سبق 11: بھیڑیا (Bhediya (Farooq Sarwar))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے گیارھویں سبق ‘بھیڑیا’ پر مبنی ہیں، جو فاروق سرور کا لکھا ہوا ایک علامتی افسانہ ہے۔ یہ افسانہ اصل میں پشتو زبان میں لکھا گیا تھا اور مصنف نے خود اسے اردو میں ترجمہ کیا۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں سبق کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
فاروق سرور 25 مئی 1923ء کو صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے ایم اے انگلش کیا اور گورنمنٹ لاء کالج کوئٹہ سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد کوئٹہ میں قانون کی پریکٹس شروع کی اور سیشن کورٹ کوئٹہ اور بلوچستان ہائی کورٹ کوئٹہ میں بطور ایڈووکیٹ کام کرتے رہے۔
فاروق سرور کو بچپن ہی سے کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ اب تک ان کی سترہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جن میں بارہ کتابیں پشتو زبان میں، چار اردو میں اور ایک انگریزی میں ہے۔ اپنی ادبی خدمات کے صلے میں انھیں تین بار حکومتِ بلوچستان کی طرف سے بہترین کتاب کا انعام اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس مل چکا ہے، اور اکادمی ادبیات، اسلام آباد کی طرف سے ‘خوش حال خان خٹک ایوارڈ’ بھی ان کے نام ہے۔
فاروق سرور بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، کالم نگار، مترجم اور ریڈیو و ٹی وی ڈراموں کے فن کار ہیں۔ ان کے پشتو افسانوں کے اردو ترجمے پر مشتمل کتاب کا نام ‘ندی کی پیاس’ ہے، اور زیرِ نصاب سبق ‘بھیڑیا’ اسی کتاب سے لیا گیا ہے۔ یہ ایک علامتی افسانہ ہے جس میں انسانی جذبات کا خوب صورت اظہار کیا گیا ہے۔ اس افسانے کو اتنی پذیرائی ملی کہ مصنف نے اس کا انگریزی ترجمہ بھی خود کیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں ‘دریا’، ‘لیوہ’، ‘سکروائی’، ‘ادب سرا’، ‘ساگوان’ اور ‘مجرم’ شامل ہیں۔
سبق کا خلاصہ
آغاز — بے شمار درختوں میں چھپے خوف زدہ لوگ
کہانی کا راوی خود کو ایک عجیب منظر میں پاتا ہے: اس کے چاروں طرف بے شمار درخت ہیں اور ہر درخت میں کوئی نہ کوئی شخص پناہ لیے بیٹھا ہے، جب کہ نیچے اس کا اپنا بھیڑیا کھڑا اسے گھور رہا ہے۔ راوی خود بھی بہت دیر سے ایک درخت پر پناہ گزین ہے اور تھک چکا ہے، مگر نیچے کھڑا بھیڑیا اسے اترنے نہیں دیتا۔
جادوئی درخت کی ہر خواہش پوری کرنے والی آسائشیں
راوی بتاتا ہے کہ جس درخت پر وہ رہ رہا ہے وہ ایک عجیب و غریب، جادوئی درخت ہے۔ یہاں جو بھی خواہش کی جائے وہ فوراً پوری ہو جاتی ہے — نرم بستر، جدید سہولتوں والا ٹی وی سیٹ، من پسند کھانا، سب کچھ حاضر ہو جاتا ہے۔ اسے ہر طرح کی آسائش میسر ہے۔
سب کچھ ہونے کے باوجود آزادی کی کمی اور قربانی کا تقاضا
اتنی سہولتوں کے باوجود راوی کو جس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے وہ آزادی ہے۔ وہ آزادی کے لیے تڑپتا ہے، مگر یہ آزادی اس سے قربانی کا مطالبہ کرتی ہے — یعنی درخت سے نیچے اتر کر بھیڑیے کا مقابلہ کرنا۔ خوف اور بھیڑیے کی طاقت کے آگے راوی میں یہ جرأت نہیں ہوتی۔
دن کا سکون اور راتوں کی اذیت بھری بے خوابی
دن کے وقت راوی کسی نہ کسی مصروفیت میں لگا رہتا ہے، مگر رات ہوتے ہی اس پر عجیب اذیت طاری ہو جاتی ہے۔ خوف ناک خواب اسے ڈراتے ہیں، تھکن اور سنسنی جسم میں دوڑ جاتی ہے، اور وہ سوچتا رہتا ہے کہ آخر یہ عذاب کب تک جاری رہے گا۔
ایک ہم درد اجنبی کی موجودگی کا احساس
ایک صبح راوی کو اپنے درخت پر کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ خوف زدہ ہونے کے بعد اسے پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی بھیڑیا نہیں بلکہ اس جیسا ہی ایک اجنبی شخص ہے، جو اپنے بھیڑیے کے خوف سے اسی درخت پر پناہ لیے ہوئے ہے۔ دونوں اپنے اپنے بھیڑیوں سے خوف زدہ نکلتے ہیں۔
مشترکہ عذاب اور دونوں بھیڑیوں کا آپس میں لاتعلق رہنا
دونوں افراد اپنے اپنے بھیڑیوں کے خوف میں ایک جیسی زندگی گزار رہے ہیں — تمام آسائشوں کے باوجود بے چین، نیند سے محروم۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں بھیڑیے آپس میں بالکل لاتعلق رہتے ہیں، ہر بھیڑیا صرف اپنے ہی آدمی سے سروکار رکھتا ہے، جو دونوں کو حیران کرتا ہے۔
نیچے اترنے کا مشترکہ فیصلہ اور ساتھی کی جرأت مندانہ کام یابی
بہت غور و فکر کے بعد دونوں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ نیچے اتر کر اپنے اپنے بھیڑیے کا مقابلہ کریں گے۔ راوی کا ساتھی ہمت کر کے کود جاتا ہے، جب کہ راوی خوف کے باعث ایسا نہیں کر پاتا۔ ساتھی اپنے بھیڑیے کو ایک پتلی شاخ سے مار ڈالتا ہے اور آزاد ہو جاتا ہے۔
تنہا رہ جانے والے راوی کا بڑھتا خوف، سکڑتا درخت اور دیو ہیکل بنتا بھیڑیا
ساتھی کی آزادی کے بعد راوی کا اپنا بھیڑیا مزید وحشی ہو جاتا ہے اور بار بار درخت سے ٹکراتا ہے۔ اچانک درخت سکڑنے لگتا ہے اور بھیڑیا ہاتھی جتنا بڑا ہونے لگتا ہے۔ راوی خوف کے مارے موت کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہے، مگر نیچے سے ساتھی کی آواز مسلسل حوصلہ دیتی رہتی ہے۔
آخری ہمت، بھیڑیے پر فتح اور آزادی کا حصول
بالآخر راوی ہمت کر کے درخت سے نیچے کود جاتا ہے۔ بھیڑیا حملہ کرتا ہے، مگر اس سے پہلے ہی راوی اسے ایک پتلی سی شاخ سے مار ڈالتا ہے۔ ہاتھی جیسا بڑا بھیڑیا زمین پر گر کر مر جاتا ہے، اور راوی آخرکار آزاد ہو جاتا ہے — خوشی سے دیوانوں کی طرح ناچتا اور اچھلتا ہے۔
ساتھی کا پراسرار طور پر غائب ہونا اور دوسروں کو بیدار کرنے کا عزم
کچھ دیر بعد جب راوی اپنے ساتھی کا شکریہ ادا کرنے کے لیے دیکھتا ہے تو وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔ چاروں طرف پھر وہی بے شمار درخت نظر آتے ہیں، جن میں لوگ اپنے اپنے بھیڑیوں سے خوف زدہ چھپے بیٹھے ہیں۔ راوی زور زور سے چلاتا ہوا ان سادہ اور معصوم لوگوں کی طرف بڑھتا ہے جو ناحق اپنے بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں۔
سیاق و سباق کے ساتھ تشریح
نثر پارہ (موضوع: درخت کی تمام آسائشوں کے باوجود آزادی کی کمی اور قربانی کا تقاضا) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔
مصنف کا نام: فاروق سرور — سبق کا عنوان: بھیڑیا۔ مشکل الفاظ کے معنی: آسائش (آرام و راحت کا سامان)، قربانی (کسی بڑے مقصد کے لیے کچھ چھوڑ دینا)، تقاضا (مطالبہ، طلب)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں راوی اس جادوئی درخت کی تمام آسائشوں کا ذکر کرتا ہے، جہاں ہر خواہش فوراً پوری ہو جاتی ہے۔ اس کے باوجود وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں جس چیز کی کمی ہے اور جس کے لیے وہ تڑپ رہا ہے، وہ آزادی ہے۔ مگر یہ آزادی مفت نہیں ملتی — یہ راوی سے قربانی کا تقاضا کرتی ہے، یعنی نیچے اتر کر بھیڑیے کا سامنا کرنا۔ راوی میں ابھی اتنی جرأت نہیں کہ وہ یہ قربانی دے سکے، کیوں کہ وہ بھیڑیے سے خوف زدہ ہے اور اسے اپنے سے زیادہ طاقت ور سمجھتا ہے۔ یہ اقتباس کہانی کے مرکزی خیال کی بنیاد رکھتا ہے: مادی آسائش اور حقیقی آزادی کا فرق۔
نثر پارہ (موضوع: آخری لمحات میں موت کا انتظار اور ساتھی کی حوصلہ افزائی) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔
مصنف کا نام: فاروق سرور — سبق کا عنوان: بھیڑیا۔ مشکل الفاظ کے معنی: جلاد (سزائے موت دینے والا شخص)، سنسنی (خوف یا اضطراب کی لہر جو جسم میں دوڑ جائے)، بالآخر (آخرکار)۔ تشریح: یہ اقتباس کہانی کے عروج کا لمحہ ہے، جہاں درخت تیزی سے سکڑ رہا ہے اور بھیڑیا ہاتھی جتنا بڑا ہو چکا ہے۔ راوی خود کو ذہنی طور پر موت کے لیے تیار کر لیتا ہے اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو الوداعی نظروں سے دیکھتا ہے — بالکل اس مجرم کی طرح جو پھانسی کے تختے پر جلاد کے لیور کھینچنے کا منتظر ہو۔ اسی لمحے اسے نیچے سے صرف اپنے ساتھی کی آواز سنائی دیتی ہے، جو بار بار یقین دلاتا ہے کہ بھیڑیا محض ایک خوف ہے، ‘رائی کا پہاڑ’ ہے، جسے ایک ہی ٹھوکر سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ یہی حوصلہ افزائی راوی کو آخری فیصلہ کن ہمت عطا کرتی ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
آسائش
آرام و راحت کا سامان۔
جرأت
ہمت، بہادری۔
علامتی
کسی اور بات کی طرف اشارہ کرنے والا، تمثیلی۔
قربانی
کسی بڑے مقصد کے لیے کچھ چھوڑ دینا۔
بے سود
بے فائدہ، فضول۔
سنسنی
خوف یا اضطراب کی لہر جو جسم میں دوڑ جائے۔
جلاد
سزائے موت دینے والا شخص۔
رائی کا پہاڑ
کسی چھوٹی سی بات کو بہت بڑا سمجھ لینا (محاورہ)۔
ہلاک کرنا
مار ڈالنا۔
مسکن
رہنے کی جگہ، ٹھکانہ۔
خاکہ
کہانی ‘بھیڑیا’ کا علامتی سفر — خوف سے آزادی تک: کہانی کے چھ اہم مراحل کا خاکہ، درخت پر پناہ سے لے کر بھیڑیے پر فتح اور آزادی تک۔

مختصر سوالات و جوابات
درختوں کے نیچے کیا کھڑے تھے؟
درختوں کے نیچے بھیڑیے کھڑے تھے، جو نیچے اترنے والے کا انتظار کر رہے تھے۔
اس کہانی میں بلند درخت کس بات کی علامت ہے؟
بلند درخت مادی آسائش اور جھوٹی پناہ گاہ کی علامت ہے، جو حقیقی آزادی نہیں دیتی۔
جب درخت میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے تو راوی کو کیا پتا چلتا ہے؟
راوی کو پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی بھیڑیا نہیں بلکہ اس جیسا ہی ایک اجنبی شخص ہے، جو اپنے بھیڑیے کے خوف سے وہاں پناہ لیے بیٹھا ہے۔
اس کہانی میں بھیڑیا کس بات کی علامت ہے؟
بھیڑیا خوف کی علامت ہے، جو حقیقت میں اتنا طاقت ور نہیں ہوتا جتنا انسان اسے سمجھ بیٹھتا ہے۔
راوی کا ساتھی اپنے بھیڑیے کو کس چیز سے ہلاک کرتا ہے؟
راوی کا ساتھی اپنے بھیڑیے کو درخت سے توڑی ہوئی ایک پتلی سی شاخ سے ہلاک کرتا ہے۔
راوی بالآخر اپنے بھیڑیے سے کیسے نجات پاتا ہے؟
راوی ہمت کر کے درخت سے نیچے کودتا ہے اور اسی طرح ایک پتلی شاخ سے اپنے بھیڑیے کو مار ڈالتا ہے۔
آزادی حاصل کرنے کے بعد راوی کیا کرتا ہے؟
آزادی حاصل کرنے کے بعد راوی خوشی سے دیوانوں کی طرح ناچتا اور اچھلتا ہے۔
کہانی کے اختتام پر راوی کیا کرنے کا عزم کرتا ہے؟
راوی زور زور سے چلاتا ہوا ان سادہ اور معصوم لوگوں کی طرف بڑھنے کا عزم کرتا ہے جو ناحق اپنے بھیڑیوں سے خوف زدہ ہیں۔
تفصیلی سوالات و جوابات
سبق ‘بھیڑیا’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
کہانی کا آغاز کیسے ہوتا ہے اور راوی کس حالت میں ہے؟
راوی خود کو ایک درخت پر پناہ گزین پاتا ہے، جہاں نیچے ایک بھیڑیا کھڑا اس کے اترنے کا انتظار کر رہا ہے، اور اس جیسے بے شمار لوگ دوسرے درختوں پر بھی اپنے اپنے بھیڑیوں سے خوف زدہ چھپے ہیں۔
جادوئی درخت کن آسائشوں سے بھرپور ہے، لیکن اس میں کس چیز کی کمی ہے؟
درخت پر ہر خواہش فوراً پوری ہو جاتی ہے — بستر، ٹی وی، کھانا، سب کچھ میسر ہے — لیکن یہاں جس چیز کی کمی ہے وہ آزادی ہے، جو نیچے اتر کر بھیڑیے کا مقابلہ کرنے کی قربانی مانگتی ہے۔
راوی کو ایک اجنبی ساتھی کیسے ملتا ہے، اور دونوں کا مشترکہ مسئلہ کیا ہے؟
ایک صبح راوی کو اپنے درخت پر کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے، جو اس جیسا ہی ایک شخص نکلتا ہے، اپنے بھیڑیے کے خوف سے پناہ لیے ہوئے — دونوں آسائشوں کے باوجود بے چین اور نیند سے محروم ہیں۔
کہانی کا اختتام کس طرح ہوتا ہے؟
دونوں نیچے اترنے کا فیصلہ کرتے ہیں، ساتھی پہلے کود کر اپنے بھیڑیے کو مار ڈالتا ہے، اور بعد میں راوی بھی ہمت کر کے اپنے بھیڑیے پر فتح پا لیتا ہے، اور آزاد ہو کر دوسرے خوف زدہ لوگوں کی طرف بڑھتا ہے۔
کہانی ‘بھیڑیا’ میں مصنف نے کیا علامتی پیغام دیا ہے؟ وضاحت کریں۔
درخت اور بھیڑیا کس چیز کی علامت ہیں؟
درخت مادی آسائش اور جھوٹی پناہ گاہ کی علامت ہے، جب کہ بھیڑیا انسان کے اندرونی خوف کی علامت ہے، جو حقیقت میں اتنا طاقت ور نہیں ہوتا جتنا سمجھا جاتا ہے۔
ساتھی کی مدد اور مشترکہ جدوجہد کی کیا اہمیت اجاگر کی گئی ہے؟
کہانی بتاتی ہے کہ اکیلے میں انسان اپنے خوف سے مرعوب رہتا ہے، مگر کسی ہم درد ساتھی کی حوصلہ افزائی اور مثال سے ہمت پیدا ہوتی ہے اور خوف پر قابو پانا ممکن ہو جاتا ہے۔
کہانی خوف پر قابو پانے کے بارے میں کیا سبق دیتی ہے؟
کہانی سکھاتی ہے کہ خوف اکثر حقیقت سے بڑھ کر محسوس ہوتا ہے — جسے ‘رائی کا پہاڑ’ کہا گیا ہے — اور جرأت مندی سے اس کا سامنا کرنے پر وہ آسانی سے شکست کھا جاتا ہے۔
کہانی کا اختتامی پیغام کیا ہے؟
اختتامی پیغام یہ ہے کہ آزادی حاصل کرنے والے کو دوسروں کو بھی بیدار کرنا چاہیے، تاکہ وہ لوگ بھی اپنے بے جا خوف سے نجات پا سکیں۔
معروضی سوالات (MCQs)
ہم دونوں کے ______ اکثر اپنی جگہ خاموش بیٹھے رہتے تھے۔ (الف) اڑوے (ب) مینڈھے (ج) بھیڑیے (د) چیتے
درست جواب: (ج) بھیڑیے۔ ‘ہم دونوں کے بھیڑیے اکثر اپنی جگہ خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔’
ایک دن کافی ______ کے بعد دونوں نے نیچے اترنے کا فیصلہ کیا۔ (الف) سمجھ بوجھ (ب) تردد (ج) غور و فکر (د) سوچ بچار
درست جواب: (د) سوچ بچار۔ ‘ایک دن کافی سوچ بچار کے بعد ہم دونوں یہ فیصلہ کرتے ہیں۔’
______ جیسا بڑا بھیڑیا دھڑام سے نیچے گر کر مر گیا۔ (الف) گھوڑے (ب) ہاتھی (ج) شیر (د) چیتے
درست جواب: (ب) ہاتھی۔ ‘ہاتھی جیسا بڑا بھیڑیا دھڑام سے نیچے گرتا ہے اور مر جاتا ہے۔’
راوی کا ساتھی بھیڑیے کو کس چیز سے مارتا ہے؟ (الف) بندوق سے (ب) چھوٹی سی شاخ سے (ج) تیر کمان سے (د) لاٹھی سے
درست جواب: (ب) چھوٹی سی شاخ سے۔ ساتھی نے درخت سے توڑی ہوئی ایک چھوٹی سی شاخ سے بھیڑیے کو مارا۔
راوی کے ساتھی نے آزادی کس طرح حاصل کی؟ (الف) بہادری سے (ب) عقل مندی سے (ج) منت سماجت سے (د) مستقل مزاجی سے
درست جواب: (الف) بہادری سے۔ ساتھی نے اپنی بہادری سے آزادی حاصل کی۔
سبق ‘بھیڑیا’ کس زبان سے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے؟ (الف) فارسی (ب) پشتو (ج) بلوچی (د) سندھی
درست جواب: (ب) پشتو۔ یہ افسانہ اصل میں پشتو زبان میں لکھا گیا تھا۔
سبق ‘بھیڑیا’ کس کتاب سے لیا گیا ہے؟ (الف) شیر دریا (ب) لیوہ (ج) ندی کی پیاس (د) مجرم
درست جواب: (ج) ندی کی پیاس۔ یہ سبق فاروق سرور کی کتاب ‘ندی کی پیاس’ سے لیا گیا ہے۔
فاروق سرور کس شہر میں پیدا ہوئے؟ (الف) پشاور (ب) کوئٹہ (ج) لاہور (د) کراچی
درست جواب: (ب) کوئٹہ۔ فاروق سرور صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- فاروق سرور: کوئٹہ سے تعلق، وکالت اور افسانہ نگاری دونوں شعبوں سے وابستگی، سترہ کتابوں کے مصنف (12 پشتو، 4 اردو، 1 انگریزی)۔
- ‘بھیڑیا’ ایک علامتی افسانہ ہے، اصل پشتو میں لکھا گیا، مصنف نے خود اردو میں ترجمہ کیا، مجموعے ‘ندی کی پیاس’ سے ماخوذ۔
- درخت = مادی آسائش اور جھوٹی پناہ گاہ کی علامت؛ بھیڑیا = خوف کی علامت، جو حقیقت سے بڑھ کر محسوس ہوتا ہے۔
- کہانی کا مرکزی خیال: آزادی حاصل کرنے کے لیے خوف کا مقابلہ اور قربانی ضروری ہے۔
- ساتھی کی مدد اور اجتماعی جدوجہد کی اہمیت، اور کہانی کے اختتام پر دوسروں کو بیدار کرنے کا عزم۔
امتحانی نکات
- علامتی افسانہ پڑھتے وقت کرداروں اور اشیاء (درخت، بھیڑیا) کی علامتی حیثیت ہمیشہ ذہن میں رکھیں۔
- خلاصہ لکھتے وقت کہانی کے تمام اہم مراحل (پناہ، آسائش، ساتھی کی آمد، فیصلہ، فتح، آزادی) ترتیب سے بیان کریں۔
- ترجمہ شدہ افسانوں میں اصل زبان اور مترجم کا نام لازمی یاد رکھیں (یہاں: پشتو سے اردو، مترجم خود مصنف)۔
- کہانی کا مرکزی پیغام (خوف پر قابو پا کر آزادی حاصل کرنا) امتحان میں تفصیلی سوال کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔
- مشکل الفاظ اور محاورات (رائی کا پہاڑ) کے معنی یاد رکھیں۔