Urdu Class 9 Lesson 10: Lari Mein Proye Huye Manzar (Raza Ali Abidi) Notes

سبق 10: لڑی میں پروئے ہوئے منظر (Lari Mein Proye Huye Manzar (Raza Ali Abidi))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے دسویں سبق ‘لڑی میں پروئے ہوئے منظر’ پر مبنی ہیں، جو رضا علی عابدی کا لکھا ہوا ایک سفرنامہ ہے، جو ان کی کتاب ‘جرنیلی سڑک’ سے لیا گیا ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں سبق کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

رضا علی عابدی روڑکی، ضلع ہری دوار (اتراکھنڈ، انڈیا) میں 30 نومبر 1935ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ 1950ء میں وہ کراچی (پاکستان) آ گئے۔ انھیں بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور طالب علمی کے زمانے ہی میں اپنے ذوقِ مطالعہ کی بدولت فنِ خبر نگاری سے مکمل واقف ہو چکے تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران وہ روزنامہ ‘حریت’ سے وابستہ رہے اور جنگ کے حالات و واقعات رپورٹ کرتے رہے۔

مزید تعلیم کے لیے وہ برطانیہ چلے گئے اور 1972ء میں بی بی سی سے منسلک ہو کر اپنے عملی سفر کا آغاز کیا۔ کچھ ہی عرصے میں بی بی سی اردو کے پروگراموں کو ایسے دل نشیں انداز میں پیش کیا کہ دنیا بھر کے اردو بولنے والوں کے دلوں میں اردو زبان کی قدر بڑھادی۔ ریڈیو کے دستاویزی پروگراموں کی بدولت خاصی شہرت پائی اور 1996ء میں بی بی سی سے ریٹائر ہوئے۔

رضا علی عابدی کو اردو، سندھی، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ وہ دس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں ‘جرنیلی سڑک’، ‘شیر دریا’، ‘جہازی بھائی’، ‘ریل کہانی’، ‘پہلا سفر’ اور ‘کتب خانہ’ نمایاں ہیں۔ زیرِ نصاب سبق ان کے مشہور سفرنامے ‘جرنیلی سڑک’ سے ماخوذ ہے، جو موجودہ بنگلہ دیش سے افغانستان تک جانے والی تاریخی گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔ یہ سڑک شیر شاہ سوری (دورِ اقتدار 1540ء-1545ء) کے دور میں تعمیر کرائی گئی تھی۔ اس کتاب کی تیاری کے لیے مصنف نے سڑک پر ایک ماہ تک مسلسل سفر کیا اور راستے کی آبادیوں، ان کی وجہ تسمیہ اور ثقافت کا تذکرہ کیا۔

سبق کا خلاصہ

آغاز — پشاور سے روانگی اور بالاحصار کی تختی

مصنف پشاور سے سفر کا آغاز کرتے ہیں تو بالاحصار کے نیچے ایک پتھر پر ‘شاہراہ پاکستان’ اور کسی وزیر کا نام لکھا نظر آتا ہے۔ وہ اس پر تبصرہ کرتے ہیں کہ سڑک اور وزیر دونوں آنی جانی چیزیں ہیں۔ وادی پشاور اب بھی سرسبز نظر آ رہی تھی، اور راستے میں کبھی ریلوے لائن، کبھی بجلی کے کھمبے سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

نوشہرہ کی پہچان اور دریائے کابل

شدید گرمی کے عالم میں اچانک دریائے کابل نظر آتا ہے، جو نوشہرہ کے قریب آ جانے کی علامت تھی۔ مصنف بتاتے ہیں کہ نوشہرہ شاید اکبر نے آباد کیا تھا اور یہاں کبھی نوشہرہ خورد اور نوشہرہ کلاں نامی دو گاؤں، ایک سرائے اور ایک قلعہ ہوا کرتے تھے، جو اب وقت کی گرد میں مل چکے ہیں۔

ہنڈ — سکندر، چنگیز خان اور محمود غزنوی کی تاریخ

آگے چلتے ہوئے مصنف کو ہنڈ نامی گاؤں ملتا ہے، جو کبھی گندھارا کا پایۂ تخت تھا۔ یہیں سکندرِ اعظم نے دریائے سندھ عبور کیا، چنگیز خان دریا کا پاٹ دیکھ کر واپس چلا گیا، اور محمود غزنوی نے پنجاب کے راجا جے پال کو شکست دی — اسی لیے مؤرخوں نے اسے ‘ہندوستان کا دروازہ’ کہا۔ آج یہ صرف ایک گم نام سا گاؤں رہ گیا ہے۔

خیرآباد، دریائے سندھ اور قلعہ اٹک

خیرآباد پہنچ کر دریائے سندھ کے کنارے عظیم الشان قلعہ اٹک نظر آتا ہے، جو اکبر اعظم نے بنوایا تھا۔ انگریزوں کا بنایا لوہے کا پرانا پل اب بھی ریل گاڑیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ نیا پل موٹر گاڑیوں کے لیے بنایا گیا۔ قلعہ اٹک کئی بار مغلوں، سکھوں اور انگریزوں کے درمیان چھینا جھپٹی کا شکار رہا، مگر آج تک کھڑا ہے۔

اکبر کے ناموں کی دل چسپ کہانیاں — واہ، اٹک، خیرآباد

مصنف بتاتے ہیں کہ اکبر کو جگہوں کے نام رکھنے کا بڑا شوق تھا — ایک خوب صورت منظر دیکھ کر منہ سے نکلی ‘واہ’ کی صدا سے ایک مقام کا نام ‘واہ’ پڑ گیا، دریا کے کنارے آ کر رکنے پر ‘اٹک’، اور خیریت سے پار ہونے پر ‘خیرآباد’ کہلایا۔ ایک اور روایت کے مطابق شیر شاہ سوری نے بہار سے پنجاب تک اپنی مملکت کے دونوں سروں پر ‘روہتاس’ نام کے قلعے بنائے تھے، اسی طرز پر اکبر نے بھی اپنی مملکت کے کناروں کو ملتان اور اٹک کا نام دیا۔

حسن ابدال — تاریخی و مذہبی اہمیت

حسن ابدال کبھی لاہور سے کابل جانے والی شاہراہ کی حسین ترین منزل سمجھا جاتا تھا۔ یہاں سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب اور بابا ولی قندھاری کی چلہ گاہ واقع ہیں۔ روایت کے مطابق بابا ولی قندھاری نے ایک چٹان پہاڑی سے لڑھکائی تھی جسے بابا گرو نانک نے اپنے ہاتھ سے روک لیا، اور چٹان پر آج بھی ہاتھ کا نشان موجود ہے۔ قریب ہی مغل دور کا ایک باغ اور ایک مغل شہزادی کی قبر بھی ہے۔

سرائے کالا اور ٹیکسلا کے کھنڈرات

آگے سرائے کالا نامی قصبہ آتا ہے، جہاں کالے پتھر کی رنگین کونڈیاں فروخت ہوتی ہیں۔ مصنف بتاتے ہیں کہ شیر شاہ اور مغلوں کے دور کی ہزاروں سرائیں وقت کے ساتھ آبادیوں میں تبدیل ہو گئیں، مگر ان کے ناموں کے ساتھ ‘سرائے’ کا لفظ آج بھی باقی ہے۔ قریب ہی وہ تاریخی ٹیکسلا کے کھنڈرات ہیں، جو کبھی علم و حکمت کا عظیم مرکز تھا۔

مارگلہ کا درہ اور تاریخی گزرگاہ

سرائے کالا سے آگے مارگلہ کی پہاڑی ایک دیوار کی طرح کھڑی نظر آتی ہے، جس میں ایک قدرتی شگاف صدیوں سے قافلوں اور لشکروں کا راستہ رہا ہے۔ مصنف افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ پتھر کاٹنے والی جدید مشینیں اس تاریخی درے کو تیزی سے نقصان پہنچا رہی ہیں۔ بعد میں انگریزوں نے جی ٹی روڈ کی تعمیر کے دوران یہاں گہرا درہ کاٹا جس سے آمد و رفت آسان ہو گئی۔

اختتام — پرانی گلی اور بچوں کی معصومیت پر دعا

سفر کے اختتام پر مصنف مری روڈ پر ایک ایسی گلی میں پہنچتے ہیں جو انھوں نے چوتھائی صدی پہلے بھی دیکھی تھی۔ پورا شہر بدل چکا تھا مگر گلی میں کھیلتے معصوم بچے ویسے ہی بے خبر اور بے نیاز تھے۔ مصنف دعا مانگتے ہیں کہ یہ ہاتھ کبھی نہ چھوٹیں، یہ ہمسائیگی کے رشتے کبھی نہ ٹوٹیں، اور یہ گلیاں یوں ہی آباد اور بچے یوں ہی شاد رہیں۔

سیاق و سباق کے ساتھ تشریح

نثر پارہ (موضوع: اکبر بادشاہ کا جگہوں کے نام رکھنے کا شوق — واہ، اٹک اور خیرآباد کی وجہ تسمیہ) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: رضا علی عابدی — سبق کا عنوان: لڑی میں پروئے ہوئے منظر۔ مشکل الفاظ کے معنی: بے ساختہ (خود بخود، بغیر ارادے کے)، مملکت (بادشاہت، سلطنت)، وجہ تسمیہ (نام رکھے جانے کی وجہ)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں رضا علی عابدی اکبر بادشاہ کے جگہوں کے نام رکھنے کے شوق کا دل چسپ تذکرہ کرتے ہیں۔ ایک خوب صورت منظر دیکھ کر اکبر کے منہ سے بے ساختہ ‘واہ’ نکلی تو اس مقام کا نام ‘واہ’ رکھ دیا گیا۔ آگے چل کر اس کا قافلہ دریائے سندھ کے کنارے پہنچ کر رک گیا، تو وہ جگہ ‘اٹک’ کہلائی، اور خیریت سے دریا پار کرنے پر اگلا مقام ‘خیرآباد’ کہلایا۔ مصنف اس کی ایک اور تاریخی توجیہ بھی بیان کرتے ہیں: شیر شاہ سوری نے اپنی مملکت کے دونوں کناروں پر ‘روہتاس’ نام کے دو قلعے بنائے تھے، اسی طرز پر اکبر نے بھی اپنی مملکت کے دو کناروں کو ملتان اور اٹک کا نام دیا۔

نثر پارہ (موضوع: پرانی گلی میں کھیلتے بچوں کی معصومیت پر مصنف کی دعا) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: رضا علی عابدی — سبق کا عنوان: لڑی میں پروئے ہوئے منظر۔ مشکل الفاظ کے معنی: عالم (دنیا، جہان)، بے نیاز (بے پروا، لاتعلق)، شاد (خوش)۔ تشریح: یہ اقتباس سفرنامے کے اختتام کا ہے، جہاں مصنف مری روڈ پر ایک ایسی گلی میں پہنچتے ہیں جسے انھوں نے چوتھائی صدی پہلے بھی دیکھا تھا۔ پورا شہر تبدیل ہو چکا تھا، مگر گلی میں کھیلتے چھوٹے بچے، جو تمام عالم سے بے خبر اور تمام زمانے سے بے نیاز ہاتھوں میں ہاتھ دیے کھیل میں مگن تھے، نہیں بدلے تھے۔ مصنف دلی جذبات کے ساتھ دعا مانگتے ہیں کہ یہ ہاتھ کبھی نہ چھوٹیں، ہمسائیگی کے یہ رشتے کبھی نہ ٹوٹیں، اور یہ گلیاں یوں ہی آباد اور بچے یوں ہی شاد رہیں۔ یہ اقتباس وقت کی تبدیلی کے باوجود قائم رہنے والی معصومیت اور انسانی رشتوں کی خوب صورتی کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

بالاحصار

پشاور کا ایک تاریخی قلعہ۔

تمازت

دھوپ کی شدت، گرمی۔

شاہانہ

بادشاہوں کی طرح، پُرشکوہ۔

عالمِ فانی

فنا ہونے والی دنیا، یہ جہان۔

مستعدی

چوکسی، تیاری۔

چشم دید

آنکھوں دیکھا۔

پایۂ تخت

دارالحکومت، تخت کا مقام۔

وجہ تسمیہ

نام رکھے جانے کی وجہ۔

باؤلی

زیرِ زمین سیڑھیوں والا پرانا کنواں۔

درہ

پہاڑوں کے درمیان راستہ، گھاٹی۔

خاکہ

جرنیلی سڑک کا سفر — پشاور سے راولپنڈی تک: سبق میں بیان کیے گئے سفر کے اہم پڑاؤں اور ان کی تاریخی اہمیت کا خاکہ۔

جرنیلی سڑک کا سفر - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

مصنف کو بالاحصار کے نیچے کیا لکھا ہوا نظر آیا؟

مصنف کو ایک پتھر پر بڑے حروف میں ‘شاہراہ پاکستان’ اور کسی وزیر کا نام لکھا نظر آیا۔

وادی پشاور مصنف کو کیسی نظر آ رہی تھی؟

وادی پشاور اب بھی بہت سرسبز نظر آ رہی تھی۔

مؤرخوں نے ہند (ہنڈ) کو کیا کہا تھا اور کیوں؟

مؤرخوں نے ہند کو ‘ہندوستان کا دروازہ’ کہا تھا کیوں کہ یہیں سکندر نے دریائے سندھ عبور کیا اور محمود غزنوی نے راجا جے پال کو شکست دی۔

اٹک کا نام کس بادشاہ نے رکھا تھا؟

روایت کے مطابق اٹک کا نام اکبر بادشاہ نے رکھا تھا۔

سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب کہاں واقع ہے؟

سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں واقع ہے۔

سرائے کالا کی پہچان کیا ہے؟

سرائے کالا کی پہچان وہاں فروخت ہونے والی کالے پتھر کی رنگین کونڈیاں ہیں۔

مارگلہ کے تاریخی درے کی کیا اہمیت ہے؟

صدیوں سے قافلے اور لشکر مارگلہ کے اس قدرتی شگاف کے راستے آتے جاتے رہے، اور بعد میں انگریزوں نے یہاں گہرا درہ کاٹ کر آمد و رفت آسان بنائی۔

سفر کے اختتام پر مصنف نے کیا دعا مانگی؟

مصنف نے دعا مانگی کہ گلی میں کھیلتے بچوں کے ہاتھ کبھی نہ چھوٹیں، ہمسائیگی کے رشتے کبھی نہ ٹوٹیں اور گلیاں یوں ہی آباد رہیں۔

تفصیلی سوالات و جوابات

سبق ‘لڑی میں پروئے ہوئے منظر’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

مصنف کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور راستے میں کیا نظر آتا ہے؟

مصنف کا سفر پشاور سے شروع ہوتا ہے، جہاں بالاحصار کے قریب ایک پتھر پر ‘شاہراہ پاکستان’ لکھا نظر آتا ہے، اور آگے سرسبز وادیِ پشاور اور دریائے کابل کا نظارہ ہوتا ہے۔

راستے میں ہنڈ اور اٹک کی کیا تاریخی اہمیت بیان کی گئی ہے؟

ہنڈ وہ مقام ہے جہاں سکندر نے دریا عبور کیا اور محمود غزنوی نے راجا جے پال کو شکست دی، جب کہ اٹک میں اکبر اعظم کا تعمیر کردہ عظیم الشان قلعہ دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔

حسن ابدال کے سفر میں کون سی روایات بیان ہوئی ہیں؟

حسن ابدال میں گردوارہ پنجہ صاحب اور بابا ولی قندھاری کی چٹان کی روایت بیان کی گئی ہے، جس پر بابا گرو نانک کے ہاتھ کا نشان آج بھی موجود بتایا جاتا ہے۔

سفر کا اختتام کس منظر پر ہوتا ہے؟

سفر کا اختتام مری روڈ کی ایک پرانی گلی پر ہوتا ہے جہاں بچے معصومانہ کھیل میں مگن ہیں، اور مصنف ان کی معصومیت اور ہمسائیگی کے رشتوں کی سلامتی کے لیے دعا مانگتے ہیں۔

رضا علی عابدی کی سفرنامہ نگاری کی خصوصیات اور جرنیلی سڑک کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالیں۔

رضا علی عابدی کی ادبی خدمات کیا ہیں؟

وہ بی بی سی اردو سے وابستہ ایک مشہور نشریاتی شخصیت اور دس سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، جن میں ‘جرنیلی سڑک’، ‘شیر دریا’ اور ‘ریل کہانی’ نمایاں ہیں۔

جرنیلی سڑک کی تاریخی اہمیت کیا ہے؟

یہ سڑک شیر شاہ سوری کے دور میں تعمیر ہوئی اور موجودہ بنگلہ دیش سے افغانستان تک قافلوں، فوجوں اور تہذیبوں کی گزرگاہ رہی ہے۔

مصنف کا اسلوب اس سفرنامے میں کیسا ہے؟

مصنف کا اسلوب مشاہدے کی گہرائی، تاریخی معلومات اور طنز و مزاح، اداسی اور خوشی کے ملے جلے رنگوں سے مزین ہے۔

اس سبق کا مجموعی پیغام کیا ہے؟

پیغام یہ ہے کہ ایک سڑک محض راستہ نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ، تہذیب اور انسانی رشتوں کی امین ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ بدلتے مناظر کے باوجود ایک لڑی میں پروئی رہتی ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

مصنف کو بالاحصار کے نیچے پتھر پر کیا لکھا نظر آیا؟ (الف) شاہراہ عظیم (ب) شاہراہ پاکستان (ج) شاہراہ قدیم (د) شاہراہ جرنیل

درست جواب: (ب) شاہراہ پاکستان۔ مصنف کو پتھر پر بڑے حروف میں ‘شاہراہ پاکستان’ لکھا نظر آیا۔

وادی پشاور مصنف کو کیسی نظر آ رہی تھی؟ (الف) ریگ زار (ب) مرغزار (ج) ویران (د) سرسبز

درست جواب: (د) سرسبز۔ وادی پشاور مصنف کو اب بھی بہت سرسبز نظر آ رہی تھی۔

مؤرخوں نے کس مقام کو ‘ہندوستان کا دروازہ’ کہا؟ (الف) لنڈی کوتل کو (ب) پشاور کو (ج) ہند کو (د) نوشہرہ کو

درست جواب: (ج) ہند کو۔ مؤرخوں نے ہند (ہنڈ) کو ہندوستان کا دروازہ کہا تھا۔

روایت کے مطابق اٹک کا نام کس نے رکھا؟ (الف) محمود غزنوی نے (ب) شہاب الدین غوری نے (ج) اکبر اعظم نے (د) شیر شاہ سوری نے

درست جواب: (ج) اکبر اعظم نے۔ روایت کے مطابق اٹک کا نام اکبر اعظم نے رکھا تھا۔

سکھوں کا مشہور گردوارہ کہاں واقع ہے؟ (الف) نوشہرہ میں (ب) اٹک میں (ج) حسن ابدال میں (د) واہ میں

درست جواب: (ج) حسن ابدال میں۔ سکھوں کا مشہور گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں واقع ہے۔

نوشہرہ کے قریب آ جانے کی پہچان کیا تھی؟ (الف) دریائے سندھ (ب) دریائے کابل (ج) دریائے ہرد (د) دریائے سون

درست جواب: (ب) دریائے کابل۔ دریائے کابل کا نظر آنا نوشہرہ کے قریب آ جانے کی پہچان تھی۔

سبق ‘لڑی میں پروئے ہوئے منظر’ کس کتاب سے ماخوذ ہے؟ (الف) شیر دریا (ب) جرنیلی سڑک (ج) ریل کہانی (د) پہلا سفر

درست جواب: (ب) جرنیلی سڑک۔ یہ سبق رضا علی عابدی کے سفرنامے ‘جرنیلی سڑک’ سے ماخوذ ہے۔

جرنیلی سڑک کس بادشاہ کے دور میں تعمیر ہوئی؟ (الف) اکبر اعظم (ب) شیر شاہ سوری (ج) محمود غزنوی (د) شہاب الدین غوری

درست جواب: (ب) شیر شاہ سوری۔ جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری کے دورِ اقتدار میں تعمیر کرائی گئی تھی۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • رضا علی عابدی (پیدائش 30 نومبر 1935ء): معروف صحافی، بی بی سی اردو سے وابستگی، سفرنامہ ‘جرنیلی سڑک’۔
  • سفر پشاور کے بالاحصار سے شروع ہو کر نوشہرہ (دریائے کابل)، ہنڈ (سکندر، چنگیز خان، محمود غزنوی کی تاریخ) سے گزرتا ہے۔
  • اٹک کا قلعہ اور دریائے سندھ، اکبر کے واہ/اٹک/خیرآباد ناموں کی کہانیاں۔
  • حسن ابدال میں پنجہ صاحب و بابا ولی قندھاری کی روایت، سرائے کالا اور ٹیکسلا کے کھنڈرات، مارگلہ کا تاریخی درہ۔
  • اختتام: مری روڈ کی پرانی گلی، معصوم بچوں کا کھیل، اور ہمسائیگی کے رشتوں کی سلامتی کے لیے دعا۔

امتحانی نکات

  • نثر پارے کی تشریح لکھتے وقت ہمیشہ مصنف کا نام، سبق کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
  • سفر کے تمام اہم پڑاؤ (پشاور، نوشہرہ، ہنڈ، اٹک، حسن ابدال، سرائے کالا، ٹیکسلا، مارگلہ، راولپنڈی) کی صحیح ترتیب یاد رکھیں۔
  • رضا علی عابدی کی دیگر مشہور کتابوں کے نام امتحان کے لیے یاد رکھیں۔
  • ہر پڑاؤ سے جڑی تاریخی شخصیت یا واقعہ (سکندر، چنگیز خان، محمود غزنوی، اکبر، شیر شاہ سوری) کو مقام کے ساتھ یاد رکھیں۔
  • خلاصہ لکھتے وقت سفر کے تمام اہم مقامات ایک منطقی ترتیب سے مختصراً بیان کریں۔