سبق 18: غم ہے یا خوشی ہے تو (Gham Hai Ya Khushi Hai Tu (Ghazal – Nasir Kazmi))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے اٹھارہویں سبق پر مبنی ہیں، جو جدید اردو غزل کے نمایاں شاعر ناصر کاظمی کی غزل ‘غم ہے یا خوشی ہے تو’ ہے اور کتاب کی چار غزلوں میں سے تیسری غزل ہے۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں شعر وار تشریح، غزلِ مسلسل اور صنعتِ تضاد کا تعارف، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
شاعر کا تعارف
ناصر کاظمی 1925ء میں انبالہ (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد سلطان کاظمی انڈین آرمی میں صوبے دار میجر کے عہدے پر فائز تھے، جب کہ ان کی والدہ انبالہ کے مشن گرلز ہائی سکول میں تدریس سے وابستہ تھیں۔ ناصر کاظمی نے پرائمری تعلیم اپنی والدہ کے سکول سے اور میٹرک مسلم ہائی سکول انبالہ سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے لاہور آئے، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف اے کیا، اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا مگر ناسازگار حالات کے باعث بی اے کیے بغیر تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔
قیامِ پاکستان کے بعد ناصر کاظمی اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے انبالہ سے کرشن نگر، لاہور منتقل ہو گئے۔ والدین کا سایہ جلد ہی سر سے اٹھ جانے پر انھیں ملازمت اختیار کرنا پڑی: پہلے تقریباً دو سال تک مجلہ ‘اوراقِ نو’ کے مدیر رہے، پھر پانچ سال تک ماہنامہ ‘ہمایوں’ کی ادارت کے فرائض انجام دیے، اور ایک سال تک ماہنامہ ‘خیال’ کے مدیر و ناشر رہے۔ بعد ازاں ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور اسٹاف آرٹسٹ طویل عرصے تک وابستہ رہے۔ ان کی شاعری کا آغاز زمانۂ طالب علمی ہی میں ہو گیا تھا، اور وہ تواتر کے ساتھ رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔
ناصر کاظمی کی شاعری میں میر تقی میر کی سی اداسی نظر آتی ہے۔ شہر، رات اور سفر ان کے خاص موضوعات ہیں۔ انھوں نے روایت سے بغاوت کیے بغیر غزل میں نئی راہیں تلاش کیں، اور اپنے گرد و پیش کے مشاہدات ہی سے علامتیں اور استعارے اخذ کیے، جنھیں بڑی سادگی اور دردمندی سے بیان کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘برگِ نے’، ‘دیوان’، ‘نشاطِ خواب’، ‘پہلی بارش’ اور ‘سُرکی چھایا’ شامل ہیں، جب کہ ان کا مکمل کلام ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’ کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ ناصر کاظمی کا انتقال 1972ء میں لاہور میں ہوا۔
غزلِ مسلسل اور صنعتِ تضاد
غزلِ مسلسل
وہ غزل جس کے تمام اشعار ایک ہی مسلسل خیال یا موضوع کو بیان کریں، بخلاف عام غزل کے جس میں ہر شعر جداگانہ اور خودمکتفی خیال رکھتا ہے۔
صنعتِ تضاد
دو متضاد یا مخالف الفاظ و خیالات کو ایک ساتھ بیان کرنے کی شعری صنعت، جیسے غم/خوشی یا خزاں/بہار۔
علامت (رمز)
کسی لفظ یا تصویر کا اپنے لغوی معنی سے بڑھ کر کسی گہرے یا مخفی مفہوم کی نمائندگی کرنا۔
زبان زدِ خاص و عام
کوئی شعر یا مصرع جو اپنی سادگی اور تاثیر کے باعث عوام و خواص میں مشہور اور بار بار دہرایا جانے لگے۔
غزل کا تعارف
زیرِ نصاب غزل ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’ سے لی گئی ہے۔ یہ غزل ‘غزلِ مسلسل’ کی خوب صورت مثال ہے، جس میں شاعر اپنے مخاطب ‘تو’ کی مختلف کیفیات اور حیثیتوں کو ہر شعر میں بیان کرتے ہیں۔ غزل آٹھ اشعار پر مشتمل ہے: ایک مطلع، چھ درمیانی اشعار، اور ایک مقطع، جس میں شاعر کا تخلص ‘ناصر’ شامل ہے۔
شعر وار تشریح
شعر اول (مطلع): زندگی کی حیثیت
غزل کے مطلع میں شاعر متضاد الفاظ غم اور خوشی کے ذریعے بیان کرتے ہیں کہ مخاطب ہر حال میں، غم ہو یا خوشی، ان کی زندگی ہی ہے۔ یہ شعر صنعتِ تضاد کی خوب صورت مثال ہے، جس میں دو مخالف کیفیات کے باوجود محبوب کو زندگی کی مکمل علامت قرار دیا گیا ہے۔
شعر دوم: سکون کی گھڑی
شاعر بیان کرتے ہیں کہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے دور میں مخاطب ہی ان کے لیے سکون و راحت کا واحد لمحہ ہے، گویا افراتفری کی زندگی میں محبوب ہی چین کی نشانی ہے۔
شعر سوم: چراغ اور نیند دونوں
شاعر کہتے ہیں کہ مخاطب ان کی رات کا چراغ بھی ہے اور ان کی نیند بھی، یعنی وہ روشنی بھی مہیا کرتا ہے اور آرام و قرار بھی — دو بظاہر متضاد ضرورتیں ایک ہی ذات میں پوری ہوتی ہیں۔
شعر چہارم: خزاں و بہار کا تضاد
شاعر اپنے آپ کو خزاں کی شام سے تشبیہ دیتے ہیں — یعنی زوال اور اداسی کی کیفیت — جب کہ مخاطب کو تازہ بہار کی رت قرار دیتے ہیں۔ یہ شعر بھی صنعتِ تضاد کی نمایاں مثال ہے، جس میں شاعر کے زوال اور محبوب کی تازگی کا موازنہ کیا گیا ہے۔
شعر پنجم: دوستی کی بنیاد
شاعر بیان کرتے ہیں کہ دوستوں کے درمیان مخاطب ہی دوستی کی بنیاد اور وجہ ہے، یعنی محبوب کا وجود ہی رشتوں کو معنی اور استحکام بخشتا ہے۔
شعر ششم: زندگی کی اکلوتی کمی
شاعر کہتے ہیں کہ ان کی ساری عمر میں مخاطب ہی وہ اکلوتی کمی ہے، یعنی زندگی میں باقی سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود محبوب کا کچھ نہ کچھ فقدان ہی وہ واحد خلا ہے جو باقی رہ جاتا ہے۔
شعر ہفتم: غیرمتبدل ذات
شاعر بیان کرتے ہیں کہ وہ خود اب وہی شخص نہیں رہے جو پہلے تھے، مگر مخاطب کی ذات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی — یہ شعر شاعر کی اپنی تبدیلی اور محبوب کے استحکام کے مابین ایک لطیف تضاد پیش کرتا ہے۔
شعر ہشتم (مقطع): اجنبیت کا احساس
غزل کے مقطع میں شاعر اپنے تخلص ‘ناصر’ کے ساتھ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اس دیار (وطن یا ماحول) میں کس قدر اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ یہ شعر ناصر کاظمی کی زندگی کے ہجرت اور بیگانگی کے تجربے کی گہری عکاسی کرتا ہے، اور اپنے ہی وطن میں پردیسی پن کے احساس کو خوب صورتی سے بیان کرتا ہے۔
غزل کا مجموعی تاثر
اس غزل کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ناصر کاظمی نے اپنے مخاطب کو زندگی کے ہر پہلو کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے — کبھی زندگی خود، کبھی سکون کا لمحہ، کبھی روشنی اور آرام دونوں، کبھی تازگی کا استعارہ، کبھی دوستی کی بنیاد، اور کبھی زندگی کی اکلوتی کمی۔ یہ غزل، جو غزلِ مسلسل کی خوب صورت مثال ہے، بالآخر مقطع میں شاعر کے اپنے ہی دیار میں اجنبیت اور بیگانگی کے احساس پر منتج ہوتی ہے، جو ناصر کاظمی کی ہجرت اور تنہائی کے تجربے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
چین کی گھڑی
سکون اور راحت کا لمحہ۔
خزاں
پت جھڑ کا موسم؛ یہاں زوال اور اداسی کی علامت۔
رت
موسم، رُت۔
بہار
تازگی اور خوشحالی کا موسم؛ یہاں نئی زندگی کی علامت۔
وجہ
سبب، باعث۔
دیار
ملک، وطن، بستی۔
اجنبی
غیر، انجان، پردیسی۔
زبان زد
مشہور و معروف، عام بول چال میں دہرایا جانے والا۔
خاکہ
غزلِ مسلسل — ‘تو’ کے مختلف روپ: غزل کے آٹھ اشعار میں مخاطب ‘تو’ کی مختلف حیثیتوں کو دکھانے والا خاکہ۔

مختصر سوالات و جوابات
شاعر نے ہر حال میں مخاطب کو کیا قرار دیا ہے؟
شاعر نے غم ہو یا خوشی، ہر حال میں اپنے مخاطب کو اپنی زندگی قرار دیا ہے۔
شاعر نے آفتوں کے دور میں کسے چین کی گھڑی کہا ہے؟
شاعر نے مصیبتوں کے دور میں اپنے مخاطب کو سکون و راحت کا واحد لمحہ قرار دیا ہے۔
شاعر نے اپنے آپ کو خزاں کی شام کیوں کہا ہے؟
شاعر نے اپنی زندگی کے زوال کو خزاں کی شام سے تشبیہ دی ہے، جب کہ مخاطب کو تازہ بہار کی رت قرار دیا ہے — یہ صنعتِ تضاد کی مثال ہے۔
شاعر نے دوستوں کے درمیان کسے وجہِ دوستی قرار دیا ہے؟
شاعر نے اپنے مخاطب کو دوستوں کے مابین دوستی کی بنیاد اور وجہ قرار دیا ہے۔
شاعر نے اس دیار میں اپنے آپ کو اجنبی کیوں کہا ہے؟
شاعر نے اپنے آپ کو اس دیار میں اجنبی اس لیے کہا ہے کہ وہ خود کو اپنے ہی وطن یا ماحول میں بیگانہ اور غیر محسوس کرتے ہیں۔
اس غزل کے مطلع میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟
مطلع میں غم اور خوشی جیسے متضاد الفاظ کے ذریعے صنعتِ تضاد استعمال ہوئی ہے۔
یہ غزل کس مجموعے سے لی گئی ہے؟
یہ غزل ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’ سے لی گئی ہے۔
ناصر کاظمی کی شاعری میں کن کی سی اداسی نظر آتی ہے؟
ناصر کاظمی کی شاعری میں میر تقی میر کی سی اداسی نظر آتی ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
غزلِ مسلسل کسے کہتے ہیں؟ اس غزل کی روشنی میں وضاحت کریں۔
غزلِ مسلسل کی تعریف کریں۔
وہ غزل جس کے تمام اشعار ایک ہی مسلسل خیال یا موضوع کو بیان کریں، غزلِ مسلسل کہلاتی ہے، بخلاف عام غزل کے جس میں ہر شعر جداگانہ خیال رکھتا ہے۔
یہ غزل غزلِ مسلسل کی مثال کیسے ہے؟
اس غزل کا ہر شعر مخاطب ‘تو’ کی کسی نہ کسی خوبی یا کیفیت کو بیان کرتا ہے، اور تمام اشعار مل کر ایک ہی مسلسل تاثر تخلیق کرتے ہیں۔
اس غزل کی ردیف اور قافیہ کیا ہیں؟
اس غزل کی ردیف ‘ہے تو’ ہے، جب کہ قافیے ‘ی’ کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ ہیں، جیسے زندگی، گھڑی، وہی، اجنبی۔
صنعتِ تضاد کسے کہتے ہیں اور اس غزل میں اس کی مثال دیں۔
دو متضاد الفاظ یا خیالات کو ایک ساتھ بیان کرنا صنعتِ تضاد کہلاتا ہے؛ اس غزل میں ‘غم/خوشی’ اور ‘خزاں کی شام/بہار کی رت’ اس کی خوب صورت مثالیں ہیں۔
اس غزل میں خزاں، بہار، دیار اور اجنبی جیسے الفاظ کن باتوں کی علامت ہیں؟
علامت (رمز) کسے کہتے ہیں؟
کسی لفظ یا تصویر کا اپنے لغوی معنی سے بڑھ کر کسی گہرے یا مخفی مفہوم کی نمائندگی کرنا علامت کہلاتا ہے۔
اس غزل میں ‘خزاں’ اور ‘بہار’ کس بات کی علامت ہیں؟
‘خزاں’ زوال، اداسی اور بڑھاپے کی علامت ہے، جب کہ ‘بہار’ تازگی، خوشحالی اور نئی زندگی کی علامت ہے۔
اس غزل میں ‘دیار’ اور ‘اجنبی’ کس بات کی علامت ہیں؟
‘دیار’ وطن یا اپنی ہی بستی کی علامت ہے، جب کہ ‘اجنبی’ اپنے ہی ماحول میں بیگانگی اور محرومی کے احساس کی علامت ہے۔
غزل کو علامتی زبان کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ غزل میں شاعر اکثر اپنے جذبات اور خیالات کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے علامتوں اور استعاروں کے ذریعے بیان کرتا ہے۔
ناصر کاظمی کی زندگی اور شاعرانہ حیثیت پر روشنی ڈالیں۔
ناصر کاظمی کہاں اور کب پیدا ہوئے؟
ناصر کاظمی 1925ء میں انبالہ (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ناصر کاظمی کہاں منتقل ہوئے؟
ہجرت کر کے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ انبالہ سے کرشن نگر، لاہور منتقل ہو گئے۔
ناصر کاظمی کن شعبوں سے وابستہ رہے؟
وہ مختلف رسائل (اوراقِ نو، ہمایوں، خیال) کے مدیر رہے اور بعد ازاں ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور اسٹاف آرٹسٹ منسلک ہو گئے۔
ناصر کاظمی کے شعری مجموعوں کے نام بتائیں۔
ان کے شعری مجموعوں میں ‘برگِ نے’، ‘دیوان’، ‘نشاطِ خواب’، ‘پہلی بارش’ اور ‘سُرکی چھایا’ شامل ہیں، اور مکمل کلام ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’ کی صورت میں شائع ہوا۔
معروضی سوالات (MCQs)
ناصر کاظمی کب پیدا ہوئے؟ (الف) 1925ء (ب) 1942ء (ج) 1972ء (د) 1947ء
درست جواب: (الف) 1925ء۔ ناصر کاظمی 1925ء میں پیدا ہوئے۔
ناصر کاظمی کا انتقال کب ہوا؟ (الف) 1925ء (ب) 1942ء (ج) 1972ء (د) 1947ء
درست جواب: (ج) 1972ء۔ ناصر کاظمی کا انتقال 1972ء میں ہوا۔
ناصر کاظمی کہاں پیدا ہوئے؟ (الف) لاہور (ب) انبالہ (ج) دہلی (د) کراچی
درست جواب: (ب) انبالہ۔ ناصر کاظمی انبالہ (مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ناصر کاظمی کہاں منتقل ہوئے؟ (الف) کراچی (ب) ملتان (ج) کرشن نگر، لاہور (د) پشاور
درست جواب: (ج) کرشن نگر، لاہور۔ وہ ہجرت کر کے کرشن نگر، لاہور منتقل ہو گئے۔
اس غزل کی ردیف کیا ہے؟ (الف) تو (ب) ہے تو (ج) ہی (د) اجنبی
درست جواب: (ب) ہے تو۔ اس غزل کی ردیف ‘ہے تو’ ہے۔
مطلع میں کون سی صنعت استعمال ہوئی ہے؟ (الف) تشبیہ (ب) استعارہ (ج) صنعتِ تضاد (د) تلمیح
درست جواب: (ج) صنعتِ تضاد۔ مطلع میں غم اور خوشی کے ذریعے صنعتِ تضاد استعمال ہوئی ہے۔
وہ غزل جس کے تمام اشعار ایک ہی مسلسل خیال بیان کریں، کیا کہلاتی ہے؟ (الف) غزلِ مسلسل (ب) غزلِ مقفیٰ (ج) غزلِ غیرمردف (د) قصیدہ
درست جواب: (الف) غزلِ مسلسل۔ ایسی غزل کو غزلِ مسلسل کہا جاتا ہے۔
ناصر کاظمی کا مکمل کلام کس نام سے شائع ہوا؟ (الف) کلیاتِ آتش (ب) کلیاتِ ناصر کاظمی (ج) دیوانِ غالب (د) بانگِ درا
درست جواب: (ب) کلیاتِ ناصر کاظمی۔ ناصر کاظمی کا مکمل کلام ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’ کے نام سے شائع ہوا۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- ناصر کاظمی (1925ء-1972ء): انبالہ میں پیدائش، لاہور میں سکونت و وفات۔
- قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر کے کرشن نگر، لاہور منتقل ہوئے۔
- شعری مجموعے: برگِ نے، دیوان، نشاطِ خواب، پہلی بارش، سُرکی چھایا؛ مکمل کلام ‘کلیاتِ ناصر کاظمی’۔
- یہ غزل غزلِ مسلسل کی مثال ہے — ہر شعر مخاطب ‘تو’ کی ایک نئی حیثیت بیان کرتا ہے۔
- صنعتِ تضاد کی مثالیں یاد رکھیں: غم/خوشی، خزاں/بہار۔
- علامتیں یاد رکھیں: خزاں=زوال، بہار=تازگی، دیار=وطن، اجنبی=بیگانگی۔
- اس غزل کی ردیف ‘ہے تو’ ہے۔
- مجموعی تاثر: محبوب زندگی کے ہر پہلو کی علامت، مگر مقطع میں اپنے ہی دیار میں اجنبیت کا احساس۔
امتحانی نکات
- غزلِ مسلسل اور صنعتِ تضاد کی تعریفات اور اس غزل سے ان کی مثالیں اچھی طرح یاد رکھیں — امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہیں۔
- خزاں، بہار، دیار اور اجنبی جیسے علامتی الفاظ کے مفہوم پر خصوصی توجہ دیں۔
- ہر شعر کا مفہوم الگ الگ یاد رکھیں — شعر وار تشریح کی مشق کریں۔
- ناصر کاظمی کے حالاتِ زندگی، خصوصاً ہجرت اور ان کے شعری مجموعوں کے نام یاد رکھیں۔
- الفاظ کے معنی (چین کی گھڑی، وجہ، دیار وغیرہ) کی مشق کریں، جیسا کہ نصاب کی مشق میں مطلوب ہے۔