Urdu Class 9 Lesson 8: Katba (Ghulam Abbas) Notes

سبق 8: کتبہ (Katba (Ghulam Abbas))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے آٹھویں سبق ‘کتبہ’ پر مبنی ہیں، جو غلام عباس کا لکھا ہوا ایک مشہور افسانہ ہے، جو ان کے افسانوی مجموعے ‘آندھی’ سے لیا گیا ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں افسانے کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

غلام عباس 1909ء میں امرتسر (مشرقی پنجاب، انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ ڈی اے وی سکھ ہائی سکول لاہور سے میٹرک پاس کیا اور بعد ازاں علومِ شرقیہ کے امتحانات پاس کیے۔ لکھنے لکھانے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا اور ابتدائی عمر میں غیر ملکی افسانوں کے تراجم کیے۔ وہ بچوں کے رسالے ‘پھول’ اور خواتین کے رسالے ‘تہذیبِ نسواں’ کے مدیر رہے، اور 1938ء میں ‘آل انڈیا ریڈیو’ سے منسلک ہو گئے۔

قیامِ پاکستان کے بعد غلام عباس بھی پاکستان آ گئے۔ پنجاب ایڈوائزری بورڈ نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں نقد انعام سے نوازا اور حکومتِ پاکستان نے انھیں ‘ستارۂ امتیاز’ کے اعزاز سے نوازا۔ ان کی اہم تصانیف میں تین افسانوی مجموعے ‘آندھی’، ‘جاڑے کی چاندنی’ اور ‘کن رس’، جب کہ تین ناولیں ‘کونڈے والا تکیہ’، ‘جزیرے کا مکین’ اور ‘دھنک’ شامل ہیں۔ انھوں نے فیلڈ مارشل صدر ایوب خان کی کتاب ‘Friends, Not Masters’ کا اردو ترجمہ ‘جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی’ کے نام سے کیا۔

اردو افسانہ نگاری میں غلام عباس کا مقام اہم اور منفرد ہے۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ نہ تھے، تاہم ان کے افسانوں میں ترقی پسندانہ رجحانات ملتے ہیں۔ انھوں نے زندگی کی صداقت اور فن کی لطافت کو یک جا کر کے منشی پریم چند (1880ء-1936ء) کی شروع کی ہوئی اردو افسانے کی روایت کو زندہ رکھا اور اس میں اپنی شخصیت کا رنگ بھر کر اسے ترقی کی راہ پر گام زن کیا — اسی لیے کہا جاتا ہے کہ غلام عباس اس افسانوی روایت کے آخری چراغ تھے۔ زیرِ نصاب افسانہ ‘کتبہ’ ان کے وسیع مشاہدے اور باریک بینی کی عمدہ مثال ہے۔ غلام عباس کا انتقال 1982ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

دفتری علاقے کا تعارف اور شریف حسین کا معمول

شہر سے کچھ فاصلے پر باغوں اور چھپروں میں گھری ایک جیسی عمارتوں کا سلسلہ ہے جہاں ہزاروں کلرک کام کرتے ہیں۔ ایک گرم سہ پہر کو شریف حسین، درجہ دوم کا کلرک، معمول سے کچھ سویرے دفتر سے نکل کر تانگہ سٹینڈ پر آ کھڑا ہوا۔ اس دن اس کی جیب میں معمول سے کچھ زیادہ رقم تھی کیوں کہ اس کی بیوی بچوں سمیت میکے گئی ہوئی تھی اور وہ اکیلا بے فکری کی زندگی گزار رہا تھا۔

کلرکوں کی مختلف اقسام اور طرزِ زندگی

دفتروں سے نکلنے والے کلرکوں کی ٹولیوں میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے — سائیکل سوار سجے سنورے، بے پروا اور بے ترتیب لباس والے، ہر عمر کے نوجوان اور بوڑھے۔ اکثر کلرک اپنی مادری زبان کی بجائے دفتری غیر زبان بولنے کے عادی ہو چکے تھے کیوں کہ افسروں سے دن بھر اسی میں بات چیت کرنی پڑتی تھی۔ سب کے چہروں پر افسروں کی نالائی اور تنخواہ کی کمی کا رنج جھلکتا تھا۔

جامع مسجد کے میلے میں سنگِ مرمر کے کتبے کی خریداری

شریف حسین تانگے سے اتر کر جامع مسجد کے قریب لگے پرانے سامان کے میلے کی طرف چل پڑا، جہاں طرح طرح کی پرانی اور دل چسپ چیزیں بکتی تھیں۔ ایک دکان پر اسے نفاست سے تراشا ہوا سنگِ مرمر کا ایک خالی کتبہ نظر آیا، جو غالباً کسی مغل بادشاہ کے مقبرے سے اکھاڑا گیا تھا۔ محض تجسس میں قیمت پوچھی تو دکان دار نے تین روپے بتائے، مگر مول تول کے بعد وہ صرف ایک روپے میں مل گیا — حالاں کہ اسے اس کی کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی۔

کتبے پر نام کندہ کرانے کا خیال اور مستقبل کے خواب

رات کو چھت پر اکیلے لیٹے ہوئے شریف حسین کے ذہن میں خیال آیا کہ شاید مستقبل میں اس کی ترقی ہو جائے، وہ سپرنٹنڈنٹ یا کم از کم ہیڈ کلرک بن جائے اور اپنا چھوٹا سا مکان لے کر اس کتبے پر اپنا نام کندہ کروا کر دروازے پر نصب کر دے۔ یہ خیالی تصویر اس کے ذہن پر ایسی چھا گئی کہ وہ کتبہ اسے بے مصرف کی بجائے ایک بھولی ہوئی ضرورت محسوس ہونے لگا۔

کتبے پر نام کندہ کروانا اور گھر لانا

تنخواہ ملتے ہی شریف حسین نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کتبے کو ایک سنگ تراش کے پاس لے جا کر اس پر اپنا نام کندہ کروایا۔ اپنا نام جلی حروف میں کندہ دیکھ کر اسے عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔ گھر پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ اس کے چھوٹے سے مکان کے باہر ایسا کتبہ لگانے کی جگہ ہی نہیں، چناں چہ اس نے اسے فی الحال ایک بے کواڑ کی الماری میں رکھ دیا۔

کتبے کا برسوں گھر میں مختلف جگہوں پر پڑے رہنا

کتبہ سال بھر بے کواڑ کی الماری میں پڑا رہا۔ بیٹے کے بڑے ہونے پر اسے صندوق میں، پھر بوری میں، کبھی چارپائی کے نیچے تو کبھی میز پر — یوں برسوں مختلف جگہوں پر منتقل ہوتا رہا۔ کبھی دھول جمنے سے اس کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور شریف حسین اسے دھو کر پھر رکھ دیتا، مگر رفتہ رفتہ گھر کی روزمرہ ضروریات کے پیش نظر یہ کتبہ ایک فراموش شے بنتا گیا۔

عارضی ترقی اور دوبارہ مایوسی

بارہ برس کی ملازمت کے بعد جب شریف حسین کے دل سے ترقی کی امیدیں تقریباً ختم ہو چکی تھیں، افسروں نے اسے تین ماہ کے لیے عارضی طور پر درجہ اول کے کلرک کی خالی جگہ دے دی۔ خوشی سے سرشار ہو کر اس نے میز کرسی خریدی اور کتبہ پھر نکال کر میز پر سجا دیا۔ مگر تین ماہ بعد وہ اصل کلرک واپس آ گیا اور شریف حسین کو دوبارہ اپنی پرانی جگہ پر آنا پڑا — کچھ دن مایوسی میں گزارنے کے بعد وہ حسبِ معمول کام میں جت گیا۔

زندگی کا معمول، بچوں کی پرورش اور بڑھاپا

سال پر سال گزرتے گئے۔ کتبہ کبھی الماری میں، کبھی صندوق پر، کبھی چولہے کے طاق میں رکھا جاتا رہا۔ شریف حسین کے بال سفید ہونے لگے اور کمر جھکنے لگی۔ اس کی توجہ اب ترقی کے بجائے بچوں کی تعلیم، بیٹی کی شادی اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر مرکوز ہو گئی۔ پچپن برس کی عمر میں اسے پنشن مل گئی، اور بیٹوں کی کمائی مل کر گھر کا خرچ بخوبی چلنے لگا۔

شریف حسین کی موت اور کتبے کا اصل مصرف

پنشن کے تین سال بعد ایک سرد رات کو نمونیا لگنے سے شریف حسین بیمار ہوا اور چار دن بعد وفات پا گیا۔ اس کی موت کے بعد بڑا بیٹا سامان کی صفائی کرتے ہوئے ایک بوری میں وہی پرانا کتبہ ڈھونڈ نکالا۔ باپ کا نام کندہ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور اگلے ہی روز وہ کتبہ سنگ تراش کے پاس لے جا کر عبارت میں معمولی ترمیم کروائی اور اسی شام اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا — یوں برسوں سے دروازے پر لگنے کا انتظار کرنے والا کتبہ آخرکار ایک قبر کا کتبہ بن گیا۔

سیاق و سباق کے ساتھ تشریح

نثر پارہ (موضوع: کلرکوں کا دفتری اثر کے تحت غیر زبان بولنے کی مشق کرنا) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: غلام عباس — سبق کا عنوان: کتبہ۔ مشکل الفاظ کے معنی: مادری زبان (وہ زبان جو بچپن سے سیکھی جائے)، طمانیت (اطمینان، سکون کا احساس)، قدرت (یہاں: مہارت، عبور)، مشق (بار بار دہرانے سے حاصل ہونے والی مہارت)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں غلام عباس دفتروں سے نکلنے والے کلرکوں کی اکثریت کا ذکر کرتے ہیں جن کی مادری زبان کچھ اور تھی مگر وہ آپس میں بھی جان بوجھ کر ایک غیر زبان میں بات چیت کرنے پر مصر رہتے تھے۔ مصنف وضاحت کرتے ہیں کہ اس کی وجہ کوئی طمانیت یا فخر نہیں تھا جو کسی غیر زبان پر عبور حاصل ہونے سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ چوں کہ انھیں دفتر میں دن بھر اپنے افسروں سے اسی غیر زبان میں بات کرنا پڑتی تھی، اس لیے وہ گھر جاتے ہوئے بھی دراصل اسی کی مشق کر رہے ہوتے تھے۔ یہ اقتباس نوآبادیاتی دور کے دفتری کلچر پر ایک لطیف طنز ہے۔

نثر پارہ (موضوع: شریف حسین کی موت کے بعد کتبے کا قبر کے کتبے کے طور پر استعمال) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔

مصنف کا نام: غلام عباس — سبق کا عنوان: کتبہ۔ مشکل الفاظ کے معنی: نقش و نگار (کندہ کاری، خوب صورت بناوٹ)، محویت (کسی خیال یا منظر میں کھو جانا)، ترمیم (کسی تحریر میں تبدیلی یا اصلاح)۔ تشریح: یہ اقتباس افسانے کے اختتام کا ہے، جب شریف حسین کی موت کے بعد اس کا بڑا بیٹا سامان کی صفائی کرتے ہوئے پرانی بوری میں وہی کتبہ ڈھونڈ نکالتا ہے جس پر اس کے باپ کا نام کندہ تھا۔ باپ سے محبت کے باعث بیٹے کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ دیر تک اس کی نقش و نگاری کو محویت سے دیکھتا رہتا ہے۔ اچانک اسے ایک ترکیب سوجھتی ہے: وہ کتبے کو سنگ تراش کے پاس لے جا کر عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کرواتا ہے اور اسی شام اسے باپ کی قبر پر نصب کر دیتا ہے — یوں افسانے کا المیہ اور اس کا مرکزی طنز اپنی انتہا کو پہنچتا ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

نقش و نگار

کندہ کاری، خوب صورت نقش بنانا۔

کواڑ

دروازے کا پٹ۔

خس و خاشاک

کوڑا کرکٹ، بے کار تنکے وغیرہ۔

ترمیم

کسی تحریر میں تبدیلی یا اصلاح۔

عکس

پرچھائیں، جھلک۔

مشقت

سخت محنت۔

مسلط

زبردستی چھایا ہوا، غالب۔

طمانیت

اطمینان، سکون کا احساس۔

تحقیق

کھوج، جستجو۔

بے مصرف

بے کار، جس کا کوئی استعمال نہ ہو۔

خاکہ

کتبے کا سفر — شریف حسین کی زندگی کے مختلف موڑ: سنگِ مرمر کے کتبے کے شریف حسین کی زندگی میں مختلف مراحل سے گزرنے کا خاکہ۔

کتبے کا سفر - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

شریف حسین اپنے دفتر میں کس حیثیت سے ملازم تھا؟

شریف حسین اپنے دفتر میں درجہ دوم کے کلرک کی حیثیت سے ملازم تھا۔

کلرکوں کی ٹولیوں میں کس طرح کے لوگ شامل تھے؟

کلرکوں کی ٹولیوں میں سائیکل سوار سجے سنورے لوگ، بے پروا اور بے ترتیب لباس والے، اور ہر عمر کے نوجوان و بوڑھے شامل تھے۔

شریف حسین نے سنگِ مرمر کا کتبہ کہاں سے اور کتنے میں خریدا؟

شریف حسین نے یہ کتبہ جامع مسجد کے قریب لگے پرانے سامان کے میلے سے صرف ایک روپے میں خریدا۔

شریف حسین نے سنگِ مرمر کے کتبے کا کیا استعمال سوچا تھا؟

اس نے سوچا تھا کہ ترقی پا کر اپنا مکان بنائے گا اور اس کتبے پر اپنا نام کندہ کروا کر دروازے کے باہر نصب کر دے گا۔

عارضی ترقی ملنے پر شریف حسین نے کیا کیا؟

عارضی ترقی ملنے پر اس نے میز کرسی خریدی اور کتبے کو نکال کر میز پر سجا دیا، مگر تین ماہ بعد اسے پرانی جگہ پر واپس آنا پڑا۔

شریف حسین کی موت کن حالات میں واقع ہوئی؟

ایک سرد رات کو باہر نکلنے سے اسے نمونیا ہو گیا اور چار دن بیمار رہنے کے بعد وہ وفات پا گیا۔

شریف حسین کی موت کے بعد اس کے بیٹے نے سنگِ مرمر کے کتبے کو کس مصرف میں لایا؟

بیٹے نے کتبے کی عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کروا کر اسی شام اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔

افسانہ ‘کتبہ’ کس مجموعے سے ماخوذ ہے؟

افسانہ ‘کتبہ’ غلام عباس کے افسانوی مجموعے ‘آندھی’ سے ماخوذ ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

افسانہ ‘کتبہ’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

شریف حسین کو سنگِ مرمر کا کتبہ کیسے ملا؟

ایک شام تانگے سے اتر کر جامع مسجد کے میلے میں گھومتے ہوئے شریف حسین کو ایک نفیس سنگِ مرمر کا کتبہ نظر آیا، جو اس نے محض تجسس اور مول تول کے بعد صرف ایک روپے میں خرید لیا۔

کتبے نے شریف حسین کے خیالوں میں کیسی ہلچل ڈالی؟

کتبے نے اس کے ذہن میں ترقی کے سنہرے خواب جگا دیے — وہ سپرنٹنڈنٹ یا ہیڈ کلرک بن کر اپنا مکان بنانے اور اس پر اپنا نام کندہ کروا کر دروازے پر نصب کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔

عارضی ترقی کے بعد شریف حسین کی زندگی میں کیا فرق آیا؟

بارہ برس بعد ملی عارضی ترقی نے اسے ایک بار پھر امید دلائی اور اس نے کتبہ میز پر سجا دیا، مگر تین ماہ بعد اصل کلرک کی واپسی پر اسے پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

افسانے کا اختتام کیسے ہوتا ہے؟

شریف حسین کی موت کے بعد اس کا بیٹا وہی فراموش شدہ کتبہ ڈھونڈ نکالتا ہے اور اس کی عبارت میں تھوڑی سی ترمیم کروا کر اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیتا ہے۔

غلام عباس کی افسانہ نگاری کی خصوصیات اور ‘کتبہ’ کے پیغام پر روشنی ڈالیں۔

غلام عباس اردو افسانے کی روایت میں کیوں اہم مقام رکھتے ہیں؟

انھوں نے زندگی کی صداقت اور فن کی لطافت کو یک جا کر کے منشی پریم چند کی شروع کی ہوئی افسانوی روایت کو زندہ رکھا، اسی لیے انھیں اس روایت کا آخری چراغ کہا جاتا ہے۔

افسانہ ‘کتبہ’ میں طنز کس طرح پیدا کیا گیا ہے؟

ایک عام سے کلرک کے چھوٹے چھوٹے خوابوں اور ان کے بار بار ٹوٹنے کو دکھا کر، اور یہ کہ جو کتبہ زندگی بھر مکان کے دروازے کی زینت نہ بن سکا، وہی بالآخر قبر کا کتبہ بنا۔

افسانے کا مرکزی خیال یا پیغام کیا ہے؟

افسانے کا پیغام یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں بڑے خواب اکثر معمولی نوکری، محدود وسائل اور حالات کے ہاتھوں پورے نہیں ہو پاتے، اور انسان کی امیدیں اکثر موت کے بعد ہی کسی نہ کسی صورت میں پوری ہوتی ہیں۔

غلام عباس کے اسلوب کی کیا خوبی ہے؟

غلام عباس کا اسلوب وسیع مشاہدے اور باریک بینی کا حامل ہے — وہ عام کرداروں اور معمولی واقعات کو ایسی تفصیل سے بیان کرتے ہیں کہ قاری ان سے گہری وابستگی محسوس کرتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

شریف حسین کو تانگے میں سوار ہونے کا لطف کن دنوں میں ملتا تھا؟ (الف) مہینے کے آخری دنوں میں (ب) مہینے کے شروع کے چند دنوں میں (ج) مہینے کے وسط میں (د) ہر روز

درست جواب: (ب) مہینے کے شروع کے چند دنوں میں۔ شریف حسین کو مہینے کے شروع کے صرف چار پانچ روز ہی یہ لطف ملتا تھا۔

شریف حسین کی جیب میں اس دن زیادہ رقم اس لیے تھی کیوں کہ: (الف) اس نے بچت کی تھی (ب) اس کی بیوی بچے میکے گئے ہوئے تھے (ج) اسے قرض ملا تھا (د) اسے انعام ملا تھا

درست جواب: (ب) اس کی بیوی بچے میکے گئے ہوئے تھے۔ اس کی بیوی بچوں سمیت میکے گئی ہوئی تھی، اس لیے اس کے اخراجات کم تھے۔

شریف حسین نے سنگِ مرمر کا کتبہ کتنے میں خریدا؟ (الف) تین روپے میں (ب) دو روپے میں (ج) ایک روپے میں (د) مفت میں

درست جواب: (ج) ایک روپے میں۔ مول تول کے بعد شریف حسین نے یہ کتبہ صرف ایک روپے میں خریدا۔

شریف حسین کے خیال میں سنگِ مرمر کے کتبے کا مصرف تھا کہ: (الف) کسی کو تحفہ دیا جائے (ب) اپنے مکان کے صدر دروازے پر لگایا جائے (ج) مطالعے کی میز پر رکھا جائے (د) بیچ دیا جائے

درست جواب: (ب) اپنے مکان کے صدر دروازے پر لگایا جائے۔ شریف حسین کا خیال تھا کہ ترقی پا کر اپنا مکان بنائے گا اور اس کتبے پر نام کندہ کروا کر دروازے پر لگائے گا۔

شریف حسین کو عارضی ترقی کتنے عرصے کے لیے ملی؟ (الف) ایک ماہ (ب) تین ماہ (ج) چھ ماہ (د) ایک سال

درست جواب: (ب) تین ماہ۔ شریف حسین کو تین ماہ کے لیے عارضی طور پر درجہ اول کے کلرک کی جگہ دی گئی۔

شریف حسین کی موت کس بیماری سے ہوئی؟ (الف) ملیریا سے (ب) نمونیا سے (ج) طاعون سے (د) بڑھاپے سے

درست جواب: (ب) نمونیا سے۔ ایک سرد رات کو باہر نکلنے سے نمونیا ہو گیا، جس کے باعث چار دن بعد وہ وفات پا گیا۔

شریف حسین کی موت کے بعد سنگِ مرمر کا کتبہ کس مصرف میں آیا؟ (الف) یوں ہی گھر میں پڑا رہا (ب) بیچ دیا گیا (ج) اس کی قبر کا کتبہ بنا (د) کسی کو تحفے میں دیا گیا

درست جواب: (ج) اس کی قبر کا کتبہ بنا۔ بیٹے نے کتبے کی عبارت میں ترمیم کروا کر اسے اپنے باپ کی قبر پر نصب کر دیا۔

افسانہ ‘کتبہ’ کس مجموعے سے لیا گیا ہے؟ (الف) جاڑے کی چاندنی (ب) آندھی (ج) کن رس (د) دھنک

درست جواب: (ب) آندھی۔ افسانہ ‘کتبہ’ غلام عباس کے افسانوی مجموعے ‘آندھی’ سے لیا گیا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • غلام عباس (1909ء-1982ء): مشہور افسانہ نگار، مجموعہ ‘آندھی’، حکومتِ پاکستان کی طرف سے ‘ستارۂ امتیاز’ کا اعزاز۔
  • شریف حسین درجہ دوم کا کلرک، اکیلے دن گزارتے ہوئے میلے سے ایک روپے میں سنگِ مرمر کا کتبہ خریدتا ہے۔
  • کتبے پر نام کندہ کروا کر ترقی اور اپنے مکان کے خواب دیکھتا ہے، مگر برسوں گھر میں مختلف جگہ پڑا رہتا ہے۔
  • عارضی ترقی سے تھوڑی دیر کی خوشی ملتی ہے، مگر تین ماہ بعد پھر پرانی جگہ پر آنا پڑتا ہے۔
  • شریف حسین کی موت کے بعد بیٹا کتبے کی عبارت میں ترمیم کروا کر اسے باپ کی قبر پر نصب کر دیتا ہے — افسانے کا طنزیہ اور المناک اختتام۔

امتحانی نکات

  • نثر پارے کی تشریح لکھتے وقت ہمیشہ مصنف کا نام، سبق کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
  • افسانے کے اہم واقعات (کتبے کی خریداری، نام کندہ کروانا، عارضی ترقی، موت، قبر کا کتبہ بننا) کو صحیح ترتیب سے یاد رکھیں۔
  • غلام عباس کی ادبی خدمات اور ان کی مشہور کتابوں کے نام امتحان کے لیے یاد رکھیں۔
  • افسانے کا طنزیہ اور المناک پیغام (چھوٹے خواب اور ان کا انجام) واضح الفاظ میں بیان کرنے کی مشق کریں۔
  • خلاصہ لکھتے وقت افسانے کے تمام اہم موڑ ایک منطقی ترتیب سے مختصراً بیان کریں۔