سبق 14: پیامِ لطیف (Payam-e-Lateef (Shah Abdul Latif Bhittai, trans. Shaikh Ayaz))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے چودھویں سبق ‘پیامِ لطیف’ پر مبنی ہیں، جو سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ایک حصے کا منظوم اردو ترجمہ ہے، جو شیخ ایاز نے کیا۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں بند وار تشریح، مرکزی خیال، علمِ بدیل کی اصطلاحات، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
شاعر و مترجم کا تعارف
شاعر: شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ (1689ء-1752ء) سندھ کے عظیم ترین صوفی بزرگوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے کردار، عمل اور سندھی کلام کے ذریعے سرزمینِ سندھ کے لوگوں کی روحانی و فکری تربیت کی اور محبت، امن، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیا۔
آپ نے جس ریتیلے ٹیلے کو اپنا مسکن بنایا، وہ آج دنیا بھر میں ‘بھٹ شاہ’ کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے سندھی کلام کا مجموعہ ‘شاہ جو رسالو’ کہلاتا ہے، جسے سندھی ادب کا سب سے بڑا شعری خزانہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ سبق دراصل ‘شاہ جو رسالو’ کے ایک حصے کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔
مترجم: شیخ ایاز
شیخ ایاز، جن کا اصل نام شیخ مبارک علی تھا، 1923ء میں سندھ کے شہر شکار پور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم شکار پور میں حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے کراچی گئے، جہاں بعد ازاں قانون کی تعلیم مکمل کر کے وکالت اختیار کی۔
شیخ ایاز جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں اور شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے منظوم اردو مترجم کی حیثیت سے معروف ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ‘ستارۂ امتیاز’ سے نوازا۔ آپ کا انتقال 1997ء میں کراچی میں ہوا، اور شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ سے عقیدت کے باعث آپ کو بھٹ شاہ ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
اصطلاحات — تعریفات
منظوم ترجمہ
کسی زبان کے شعری کلام کو دوسری زبان میں شعر ہی کی ہیئت میں (وزن، بحر اور قافیے کا خیال رکھتے ہوئے) منتقل کرنے کے عمل کو منظوم ترجمہ کہتے ہیں۔ ہر زبان کا اپنا مزاج ہوتا ہے، اس لیے ترجمہ کرتے وقت دونوں زبانوں کے مزاج کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
علمِ بدیل
اردو ادب کی اصطلاح میں علمِ بدیل اس علم کو کہتے ہیں جس سے کلام کی تحسین و تزئین (خوبصورتی) کے طریقے معلوم ہوتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: صنائع لفظی اور صنائع معنوی۔
صنعتِ تلمیح
کلام میں کسی مشہور قصے، واقعے، شخصیت، جگہ یا روایت کی طرف اشارہ کرنے کو صنعتِ تلمیح کہتے ہیں۔
صنعتِ تکرار
جب کسی مصرعے یا شعر میں ایک ہی لفظ بار بار (دو یا زیادہ مرتبہ) استعمال کیا جائے تو اسے صنعتِ تکرار کہتے ہیں، جیسے ‘کیسے کیسے’، ‘رفتہ رفتہ’۔
صنعتِ تضاد
کلام میں دو ایسے الفاظ استعمال کرنا جو ایک دوسرے کے متضاد یا الگ معنی رکھتے ہوں، جیسے ہنسنا اور رونا، سیاہ اور سفید — اسے صنعتِ تضاد کہتے ہیں۔
تلخیص نگاری
کسی اقتباس یا عبارت کا خلاصہ اس طرح بیان کرنا کہ اس کا مفہوم مختصر اور جامع الفاظ میں ظاہر ہو جائے، تلخیص کہلاتا ہے۔ تلخیص اصل عبارت کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، اور اس میں تشبیہ و مثال شامل نہیں کی جاتی۔
نظم کا تعارف
زیرِ نصاب نظم ‘پیامِ لطیف’ دراصل سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ایک حصے کا منظوم اردو ترجمہ ہے، جو شیخ ایاز نے کیا۔ اس نظم میں پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور بزرگی کا بیان (حمد) ملتا ہے، پھر نبی کریم ﷺ کی محبت اور عظمت کا اقرار (نعت) کیا گیا ہے، اور آخر میں شاعر اپنی غفلت اور دنیاوی لغزشوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ سے رجوع (مناجات) کرتا ہے۔
بند وار تشریح
بند اول: حمد — اللہ کی وحدانیت اور بزرگی کا بیان
پہلے بند میں شاعر اللہ تعالیٰ کی ازلیت اور ابدیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہی ہمیشہ سے قائم اور قدیم ہے اور اسی کا سہارا و آسرا حقیقی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اعلیٰ اور علیم (سب کچھ جاننے والا) اور پوری کائنات کا رازق و رحیم قرار دیا گیا ہے۔ اسے چھ سمتوں کا مالک و حاکم (والیِ شش جہات) اور یکتا و بے مثل ذات کہا گیا ہے، جس کی مکمل تعریف بیان کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔
بند دوم: نعت — نبی کریم ﷺ سے محبت اور عقیدت کا اظہار
دوسرے بند میں شاعر دل سے مان کر اور زبان سے اقرار کر کے نبی کریم ﷺ کے بلند مرتبے کو تسلیم کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو کائنات کی تخلیق کا سبب اور اللہ کی توحید (وحدہ لاشریک) کے سچے پیامبر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کے نزدیک ایمانِ کامل کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں ہی کو دوسروں پر فوقیت (برتری) حاصل ہوتی ہے۔
بند سوم: مناجات — ندامت اور توبہ کا اظہار
تیسرے اور آخری بند میں شاعر اپنی غفلت پر نادم ہو کر اعتراف کرتا ہے کہ اس نے گوہرِ بے بہا (روحانی قیمتی متاع) کو نظرانداز کر کے بے وقعت سگ ریزوں سے اپنا دامن بھر لیا۔ گناہ کے طوفان کی موج نے اس کی زندگی کی کشتی کا رخ موڑ دیا، اور شاعر اپنے اللہ سے کیے گئے عہد کی یاد دلا کر اس کی رحمت اور مغفرت کا طلب گار ہے۔
مرکزی خیال
اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، عظمت اور قدرت پر کامل ایمان رکھنا چاہیے، پھر نبی کریم ﷺ سے دلی محبت اور عقیدت کا اظہار کرنا چاہیے، اور اپنی زندگی میں غفلت و کوتاہی پر ندامت محسوس کرتے ہوئے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرتے رہنا چاہیے۔ یہ نظم دراصل حمد، نعت اور مناجات — تینوں کا حسین امتزاج ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
قدیم
ازل سے موجود، ہمیشہ سے چلا آنے والا۔
رب کریم
کرم کرنے والا رب، بہت مہربان اللہ تعالیٰ۔
رازقِ کائنات
پوری کائنات کو رزق دینے والا، اللہ تعالیٰ۔
والیِ شش جہات
چھ سمتوں (اوپر، نیچے، آگے، پیچھے، دائیں، بائیں) کا مالک و حاکم، یعنی اللہ تعالیٰ۔
وحدہ لاشریک
وہ ذات جو یکتا ہے اور جس کا کوئی شریک نہیں، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی صفت۔
فوقیت
برتری، دوسروں پر سبقت۔
گوہرِ بے بہا
انمول موتی، ایسی قیمتی چیز جس کی کوئی قیمت مقرر نہ کی جا سکے۔
سگ ریزے
بے وقعت کنکر پتھر، حقیر چیزیں۔
موجِ طوفانِ معصیت
گناہ کے طوفان کی لہر۔
ندامت
پشیمانی، شرمندگی۔
خاکہ
پیامِ لطیف — حمد، نعت اور مناجات کا پیغام: نظم کے تین بندوں (حمد، نعت، مناجات) میں بیان کردہ روحانی پیغام کو مختصراً دکھانے والا خاکہ۔

مختصر سوالات و جوابات
نظم ‘پیامِ لطیف’ دراصل کس کلام کا منظوم اردو ترجمہ ہے؟
یہ شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے کلام ‘شاہ جو رسالو’ کے ایک حصے کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔
نظم ‘پیامِ لطیف’ کا منظوم اردو ترجمہ کس نے کیا؟
اس کا منظوم اردو ترجمہ شیخ ایاز نے کیا۔
نظم کے پہلے بند میں شاعر نے کس کی وحدانیت اور عظمت کا بیان کیا ہے؟
پہلے بند میں شاعر نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ازلیت اور عظمت کا بیان کیا ہے۔
شاعر کے نزدیک سب سے بڑا سہارا اور آسرا کون ہے؟
شاعر کے نزدیک اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا سہارا اور آسرا ہے۔
نظم کے دوسرے بند میں شاعر نے کس سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے؟
دوسرے بند میں شاعر نے نبی کریم ﷺ سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا ہے۔
شاعر کے نزدیک دوسروں پر فوقیت کن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے؟
شاعر کے نزدیک ایمانِ کامل رکھنے والوں اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
نظم کے تیسرے بند میں شاعر کس بات پر ندامت کا اظہار کرتا ہے؟
تیسرے بند میں شاعر اپنی غفلت پر ندامت کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے گوہرِ بے بہا (روحانی قیمتی متاع) کو چھوڑ کر بے وقعت چیزوں سے دامن بھر لیا۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے سندھی کلام کا مجموعہ کس نام سے مشہور ہے؟
آپ کے سندھی کلام کا مجموعہ ‘شاہ جو رسالو’ کے نام سے مشہور ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
نظم ‘پیامِ لطیف’ کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
پہلے بند کا خلاصہ کیا ہے؟
پہلے بند میں شاعر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، ازلیت، عظمت اور رازقیت کا بیان کرتے ہوئے اسے اپنا واحد سہارا اور آسرا قرار دیتا ہے۔
دوسرے بند کا خلاصہ کیا ہے؟
دوسرے بند میں شاعر نبی کریم ﷺ سے دلی محبت اور کامل ایمان کا اظہار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایمانِ کامل رکھنے والوں کو ہی دوسروں پر فوقیت حاصل ہوتی ہے۔
تیسرے بند کا خلاصہ کیا ہے؟
تیسرے بند میں شاعر اپنی غفلت اور دنیاوی لغزشوں پر نادم ہو کر اللہ سے رجوع کرتا ہے اور اعتراف کرتا ہے کہ اس نے قیمتی روحانی متاع کو نظرانداز کر کے بے وقعت چیزوں کو ترجیح دی۔
نظم کا مجموعی پیغام کیا ہے؟
نظم کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی وحدانیت پر کامل ایمان، نبی کریم ﷺ سے محبت، اور اپنی کوتاہیوں پر ہمیشہ ندامت و توبہ کا جذبہ رکھنا چاہیے۔
نظم ‘پیامِ لطیف’ کے پسِ منظر اور شاعر و مترجم کے تعارف پر روشنی ڈالیں۔
اصل نظم کس زبان میں اور کس شاعر نے لکھی؟
اصل نظم شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ نے سندھی زبان میں اپنے کلام ‘شاہ جو رسالو’ میں لکھی۔
اس نظم کا اردو منظوم ترجمہ کس نے اور کیوں کیا؟
اس کا اردو منظوم ترجمہ شیخ ایاز نے کیا تاکہ اردو داں طبقہ بھی شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے صوفیانہ پیغام سے مستفید ہو سکے۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کی زندگی اور خدمات کے بارے میں بتائیں۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ سندھ کے عظیم صوفی بزرگ اور شاعر تھے، جنھوں نے اپنے کردار اور کلام سے محبت، امن اور رواداری کا درس دیا اور بھٹ شاہ کو اپنا مسکن بنایا۔
شیخ ایاز کی ادبی خدمات کے بارے میں بتائیں۔
شیخ ایاز جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، وکالت بھی کی، اور ‘شاہ جو رسالو’ کے منظوم اردو ترجمے کی بدولت معروف ہوئے، جس پر حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔
معروضی سوالات (MCQs)
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کا تعلق کس صوبے سے تھا؟ (الف) پنجاب (ب) سندھ (ج) بلوچستان (د) خیبر پختونخوا
درست جواب: (ب) سندھ۔ آپ کا تعلق سندھ سے تھا۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ کے سندھی کلام کا مجموعہ کیا کہلاتا ہے؟ (الف) دیوانِ لطیف (ب) شاہ جو رسالو (ج) کلیاتِ لطیف (د) بانگِ درا
درست جواب: (ب) شاہ جو رسالو۔ ان کے کلام کا مجموعہ ‘شاہ جو رسالو’ کہلاتا ہے۔
‘پیامِ لطیف’ کا منظوم اردو ترجمہ کس نے کیا؟ (الف) علامہ اقبال (ب) شیخ ایاز (ج) حالی (د) ابنِ انشا
درست جواب: (ب) شیخ ایاز۔ اس کا منظوم اردو ترجمہ شیخ ایاز نے کیا۔
شیخ ایاز کہاں پیدا ہوئے؟ (الف) کراچی (ب) حیدرآباد (ج) شکار پور (د) سکھر
درست جواب: (ج) شکار پور۔ شیخ ایاز شکار پور میں پیدا ہوئے۔
شیخ ایاز کو حکومتِ پاکستان نے کس اعزاز سے نوازا؟ (الف) نشانِ حیدر (ب) ستارۂ امتیاز (ج) ہلالِ امتیاز (د) نشانِ امتیاز
درست جواب: (ب) ستارۂ امتیاز۔ شیخ ایاز کو ‘ستارۂ امتیاز’ سے نوازا گیا۔
نظم ‘پیامِ لطیف’ کتنے بندوں پر مشتمل ہے؟ (الف) دو (ب) تین (ج) چار (د) پانچ
درست جواب: (ب) تین۔ نظم تین بندوں پر مشتمل ہے: حمد، نعت اور مناجات۔
نظم کے تیسرے بند میں شاعر کس جذبے کا اظہار کرتا ہے؟ (الف) فخر (ب) ندامت (ج) خوشی (د) غصہ
درست جواب: (ب) ندامت۔ تیسرے بند میں شاعر اپنی غفلت پر ندامت کا اظہار کرتا ہے۔
شیخ ایاز کا انتقال کہاں ہوا؟ (الف) حیدرآباد (ب) کراچی (ج) شکار پور (د) لاہور
درست جواب: (ب) کراچی۔ شیخ ایاز کا انتقال کراچی میں ہوا۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ (1689ء-1752ء): سندھ کے عظیم صوفی شاعر، کلام ‘شاہ جو رسالو’۔
- شیخ ایاز (1923ء-1997ء): شکار پور میں پیدائش، ‘شاہ جو رسالو’ کے منظوم اردو مترجم، ‘ستارۂ امتیاز’ یافتہ۔
- نظم ‘پیامِ لطیف’ تین بندوں پر مشتمل: حمد، نعت اور مناجات۔
- مرکزی خیال: اللہ کی وحدانیت پر ایمان، نبی کریم ﷺ سے محبت، اور اپنی کوتاہیوں پر ندامت و توبہ۔
- اہم اصطلاحات یاد رکھیں: منظوم ترجمہ، علمِ بدیل، صنعتِ تلمیح، صنعتِ تکرار، صنعتِ تضاد، تلخیص نگاری۔
- اہم الفاظ: والیِ شش جہات، وحدہ لاشریک، گوہرِ بے بہا، موجِ طوفانِ معصیت۔
امتحانی نکات
- بند وار تشریح کی مشق کریں — ہر بند (حمد، نعت، مناجات) کا الگ الگ مفہوم لکھنے کی عادت ڈالیں۔
- شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ اور شیخ ایاز دونوں کے حالاتِ زندگی الگ الگ یاد رکھیں — امتحان میں دونوں سے متعلق سوالات آ سکتے ہیں۔
- علمِ بدیل کی تین صنعتوں (تلمیح، تکرار، تضاد) کی تعریفات اور مثالیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
- تلخیص نگاری کے اصول (ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، مترادف الفاظ نہ ہوں، تشبیہ نہ ہو) یاد رکھیں۔
- مشکل تراکیب (والیِ شش جہات، وحدہ لاشریک، گوہرِ بے بہا، موجِ طوفانِ معصیت) کے معنی و تلفظ یاد رکھیں۔