سبق 5: کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ (Kaleem Aur Mirza Zahir Dar Beg (Deputy Nazir Ahmad))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے پانچویں سبق ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ پر مبنی ہیں، جو ڈپٹی نذیر احمد کے اصلاحی ناول ‘توبۃ النصوح’ سے ماخوذ اقتباس ہے۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں سبق کا خلاصہ، سیاق و سباق کے ساتھ نثر پاروں کی تشریح، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ پیراگراف کی تشریح والے سوال کی تیاری کر سکیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
ڈپٹی نذیر احمد 1836ء میں ضلع بجنور (یوپی، انڈیا) کے ایک چھوٹے سے گاؤں ‘ریہڑ’ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اپنے والد سے حاصل کی، جو گاؤں میں بچوں کو پڑھایا کرتے تھے، اور پھر دہلی جا کر دہلی کالج میں داخلہ لے کر اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
بچپن ہی سے ڈپٹی کلکٹر بننے کا خواب دیکھتے تھے، جو ایک روز پورا بھی ہوا۔ انھوں نے 1857ء کی جنگِ آزادی کو دہلی میں مقیم ہونے کے باعث بہت قریب سے دیکھا۔ وہ سر سید احمد خاں کے افکار سے متاثر تھے، اسی لیے 1857ء کے بعد مسلمان اشرافیہ گھرانوں کی تعلیمی حالت سدھارنے کے لیے لکھنے لکھانے کا کام کیا۔
ڈپٹی نذیر احمد ناول پڑھنے کے بے حد شائق تھے، مگر ان کے سامنے اردو میں ناول کا کوئی نمونہ موجود نہ تھا، چنانچہ انھوں نے اپنے طور پر کوشش کر کے اردو ناول نگاری کے میدان میں پہلا قدم رکھا۔ انھوں نے متعدد اصلاحی ناول لکھے جن میں ‘مراۃ العروس’، ‘بنات النعش’، ‘توبۃ النصوح’، ‘فسانہ مبتلا’، ‘ابن الوقت’، ‘رویائے صادقہ’ اور ‘ایامیٰ’ شامل ہیں — یہ سب ناول اصلاحی نوعیت کے ہیں، جن کے کرداروں کے ذریعے اچھائی اور برائی کا فرق اور مسلمان اشرافیہ گھرانوں کی عورتوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح مقصود تھی۔ ڈپٹی نذیر احمد کا انتقال 1912ء میں ہوا۔
زیرِ نصاب اقتباس ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ ان کے ناول ‘توبۃ النصوح’ سے مستعار ہے۔ ناول کے اس حصے میں خاندان کے سربراہ نصوح کے بڑے بیٹے کلیم کا ذکر ہے، جو اپنے وقت کا معروف شاعر تھا مگر اپنے حال میں مست رہتا تھا، اور طنزیہ انداز میں اس کے دوست مرزا ظاہر دار بیگ کا بیان ہے، جس کا ظاہر اس کے باطن سے قطعی مختلف تھا۔
سبق کا خلاصہ
ناول کا پس منظر
ناول ‘توبۃ النصوح’ کا موضوع اولاد کی تربیت میں والدین کی ذمہ داریاں ہیں۔ نصوح شدید بیمار ہو کر ایک طویل خواب دیکھتا ہے جس میں لوگوں کی بداعمالیوں پر ان سے پوچھ گچھ ہو رہی ہوتی ہے۔ خواب سے بیدار ہو کر نصوح اپنی کوتاہیوں کا احساس کرتا ہے اور اپنی و گھر والوں کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے — چھوٹی اولاد کی اصلاح تو ہو جاتی ہے، مگر بڑا بیٹا کلیم، جس میں بہت سی خرابیاں ہیں، باپ کی نصیحت پر کان نہیں دھرتا۔
کلیم کا گھر چھوڑنا
کلیم ایک دن اپنے باپ کی نصیحتوں سے تنگ آ کر گھر چھوڑ دیتا ہے اور اپنے دوست مرزا ظاہر دار بیگ کے ہاں جا پہنچتا ہے۔ مرزا کے پاس اصل میں کچھ نہیں ہوتا، مگر وہ خود کو ایک بڑا صاحبِ جائیداد ظاہر کرتا رہتا ہے۔
مرزا کے گھر پر کلیم کی آمد
رات گئے کلیم مرزا کے مکان پر پہنچتا ہے اور دستک دیتا ہے۔ دو خادمائیں چراغ لیے باہر آتی ہیں اور ‘مرزا ظاہر دار بیگ’ کے نام سے لاعلمی ظاہر کرتی ہیں۔ تھوڑی گفتگو کے بعد ایک خادمہ سمجھ جاتی ہے کہ کلیم دراصل اسی شخص کو ڈھونڈ رہا ہے جو ہر جگہ خود کو ‘جمعدار’ کا وارث بتاتا پھرتا ہے، اور کلیم کو ایک چھوٹے سے کچے مکان کی طرف بھیج دیتی ہے۔
مرزا کی شرمندگی اور مسجد میں قیام
مرزا اپنی اصل حالت میں پکڑے جانے پر شرمندہ ہو کر باہر آتا ہے اور بہانہ بناتے ہوئے کلیم کو اپنے مکان کے بجائے قریبی ویران اور وحشت ناک پرانی مسجد میں ٹھہرا دیتا ہے، جہاں نہ کوئی حافظ ہے نہ طالب علم، اور جہاں چمگادڑوں کی بھنبھناہٹ کے سوا کچھ نہیں۔
مرزا کی جھوٹی شان و شوکت کا پول کھلنا
کلیم مرزا سے کہتا ہے کہ وہ ہمیشہ محل سراؤں، دیوان خانوں اور باغوں کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتا رہا، مگر آج ایک رات کے لیے بھی جگہ میسر نہیں۔ مرزا بہانہ بناتا ہے کہ جمعدار کے انتقال کے بعد لوگوں نے رشتہ اندازیاں کیں اور وہ خود جھگڑے سے کنارہ کش ہو گیا، حالاں کہ حقیقت میں اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔
بھنے چنوں کی چرب زبانی سے تعریف
بھوکا کلیم آخر خود کہہ دیتا ہے کہ اس نے کھانا نہیں کھایا۔ مرزا باہر جا کر صرف دو تین مٹھی بھنے ہوئے چنے لے آتا ہے، مگر اپنی چرب زبانی سے انھیں ایسے بیان کرتا ہے جیسے کوئی نہایت لذیذ اور نادر پکوان ہو۔ بھوکا کلیم انھی معمولی چنوں کو بھی خوش ذائقہ محسوس کرتا ہے۔
مسجد میں تنہا اور مصیبت زدہ رات
مرزا ایک پرانی دری اور میلا تکیہ بھجوا دیتا ہے۔ کلیم، جو کچھ دیر پہلے آرام دہ گھر میں تھا، اب ایک ویران مسجد میں اکیلا، بغیر چراغ، بغیر بستر کے، قید خانے کے گنہگار کی طرح رات گزارنے پر مجبور ہوتا ہے۔
صبح سامان کی چوری
صبح دیر سے جاگنے پر کلیم دیکھتا ہے کہ مرزا یا اس کا کوئی ساتھی اس کی ٹوپی، جوتی، رومال، چھڑی، تکیہ اور دری سمیت ہر چیز لے کر غائب ہو چکا ہے۔ کلیم دن بھر بھوکا اور بے سروسامان اسی ویران مسجد میں پھنسا رہتا ہے۔
کلیم کی گرفتاری
شام کو کلیم پریشان حال، ننگے سر و پاؤں مرزا کے مکان پر جاتا ہے۔ گھر والے اسے پہچانتے نہیں اور اپنی دری تکیہ واپس مانگتے ہوئے اسے چور سمجھ کر ‘مرزا زبردست بیگ’ کو اس کے پیچھے دوڑا دیتے ہیں۔ کلیم پکڑا جاتا ہے اور کوٹوالی لے جایا جاتا ہے۔
کوٹوال کے سامنے پیشی اور سبق کا اسلوب
کوٹوال کلیم کی بدحواس حالت دیکھ کر اس کے مشہور شاعر ہونے کے دعوے پر یقین نہیں کرتا اور اسے حوالات میں رکھنے اور صبح اس کے والد کو بلوا کر تصدیق کرانے کا حکم دیتا ہے۔ یہ اقتباس ڈپٹی نذیر احمد کے محاورے اور روزمرہ پر عبور اور ان کے طنزیہ اسلوب کی بہترین مثال ہے، جو والدین کی نافرمانی اور بری صحبت کے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
سیاق و سباق کے ساتھ تشریح
نثر پارہ (موضوع: مرزا کی دکھاوے کی شان و شوکت اور ویران مسجد کی حقیقت) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔
مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد — سبق کا عنوان: کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ۔ مشکل الفاظ کے معنی: مسجدِ ضرار (قرآن میں مذکور وہ مسجد جو نیک نیتی کے بجائے نقصان پہنچانے کی نیت سے بنائی گئی تھی)، ویران (اجڑی ہوئی، غیر آباد)، وحشت ناک (خوف ناک)۔ تشریح: زیرِ بحث نثر پارے میں مصنف ڈپٹی نذیر احمد اس مقام کا نقشہ کھینچتے ہیں جہاں مرزا ظاہر دار بیگ کلیم کو رات گزارنے کے لیے لے جاتا ہے۔ یہ ایک نہایت پرانی اور چھوٹی سی مسجد ہے، جو مسجدِ ضرار کی طرح ویران اور وحشت ناک دکھائی دیتی ہے — نہ وہاں کوئی حافظ ہے، نہ طالب علم، نہ مسافر، صرف چمگادڑوں کی بھنبھناہٹ کان کے پردے پھاڑتی محسوس ہوتی ہے۔ یہ منظر مرزا کی جھوٹی شان و شوکت کے دعووں اور اس کی اصل بے سروسامانی کے درمیان تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔
نثر پارہ (موضوع: مرزا کی چرب زبانی — بھنے چنوں کو دعوت بنا کر پیش کرنا) کی سیاق و سباق کے ساتھ تشریح کریں۔
مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد — سبق کا عنوان: کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ۔ مشکل الفاظ کے معنی: چرب زبانی (خوش کلامی، باتوں سے دوسرے کو متاثر کر لینے کی صلاحیت)، سخاوت (دریا دلی، فیاضی (یہاں طنزاً استعمال ہوا ہے))، سڈول (خوش شکل، متناسب)۔ تشریح: اس نثر پارے میں مصنف مرزا ظاہر دار بیگ کی چرب زبانی کی مثال پیش کرتے ہیں۔ بھوکے کلیم کے لیے مرزا صرف دو تین مٹھی بھنے ہوئے چنے لے آتا ہے، لیکن اپنی خوش کلامی سے انھیں ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جیسے وہ کوئی نادر و نایاب اور لذیذ ترین پکوان ہوں — دانوں کی سڈول ساخت اور خوشبو کی تعریف میں لمبی تقریر کر دیتا ہے۔ اس سے مصنف نے مرزا کے فریب کار اور دکھاوے پسند کردار کو نہایت مزاحیہ انداز میں بے نقاب کیا ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
اختلاجِ قلب
دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہو جانا۔
حشمت
شان و شوکت، رعب و دبدبہ۔
سخن سازی
جھوٹی باتیں گھڑنا، بناوٹی گفتگو۔
چار و ناچار
مجبوراً، بادلِ نخواستہ۔
اپنے تئیں
اپنے آپ کو۔
چرب زبانی
خوش کلامی سے دوسرے کو متاثر کر لینے کی صلاحیت۔
دھوم
شہرت، چرچا۔
متغیر
بدلا ہوا، تبدیل شدہ۔
عیار
چالاک، دھوکے باز۔
ہم رکاب
ساتھ ساتھ چلنے والا، ہمراہی۔
خاکہ
کلیم اور مرزا کی کہانی کا سفر: سبق میں پیش آنے والے پانچ اہم مراحل کا تسلسل کے ساتھ خاکہ۔

مختصر سوالات و جوابات
سبق ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ ڈپٹی نذیر احمد کے کس ناول سے مستعار ہے؟
یہ سبق ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ‘توبۃ النصوح’ سے مستعار ہے۔
مرزا ظاہر دار بیگ کا مکان کہاں واقع تھا اور کیا تھا؟
مرزا ظاہر دار بیگ کا مکان ایک بڑی حویلی کے پیچھے ایک چھوٹا سا کچا مکان تھا، جو دیکھنے میں نہایت معمولی تھا۔
مرزا ظاہر دار بیگ نے کلیم کو ایک رات کے لیے کس جگہ ٹھہرایا؟
مرزا نے کلیم کو ایک ویران اور وحشت ناک پرانی مسجد میں ٹھہرایا۔
مرزا ظاہر دار بیگ نے کلیم کو رات کا کھانا کس طور پر کھلایا؟
مرزا نے اپنی چرب زبانی سے صرف دو تین مٹھی بھنے ہوئے چنوں کو نہایت لذیذ پکوان کے طور پر پیش کر کے کلیم کو کھلایا۔
مرزا ظاہر دار بیگ نے کلیم کو اپنے بارے میں کیا بتایا تھا اور وہ کیا نکلا؟
مرزا نے خود کو جمعدار کا وارث اور جانشین بتایا تھا، لیکن حقیقت میں وہ ایک عام اور بے سروسامان آدمی نکلا۔
جب مرزا زبردست بیگ کلیم کے پیچھے بھاگا تو کلیم کس حلیے میں تھا؟
کلیم اس وقت ننگے سر، ننگے پاؤں اور دھول مٹی میں اٹا ہوا، پریشان حال تھا۔
ڈپٹی نذیر احمد کو اردو زبان میں کس چیز کی سند حاصل ہے؟
ڈپٹی نذیر احمد کو روزمرہ اور محاورے کے استعمال میں سند کی حیثیت حاصل ہے۔
صبح کے وقت کلیم کے ساتھ کیا سانحہ پیش آیا؟
صبح کے وقت مرزا یا اس کا کوئی ساتھی کلیم کی ٹوپی، جوتی، رومال، چھڑی، تکیہ اور دری سمیت ہر چیز لے کر غائب ہو گیا۔
تفصیلی سوالات و جوابات
سبق ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
ناول کا پس منظر کیا ہے اور کلیم مرزا کے گھر کیوں گیا؟
ناول ‘توبۃ النصوح’ میں نصوح شدید بیمار ہو کر خواب دیکھنے کے بعد اپنی اور گھر والوں کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کا بڑا بیٹا کلیم اصلاح قبول نہیں کرتا اور ایک روز گھر چھوڑ کر اپنے دوست مرزا ظاہر دار بیگ کے ہاں چلا جاتا ہے۔
مرزا نے کلیم کو رات گزارنے کے لیے کہاں ٹھہرایا اور کیوں؟
مرزا نے کلیم کو ایک ویران و وحشت ناک پرانی مسجد میں ٹھہرایا، حالاں کہ اس نے پہلے بڑی شان و شوکت اور جائیداد کے دعوے کیے تھے، جو سب جھوٹ ثابت ہوئے۔
مرزا نے کلیم کی بھوک کیسے مٹائی اور اس کا کیا اثر ہوا؟
مرزا صرف چند مٹھی بھنے ہوئے چنے لا کر اپنی چرب زبانی سے انھیں نفیس پکوان کے طور پر پیش کرتا ہے، اور بھوکے کلیم کو وہی معمولی چنے بھی خوش ذائقہ معلوم ہوتے ہیں۔
سبق کا اختتام کس واقعے پر ہوتا ہے؟
سبق کا اختتام اس واقعے پر ہوتا ہے کہ صبح کلیم کا سامان چوری ہو جاتا ہے، اور واپس مرزا کے مکان پر جانے پر اسے چور سمجھ کر پکڑ لیا جاتا ہے اور کوٹوالی لے جایا جاتا ہے، جہاں کوٹوال کو اس کی شناخت پر شک ہوتا ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کی شخصیت اور ادبی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کریں۔
ڈپٹی نذیر احمد کہاں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی؟
ڈپٹی نذیر احمد 1836ء میں ضلع بجنور کے گاؤں ‘ریہڑ’ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم اپنے والد سے گھر پر حاصل کی، پھر دہلی کالج میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
انھیں اردو ادب میں کس اعتبار سے پیش رو مانا جاتا ہے؟
انھیں اردو ناول نگاری کے میدان میں پہلا قدم رکھنے والے مصنف کے طور پر جانا جاتا ہے، کیوں کہ ان سے پہلے اردو میں ناول کا کوئی نمونہ موجود نہ تھا۔
ان کے مشہور ناولوں کے نام بتائیں۔
ان کے مشہور ناولوں میں ‘مراۃ العروس’، ‘بنات النعش’، ‘توبۃ النصوح’، ‘فسانہ مبتلا’، ‘ابن الوقت’، ‘رویائے صادقہ’ اور ‘ایامیٰ’ شامل ہیں۔
ان کے ناولوں کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
ان کے تمام ناول اصلاحی نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد کرداروں کے ذریعے اچھائی اور برائی کا فرق واضح کرنا اور مسلمان اشرافیہ گھرانوں کی گھریلو زندگی کی اصلاح کرنا تھا۔
معروضی سوالات (MCQs)
سبق ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ ڈپٹی نذیر احمد کے کس ناول سے ماخوذ ہے؟ (الف) مراۃ العروس (ب) توبۃ النصوح (ج) ابن الوقت (د) فسانہ مبتلا
درست جواب: (ب) توبۃ النصوح۔ یہ سبق ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ‘توبۃ النصوح’ سے ماخوذ ہے۔
مرزا نے کلیم کو رات ٹھہرانے کے لیے کہاں لے جایا؟ (الف) اپنی حویلی (ب) باغ (ج) ویران مسجد (د) سرائے
درست جواب: (ج) ویران مسجد۔ مرزا نے کلیم کو ایک ویران و وحشت ناک پرانی مسجد میں ٹھہرایا۔
مرزا نے کلیم کو رات کا کھانا کس شکل میں پیش کیا؟ (الف) پلاؤ (ب) بھنے چنے (ج) حلوہ (د) کباب
درست جواب: (ب) بھنے چنے۔ مرزا نے چند مٹھی بھنے ہوئے چنوں کو اپنی چرب زبانی سے نفیس پکوان بنا کر پیش کیا۔
کلیم کے پیچھے بھاگنے والے شخص کا نام کیا تھا؟ (الف) مرزا ظاہر دار بیگ (ب) مرزا زبردست بیگ (ج) مرزا طاقت ور بیگ (د) مرزا جاندار بیگ
درست جواب: (ب) مرزا زبردست بیگ۔ کلیم کے پیچھے مرزا زبردست بیگ ‘چور چور’ پکارتے ہوئے بھاگا۔
صبح کے وقت کلیم کے ساتھ کیا ہوا؟ (الف) اس کا سامان چوری ہو گیا (ب) وہ گھر واپس چلا گیا (ج) مرزا نے معافی مانگی (د) اسے انعام ملا
درست جواب: (الف) اس کا سامان چوری ہو گیا۔ صبح کے وقت کلیم کا ٹوپی، جوتی، رومال، تکیہ اور دری سمیت سارا سامان چوری ہو گیا۔
کوٹوال نے کلیم کو کیوں حراست میں رکھا؟ (الف) وہ چور تھا (ب) اس کی حالت پر یقین نہ آیا (ج) اس نے جرم قبول کیا (د) اس کے پاس پیسے نہ تھے
درست جواب: (ب) اس کی حالت پر یقین نہ آیا۔ کوٹوال کو کلیم کی بدحواس حالت دیکھ کر اس کے مشہور شاعر ہونے کے دعوے پر یقین نہیں آیا۔
ڈپٹی نذیر احمد کو اردو زبان میں کس چیز کی سند حاصل ہے؟ (الف) شاعری (ب) روزمرہ و محاورہ (ج) تاریخ نویسی (د) تنقید
درست جواب: (ب) روزمرہ و محاورہ۔ ڈپٹی نذیر احمد کو روزمرہ اور محاورے کے استعمال میں سند کی حیثیت حاصل ہے۔
ڈپٹی نذیر احمد کا انتقال کس سال ہوا؟ (الف) 1898ء (ب) 1905ء (ج) 1912ء (د) 1920ء
درست جواب: (ج) 1912ء۔ ڈپٹی نذیر احمد کا انتقال 1912ء میں ہوا۔
کلیم کس فن میں شہرت رکھتا تھا؟ (الف) مصوری (ب) شاعری (ج) خطاطی (د) موسیقی
درست جواب: (ب) شاعری۔ کلیم اپنے وقت کا معروف شاعر تھا۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- ڈپٹی نذیر احمد (1836ء-1912ء): اردو کے پہلے ناول نگار، اصلاحی ناولوں کے خالق، روزمرہ و محاورے کی سند۔ مشہور ناول: ‘توبۃ النصوح’، ‘مراۃ العروس’، ‘ابن الوقت’ وغیرہ۔
- سبق ‘کلیم اور مرزا ظاہر دار بیگ’ ‘توبۃ النصوح’ سے ماخوذ ہے — نصوح کا بڑا بیٹا کلیم گھر چھوڑ کر دوست مرزا ظاہر دار بیگ کے پاس جاتا ہے۔
- مرزا کی جھوٹی شان: خود کو جمعدار کا وارث بتاتا ہے، مگر اصل میں بے سروسامان نکلتا ہے — کلیم کو ویران مسجد میں ٹھہراتا ہے۔
- بھنے چنوں کا واقعہ: مرزا کی چرب زبانی، معمولی چنوں کو نفیس پکوان بنا کر پیش کرنا۔
- سبق کا اختتام: صبح کلیم کا سامان چوری، مرزا زبردست بیگ کے ہاتھوں گرفتاری، کوٹوالی میں پیشی۔
امتحانی نکات
- نثر پارے کی تخریج لکھتے وقت ہمیشہ مصنف کا نام، سبق کا عنوان، مشکل الفاظ کے معنی، اور پھر تشریح — اسی ترتیب سے لکھیں۔
- کہانی کے اہم کرداروں (کلیم، مرزا ظاہر دار بیگ، مرزا زبردست بیگ) اور ان کے کردار کی خصوصیات یاد رکھیں۔
- واقعات کی صحیح ترتیب (مسجد میں قیام، بھنے چنے، سامان کی چوری، گرفتاری) ذہن نشین رکھیں، یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھی جاتی ہے۔
- ڈپٹی نذیر احمد کی روزمرہ و محاورے کی مہارت اور طنزیہ اسلوب کو نمایاں کریں۔
- اہم تراکیب (چرب زبانی، سخن سازی، اختلاجِ قلب وغیرہ) کے معنی اور استعمال کی مشق کریں۔