Urdu Class 9 Lesson 7: Aaram o Sukoon (Imtiaz Ali Taj) Notes

سبق 7: آرام و سکون (Aaram o Sukoon (Imtiaz Ali Taj))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے ساتویں سبق ‘آرام و سکون’ پر مبنی ہیں، جو امتیاز علی تاج کا لکھا ہوا ایک مزاحیہ یک بابی ڈراما ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں ڈرامے کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ مکالموں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

امتیاز علی تاج 1900ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید ممتاز علی ایک بلند پایہ مصنف اور مجلہ ‘تہذیبِ نسواں’ کے بانی مدیر تھے۔ امتیاز علی تاج نے سنٹرل ماڈل سکول اور اسلامیہ کالج لاہور سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف اے کیا۔ انھیں سکول کے زمانے ہی سے لکھنے لکھانے کا شوق تھا اور تعلیم مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک ادبی رسالہ ‘کہکشاں’ جاری کر دیا تھا۔

ڈراما نگاری کا شوق انھیں کالج کے زمانے میں پیدا ہوا، جہاں وہ ڈرامیٹک کلب کے سرگرم رکن تھے۔ اسی شوق نے انھیں اتنی مہارت بخشی کہ بیس سال کی عمر میں انھوں نے ڈراما ‘انارکلی’ لکھا، جسے اردو ڈراما نگاری کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سے ریڈیائی اور اسٹیج ڈرامے بھی لکھے، اور انگریزی و فرانسیسی ڈراموں کے ایسے کامیاب اردو تراجم کیے کہ ان کے کردار مقامی ماحول کے مطابق ڈھل گئے۔

امتیاز علی تاج ایک کامیاب مزاح نگار بھی تھے اور مزاح نگاری کے ضمن میں انھوں نے ‘پہلی چٹھی’ جیسا مشہور مزاحیہ ڈرامائی کردار تخلیق کیا۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی متعدد ڈرامے لکھے، جن میں زیرِ نصاب ڈراما ‘آرام و سکون’ بھی شامل ہے۔ اس ڈرامے کا خلاصہ یہ ہے کہ جن گھروں میں شور و غل رہتا ہے وہاں کا سکون برباد ہو جاتا ہے، اور دفتروں میں کام کرنے والے ایسے مکین اپنے گھر کی بہ نسبت اپنے دفتر کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ امتیاز علی تاج کا انتقال 1970ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

ڈاکٹر کا معائنہ اور آرام کی تاکید

میاں اشفاق بخار میں مبتلا بستر پر پڑے ہیں۔ معائنے کے بعد ڈاکٹر بیگم اشفاق کو بتاتا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں، صرف تھکن کے باعث بخار ہوا ہے۔ اصل ضرورت دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ہے، کیوں کہ میاں صاحب صبح دس بجے دفتر جا کر شام سات بجے سے پہلے کبھی واپس نہیں آتے۔ ڈاکٹر خاموشی کو اعصاب کے لیے تسکین بخش قرار دے کر مکمل خاموشی برتنے کی سخت تاکید کر کے رخصت ہو جاتا ہے۔

بیوی کی حفاظتی تاکیدیں اور شروعاتی خاموشی

ڈاکٹر کے جانے کے بعد بیگم اشفاق شوہر کو یقین دلاتی ہیں کہ ان کے کمرے میں پرندہ بھی پر نہیں مار سکے گا۔ وہ گھنٹی تلاش کرتی ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بلا سکیں، مگر گھنٹی اپنی جگہ سے غائب ملتی ہے، جس پر وہ نوکر پر شک کر کے اسے آوازیں دینے لگتی ہیں — گویا خاموشی کی کوشش خود ہی شور کا باعث بن جاتی ہے۔

گھنٹی کی گتھی اور للو کی طلبی

بلانے پر نوکر للو آتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ گھنٹی خود میاں اشفاق نے رات کو الماری پر رکھی تھی کیوں کہ اس کا بار بار بجنا انھیں پریشان کر رہا تھا۔ اسی اثنا میں بیگم صاحبہ کو یاد آتا ہے کہ للو کو صبح ریشے (چارپائی بننے کا سامان) ڈھونڈنے بھیجا تھا، وہ سراغ لگاتی ہیں کہ وہ ابھی تک کیوں نہیں لایا۔

کھانے کی فکر اور غذا کا انتخاب

بیگم صاحبہ ڈاکٹر کا لکھا نسخہ ڈھونڈتی ہیں جس میں مالٹے کا رس، سادہ دودھ اور ساگودانے جیسی ہلکی غذائیں تجویز کی گئی ہیں۔ میاں کی بے دلی بھری ہاں پر وہ چوری بنوانے کا فیصلہ کرتی ہیں، مگر پھر یاد آتا ہے کہ اس کے لیے بازار سے سامان منگوانا پڑے گا — اور اسی دوران بچے کے کھلونا گاڑی گھسیٹنے کی کھٹ پٹ شروع ہو جاتی ہے، جس پر وہ بلند آواز میں ڈانٹنے لگتی ہیں۔

ٹیلی فون کی گھنٹی اور میاں کا غصہ

بیگم صاحبہ کے کمرے سے باہر جاتے ہی ٹیلی فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہتی ہے۔ کوئی سننے والا نہ پا کر مجبوراً میاں اشفاق خود اٹھ کر فون سنتے ہیں۔ کوئی نامعلوم کالر بار بار پوچھتا ہے کہ آواز خراب کیوں ہے، جس پر میاں غصے میں فون بند کر دیتے ہیں — عین اس وقت جب انھیں مکمل خاموشی اور آرام درکار تھا۔

ہمسائے کا گانا اور بچے کا رونا

پڑوس کے گھر میں کسی صاحب زادے کی بے سری گلوکاری شروع ہو جاتی ہے، جس سے میاں کا سر چکرانے لگتا ہے۔ بیگم صاحبہ خط لکھ کر ہمسائے سے شکایت کرنے بیٹھتی ہیں، مگر خط لکھتے ہی بچہ گر کر زخمی ہو جاتا ہے اور رونے لگتا ہے، جسے چپ کرانے میں بھی وقت لگتا ہے — اور خط بھی مکمل نہیں ہو پاتا۔

فقیر کی صدا اور دھوبی کی دھمک

اسی دوران دروازے پر ایک فقیر صدا لگانا شروع کر دیتا ہے، اور ساتھ ہی للو باورچی خانے میں دھوبی کے سے انداز میں ریشے کوٹنے کی زوردار آواز نکالنے لگتا ہے۔ اس طرح ہمسائے کے گانے، بچے کے رونے، فقیر کی صدا اور کوٹنے کی دھمک — سب آوازیں ایک ساتھ مل کر گھر کا سکون درہم برہم کر دیتی ہیں۔

میاں کا فیصلہ — دفتر میں زیادہ آرام

اس افراتفری سے تنگ آ کر میاں اشفاق جلدی جلدی اپنی ٹوپی اور شیروانی طلب کرتے ہیں۔ حیران بیگم صاحبہ کے پوچھنے پر کہ بیمار ہو کر دفتر کیوں جا رہے ہیں، میاں کا مختصر اور طنزیہ جواب ہوتا ہے: ‘آرام و سکون کے لیے’ — یعنی گھر کے شور و غل سے بچنے کے لیے دفتر ہی ان کے لیے واحد پرسکون جگہ رہ گئی ہے۔

سیاق و سباق کے ساتھ تشریح

مکالمہ (موضوع: ڈاکٹر کی تشخیص اور میاں اشفاق کے آرام و سکون کی ضرورت) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: امتیاز علی تاج — سبق کا عنوان: آرام و سکون۔ مشکل الفاظ کے معنی: تکان (تھکن، تھکاوٹ)، حرارت (بخار، جسم کی گرمی)، ہدایات (احکامات، تاکیدیں)، اعصاب (نروَز، جسم کا حسی نظام)۔ تشریح: زیرِ بحث مکالمہ ڈراما ‘آرام و سکون’ کے آغاز کا ہے، جہاں ڈاکٹر میاں اشفاق کا معائنہ کرنے کے بعد بیگم صاحبہ کو تسلی دیتا ہے کہ فکر کی کوئی بات نہیں، صرف تھکن کے باعث بخار ہوا ہے۔ ڈاکٹر کے خیال میں انھیں دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت ہے، کیوں کہ وہ صبح سے شام تک دفتر کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔ ڈاکٹر خاموشی کو اعصاب کے لیے تسکین بخش قرار دیتے ہوئے مکمل خاموشی اور آرام کی سخت تاکید کرتا ہے — یہی تاکید پورے ڈرامے کی طنزیہ کہانی کی بنیاد بنتی ہے۔

مکالمہ (موضوع: میاں اشفاق کا دفتر جانے کا حتمی اور طنزیہ فیصلہ) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: امتیاز علی تاج — سبق کا عنوان: آرام و سکون۔ مشکل الفاظ کے معنی: شیروانی (ایک روایتی لمبا کوٹ نما لباس)، رخصت (اجازت لے کر جانا)، ترجیح (کسی چیز کو دوسری پر فوقیت دینا)۔ تشریح: یہ مکالمہ ڈرامے کے اختتام کا ہے، جب گھر بھر میں پھیلے شور و غل — ہمسائے کے گانے، بچے کے رونے، فقیر کی صدا اور دھوبی کی دھمک — سے تنگ آ کر میاں اشفاق اچانک اپنی ٹوپی اور شیروانی مانگتے ہیں۔ حیران بیگم صاحبہ کے استفسار پر کہ بیمار ہو کر دفتر جانے کی کیا ضرورت ہے، میاں کا مختصر جواب ‘آرام و سکون کے لیے’ ہوتا ہے۔ یہ فقرہ پورے ڈرامے کا نقطۂ عروج اور اس کا طنزیہ پیغام ہے — گھر کا شور اتنا بڑھ چکا ہے کہ دفتر ہی ان کے لیے زیادہ پرسکون جگہ محسوس ہونے لگتا ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

تکان

تھکن، تھکاوٹ۔

حرارت

بخار، جسم کی گرمی۔

اعصاب

نروَز، جسم کا حسی و حرکی نظام۔

تھپتھپانا

آہستہ آہستہ سہلانا، تسکین دینا۔

نامراد

ناکام، بدنصیب (یہاں پیار سے/غصے میں ملازم یا بچے کے لیے مستعمل)۔

گستاخ

بدتمیز، بے ادب۔

نغمہ سرائی

گانا گانا۔

مکالمہ نگاری

کرداروں کی باہمی گفت گو تحریر کرنے کا فن۔

طنز و مزاح

ہنسی مذاق کے ذریعے کسی خامی کی طرف اشارہ کرنا۔

سنگِ میل

کسی سفر یا تاریخ کا اہم اور یادگار موڑ۔

خاکہ

گھر میں آرام و سکون میں خلل ڈالنے والی چیزیں: ڈرامے میں میاں اشفاق کے آرام میں خلل ڈالنے والی آٹھ اہم آوازوں/وجوہات کا خاکہ۔

گھر میں آرام و سکون میں خلل ڈالنے والی چیزیں - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

ڈاکٹر نے میاں اشفاق کو دوا کے بجائے کیا تجویز کیا؟

ڈاکٹر نے دوا کے بجائے مکمل آرام و سکون اور خاموشی اختیار کرنے کی تجویز دی۔

میاں اشفاق کی بیماری کی اصل وجہ کیا تھی؟

میاں اشفاق کی بیماری کی اصل وجہ دفتر کے کام کی زیادتی سے پیدا ہونے والی تھکن تھی۔

گھنٹی میز پر سے اٹھا کر الماری پر کس نے رکھی تھی؟

گھنٹی خود میاں اشفاق نے اٹھا کر الماری پر رکھی تھی کیوں کہ اس کا بار بار بجنا انھیں پریشان کر رہا تھا۔

للو کو صبح کس کام پر بھیجا گیا تھا؟

للو کو صبح بازار سے ریشے (چارپائی بننے کا سامان) ڈھونڈنے بھیجا گیا تھا۔

ٹیلی فون کی گھنٹی مسلسل بجنے پر آخر کس نے فون سنا؟

کوئی سننے والا نہ پا کر مجبوراً میاں اشفاق خود اٹھ کر فون سننے پر مجبور ہوئے۔

ہمسائے کی کون سی حرکت سے میاں کے آرام میں خلل پڑا؟

ہمسائے کے گھر ایک صاحب زادے کی بے سری گلوکاری سے میاں کے آرام میں خلل پڑا۔

گھر میں شور و غل کن کن ذرائع سے پیدا ہوا؟

گھنٹی کی تلاش، بچے کی کھلونا گاڑی، ٹیلی فون، ہمسائے کا گانا، بچے کا رونا، فقیر کی صدا اور دھوبی کے سے انداز میں ریشے کوٹنے کی آواز سے شور پیدا ہوا۔

میاں اشفاق نے آخر میں کہاں جانے کو ترجیح دی اور کیوں؟

میاں اشفاق نے گھر کے شور و غل سے تنگ آ کر دفتر جانے کو ترجیح دی، کیوں کہ دفتر ہی ان کے لیے زیادہ پرسکون جگہ محسوس ہوا۔

تفصیلی سوالات و جوابات

ڈراما ‘آرام و سکون’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

ڈرامے کا آغاز کن حالات سے ہوتا ہے؟

ڈرامے کا آغاز ڈاکٹر کے معائنے سے ہوتا ہے، جو میاں اشفاق کی تھکن سے پیدا ہونے والے بخار کی تشخیص کر کے مکمل آرام و سکون کی تاکید کرتا ہے۔

بیگم صاحبہ کی نیک نیتی کس طرح خود ہی شور کا باعث بنتی ہے؟

بیگم صاحبہ خاموشی و آرام یقینی بنانے کی کوشش میں گھنٹی، ریشے اور کھانے کی تیاری جیسے کاموں میں الجھ کر خود ہی گھر میں شور و ہنگامہ پیدا کر دیتی ہیں۔

گھر میں کون کون سی آوازیں مل کر شور پیدا کرتی ہیں؟

ٹیلی فون کی مسلسل گھنٹی، ہمسائے کا بے سرا گانا، بچے کا رونا، فقیر کی صدا اور دھوبی کے سے انداز میں ریشے کوٹنے کی دھمک — یہ سب آوازیں مل کر گھر کا سکون درہم برہم کر دیتی ہیں۔

ڈرامہ کس نتیجے پر ختم ہوتا ہے؟

تنگ آ کر میاں اشفاق ٹوپی اور شیروانی پہن کر دفتر روانہ ہو جاتے ہیں اور طنزیہ انداز میں کہتے ہیں کہ وہ ‘آرام و سکون’ کے لیے جا رہے ہیں۔

امتیاز علی تاج کی ڈراما نگاری کی خصوصیات اور ‘آرام و سکون’ کے پیغام پر روشنی ڈالیں۔

امتیاز علی تاج کی ڈراما نگاری کا آغاز کیسے ہوا؟

امتیاز علی تاج کو کالج کے زمانے میں ڈرامیٹک کلب کی رکنیت سے ڈراما نگاری کا شوق پیدا ہوا اور بیس سال کی عمر میں انھوں نے شہرہ آفاق ڈراما ‘انارکلی’ لکھا۔

‘آرام و سکون’ میں مزاح کس انداز میں پیدا کیا گیا ہے؟

سادہ روزمرہ مکالموں اور حالات کی ستم ظریفی کے ذریعے مزاح پیدا کیا گیا ہے — ہر کردار آرام پہنچانے کی کوشش میں ہی الٹا شور کا باعث بنتا رہتا ہے۔

ڈرامے کا اصل طنزیہ پیغام کیا ہے؟

ڈرامے کا پیغام یہ ہے کہ جن گھروں میں سکون میسر نہیں ہوتا، وہاں کے مکین اپنے گھر کی بہ نسبت دفتر کو ترجیح دینے لگتے ہیں — یعنی حقیقی آرام محض خواہش سے نہیں بلکہ ماحول کی سازگاری سے حاصل ہوتا ہے۔

امتیاز علی تاج کی مکالمہ نگاری کی خوبی کیا ہے؟

ان کے مکالمے فطری، بے تکلف اور روزمرہ بول چال کے قریب ہیں، جن سے کرداروں کی شخصیت خودبخود نمایاں ہو جاتی ہے، جیسا کہ ‘آرام و سکون’ کے کرداروں سے ظاہر ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

ڈاکٹر کے خیال میں میاں اشفاق کو دوا سے زیادہ کس چیز کی ضرورت تھی؟ (الف) نیند کی (ب) تنہائی کی (ج) آرام و سکون کی (د) گپ شپ کی

درست جواب: (ج) آرام و سکون کی۔ ڈاکٹر کے خیال میں میاں اشفاق کو دوا سے زیادہ آرام و سکون کی ضرورت تھی۔

میاں صاحب کا پورا نام کیا ہے؟ (الف) اسحاق (ب) اشفاق (ج) عدنان (د) اشتیاق

درست جواب: (ب) اشفاق۔ ڈرامے میں میاں صاحب کا نام میاں اشفاق ہے۔

ملازم للو کو بازار میں کیا ڈھونڈنے بھیجا گیا تھا؟ (الف) بلدی (ب) ریشے (ج) نمک (د) دوا

درست جواب: (ب) ریشے۔ للو کو بازار میں ریشے (چارپائی بننے کا سامان) ڈھونڈنے بھیجا گیا تھا۔

گھنٹی میز سے اٹھا کر الماری پر کس نے رکھی تھی؟ (الف) خود میاں نے (ب) بیوی نے (ج) ملازم (للو) نے (د) ڈاکٹر نے

درست جواب: (الف) خود میاں نے۔ گھنٹی خود میاں اشفاق نے میز سے اٹھا کر الماری پر رکھی تھی۔

میاں دفتر جانے کے لیے کیا طلب کرتے ہیں؟ (الف) ٹوپی اور شیروانی (ب) ٹوپی اور جوتا (ج) ٹوپی اور مفلر (د) ٹوپی اور چھڑی

درست جواب: (الف) ٹوپی اور شیروانی۔ میاں اشفاق دفتر جانے کے لیے اپنی ٹوپی اور شیروانی طلب کرتے ہیں۔

ڈراما ‘آرام و سکون’ کس صنف سے تعلق رکھتا ہے؟ (الف) نظم (ب) غزل (ج) مزاحیہ ڈراما (د) سفرنامہ

درست جواب: (ج) مزاحیہ ڈراما۔ ‘آرام و سکون’ امتیاز علی تاج کا لکھا ہوا مزاحیہ یک بابی ڈراما ہے۔

امتیاز علی تاج کا سب سے مشہور ڈراما کون سا ہے؟ (الف) پہلی چٹھی (ب) بیگم کی بلی (ج) انارکلی (د) توبۃ النصوح

درست جواب: (ج) انارکلی۔ امتیاز علی تاج کا سب سے مشہور اور تاریخ ساز ڈراما ‘انارکلی’ ہے۔

ڈرامے کے آخر میں میاں اشفاق کہاں جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور کیوں؟ (الف) بازار، خریداری کے لیے (ب) دفتر، آرام و سکون کے لیے (ج) ہسپتال، علاج کے لیے (د) ہمسائے کے گھر، شکایت کے لیے

درست جواب: (ب) دفتر، آرام و سکون کے لیے۔ میاں اشفاق گھر کے شور سے تنگ آ کر دفتر جانے کو ترجیح دیتے ہیں کیوں کہ وہاں انھیں زیادہ آرام و سکون ملتا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • امتیاز علی تاج (1900ء-1970ء): معروف ڈراما نگار، مشہور ترین ڈراما ‘انارکلی’، مزاحیہ کردار ‘پہلی چٹھی’ کے خالق۔
  • ڈاکٹر کی تشخیص: میاں اشفاق کا بخار دفتر کے کام کی تھکن سے ہے، دوا سے زیادہ آرام و سکون درکار ہے۔
  • بیگم صاحبہ کی حفاظتی کوششیں (گھنٹی، ریشے، کھانا) خود ہی گھر میں چھوٹی چھوٹی افراتفری پیدا کر دیتی ہیں۔
  • ٹیلی فون، ہمسائے کا گانا، بچے کا رونا، فقیر کی صدا اور دھوبی کی دھمک — سب مل کر گھر کا سکون درہم برہم کرتے ہیں۔
  • طنزیہ اختتام: تنگ آ کر میاں اشفاق ٹوپی شیروانی پہن کر ‘آرام و سکون کے لیے’ دفتر روانہ ہو جاتے ہیں۔

امتحانی نکات

  • مکالمے کی تخریج لکھتے وقت ہمیشہ کردار کا نام (مصنف کی جگہ)، ڈرامے کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
  • ڈرامے کے تمام کرداروں (للو، بیوی/بیگم اشفاق، ڈاکٹر، میاں اشفاق) کے نام اور ان کا کردار یاد رکھیں۔
  • شور و غل کے تمام اسباب کو صحیح ترتیب سے یاد رکھیں: گھنٹی، ریشے، کھلونا گاڑی، ٹیلی فون، ہمسائے کا گانا، بچے کا رونا، فقیر، دھوبی۔
  • ڈرامے کا طنزیہ اور مزاحیہ پیغام (گھر میں سکون نہ ملنے پر دفتر کو ترجیح) امتحان میں واضح الفاظ میں بیان کریں۔
  • امتیاز علی تاج کی ادبی خدمات، بالخصوص ڈراما ‘انارکلی’، کا ذکر مصنف کے تعارف میں لازمی شامل کریں۔