سبق 1: حمد (Hamd (Muzaffar Warsi))
یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے SNC نصاب کے تحت جماعت نہم کی کتاب اردو (لازمی) کے پہلے سبق ‘حمد’ پر مبنی ہیں، جس کے خالق معروف حمد و نعت گو شاعر مظفر وارثی ہیں۔
یہ نوٹس اردو پیئرنگ اسکیم 2026ء کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں بند وار تشریح، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی، اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں تاکہ طلبہ امتحان کے اس سوال کی تیاری کر سکیں جس میں نظم کے بندوں کی تشریح مطلوب ہوتی ہے۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
شاعر کا تعارف
مظفر وارثی (اصل نام: محمد مظفر الدین احمد صدیقی) 1933ء میں بھارت کے علاقے میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان منتقل ہو گئے اور یہیں اپنی تعلیم مکمل کی۔
انھوں نے 1950ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور نظم کی تقریباً تمام اصناف — حمد، نعت، سلام، گیت، غزل — میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کی اصل پہچان اور شہرت حمد و نعت گوئی سے ہے۔ حکومتِ پاکستان نے 1988ء میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ سے نوازا۔ ان کی مکمل شاعری ‘کلیاتِ مظفر وارثی’ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ مظفر وارثی 2011ء میں انتقال کر گئے۔
اصنافِ نظم — تعریفات
حمد
حمد سے مراد وہ نظم یا اشعار ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی بزرگی، عظمت اور صفات کا بیان کیا جائے۔
مناجات
مناجات ایسی نظم کو کہتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ ساتھ اپنی عاجزی و انکساری ظاہر کر کے کوئی دعا یا التجا بھی کی جائے۔ حمد اور مناجات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حمد میں محض اللہ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے، جبکہ مناجات میں بندہ اپنے رب سے کچھ طلب بھی کرتا ہے۔
نعت
نعت اس نظم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ کی تعریف و توصیف بیان کی جائے۔
منقبت
منقبت وہ نظم ہے جس میں صحابہ کرام، اہلِ بیت، اولیائے کرام یا بزرگانِ دین کے اوصاف بیان کیے جائیں۔
نظم کا تعارف
زیرِ نصاب حمد میں شاعر اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کائنات کے ہر گوشے میں اس کی ذات و صفات کے مظاہر بیان کرتا ہے — زمین و آسمان سے لے کر رات کے تارے، اور بے جان پتھروں سے لے کر جانوروں اور انسانوں تک، ہر شے اپنی زبانِ حال سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مصروف نظر آتی ہے۔ آخر میں شاعر التجا کرتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی خلافت عطا کی ہے، اسی طرح اسے سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق بھی عطا کیا جائے۔
بند وار تشریح
بند اول: زمین و آسمان میں اللہ کی جھلک
پہلے بند میں شاعر کہتا ہے کہ زمین ہو یا آسمان، اور اس سے آگے پوری کائنات — ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی جھلک نظر آتی ہے۔ صبح کا ہر منظر نئے رنگ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے، سبزہ و پھول اپنی خوبصورتی سے، اور ساری کائنات اللہ کی ہم آہنگی سے گونجتی محسوس ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس نے بھی خلوصِ دل سے اللہ کو تلاش کیا، اسے پا لیا، کیونکہ ہر شے کا وجود اسی کی نمائندگی کرتا ہے۔
بند دوم: کائنات میں بے شمار نشانیاں
دوسرے بند میں شاعر آسمان کی وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے — جس طرح کہکشاں میں ان گنت ستارے آباد ہیں، اسی طرح چاند اور سورج اللہ کی روشنی کی علامتیں ہیں۔ شاعر یہاں تک کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بے جان پتھروں کو بھی گویا زبان عطا کر رکھی ہے، اور جانور اور انسان — سب اپنی اپنی زبان میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں۔
بند سوم: انسان کو خلافت کا منصب
تیسرے بند میں شاعر اس احسان کا ذکر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا — یعنی اسے زمین پر اپنا خلیفہ یا نائب بنایا۔ شاعر اس عظیم منصب کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کرتا ہے۔
بند چہارم: شوقِ سجدہ کی دعا
آخری بند میں شاعر اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ اسے سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق بھی عطا کیا جائے، اور اس کا سر ہمیشہ اللہ کی دہلیز پر جھکا رہے۔ اس طرح نظم ایک عاجزانہ دعا پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ خلافت کے منصب کے ساتھ ساتھ عبادت کا حقیقی شوق بھی نصیب ہو۔
مرکزی خیال
اس حمد کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی قدرت کے نشان کائنات کے ہر گوشے میں موجود ہیں — زمین، آسمان، ستاروں، پتھروں اور تمام مخلوقات میں۔ شاعر کے نزدیک ہر شے اپنی زبانِ حال سے اللہ کی حمد و ثنا میں مصروف ہے۔ نظم کا اختتام اس دعا پر ہوتا ہے کہ جس طرح انسان کو زمین پر خلافت کا منصب عطا ہوا ہے، اسی طرح اسے سچی عقیدت اور شوقِ سجدہ بھی نصیب ہو۔
اہم الفاظ کے معنی
جھلک
کسی چیز کی ہلکی سی نظر آنے والی علامت یا عکس۔
سحر
صبح کا وقت، طلوعِ آفتاب سے پہلے کا لمحہ۔
آہنگ
لَے، سُر، ہم آہنگی۔
جستجو
تلاش، کھوج۔
نما
ظاہر کرنے والا، نمائندگی کرنے والا۔
خلافت
نیابت، کسی کی طرف سے اختیار یا ذمہ داری سونپا جانا۔
منصب
عہدہ، مرتبہ۔
شوقِ سجدہ
عبادت اور اللہ کے حضور جھکنے کی گہری خواہش۔
دہلیز
دروازے کی چوکھٹ، یہاں مراد اللہ کی بارگاہ۔
حمد و ثنا
تعریف و توصیف، بزرگی بیان کرنا۔
خاکہ
حمد کا موضوعاتی خاکہ: ایک خاکہ جو نظم کے چاروں بندوں کے مرکزی خیال کو ترتیب وار دکھاتا ہے — زمین و آسمان میں جھلک سے لے کر شوقِ سجدہ کی دعا تک۔

مختصر سوالات و جوابات
مظفر وارثی کس صنفِ سخن میں اپنی پہچان رکھتے ہیں؟
مظفر وارثی اگرچہ نظم کی تقریباً تمام اصناف میں شعر کہتے تھے، لیکن ان کی اصل پہچان اور شہرت حمد و نعت گوئی سے ہے۔
حمد اور مناجات میں کیا فرق ہے؟
حمد میں محض اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور عظمت بیان کی جاتی ہے، جبکہ مناجات میں حمد کے ساتھ ساتھ بندہ اپنی عاجزی ظاہر کر کے اللہ سے کوئی دعا یا التجا بھی کرتا ہے۔
شاعر کے نزدیک کائنات کی کون سی چیزیں اللہ کی حمد میں مصروف ہیں؟
شاعر کے نزدیک زمین، آسمان، ستارے، پتھر، جانور اور انسان — سب اپنی اپنی زبان میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کر رہے ہیں۔
شاعر نے انسان کو کس منصب کا حامل بتایا ہے؟
شاعر نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی خلافت (نیابت) کا منصب عطا کیا ہے۔
نظم کے آخری بند میں شاعر کیا دعا مانگتا ہے؟
شاعر دعا مانگتا ہے کہ اسے سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق عطا کیا جائے اور اس کا سر ہمیشہ اللہ کی دہلیز پر جھکا رہے۔
مظفر وارثی کو حکومتِ پاکستان کی طرف سے کون سا اعزاز ملا؟
مظفر وارثی کو 1988ء میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ کا اعزاز دیا گیا۔
مظفر وارثی کی مکمل شاعری کس نام سے شائع ہوئی؟
مظفر وارثی کی مکمل شاعری ‘کلیاتِ مظفر وارثی’ کے نام سے شائع ہوئی۔
منقبت کسے کہتے ہیں؟
منقبت وہ نظم ہے جس میں صحابہ کرام، اہلِ بیت، اولیائے کرام یا بزرگانِ دین کے اوصاف بیان کیے جائیں۔
تفصیلی سوالات و جوابات
اس حمد کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں بیان کریں۔
نظم کے پہلے دو بندوں میں شاعر کیا بیان کرتا ہے؟
پہلے بند میں شاعر بتاتا ہے کہ زمین و آسمان اور پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی جھلک نظر آتی ہے۔ دوسرے بند میں وہ آسمان کے بے شمار ستاروں، چاند سورج اور یہاں تک کہ پتھروں تک میں اللہ کی نشانیاں اور اس کی حمد کا بیان تلاش کرتا ہے۔
تیسرے بند میں شاعر انسان کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
تیسرے بند میں شاعر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی خلافت، یعنی نیابت کا عظیم منصب عطا کیا ہے، جس پر شاعر شکرگزار ہے۔
آخری بند کی دعا کیا ہے؟
آخری بند میں شاعر التجا کرتا ہے کہ اسے سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق عطا کیا جائے، تاکہ وہ ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکا رہے۔
نظم کا مجموعی پیغام کیا ہے؟
نظم کا مجموعی پیغام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشان کائنات کے ذرے ذرے میں موجود ہیں، اور انسان کو اپنے عظیم منصب کے ساتھ ساتھ حقیقی عقیدت اور عبادت کا شوق بھی طلب کرنا چاہیے۔
مظفر وارثی کی شخصیت اور فن کا مختصر جائزہ پیش کریں۔
مظفر وارثی کے ابتدائی حالاتِ زندگی کیا تھے؟
مظفر وارثی 1933ء میں بھارت میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے، جہاں انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔
انھوں نے شاعری کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
انھوں نے 1950ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور نظم کی تقریباً تمام اصناف میں طبع آزمائی کی، تاہم حمد و نعت گوئی ان کی خاص پہچان بنی۔
انھیں کن اعزازات سے نوازا گیا؟
حکومتِ پاکستان نے 1988ء میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ سے نوازا۔
ان کا مجموعی ادبی مقام کیا ہے؟
مظفر وارثی کو اردو کی موضوعاتی شاعری، خصوصاً حمد و نعت گوئی میں ایک نمایاں اور منفرد مقام حاصل ہے، اور ان کی مکمل شاعری ‘کلیاتِ مظفر وارثی’ کی صورت میں محفوظ ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
مظفر وارثی کس صنفِ سخن کے لیے خاص طور پر معروف ہیں؟ (الف) غزل (ب) حمد و نعت (ج) افسانہ (د) سفرنامہ
درست جواب: (ب) حمد و نعت۔ مظفر وارثی اگرچہ کئی اصناف میں شعر کہتے تھے، لیکن ان کی خاص پہچان حمد و نعت گوئی سے ہے۔
مظفر وارثی نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کس سن میں کیا؟ (الف) 1933ء (ب) 1947ء (ج) 1950ء (د) 1988ء
درست جواب: (ج) 1950ء۔ مظفر وارثی نے 1950ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔
‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ کا اعزاز مظفر وارثی کو کس سن میں ملا؟ (الف) 1950ء (ب) 1970ء (ج) 1988ء (د) 2011ء
درست جواب: (ج) 1988ء۔ حکومتِ پاکستان نے 1988ء میں مظفر وارثی کو ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ سے نوازا۔
حمد اور مناجات میں بنیادی فرق کیا ہے؟ (الف) حمد میں دعا کی جاتی ہے (ب) مناجات میں صرف تعریف ہوتی ہے (ج) مناجات میں تعریف کے ساتھ دعا بھی کی جاتی ہے (د) دونوں بالکل ایک جیسی ہیں
درست جواب: (ج) مناجات میں تعریف کے ساتھ دعا بھی کی جاتی ہے۔ مناجات میں اللہ کی حمد کے ساتھ ساتھ بندہ اپنی عاجزی ظاہر کر کے دعا یا التجا بھی کرتا ہے، جبکہ حمد میں صرف بزرگی بیان کی جاتی ہے۔
نعت کس ہستی کی تعریف میں کہی جاتی ہے؟ (الف) اولیائے کرام (ب) صحابہ کرام (ج) رسول اللہ ﷺ (د) اہلِ بیت
درست جواب: (ج) رسول اللہ ﷺ۔ نعت اس نظم کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ کی تعریف و توصیف بیان کی جائے۔
شاعر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر کیا عطا کیا؟ (الف) دولت (ب) خلافت (ج) علم (د) طاقت
درست جواب: (ب) خلافت۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنی خلافت (نیابت) کا منصب عطا کیا ہے۔
نظم کے آخری بند میں شاعر کس چیز کی دعا مانگتا ہے؟ (الف) دولت کی (ب) شوقِ سجدہ کی (ج) لمبی عمر کی (د) علم کی
درست جواب: (ب) شوقِ سجدہ کی۔ شاعر آخری بند میں دعا مانگتا ہے کہ اسے سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق عطا کیا جائے۔
منقبت کن ہستیوں کے اوصاف بیان کرنے کے لیے کہی جاتی ہے؟ (الف) صرف انبیاء کے (ب) صحابہ کرام، اہلِ بیت اور اولیائے کرام کے (ج) صرف شعرا کے (د) صرف بادشاہوں کے
درست جواب: (ب) صحابہ کرام، اہلِ بیت اور اولیائے کرام کے۔ منقبت وہ نظم ہے جس میں صحابہ کرام، اہلِ بیت، اولیائے کرام یا بزرگانِ دین کے اوصاف بیان کیے جائیں۔
مظفر وارثی کی مکمل شاعری کس مجموعے کی صورت میں شائع ہوئی؟ (الف) دیوانِ وارثی (ب) کلیاتِ مظفر وارثی (ج) بابِ حرم (د) نورِ ازل
درست جواب: (ب) کلیاتِ مظفر وارثی۔ مظفر وارثی کی تمام شاعری ‘کلیاتِ مظفر وارثی’ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔
مظفر وارثی کا انتقال کس سن میں ہوا؟ (الف) 1988ء (ب) 2001ء (ج) 2011ء (د) 2020ء
درست جواب: (ج) 2011ء۔ مظفر وارثی 2011ء میں انتقال کر گئے (پیدائش 1933ء)۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- مظفر وارثی (1933ء-2011ء): معروف حمد و نعت گو شاعر، 1988ء میں ‘پرائیڈ آف پرفارمنس’ سے نوازے گئے، مکمل شاعری ‘کلیاتِ مظفر وارثی’ میں شائع۔
- حمد: اللہ تعالیٰ کی بزرگی کا بیان۔ مناجات: حمد کے ساتھ دعا بھی۔ نعت: رسول اللہ ﷺ کی تعریف۔ منقبت: صحابہ/اولیاء کے اوصاف کا بیان۔
- بند اول-دوم: زمین، آسمان، ستاروں اور پتھروں تک — ہر شے میں اللہ کی جھلک اور حمد و ثنا۔
- بند سوم: انسان کو زمین پر خلافت (نیابت) کا منصب عطا کیا گیا۔
- بند چہارم: شاعر کی دعا — سچے دل سے سجدہ کرنے کا شوق نصیب ہو۔
- مرکزی خیال: کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی حمد میں مصروف ہے؛ انسان کو منصب کے ساتھ عبادت کا حقیقی شوق بھی مانگنا چاہیے۔
امتحانی نکات
- امتحان میں ‘نظم کے بندوں کی تشریح’ کے سوال کے لیے ہر بند کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں لکھنے کی مشق کریں، رٹے کی بجائے سمجھ کر یاد رکھیں۔
- حمد، مناجات، نعت اور منقبت کی تعریفات کا فرق واضح طور پر یاد رکھیں — یہ اکثر معروضی و مختصر سوالات میں پوچھا جاتا ہے۔
- مظفر وارثی کے اہم حالاتِ زندگی (پیدائش، شاعری کا آغاز، اعزاز، وفات) کی تاریخیں یاد رکھیں۔
- مرکزی خیال لکھتے وقت نظم کے چاروں بندوں کے مرکزی نکات کو مختصراً ایک ساتھ جوڑ کر بیان کریں۔
- اہم الفاظ کے معنی (جھلک، آہنگ، خلافت، منصب وغیرہ) کا لغوی مفہوم اچھی طرح یاد رکھیں کیونکہ یہ سیاق و سباق کے سوالات میں کام آتے ہیں۔