Urdu Class 9 Lesson 13: Javed ke Naam (Allama Muhammad Iqbal) Notes

سبق 13: جاوید کے نام (Javed ke Naam (Allama Muhammad Iqbal))

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے تیرھویں سبق ‘جاوید کے نام’ پر مبنی ہیں، جو مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے شعری مجموعے ‘بالِ جبریل’ سے ایک مختصر نظم ہے۔

یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں شعر وار تشریح، مرکزی خیال (خودی کا پیغام)، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

شاعر کا تعارف

علامہ محمد اقبالؒ سیالکوٹ، پنجاب میں 1877ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ نور محمد بڑے پرہیزگار اور عبادت گزار شخص تھے، اور والدہ امام بی بی بھی نیک سیرت اور عبادت گزار خاتون تھیں۔ ابتدائی تعلیم سید میر حسن کی درس گاہ سے حاصل کی، جسے علامہ اقبالؒ ہمیشہ اپنی کامیابی کا سبب سمجھتے تھے۔

علامہ اقبالؒ نے ایف اے سیالکوٹ سے، جبکہ بی اے اور ایم اے (فلسفہ) گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا، جہاں نامور فلسفہ دان پروفیسر تھامس آرنلڈ نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارا۔ 1905ء سے 1908ء تک یورپ میں مقیم رہ کر لندن سے بار ایٹ لا اور جرمنی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وطن واپسی پر لاہور ہائی کورٹ میں وکالت بھی کی، مگر شاعری ہی ان کا اصل میدان تھی۔

علامہ اقبالؒ مسلمانوں کے زوال پر رنجیدہ تھے اور انھیں دوبارہ عروج پر دیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے اپنی شاعری کے ذریعے خوابِ غفلت میں سوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی اور ‘مردِ مومن’ و ‘شاہین’ جیسی علامتوں سے نوجوانوں میں نئی روح پھونکی۔ انھوں نے تصورِ پاکستان بھی پیش کیا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ‘بانگِ درا’، ‘بالِ جبریل’، ‘ضربِ کلیم’ اور ‘ارمغانِ حجاز’ شامل ہیں، جو ‘کلیاتِ اقبال’ کی صورت میں یکجا شائع ہو چکے ہیں۔

اصطلاحات — تعریفات

خودی

علامہ اقبالؒ کے فلسفے کی بنیادی اصطلاح، جس سے مراد انسان کا اپنی ذات، صلاحیتوں اور وقار کا شعور ہے۔ اقبال کے نزدیک خودی کو مضبوط بنا کر ہی انسان کامیابی اور عزت حاصل کر سکتا ہے۔

نظم بہ ہیئتِ غزل

بعض نظمیں غزل کی ہیئت (یعنی ایک ہی بحر اور قافیہ ردیف کے تسلسل) میں لکھی جاتی ہیں، مگر موضوع کے اعتبار سے ایک ہی خیال کو تسلسل سے بیان کیا جاتا ہے، اس لیے انھیں نظم شمار کیا جاتا ہے۔ ‘جاوید کے نام’ اسی طرز کی نظم ہے۔

قافیہ

شعر کے مصرعوں کے آخر میں آنے والے وہ ہم آواز الفاظ جو ردیف سے پہلے آتے ہیں۔

ردیف

شعر میں قافیے کے بعد ہر مصرعے کے آخر میں دہرایا جانے والا ایک جیسا لفظ یا الفاظ۔

نظم کا تعارف

زیرِ نصاب نظم ‘جاوید کے نام’ کا پس منظر یہ ہے کہ جب علامہ اقبالؒ دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ہوئے تھے تو ان کے کم سن بیٹے جاوید اقبال نے انھیں پہلا خط لکھ کر گرامو فون لانے کی فرمائش کی۔ علامہ اقبالؒ بیٹے کے لیے گرامو فون تو نہ لا سکے، مگر جاوید کے نام منسوب کر کے یہ نظم لکھی، جس میں دراصل عالمِ اسلام کے تمام نوجوانوں کو خودی کا پیغام دیا گیا ہے۔ نظم مجموعہ ‘بالِ جبریل’ میں شامل ہے۔

شعر وار تشریح

شعر اول: اپنا مقام خود پیدا کرو

پہلے شعر میں شاعر نوجوان کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ عشق کی دنیا میں اپنا الگ اور منفرد مقام خود پیدا کرے، اور پرانی روش پر چلنے کے بجائے ایک نئے زمانے، نئی صبح و شام کی بنیاد ڈالے — یعنی زمانے کے پیچھے چلنے کے بجائے خود زمانہ ساز بنے۔

شعر دوم: فطرت کی خاموشی سے کلام پیدا کرو

دوسرے شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر خدا نے تمھیں فطرت کو سمجھنے والا دل عطا کیا ہے تو پھول اور غنچے کی خاموشی میں سے بھی معنی اور کلام پیدا کر لو — یعنی صاحبِ بصیرت انسان قدرت کی ہر خاموش نشانی سے بھی سبق اور حکمت اخذ کر لیتا ہے۔

شعر سوم: خود انحصاری اپناؤ، احسان نہ اٹھاؤ

تیسرے شعر میں شاعر مغرب کے شیشہ سازوں کے احسانات تلے دبنے سے منع کرتے ہیں، اور نصیحت کرتے ہیں کہ اپنے ہی وطن (ہندوستان) کی سادہ مٹی سے اپنا پیالہ اور جام خود بنا لو — یعنی مغربی وسائل پر انحصار چھوڑ کر اپنے وسائل پر بھروسا کرو اور خود انحصار بنو۔

شعر چہارم: اپنی سوچ سے نئی روح پیدا کرو

چوتھے شعر میں شاعر خود کو انگور کی بیل کی شاخ اور اپنی شاعری کو اسی شاخ کا ثمر (پھل) قرار دیتے ہیں، اور نوجوان کو کہتے ہیں کہ اسی ثمر سے ایک نئی، تازہ اور رنگین مے (فکر) پیدا کرے — یعنی میری شاعری کو محض سن کر نہ رہ جاؤ بلکہ اس سے اپنی نئی سوچ اور عمل کو جنم دو۔

شعر پنجم: خودی مت بیچو، فقیری میں نام پیدا کرو

پانچویں اور آخری شعر میں شاعر اعلان کرتے ہیں کہ ان کا راستہ دولت و امارت کا نہیں بلکہ درویشی اور قناعت (فقیری) کا ہے، اور نوجوان کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی خودی کبھی نہ بیچے، بلکہ غربت اور مشکل حالات میں بھی اپنا نام اور وقار پیدا کرے۔

مرکزی خیال

اس نظم کا مرکزی خیال خودی کا پیغام ہے۔ اگرچہ یہ نظم بظاہر علامہ اقبالؒ نے اپنے بیٹے جاوید کے نام لکھی ہے، مگر درحقیقت وہ اس کے ذریعے ہر مسلم نوجوان سے مخاطب ہیں۔ شاعر نوجوانوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنا مقام خود پیدا کریں، فطرت سے سبق حاصل کریں، مغرب کے احسانات کے بجائے خود انحصاری اپنائیں، اپنی سوچ سے نئی راہیں تراشیں، اور کبھی بھی مادی آسائش کی خاطر اپنی خودی اور وقار کو نہ بیچیں۔

اہم الفاظ کے معنی

دیارِ عشق

عشق کی دنیا، عشق کا میدان۔

دل فطرت شناس

وہ دل جو فطرت اور قدرت کے اسرار کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

سکوتِ لالہ و گل

پھول اور غنچے کی خاموشی۔

شیشہ گرانِ فرنگ

یورپ (مغرب) کے شیشہ بنانے والے کاریگر۔

سفالِ ہند

ہندوستان کی سادہ مٹی، کچی مٹی۔

مینا و جام

شراب کی صراحی اور پیالہ۔

شاخِ تاک

انگور کی بیل کی شاخ۔

لالہ فام

لالہ کے پھول جیسی سرخ رنگت والا۔

خودی

اپنی ذات، صلاحیتوں اور وقار کا شعور، اقبالؒ کے فلسفے کی بنیادی اصطلاح۔

فقیری

درویشی، دنیاوی مال و دولت سے بے نیازی اور قناعت۔

خاکہ

جاوید کے نام — خودی کے پانچ اسباق: نظم کے پانچوں اشعار میں بیان کردہ خودی کے پیغام کو مختصراً دکھانے والا خاکہ۔

جاوید کے نام - خودی کے پانچ اسباق کا خاکہ - اردو جماعت نہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

نظم ‘جاوید کے نام’ علامہ اقبالؒ نے کس کے نام معنون کی، اور حقیقتاً وہ کس سے مخاطب ہیں؟

یہ نظم بظاہر جاوید اقبال کے نام معنون ہے، لیکن حقیقتاً علامہ اقبالؒ اس کے ذریعے ہر مسلم نوجوان سے مخاطب ہیں۔

جاوید اقبال نے اپنے خط میں علامہ اقبالؒ سے کیا فرمائش کی تھی؟

جاوید اقبال نے اپنے خط میں گرامو فون لانے کی فرمائش کی تھی۔

‘دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر’ سے علامہ اقبالؒ کی کیا مراد ہے؟

مراد یہ ہے کہ نوجوان کو زمانے کے پیچھے چلنے کے بجائے اپنی محنت اور استقامت سے اپنا منفرد مقام اور نیا دور خود تخلیق کرنا چاہیے۔

‘سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر’ کہہ کر شاعر کیا نصیحت کرتے ہیں؟

شاعر نصیحت کرتے ہیں کہ مغربی وسائل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے سادہ وسائل سے خود کچھ تخلیق کیا جائے، یعنی خود انحصاری اپنائی جائے۔

شاعر خود کو ‘شاخِ تاک’ اور اپنی شاعری کو کیا قرار دیتے ہیں؟

شاعر خود کو انگور کی بیل کی شاخ اور اپنی شاعری (غزل) کو اسی شاخ کا ثمر (پھل) قرار دیتے ہیں۔

‘میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے’ سے علامہ اقبالؒ کی کیا مراد ہے؟

مراد یہ ہے کہ ان کا راستہ دولت و امارت کا نہیں بلکہ درویشی، قناعت اور خودداری کا ہے۔

علامہ اقبالؒ کے مطابق خودی کو کس صورت میں بھی نہیں بیچنا چاہیے؟

علامہ اقبالؒ کے مطابق خودی کو غربت اور مشکل حالات میں بھی کبھی نہیں بیچنا چاہیے، بلکہ غریبی میں بھی اپنا نام اور وقار پیدا کرنا چاہیے۔

نظم ‘جاوید کے نام’ علامہ اقبالؒ کے کس شعری مجموعے میں شامل ہے؟

یہ نظم علامہ اقبالؒ کے شعری مجموعے ‘بالِ جبریل’ میں شامل ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

نظم ‘جاوید کے نام’ کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کریں۔

پہلے اور دوسرے شعر میں شاعر کیا نصیحت کرتے ہیں؟

پہلے شعر میں شاعر نوجوان کو اپنا مقام خود پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں، اور دوسرے شعر میں فطرت کی خاموشی سے بھی سبق اور کلام اخذ کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔

تیسرے اور چوتھے شعر کا مضمون کیا ہے؟

تیسرے شعر میں مغرب کے احسانات کے بجائے خود انحصاری اپنانے کی بات ہے، جبکہ چوتھے شعر میں شاعر اپنی شاعری کو ثمر قرار دے کر نوجوان کو اس سے نئی سوچ پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

پانچویں شعر میں شاعر کیا پیغام دیتے ہیں؟

پانچویں شعر میں شاعر اپنے آپ کو فقیر (درویش) قرار دیتے ہوئے نوجوان کو نصیحت کرتے ہیں کہ خودی کبھی نہ بیچے اور غربت میں بھی اپنا وقار برقرار رکھے۔

نظم کا مجموعی پیغام کیا ہے؟

نظم کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ ہر مسلم نوجوان کو اپنی خودی مضبوط بنا کر، خود انحصاری اور خودداری کے ساتھ اپنا مقام خود پیدا کرنا چاہیے، نہ کہ مغرب کی تقلید یا مادی آسائش کے پیچھے بھاگنا چاہیے۔

نظم ‘جاوید کے نام’ کے پسِ منظر اور علامہ اقبالؒ کی شخصیت پر روشنی ڈالیں۔

یہ نظم لکھنے کا پسِ منظر کیا ہے؟

علامہ اقبالؒ جب دوسری گول میز کانفرنس کے سلسلے میں لندن گئے ہوئے تھے تو ان کے کم سن بیٹے جاوید اقبال نے خط میں گرامو فون کی فرمائش کی، جس کے جواب میں اقبالؒ نے گرامو فون کے بجائے یہ نظم لکھ کر بھیجی۔

علامہ اقبالؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت کیسی تھی؟

علامہ اقبالؒ نیک والدین کے زیرِ سایہ پروان چڑھے اور ابتدائی تعلیم سید میر حسن کی درس گاہ سے حاصل کی، جسے وہ ہمیشہ اپنی کامیابی کا سبب سمجھتے تھے۔

علامہ اقبالؒ کی شاعری کا بنیادی مقصد کیا تھا؟

علامہ اقبالؒ کی شاعری کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے زوال پر افسوس کا اظہار اور انھیں خودی و خود شناسی کے ذریعے دوبارہ عروج کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔

علامہ اقبالؒ کے شعری مجموعوں کے نام بتائیں۔

ان کے شعری مجموعوں میں ‘بانگِ درا’، ‘بالِ جبریل’، ‘ضربِ کلیم’ اور ‘ارمغانِ حجاز’ شامل ہیں، جو ‘کلیاتِ اقبال’ کی صورت میں یکجا شائع ہو چکے ہیں۔

معروضی سوالات (MCQs)

علامہ محمد اقبالؒ کہاں پیدا ہوئے؟ (الف) لاہور (ب) سیالکوٹ (ج) دہلی (د) امرتسر

درست جواب: (ب) سیالکوٹ۔ علامہ محمد اقبالؒ سیالکوٹ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔

علامہ اقبالؒ کی پیدائش و وفات کے سن کیا ہیں؟ (الف) 1877ء-1938ء (ب) 1857ء-1908ء (ج) 1900ء-1970ء (د) 1877ء-1947ء

درست جواب: (الف) 1877ء-1938ء۔ علامہ اقبالؒ 1877ء میں پیدا ہوئے اور 1938ء میں وفات پائی۔

علامہ اقبالؒ نے بی اے اور ایم اے (فلسفہ) کہاں سے کیا؟ (الف) علی گڑھ یونیورسٹی (ب) گورنمنٹ کالج لاہور (ج) پنجاب یونیورسٹی (د) کیمبرج یونیورسٹی

درست جواب: (ب) گورنمنٹ کالج لاہور۔ علامہ اقبالؒ نے بی اے اور ایم اے (فلسفہ) گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔

یورپ میں قیام کے دوران علامہ اقبالؒ نے کون سی ڈگریاں حاصل کیں؟ (الف) صرف ڈاکٹریٹ (ب) بار ایٹ لا (لندن) اور ڈاکٹریٹ (جرمنی) (ج) صرف بار ایٹ لا (د) ایم اے اور پی ایچ ڈی دونوں لندن سے

درست جواب: (ب) بار ایٹ لا (لندن) اور ڈاکٹریٹ (جرمنی)۔ علامہ اقبالؒ نے لندن سے بار ایٹ لا اور جرمنی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

نظم ‘جاوید کے نام’ علامہ اقبالؒ کے کس شعری مجموعے میں شامل ہے؟ (الف) بانگِ درا (ب) بالِ جبریل (ج) ضربِ کلیم (د) ارمغانِ حجاز

درست جواب: (ب) بالِ جبریل۔ یہ نظم شعری مجموعے ‘بالِ جبریل’ میں شامل ہے۔

نظم ‘جاوید کے نام’ دراصل کن سے مخاطب ہے؟ (الف) صرف جاوید اقبال سے (ب) تمام مسلم نوجوانوں سے (ج) صرف طلبہ سے (د) صرف شاعروں سے

درست جواب: (ب) تمام مسلم نوجوانوں سے۔ یہ نظم بظاہر جاوید کے نام ہے مگر دراصل ہر مسلم نوجوان سے مخاطب ہے۔

شاعر نے خود کو کیا قرار دیا ہے؟ (الف) پھول (ب) شاخِ تاک (ج) ستارہ (د) دریا

درست جواب: (ب) شاخِ تاک۔ شاعر نے خود کو انگور کی بیل کی شاخ (شاخِ تاک) قرار دیا ہے۔

شاعر کے مطابق ان کا طریق کیا ہے؟ (الف) امیری (ب) فقیری (ج) بادشاہی (د) تجارت

درست جواب: (ب) فقیری۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کا طریق امیری نہیں بلکہ فقیری ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • علامہ محمد اقبالؒ (1877ء-1938ء): سیالکوٹ میں پیدائش، مفکرِ پاکستان، خودی کے فلسفے کے بانی۔
  • نظم ‘جاوید کے نام’ کا پس منظر: جاوید اقبال کی گرامو فون کی فرمائش، جواب میں یہ نظم تحریر۔
  • نظم بظاہر جاوید کے نام مگر حقیقتاً ہر مسلم نوجوان سے خطاب، شعری مجموعہ ‘بالِ جبریل’ میں شامل۔
  • پانچ اشعار کا خلاصہ: اپنا مقام خود بناؤ، فطرت سے سیکھو، خود انحصار بنو، اپنی سوچ سے نئی روح پیدا کرو، خودی مت بیچو۔
  • مرکزی خیال: خودی کا پیغام — خود انحصاری، خودداری اور وقار کبھی مادی آسائش پر قربان نہ کرو۔
  • اہم اصطلاحات یاد رکھیں: خودی، فقیری، شاخِ تاک، سفالِ ہند، دل فطرت شناس۔

امتحانی نکات

  • شعر وار تشریح کی مشق کریں — ہر شعر کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھنے کی عادت ڈالیں۔
  • ‘خودی’ کی اصطلاح اور اس کا مفہوم اچھی طرح یاد رکھیں — یہ علامہ اقبالؒ کے کلام میں بار بار پوچھی جاتی ہے۔
  • مشکل تراکیب (شیشہ گرانِ فرنگ، سفالِ ہند، شاخِ تاک، دل فطرت شناس) کے معنی اور تلفظ یاد رکھیں۔
  • نظم کا پسِ منظر (جاوید کا خط اور گرامو فون کی فرمائش) امتحان میں اکثر پوچھا جاتا ہے۔
  • علامہ اقبالؒ کے شعری مجموعوں کے نام (بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، ارمغانِ حجاز) ترتیب سے یاد رکھیں۔