Urdu Class 9 Lesson 17: Sun To Sahi Jahan Mein Hai Tera Afsana Kya (Khawaja Haider Ali Aatish) Notes

سبق 17: سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا (Sun To Sahi Jahan Mein Hai Tera Afsana Kya (Ghazal – Khawaja Haider Ali Aatish))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے سترہویں سبق پر مبنی ہیں، جو لکھنؤ سکول کے مشہور شاعر خواجہ حیدر علی آتش کی غزل ‘سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا’ ہے اور کتاب کی چار غزلوں میں سے دوسری غزل ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں شعر وار تشریح، ضربُ المثل کا تعارف، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

شاعر کا تعارف

خواجہ حیدر علی، جن کا تخلص ‘آتش’ تھا، ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کی اصل نسبت دہلی سے تھی۔ ان کے والد نواب شجاع الدولہ کے دورِ حکومت میں دہلی سے ترکِ سکونت کر کے فیض آباد چلے گئے تھے، جو اس زمانے میں اودھ کا دارالحکومت تھا (لکھنؤ بعد میں دارالحکومت بنا)۔ آتش کی کم سنی ہی میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کے باعث ان کی روایتی تعلیم ادھوری رہ گئی اور ان کے مزاج میں بانکپن اور آزادگی پیدا ہو گئی۔

ذریعۂ معاش کی ضرورت پر آتش نے ایک نواب کی ملازمت اختیار کی اور انھی کے ہمراہ فیض آباد سے لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ یہ وہ دور تھا جب لکھنؤ میں شعر و شاعری کا بڑا چرچا اور گرم بازاری تھی۔ شہرت کی خواہش نے انھیں استاد مصحفی (غلام ہمدانی مصحفی) کا شاگرد بنا دیا، اور چند ہی ماہ کی محنت و مشق سے وہ خود صاحبِ طرز شاعر ٹھہرے اور دور و نزدیک ان کا شہرہ ہو گیا۔

آتش نے ساری عمر وضع داری اور سادگی میں بسر کی۔ وہ آزاد مزاج اور سپاہیانہ وضع کے مالک تھے — بانکپن کے ساتھ کمر میں تلوار باندھے رکھتے، یہاں تک کہ مشاعروں میں بھی مسلح جاتے۔ اس قدر قناعت پسند تھے کہ کبھی کسی نواب یا امیر کی خوشامد گوارا نہ کی، اگرچہ ان کے شاگردوں کی تعداد کافی تھی۔ اسی دور میں لکھنؤ کی شعری دنیا دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی: جانب دارانِ آتش اور جانب دارانِ ناسخ (امام بخش ناسخ)۔ دونوں استادوں کے مابین یہ رقابت اردو شاعری کے لیے سودمند ثابت ہوئی، کیونکہ فنی مقابلے کے جذبے نے دونوں کو زیادہ زور دار اور نکھرے ہوئے اشعار کہنے پر آمادہ کیا، اور یہ نوک جھونک ادب کے دائرے سے کبھی باہر نہ نکلی۔ خواجہ حیدر علی آتش 1778ء میں پیدا ہوئے اور 1846ء میں انتقال کر گئے۔

ضربُ المثل

چور کی داڑھی میں تنکا

کسی گناہ گار یا قصور وار شخص کا اپنے اضطراب و بےچینی سے خود ہی اپنی چوری یا غلطی ظاہر کر دینا۔

بوڑھی گھوڑی، لال لگام

بڑھاپے کے باوجود جوانوں جیسا سج دھج یا ظاہری بناوٹ اختیار کرنا، عمر کے تقاضوں کے خلاف رویہ۔

الٹے بانس بریلی کو

کسی کام کو انتہائی الٹے، بےڈھنگے یا غیر معقول طریقے سے کرنا۔

ایک انار، سو بیمار

کسی ایک ہی چیز کے متعدد طلب گار یا خواہش مند ہونا، جب کہ وہ چیز سب کو نہ مل سکے۔

ایک اور ایک، دو گیارہ

اتحاد و اتفاق سے طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، یعنی مل جل کر کام کرنے کی برکت۔

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

عوام کی متفقہ رائے کو حق اور سچائی کے قریب سمجھنا چاہیے۔

غزل کا تعارف

زیرِ نصاب غزل ‘کلیاتِ آتش’ سے لی گئی ہے۔ اس غزل میں خواجہ حیدر علی آتش نے دنیاوی شہرت کی بےثباتی، زندگی کی تیز رفتاری، قناعت پسندی، روح کی بےچینی اور رقیبانہ چشمک جیسے موضوعات کو تلمیح اور صنعتِ حسنِ تعلیل جیسی شعری صنعتوں کے ذریعے نہایت خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ غزل چھ اشعار پر مشتمل ہے: ایک مطلع، چار درمیانی اشعار، اور ایک مقطع، جس میں شاعر کا تخلص ‘آتش’ شامل ہے۔

شعر وار تشریح

شعر اول (مطلع): شہرت کی حقیقت پر سوال

غزل کے مطلع میں شاعر طنزیہ انداز میں خود سے یا کسی مخاطب سے سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں تمھارا افسانہ یا شہرت آخر کیا حقیقت رکھتی ہے۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ لوگ کسی کی عدم موجودگی میں (غائبانہ) جو باتیں کرتے ہیں، وہ اکثر حقیقت سے دور اور محض چہ می گوئیاں ہوتی ہیں۔ یہ شعر دنیاوی شہرت اور لوگوں کی راۓ کی سطحیت پر ایک لطیف طنز ہے۔

شعر دوم: زرِ گل کی تلمیح

شاعر بیان کرتے ہیں کہ زمین سے نکلنے والا ہر پھول گویا سونا ہاتھ میں لیے ہوئے (زر بکف) باہر آتا ہے، اور خیال ظاہر کرتے ہیں کہ شاید حضرت موسیٰ کے دور کے دولت مند و بخیل قارون نے، جو اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنس گیا تھا، اپنا سونا راستے میں بکھیر دیا ہو۔ یہ تلمیح اور صنعتِ حسنِ تعلیل کی خوب صورت مثال ہے، جس میں پھولوں کی سنہری رنگت کی ایک خیالی مگر دل کش وجہ بیان کی گئی ہے۔

شعر سوم: زندگی کی بےتاب رفتار

شاعر کہتے ہیں کہ زندگی کا گھوڑا (اسپِ عمر) اپنی آرام گاہ یعنی موت کی منزل کی طرف بےتابی سے خود ہی دوڑا چلا جا رہا ہے، اسے تیز کرنے کے لیے کسی مہمیز یا تازیانے کی ضرورت نہیں۔ یہ شعر زندگی کی تیز رفتاری اور اس کے فطری طور پر انجام کی جانب بڑھنے کے خیال کو بیان کرتا ہے۔

شعر چہارم: قناعت اور بےنیازی

شاعر بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس صرف طبل و علم — یعنی شان و وقار اور نام — ہے، ملک و مال نہیں؛ اسی لیے وہ زمانے کی مخالفت سے بےخوف ہیں کہ اس کے پاس چھیننے کو کچھ مادی نہیں۔ یہ شعر شاعر کی قناعت پسندی اور مادی نقصان سے بےپروائی کو نمایاں کرتا ہے۔

شعر پنجم: روح کی بےچینی

شاعر اپنے غمگین دل کی بےتابی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ جسم کے مسافر خانے کا مہمان (یعنی روح) کب رخصت ہو گا۔ یہ شعر تصوف کے انداز میں جسم کو عارضی قیام گاہ اور روح کو مسافر قرار دیتے ہوئے، دائمی راحت کی آرزو کا اظہار ہے۔

شعر ششم (مقطع): رقیب کے جواب میں فنی اعتماد

غزل کے مقطع میں شاعر اپنے تخلص ‘آتش’ کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی حاسد یا مخالف (مدعی) حسد کی بنا پر داد نہ دے تو نہ دے، انھیں اپنی غزل کی خوبی اور عاشقانہ اثر پر خود اعتماد ہے۔ اشاراتِ تدریس کے مطابق یہ شعر آتش کی اپنے مشہور رقیب سے شاعرانہ چشمک کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور شاعر کے پُراعتماد اور بےنیاز مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

غزل کا مجموعی تاثر

اس غزل کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ خواجہ حیدر علی آتش نے دنیاوی شہرت کی بےثباتی، زندگی کی تیز رفتاری، قناعت پسندی اور روح کی بےچینی جیسے فلسفیانہ و تصوف آمیز موضوعات کو تلمیح اور صنعتِ حسنِ تعلیل جیسی شعری چابک دستی سے بیان کیا ہے۔ ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل خیال رکھتا ہے، مگر مجموعی طور پر یہ غزل مادی دنیا سے بےنیازی اور اپنی فنی صلاحیت پر خودمختار اعتماد کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جس کی جھلک خاص طور پر مقطع میں رقیب کے جواب میں نظر آتی ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

فسانہ

کہانی، قصہ، داستان۔

غائبانہ

کسی کی عدم موجودگی میں، پسِ پشت۔

زر بکف

سونا ہاتھ میں لیے ہوئے، سنہری رنگت کا حامل۔

اسپِ عمر

زندگی کا گھوڑا، عمر کی تیز رفتاری کی علامت۔

مہمیز

گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے ایڑی میں لگایا جانے والا نوک دار آلہ۔

طبل و علم

ڈھول اور جھنڈا؛ شان و شوکت اور رتبے کی علامت۔

مدعی

دعویٰ کرنے والا، حریف، مخالف۔

سرائے

مسافر خانہ، عارضی قیام گاہ۔

خاکہ

غزل کے مرکزی مضامین: غزل کے چھ اشعار میں بیان کیے گئے مرکزی موضوعات کو دکھانے والا خاکہ۔

غزل کے مرکزی مضامین - سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

شاعر نے پھولوں کے زر بکف ہونے کی کیا وجہ بیان کی ہے؟

شاعر نے تلمیحاً بیان کیا ہے کہ ہر پھول قارون کے زیرِ زمین دفن خزانے کے اثر سے زر بکف نکلتا ہے، جو حقیقی نہیں بلکہ صنعتِ حسنِ تعلیل کے تحت ایک خیالی وجہ ہے۔

اسپِ عمر مہمیز اور تازیانے کے بغیر ہی کیوں دوڑتا ہے؟

کیونکہ زندگی خود ہی اپنی راحت کی منزل یعنی موت کی طرف بےتابی سے بڑھ رہی ہے، اسے تیز کرنے کے لیے کسی بیرونی زور کی ضرورت نہیں۔

شاعر کے پاس طبل و علم کے سوا اور کیا نہیں؟

شاعر کے پاس ملک و مال نہیں، صرف طبل و علم یعنی شان و وقار ہے، اسی لیے وہ زمانے کی مخالفت سے بےخوف ہیں۔

شاعر کا دلِ حزیں بےتاب کیوں ہے؟

اس لیے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روح، جو جسم کے سرائے میں مہمان کی طرح ٹھہری ہوئی ہے، جلد رخصت ہو جائے۔

مقطع میں شاعر کس سے داد کا طلب گار نہیں؟

شاعر مدعی یعنی حاسد مخالف سے داد کا طلب گار نہیں، وہ اپنی غزل کی خوبی پر خود مطمئن ہیں۔

یہ غزل کس مجموعے سے لی گئی ہے؟

یہ غزل ‘کلیاتِ آتش’ سے لی گئی ہے۔

خواجہ حیدر علی آتش کے استاد کون تھے؟

ان کے استاد مصحفی (غلام ہمدانی مصحفی) تھے۔

خواجہ حیدر علی آتش کا مشہور رقیب کون تھا؟

ان کا مشہور رقیب امام بخش ناسخ تھا، جن سے ان کی شاعرانہ چشمک لکھنؤ کی ادبی تاریخ میں مشہور ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

غزل میں تلمیح اور صنعتِ حسنِ تعلیل سے کیا مراد ہے؟ اس غزل سے مثال دیں۔

تلمیح کسے کہتے ہیں؟

شعر میں کسی مشہور واقعے، قصے یا روایت کی طرف اشارہ کرنے کو تلمیح کہتے ہیں۔

اس غزل میں تلمیح کی مثال دیں۔

اس غزل میں حضرت موسیٰ کے دور کے دولت مند و بخیل قارون اور اس کے زیرِ زمین دفن خزانے کی تلمیح استعمال ہوئی ہے۔

صنعتِ حسنِ تعلیل کسے کہتے ہیں؟

شاعر کا کسی فطری امر کی خوب صورت مگر خیالی وجہ بیان کرنا صنعتِ حسنِ تعلیل کہلاتا ہے۔

اس غزل میں صنعتِ حسنِ تعلیل کہاں استعمال ہوئی ہے؟

شاعر نے پھولوں کے زر بکف ہونے کی وجہ قارون کے خزانے کو قرار دیا ہے، حالانکہ یہ حقیقی وجہ نہیں بلکہ ایک خوب صورت خیالی توجیہ ہے۔

ضربُ المثل کسے کہتے ہیں؟ اس کی اہمیت اور مثالیں بیان کریں۔

ضربُ المثل کی تعریف کریں۔

ضرب کے معنی بیان کرنا اور مثل کے معنی مثال کے ہیں؛ چنانچہ ضربُ المثل سے مراد کوئی مثال دے کر بات بیان کرنا ہے، جسے اردو میں کہاوت بھی کہا جاتا ہے۔

ضربُ المثل کی خصوصیت کیا ہے؟

مثل کے چند مختصر الفاظ میں ایک پورا واقعہ یا قصہ پوشیدہ ہوتا ہے، جسے سن یا پڑھ کر پورا پس منظر ذہن میں آ جاتا ہے۔

اردو زبان میں ضرب الامثال کا ذخیرہ کیوں زیادہ ہے؟

کیونکہ اردو کئی زبانوں کے امتزاج سے بنی ہے، اس لیے اس میں مختلف زبانوں اور علاقوں کی کہاوتیں بھی شامل ہو گئی ہیں۔

کوئی دو ضرب الامثال کی مثال دیں۔

‘ایک اور ایک، دو گیارہ’ اتحاد کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے، جب کہ ‘ایک انار، سو بیمار’ کسی ایک ہی چیز کے متعدد طلب گاروں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

خواجہ حیدر علی آتش کی زندگی اور شاعرانہ حیثیت پر روشنی ڈالیں۔

خواجہ حیدر علی آتش کہاں پیدا ہوئے اور ان کا خاندانی پس منظر کیا تھا؟

وہ فیض آباد میں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندان اصلاً دہلی سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے والد نواب شجاع الدولہ کے دور میں فیض آباد منتقل ہوئے تھے۔

آتش نے شاعری میں استادی کس سے حاصل کی؟

وہ لکھنؤ آ کر استاد مصحفی کے شاگرد ہوئے اور چند ماہ کی مشق ہی سے صاحبِ طرز شاعر بن گئے۔

آتش کی طرزِ زندگی کیسی تھی؟

وہ سادہ، آزاد مزاج اور قناعت پسند تھے، سپاہیانہ وضع رکھتے اور مشاعروں میں بھی تلوار باندھ کر جاتے، کبھی کسی امیر کی خوشامد نہ کی۔

آتش کا مشہور رقیب کون تھا اور اس چشمک کا اردو شاعری کو کیا فائدہ ہوا؟

ان کا رقیب امام بخش ناسخ تھا؛ دونوں کے مقابلے کے جذبے نے دونوں کو بہتر سے بہتر شعر کہنے پر آمادہ کیا، جس سے اردو غزل کو فائدہ پہنچا۔

معروضی سوالات (MCQs)

خواجہ حیدر علی آتش کب پیدا ہوئے؟ (الف) 1778ء (ب) 1836ء (ج) 1846ء (د) 1810ء

درست جواب: (الف) 1778ء۔ خواجہ حیدر علی آتش 1778ء میں پیدا ہوئے۔

خواجہ حیدر علی آتش کا انتقال کب ہوا؟ (الف) 1810ء (ب) 1836ء (ج) 1846ء (د) 1723ء

درست جواب: (ج) 1846ء۔ خواجہ حیدر علی آتش کا انتقال 1846ء میں ہوا۔

آتش کے استاد کون تھے؟ (الف) ناسخ (ب) مصحفی (ج) ذوق (د) غالب

درست جواب: (ب) مصحفی۔ آتش کے استاد مصحفی (غلام ہمدانی مصحفی) تھے۔

آتش کے مشہور رقیب کون تھے؟ (الف) مصحفی (ب) امام بخش ناسخ (ج) میر تقی میر (د) مرزا سودا

درست جواب: (ب) امام بخش ناسخ۔ آتش کے مشہور رقیب امام بخش ناسخ تھے۔

اس غزل میں کس کی تلمیح بیان ہوئی ہے؟ (الف) قارون کا خزانہ (ب) حاتم طائی کی سخاوت (ج) یوسف کا حسن (د) فرہاد کی محنت

درست جواب: (الف) قارون کا خزانہ۔ اس غزل میں حضرت موسیٰ کے دور کے دولت مند و بخیل قارون کے خزانے کی تلمیح بیان ہوئی ہے۔

اس غزل کی ردیف کیا ہے؟ (الف) کیا (ب) غائبانہ (ج) خزانہ (د) تازیانہ

درست جواب: (الف) کیا۔ اس غزل کی ردیف ‘کیا’ ہے۔

ضربُ المثل کو اردو میں اور کیا کہا جاتا ہے؟ (الف) محاورہ (ب) کہاوت (ج) استعارہ (د) تشبیہ

درست جواب: (ب) کہاوت۔ ضربُ المثل کو اردو میں کہاوت بھی کہا جاتا ہے۔

آتش کا شعری مجموعہ کیا کہلاتا ہے؟ (الف) کلیاتِ آتش (ب) دیوانِ غالب (ج) بانگِ درا (د) بالِ جبریل

درست جواب: (الف) کلیاتِ آتش۔ آتش کا شعری مجموعہ ‘کلیاتِ آتش’ کہلاتا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • خواجہ حیدر علی آتش (1778ء-1846ء): فیض آباد میں پیدائش، لکھنؤ میں سکونت و وفات۔
  • استاد: مصحفی (غلام ہمدانی مصحفی)؛ مشہور رقیب: امام بخش ناسخ۔
  • شعری مجموعہ: ‘کلیاتِ آتش’۔
  • اس غزل میں تلمیح (قارون کا خزانہ) اور صنعتِ حسنِ تعلیل کی مثالیں یاد رکھیں۔
  • اس غزل کی ردیف ‘کیا’ ہے۔
  • ضربُ المثل یعنی کہاوت کی تعریف اور مثالیں (ایک اور ایک دو گیارہ، ایک انار سو بیمار وغیرہ) اچھی طرح یاد کریں۔
  • مجموعی تاثر: شہرت کی بےثباتی، زندگی کی تیز رفتاری، قناعت اور رقیب کے جواب میں فنی اعتماد۔

امتحانی نکات

  • تلمیح اور صنعتِ حسنِ تعلیل کی تعریفات اور اس غزل سے ان کی مثالیں اچھی طرح یاد رکھیں — امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہیں۔
  • ضربُ المثل کی تعریف اور کم از کم دو مثالیں مفہوم سمیت یاد رکھیں۔
  • ہر شعر کا مفہوم الگ الگ یاد رکھیں — شعر وار تشریح کی مشق کریں۔
  • خواجہ حیدر علی آتش کے حالاتِ زندگی، خصوصاً ان کے استاد اور رقیب کے نام یاد رکھیں۔
  • الفاظ کے معنی (زر بکف، طبل و علم، مدعی وغیرہ) کے درست تلفظ کی مشق کریں، جیسا کہ نصاب کی مشق میں مطلوب ہے۔