمِ آخر جاری رہا۔ ان کی معاصر شاعرات میں کشور ناہید، شبنم شکیل، فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر جیسے نام شامل ہیں، مگر ان سب کے درمیان ان کی الگ اور نمایاں شناخت رہی۔ ان کی تصانیف میں ‘حرفِ وفا’ اور ‘تمنا کا دوسرا قدم’ شامل ہیں، اور ان کا کلیات بھی شائع ہو چکا ہے۔
استعارہ اور تصورِ فنا
استعارہ
کسی چیز کو براہِ راست، ‘کی طرح’ یا ‘مانند’ کہے بغیر، کسی اور چیز سے تشبیہ دینا — گویا وہ خود وہی چیز بن جائے۔ اس غزل میں سفینہ، طوفان، ساحل اور باغباں ایسے ہی استعارات ہیں۔
تصورِ فنا
دنیا کی بے ثباتی، عارضی پن اور موت و زندگی کے فلسفے کا تصور، جو اس غزل کا مرکزی موضوع ہے اور شاعرہ کے تخلص ‘فنا’ سے بھی خوب صورت مناسبت رکھتا ہے۔
جملہ تمنائیہ
وہ جملہ جس میں کسی ایسی خواہش یا شرط کا اظہار ہو جو ماضی میں پوری نہ ہو سکی — عموماً ‘کاش… ہوتا’ کے انداز میں۔ اس غزل کا ہر شعر اسی جملے کی ساخت پر مبنی ہے۔
متلازم الفاظ
وہ الفاظ جو معنی یا تصور کے اعتبار سے ایک دوسرے سے وابستہ اور ہم رشتہ ہوں، جیسے اس غزل میں ‘طوفان’ اور ‘موجیں’۔
غزل کا تعارف
زیرِ نصاب غزل پروین فنا سید کے کلیات سے لی گئی ہے۔ یہ غزل چھ اشعار پر مشتمل ہے: ایک مطلع، چار درمیانی اشعار، اور ایک مقطع۔ غزل کا ہر شعر ‘کاش…ہوتا’ کے تمنائیہ انداز میں ایک ایسی خواہش یا شرط بیان کرتا ہے جو حقیقت میں پوری نہ ہو سکی، جس سے پوری غزل میں کھوئے ہوئے مواقع اور ادھورے خوابوں کا گہرا احساس پیدا ہوتا ہے۔
شعر وار تشریح
شعر اول (مطلع): جرأت اور امید کا اظہار
شاعرہ خواہش کرتی ہیں کہ کاش انھوں نے طوفان کے دوران اپنی زندگی کی کشتی کو سمندر میں اتارنے کی ہمت کی ہوتی۔ ان کے خیال میں اگر کشتی ڈوب بھی جاتی تو کم از کم لہریں اسے دوبارہ اوپر اٹھا لاتیں — یعنی خطرہ مول لینے میں بھی امید کا پہلو موجود ہوتا۔ یہ شعر بزدلی اور بے عملی کے بجائے جرأت مندانہ اقدام کی تمنا کا اظہار ہے۔
شعر دوم: ساحل کی معمولی امید
شاعرہ کہتی ہیں کہ وہ ساحل (منزل، سکون) کا خیال بھی دل سے مٹا سکتی تھیں، بس شرط یہ تھی کہ ساحل کی طرف سے کوئی معمولی سا اشارہ یا امید کی جھلک مل جاتی۔ یعنی مایوسی کے باوجود ذرا سی حوصلہ افزائی کافی ہوتی۔
شعر سوم: ظلم کو خوشی سے سہنے کی آرزو
شاعرہ اپنے مخاطب سے گلہ کرتی ہیں کہ وہ ظلم و جفا کرنے کا سلیقہ ہی نہیں جانتا، ورنہ وہ ہر ظلم کو ہنستے ہوئے برداشت کر لیتیں۔ یہاں طنزیہ انداز میں محبوب کی بے دردی پر اظہارِ افسوس کیا گیا ہے۔
شعر چہارم: غم اور زہر کو بخوشی قبول کرنا
شاعرہ کہتی ہیں کہ غم تو ویسے بھی ان کا مقدر ہے، اس لیے اس کا ذکر ہی کیا — اگر انھیں زہر بھی دیا جاتا تو وہ بڑی خوشی اور شوق سے اسے بھی قبول کر لیتیں۔ یہ شعر تقدیر کے سامنے مکمل رضامندی اور تسلیم کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
شعر پنجم: باغباں سے گلہ
شاعرہ باغباں (زندگی، تقدیر یا کسی صاحبِ اختیار کی علامت) سے سوال کرتی ہیں کہ اس کی نوازش اور مہربانی کا بھرم اس وقت کھل جاتا جب گلشن میں ایک بھی پھول ان کا اپنا نہ ہوتا۔ یعنی جس مہربانی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، عملاً اس کا کوئی ثمر نہیں ملا۔
شعر ششم (مقطع): رازِ فنا و بقا
غزل کے مقطع میں شاعرہ اپنے تخلص ‘فنا’ کی مناسبت سے کہتی ہیں کہ اگر انھوں نے ایک بار بھی خدا (یزداں) کو پکارا ہوتا تو ان پر فنا (موت، زوال) اور بقا (ہمیشگی، دائمی زندگی) کے راز کھل جاتے۔ یہ شعر پوری غزل کے فلسفیانہ اور روحانی پہلو کو مکمل کرتا ہے۔
غزل کا مجموعی تاثر
اس غزل کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ شاعرہ نے ‘کاش…ہوتا’ کے انداز میں زندگی کے مختلف پہلوؤں — جرأت، امید، محبت میں رضامندی، تقدیر کی قبولیت اور بالآخر روحانی جستجو — پر ایک گہرا فلسفیانہ تبصرہ کیا ہے۔ ہر شعر ایک الگ کیفیت بیان کرتا ہے، مگر سب اشعار مل کر زندگی کی بے ثباتی اور کھوئے ہوئے مواقع پر ایک ہی سوز و گداز بھرا احساس تخلیق کرتے ہیں، جو مقطع میں فنا و بقا کے راز کی طرف بڑھ کر غزل کو ایک روحانی اختتام تک پہنچاتا ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
طوفان
شدید آندھی یا سمندری بگولا؛ یہاں زندگی کی مشکلات و مصائب کی علامت۔
سفینہ
کشتی، جہاز؛ یہاں زندگی یا خود شاعرہ کی ذات کی علامت۔
ساحل
سمندر کا کنارہ؛ یہاں امید، منزل یا سکون کی علامت۔
موج
لہر؛ جمع: موجیں۔
عنایت
مہربانی، نوازش۔
بھرم
پردہ، بھید، جھوٹا اعتماد یا دعویٰ۔
اسرارِ فنا
موت اور زوال کے راز۔
یزداں
خدا، اللہ تعالیٰ (فارسی الاصل لفظ)۔
خاکہ
غزل کے مرکزی مضامین — شعر بہ شعر: غزل کے چھ اشعار کے مرکزی خیالات اور موضوعات کو ظاہر کرنے والا خاکہ۔

مختصر سوالات و جوابات
شاعرہ کو طوفان میں سفینہ اتارنے کی شدید خواہش کیوں ہے؟
شاعرہ کے خیال میں خطرہ مول لینے میں بھی امید کا پہلو ہوتا — سفینہ ڈوب بھی جاتا تو لہریں اسے اٹھا لیتیں، اس لیے بزدلی کے بجائے جرأت مندانہ اقدام کی خواہش ہے۔
شاعرہ کس صورت میں ساحل کا تصور مٹا سکتی تھیں؟
اگر ساحل کی طرف سے کوئی ہلکا سا اشارہ یا امید کی جھلک مل جاتی تو شاعرہ ساحل کا خیال دل سے نکال سکتی تھیں۔
شاعرہ کس حال میں ہر ظلم کو ہنس ہنس کر سہنے کے لیے آمادہ ہیں؟
اگر مخاطب ظلم و جفا کرنے کا سلیقہ جانتا تو شاعرہ ہر ظلم کو ہنستے ہوئے برداشت کر لیتیں۔
شاعرہ کس صورتحال میں بہ صد شوق زہر کو گوارا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
چوں کہ غم ویسے بھی ان کا مقدر ہے، اس لیے وہ زہر کو بھی بڑی خوشی اور شوق سے قبول کر لیتیں۔
شاعرہ کس کے بھرم گھٹنے کی بات کر رہی ہیں؟
شاعرہ باغباں کی عنایت اور نوازش کے بھرم کے کھلنے کی بات کر رہی ہیں، جو اس وقت کھلتا جب گلشن میں ایک بھی پھول ان کا اپنا نہ ہوتا۔
اس غزل کی ردیف کیا ہے؟
اس غزل کی ردیف ‘ہوتا’ ہے، جو مطلع کے دونوں مصرعوں اور ہر اگلے شعر کے دوسرے مصرعے میں دہرائی جاتی ہے۔
مقطع میں شاعرہ نے کس بات کا اظہار کیا ہے؟
مقطع میں شاعرہ نے کہا ہے کہ اگر انھوں نے ایک بار خدا کو پکارا ہوتا تو ان پر فنا اور بقا کے راز کھل جاتے۔
پروین فنا سید کا تخلص کیا ہے اور اس غزل سے اس کا کیا تعلق ہے؟
پروین فنا سید کا تخلص ‘فنا’ ہے، اور غزل کے مقطع میں ‘اسرارِ فنا’ کا ذکر ان کے تخلص سے خوب صورت مناسبت رکھتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
اس غزل کا مرکزی خیال اور اسلوب بیان کریں۔
اس غزل کا بنیادی لہجہ کیسا ہے؟
اس غزل کا لہجہ تمنائیہ ہے — ہر شعر ‘کاش…ہوتا’ کے انداز میں ایک ایسی خواہش یا شرط بیان کرتا ہے جو ماضی میں پوری نہ ہو سکی۔
اس غزل میں استعارے کا استعمال کیسے ہوا ہے؟
شاعرہ نے سفینہ، طوفان، ساحل اور باغباں جیسے الفاظ کو استعاراتی انداز میں استعمال کیا ہے، جو زندگی، مشکلات، امید اور تقدیر جیسے تصورات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس غزل میں دنیا کی بے ثباتی کا فلسفہ کیسے جھلکتا ہے؟
پوری غزل میں کھوئے ہوئے مواقع اور ادھوری خواہشات کا احساس نمایاں ہے، جو زندگی کی عارضی اور غیر یقینی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
مقطع میں تخلص کا حوالہ کس طرح دیا گیا ہے؟
مقطع میں شاعرہ نے ‘اسرارِ فنا’ کا ذکر کر کے اپنے تخلص ‘فنا’ کی طرف لطیف اشارہ کیا ہے، جو غزل کو ایک فلسفیانہ اور ذاتی اختتام تک پہنچاتا ہے۔
پروین فنا سید کی حیات اور فن پر روشنی ڈالیں۔
پروین فنا سید کب پیدا ہوئیں اور کب وفات پائی؟
پروین فنا سید 1936ء میں پیدا ہوئیں اور 2010ء میں ان کا انتقال ہوا۔
پروین فنا سید کا اصل نام اور تخلص کیا تھا؟
ان کا اصل نام پروین سید تھا، جب کہ ‘فنا’ ان کا تخلص تھا، جس سے وہ پروین فنا سید کے نام سے معروف ہوئیں۔
پروین فنا سید کن شاعرات سے متاثر ہوئیں؟
نصاب کے مطابق وہ ابتدا میں ادا جعفری کے اسلوب سے متاثر تھیں، اور بعد میں فیض احمد فیض سے اصلاح لے کر اپنا الگ شعری رنگ اختیار کیا۔
پروین فنا سید کی تصانیف کے نام بتائیں۔
نصاب کے مطابق ان کی تصانیف میں ‘حرفِ وفا’ اور ‘تمنا کا دوسرا قدم’ شامل ہیں، اور ان کا کلیات بھی شائع ہو چکا ہے۔
اس غزل میں استعمال ہونے والے استعاروں کی وضاحت کریں۔
سفینہ اور طوفان کس بات کی علامت ہیں؟
سفینہ زندگی یا خود شاعرہ کی ذات کی علامت ہے، جب کہ طوفان زندگی کی مشکلات اور مصائب کی نمائندگی کرتا ہے۔
ساحل کس بات کا استعارہ ہے؟
ساحل امید، منزل اور سکون کی علامت ہے، جس کی طرف سے ملنے والا ایک اشارہ بھی حوصلہ افزائی کے لیے کافی سمجھا گیا ہے۔
باغباں کس کی علامت ہے؟
باغباں زندگی، تقدیر یا کسی صاحبِ اختیار کی علامت ہے، جس سے اپنی نوازش کے دعوے پر سوال کیا گیا ہے۔
موجوں کا استعارہ کیا ظاہر کرتا ہے؟
موجیں ان قوتوں کی علامت ہیں جو خطرہ مول لینے پر بھی انسان کو سہارا دے سکتی ہیں — یعنی ناکامی میں بھی امید کا پہلو۔
معروضی سوالات (MCQs)
پروین فنا سید کب پیدا ہوئیں؟ (الف) 1923ء (ب) 1936ء (ج) 1952ء (د) 1958ء
درست جواب: (ب) 1936ء۔ پروین فنا سید 1936ء میں پیدا ہوئیں۔
پروین فنا سید کا انتقال کب ہوا؟ (الف) 1998ء (ب) 2005ء (ج) 2010ء (د) 2015ء
درست جواب: (ج) 2010ء۔ ان کا انتقال 2010ء میں ہوا۔
پروین فنا سید کا تخلص کیا ہے؟ (الف) ناصر (ب) آتش (ج) فنا (د) میر
درست جواب: (ج) فنا۔ ان کا تخلص ‘فنا’ ہے۔
اس غزل کی ردیف کیا ہے؟ (الف) تو (ب) ہوتا (ج) ہی (د) کاش
درست جواب: (ب) ہوتا۔ اس غزل کی ردیف ‘ہوتا’ ہے۔
شاعرہ نے کس کے ذریعے زندگی کی مشکلات کو ظاہر کیا ہے؟ (الف) ساحل (ب) طوفان (ج) باغباں (د) چراغ
درست جواب: (ب) طوفان۔ شاعرہ نے ‘طوفان’ کے ذریعے زندگی کی مشکلات کو ظاہر کیا ہے۔
مقطع میں شاعرہ نے کس کو پکارنے کی بات کی ہے؟ (الف) محبوب (ب) باغباں (ج) یزداں (خدا) (د) دوست
درست جواب: (ج) یزداں (خدا)۔ مقطع میں شاعرہ نے ‘یزداں’ یعنی خدا کو پکارنے کی بات کی ہے۔
پروین فنا سید ابتدا میں کس شاعرہ سے متاثر تھیں؟ (الف) پروین شاکر (ب) کشور ناہید (ج) ادا جعفری (د) فہمیدہ ریاض
درست جواب: (ج) ادا جعفری۔ وہ ابتدا میں ادا جعفری سے متاثر تھیں۔
اس غزل کے مطابق باغباں کی عنایت کا بھرم کب کھلتا؟ (الف) جب طوفان آتا (ب) جب ایک پھول بھی ان کا نہ ہوتا (ج) جب ساحل قریب ہوتا (د) جب زہر ملتا
درست جواب: (ب) جب ایک پھول بھی ان کا نہ ہوتا۔ باغباں کی عنایت کا بھرم اس وقت کھلتا جب گلشن میں ایک بھی پھول ان کا اپنا نہ ہوتا۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- پروین فنا سید (1936ء-2010ء): اصل نام پروین سید، تخلص ‘فنا’۔
- نصاب کے مطابق ابتدا میں ادا جعفری سے، بعد میں فیض احمد فیض سے متاثر ہوئیں۔
- تصانیف: حرفِ وفا، تمنا کا دوسرا قدم؛ کلیات بھی شائع ہو چکا ہے۔
- غزل کا ہر شعر ‘کاش…ہوتا’ کے تمنائیہ انداز پر مبنی ہے۔
- استعارے یاد رکھیں: سفینہ=زندگی، طوفان=مشکلات، ساحل=امید، باغباں=تقدیر۔
- مقطع میں تخلص ‘فنا’ کا حوالہ ‘اسرارِ فنا’ کے ذریعے دیا گیا ہے۔
- اس غزل کی ردیف ‘ہوتا’ ہے۔
- مجموعی تاثر: کھوئے ہوئے مواقع، تقدیر کی قبولیت اور بالآخر روحانی جستجو۔
امتحانی نکات
- استعارہ اور تصورِ فنا کی تعریفات اور اس غزل سے ان کی مثالیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
- سفینہ، طوفان، ساحل اور باغباں جیسے استعاراتی الفاظ کے مفہوم پر خصوصی توجہ دیں۔
- ہر شعر کا مفہوم الگ الگ یاد رکھیں — شعر وار تشریح کی مشق کریں۔
- پروین فنا سید کے حالاتِ زندگی، خصوصاً ان کا تخلص اور تصانیف کے نام یاد رکھیں۔
- چوں کہ یہ کتاب کی آخری غزل ہے، چاروں غزلوں (سبق 16 تا 19) کے قافیہ، ردیف اور اصطلاحاتِ غزل کا تقابلی جائزہ بھی مفید رہے گا۔