یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب ہشتم ‘معاشی ترقی و منصوبہ بندی’ پر مبنی ہیں۔ معاشی ترقی سے مراد کسی پسماندہ معیشت کا ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہونا ہے، جس کے دوران قومی آمدنی بڑھتی ہے اور لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔
اس باب میں معاشی ترقی کی تعریفیں اور پیمائش، ترقی پذیر معیشتوں کے مسائل، معاشی ترقی کے عوامل، پاکستان میں معیارِ زندگی، معاشی منصوبہ بندی کا تصور اور پاکستان میں اس کی تاریخ، اور پاکستان کے زرعی و صنعتی شعبوں کے مسائل و حل تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد
- معاشی ترقی کی مختلف تعریفیں اور اس کی پیمائش کے مظاہر بیان کریں۔
- ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش مسائل کی وضاحت کریں۔
- معاشی ترقی کے معاشی، سماجی و ثقافتی اور سیاسی عوامل بیان کریں۔
- پاکستان میں معیارِ زندگی کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کریں۔
- معاشی منصوبہ بندی کے تصور اور پاکستان میں اس کی تاریخ کی وضاحت کریں۔
- پاکستان کے زرعی اور صنعتی شعبوں کے مسائل اور ان کے حل بیان کریں۔
کلیدی تصورات
معاشی ترقی کا تصور اور تعریفیں
معاشی ترقی سے مراد کسی پسماندہ معیشت کا ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہونا ہے۔ پروفیسر آرتھر لیوس کے مطابق معاشی ترقی اشیاء و خدمات کی پیداوار میں اضافے کا نام ہے۔ ایچ ایف ولیمسن کے نزدیک یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے لوگ دستیاب وسائل استعمال کر کے اشیاء و خدمات کی فی کس مقدار میں مسلسل اضافہ کرتے ہیں۔
مائر اینڈ بالڈون کی تعریف کے مطابق معاشی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی معیشت کی حقیقی قومی آمدنی طویل عرصے تک بڑھتی رہتی ہے، اور اگر ترقی کی شرح آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ ہو تو فی کس حقیقی آمدنی بھی بڑھتی ہے۔ یہ تعریف سب سے زیادہ جامع سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ عمل عام طور پر 20 سے 25 سال کے طویل عرصے پر محیط ہوتا ہے۔
معاشی ترقی کی پیمائش کے مظاہر
معاشی ترقی کی پیمائش کے لیے کئی مظاہر (Indicators) استعمال کیے جاتے ہیں: حقیقی قومی پیداوار میں اضافہ (سب سے اہم مظہر، بشرطیکہ یہ افراطِ زر کی بجائے حقیقی اضافہ ہو)، فی کس قومی آمدنی میں اضافہ (بشرطیکہ دولت کی تقسیم بھی بہتر ہو)۔
اس کے علاوہ سرمائے کی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ اور محنت کی کارکردگی میں اضافہ (مہارت اور پیداواری معیار میں بہتری) بھی معاشی ترقی کے اہم مظاہر تصور کیے جاتے ہیں۔
ترقی پذیر معیشتوں کے مسائل
پروفیسر نرکسے کے مطابق غیر ترقی یافتہ ممالک وہ ہیں جن کی آبادی اور قدرتی وسائل کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو۔ ترقی پذیر معیشتوں کو کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں: پست فی کس آمدنی، بیرونی قرضوں کا بوجھ (جو غربت کے شخص چکر کو جنم دیتا ہے)، آبادی میں تیز اضافہ، اور سرمائے کی قلت۔
اس کے علاوہ زراعت پر حد سے زیادہ انحصار، قدرتی وسائل سے کم استفادہ، انسانی وسائل کی کم استعداد، محدود ملکی منڈی، توازنِ تجارت اور توازنِ ادائیگی میں خسارہ، غیر ترقی یافتہ ذرائع نقل و حمل، ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی (Brain Drain)، ٹیکنالوجی کی پسماندگی اور جذبۂ حبِ الوطنی کا فقدان بھی اہم مسائل ہیں۔
معاشی ترقی کے عوامل
معاشی ترقی پر تین طرح کے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں: معاشی عوامل، سماجی و ثقافتی عوامل اور سیاسی عوامل۔ معاشی عوامل میں قدرتی وسائل (زمین، معدنیات، دریا، جنگلات)، سماجی و انسانی سرمایہ (تعلیم یافتہ افراد، ذرائع آمدورفت، توانائی کے وسائل)، تشکیلِ سرمایہ (بچتوں میں اضافہ)، سرمائے اور پیداوار کے تناسب میں بہتری، اور آجرانہ صلاحیتیں شامل ہیں۔
سماجی و ثقافتی عوامل میں معاشرے کا نئی چیزوں کو قبول کرنے کا رجحان شامل ہے، جبکہ سیاسی عوامل میں سیاسی استحکام، عوام کا حکمرانوں پر اعتماد اور طویل المیعاد مستحکم پالیسیاں شامل ہیں۔ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ کسی ملک کی قومی پیداوار میں زراعت کا تناسب کم اور صنعت کا تناسب بڑھتا چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں معیارِ زندگی
معیارِ زندگی سے مراد کسی ملک کے باشندوں کی معاشی حالت، فی کس آمدنی، تعلیم و صحت کی سہولتوں، رہائش اور معیاری خوراک کی دستیابی ہے۔ پاکستان میں معیارِ زندگی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت پست ہے، جس کا اندازہ کم فی کس آمدنی (1,512 ڈالر)، تعلیمی پسماندگی، اور صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی سے لگایا جا سکتا ہے۔
دیگر اہم عوامل میں رہائشی سہولتوں کی کمی (2004 میں صرف 25 فیصد آبادی کے پاس ایک کمرے سے زیادہ کا گھر تھا)، آمدنیوں میں تفاوت (کم آمدنی والے 20 فیصد افراد کل آمدنی کا صرف 8 فیصد حاصل کرتے ہیں جبکہ امیر ترین 20 فیصد کو 45 فیصد ملتا ہے)، افراطِ زر، بجلی گیس جیسی سہولتوں کی کمی، بے روزگاری، آبادی کا بڑھتا دباؤ، اور حکومتی پالیسیوں میں عدم استحکام شامل ہیں۔
معاشی منصوبہ بندی کا تصور
معاشی منصوبہ بندی کا آغاز 1917 کے سوشلسٹ انقلاب کے بعد روس میں ہوا اور 1928 میں روس نے باقاعدہ طور پر اس کا عملی نفاذ کیا۔ معاشی منصوبہ بندی سے مراد ایک منظم طریقِ کار کے مطابق مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے دستیاب وسائل کا جائزہ لینا اور انہیں بروئے کار لانا ہے۔
پروفیسر رابنز کے مطابق معاشی شعبوں کا انتخاب اور مقاصد کے حصول کے لیے ان پر عمل کرنا معاشی منصوبہ بندی کی خاصیت ہے۔ ایچ ڈی ڈکنسن کے نزدیک یہ ان بڑے معاشی فیصلوں کا نام ہے جن کے تحت طے کیا جاتا ہے کہ کون سی اشیاء کتنی مقدار میں کن لوگوں کو مہیا کی جائیں۔
پاکستان میں معاشی منصوبہ بندی کی تاریخ
1947 میں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد قومی منصوبہ بندی ایجنسی قائم کی گئی۔ 1948 میں ترقیاتی بورڈ نے پہلا چھ سالہ منصوبہ (1951-57)، جسے کولمبو پلان کہا جاتا ہے، تیار کیا۔ 1953 میں پلاننگ بورڈ نے پہلا پانچ سالہ منصوبہ (1955-60) بنایا، اور 1958 کے مارشل لاء کے بعد اسے پاکستان پلاننگ کمیشن کا نام دیا گیا۔
پاکستان میں کل آٹھ پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے: پہلا (1955-60، 1080 کروڑ روپے) سے لے کر آٹھویں (1993-98، 170,000 کروڑ روپے) تک۔ آٹھویں منصوبے کے بعد پانچ سالہ منصوبہ بندی کا دور ختم ہو گیا اور اب سالانہ ترقیاتی پروگرام (Annual Development Programme) اور ویژن 2025 جیسے طویل المدتی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ منصوبہ بندی کمیشن کے فرائض میں قلیل، اوسط اور طویل مدتی منصوبے تیار کرنا، جاری منصوبوں کی نگرانی، اور معاشی تحقیق شامل ہیں۔
پاکستان میں منصوبہ بندی کے مقاصد
پاکستان کے پہلے پانچ سالہ منصوبے کے لیے طے کیے گئے بنیادی اہداف میں قومی و فی کس آمدنی میں اضافہ، آمدنیوں اور دولت کی تقسیم میں تفاوت کا خاتمہ، ملک کے مختلف حصوں کے درمیان تفاوت کا خاتمہ، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا شامل تھے۔
بعد کے منصوبوں میں آبادی میں اضافے پر قابو پانا، توازنِ ادائیگی کو بہتر بنانا، تعلیم و صحت کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی، خوراک میں خودکفالت، بچتوں میں اضافہ، بنیادی صنعتوں کا قیام اور قیمتوں میں استحکام جیسے اہداف بھی شامل کیے گئے۔
پاکستان کے زرعی شعبے کے مسائل اور حل
پاکستان کا زرعی شعبہ GDP کا 20.9 فیصد اور 45 فیصد لیبر فورس کا روزگار فراہم کرتا ہے، مگر اسے کئی مسائل کا سامنا ہے: قابلِ کاشت رقبے کا غیر مؤثر استعمال، عمیق طریقۂ کاشت کا فقدان، ناکافی ذرائعِ آبپاشی، زرعی مداخل کی کمی، زرعی قرضوں کی عدم دستیابی، سیم و تھور، کسانوں کی مالی پسماندگی، انتشارِ اراضی، فصلوں کی بیماریاں (تقریباً 25 فیصد فصل کا نقصان)، جاگیرداری نظام، اور قدرتی آفات۔
ان مسائل کے حل کے لیے تجویز کیا جاتا ہے: قابلِ کاشت رقبے کا مکمل استعمال، جدید کاشتکاری اور کیمیائی کھادوں کا فروغ، ڈیموں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے آبپاشی، بلا سود زرعی قرضے، منڈیوں تک بہتر رسائی، تعلیمِ بالغاں، اشتراکِ اراضی کے لیے قانون سازی، بہتر قیمتوں کی یقین دہانی، اور جاگیرداری نظام کا خاتمہ۔
پاکستان کے صنعتی شعبے کے مسائل اور حل
پاکستان کا صنعتی شعبہ GDP کا 25.4 فیصد اور 13.2 فیصد لیبر فورس کا روزگار فراہم کرتا ہے، مگر یہ شعبہ بھی کئی مسائل کا شکار ہے: معدنیات کی قلت، تربیت یافتہ عملے کی کمی، سرمائے کی کمی، غیر مؤثر ذرائعِ نقل و حمل، ناکافی بنیادی صنعتی ڈھانچہ، غربت کا منحوس چکر، مصنوعات کا پست معیار، مہنگی درآمدی مشینری، ٹیکنالوجی کی پسماندگی، سیاسی عدم استحکام، سمگلنگ، محدود ملکی منڈی، اور WTO کے قوانین کا چیلنج۔
ان مسائل کے حل کے لیے تجویز کیا جاتا ہے: مستقل صنعتی پالیسی، مالی اداروں کا قیام، جدید ٹیکنالوجی کی درآمد، معدنیات کی باقاعدہ دریافت، بنیادی صنعتی ڈھانچے کی ترقی، مزدوروں کی استعداد کار میں اضافہ، اچھے صنعتی تعلقات، تحفظاتی پالیسی (Protection Policy)، اور صنعتوں میں متوازن ترقی۔
اہم تعریفات
معاشی ترقی (Economic Development)
مائر اینڈ بالڈون کے مطابق ایک ایسا عمل جس کے دوران کسی معیشت کی حقیقی قومی آمدنی طویل عرصے تک بڑھتی رہتی ہے۔
غیر ترقی یافتہ ملک (Under-developed Country)
پروفیسر نرکسے کے مطابق وہ ممالک جن کی آبادی اور قدرتی وسائل کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو۔
معاشی منصوبہ بندی (Economic Planning)
ایک منظم طریقِ کار کے مطابق مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے دستیاب وسائل کا جائزہ لینا اور انہیں بروئے کار لانا۔
کولمبو پلان (Colombo Plan)
پاکستان کا پہلا چھ سالہ منصوبہ (1951-57) جو کولمبو کانفرنس کی تجاویز کی روشنی میں تیار کیا گیا۔
پلاننگ کمیشن (Planning Commission)
1958 میں قائم کیا گیا ادارہ جو پاکستان کے قلیل، اوسط اور طویل مدتی منصوبے تیار اور ان کی نگرانی کرتا ہے۔
سیم و تھور (Water Logging and Salinity)
زرعی زمین میں پانی کے جمع ہونے اور نمکیات بڑھنے سے زمین کا کاشت کے قابل نہ رہنا۔
غربت کا منحوس چکر (Vicious Circle of Poverty)
کم آمدنی → کم بچت → کم سرمایہ کاری → کم پیداوار → دوبارہ کم آمدنی کا مسلسل چکر۔
تحفظاتی پالیسی (Protection Policy)
نوزائیدہ ملکی صنعتوں کو غیر ملکی مقابلے سے بچانے کے لیے اپنائی جانے والی پالیسی۔
اہم حقائق و فارمولے
| عنوان | فارمولا / حقیقت |
|---|---|
| معاشی ترقی کے مظاہر | حقیقی قومی پیداوار میں اضافہ، فی کس آمدنی میں اضافہ، سرمایہ اشیاء کی پیداوار میں اضافہ، محنت کی کارکردگی میں اضافہ |
| پاکستان کے پانچ سالہ منصوبے (حجم) | پہلا: 1080 کروڑ روپے (1955-60)؛ آٹھواں: 170,000 کروڑ روپے (1993-98) |
| پاکستان: زرعی شعبے کے اعداد و شمار | GDP میں حصہ: 20.9%؛ لیبر فورس: 45% (دیہی علاقوں میں 70%)؛ زرمبادلہ میں حصہ: 60% |
| پاکستان: صنعتی شعبے کے اعداد و شمار | GDP میں حصہ: 25.4%؛ لیبر فورس: 13.2% |
| پاکستان میں آمدنی کا تفاوت | کم آمدنی والے 20% افراد: کل آمدنی کا صرف 8%؛ زیادہ آمدنی والے 20% افراد: 45% |
| فصلوں کی بیماریوں سے نقصان | پاکستان میں کیڑوں اور بیماریوں سے تقریباً 25% فصل کا نقصان |
خاکہ جات و تصاویر
پاکستان کے پانچ سالہ منصوبوں کا حجم: ایک بار چارٹ جو پہلے سے آٹھویں پانچ سالہ منصوبے تک مالی حجم میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

معاشی ترقی کے عوامل: ایک درختی خاکہ جو معاشی ترقی کے تین بڑے عوامل — معاشی، سماجی و ثقافتی اور سیاسی — کو ظاہر کرتا ہے۔
زرعی و صنعتی شعبوں کا موازنہ: ایک بار چارٹ جو پاکستان کی GDP اور لیبر فورس میں زرعی اور صنعتی شعبوں کے حصے کا موازنہ ظاہر کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات
معاشی ترقی سے کیا مراد ہے؟
معاشی ترقی سے مراد کسی پسماندہ معیشت کا ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہونا ہے، جس کے دوران قومی آمدنی بڑھتی ہے اور معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔
غیر ترقی یافتہ ملک کی تعریف کریں۔
پروفیسر نرکسے کے مطابق وہ ممالک جن کی آبادی اور قدرتی وسائل کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو، غیر ترقی یافتہ ممالک کہلاتے ہیں۔
کولمبو پلان کیا تھا؟
کولمبو پلان پاکستان کا پہلا چھ سالہ منصوبہ (1951-57) تھا، جو کولمبو کانفرنس کی تجاویز کی روشنی میں تیار کیا گیا اور جس کے تحت وارسک ڈیم بنایا گیا۔
پاکستان میں کتنے پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے؟
پاکستان میں 1955 سے 1998 تک کل آٹھ پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے، جس کے بعد سالانہ ترقیاتی پروگرام کا دور شروع ہوا۔
سیم و تھور سے کیا مراد ہے؟
سیم و تھور سے مراد زرعی زمین میں پانی کے جمع ہونے اور نمکیات کے اضافے سے زمین کا کاشت کے ناقابل ہو جانا ہے۔
پاکستان کے صنعتی شعبے کا GDP میں حصہ کتنا ہے؟
پاکستان کے صنعتی شعبے کا GDP میں حصہ 25.4 فیصد ہے اور یہ شعبہ 13.2 فیصد لیبر فورس کو روزگار مہیا کرتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
معاشی ترقی سے کیا مراد ہے؟ اس کی پیمائش کے مظاہر اور ترقی پذیر معیشتوں کو درپیش مسائل تفصیل سے بیان کریں۔
معاشی ترقی سے مراد کسی پسماندہ معیشت کا ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہونا ہے۔ مختلف ماہرینِ معاشیات نے اس کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں۔ پروفیسر آرتھر لیوس کے نزدیک معاشی ترقی اشیاء و خدمات کی پیداوار میں اضافے کا نام ہے، جبکہ ایچ ایف ولیمسن کے مطابق یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے لوگ دستیاب وسائل استعمال کر کے اشیاء و خدمات کی فی کس مقدار میں مسلسل اضافہ کرتے ہیں۔ سب سے جامع تعریف مائر اینڈ بالڈون کی ہے، جن کے مطابق معاشی ترقی ایک ایسا عمل ہے جس کے دوران کسی معیشت کی حقیقی قومی آمدنی طویل عرصے (20 سے 25 سال) تک بڑھتی رہتی ہے، اور اگر ترقی کی شرح آبادی میں اضافے کی شرح سے زیادہ ہو تو فی کس حقیقی آمدنی بھی بڑھتی ہے۔ معاشی ترقی کی پیمائش کے لیے کئی مظاہر استعمال کیے جاتے ہیں: سب سے اہم مظہر حقیقی قومی پیداوار میں اضافہ ہے، بشرطیکہ یہ اضافہ افراطِ زر کی بجائے حقیقی پیداوار میں اضافے کے باعث ہو۔ دوسرا مظہر فی کس قومی آمدنی میں اضافہ ہے، مگر یہ اسی وقت درست عکاسی کرتا ہے جب دولت کی تقسیم بھی بہتر ہو رہی ہو۔ تیسرا مظہر سرمائے کی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ اور چوتھا محنت کی کارکردگی میں بہتری ہے۔ ترقی پذیر معیشتوں کو کئی سنگین مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ پروفیسر نرکسے کے مطابق ایسی معیشتیں وہ ہیں جن کی آبادی اور قدرتی وسائل کے مقابلے میں سرمائے کی کمی ہو۔ سب سے پہلا مسئلہ پست فی کس آمدنی ہے، جو غربت اور افلاس کے شخص چکر کو جنم دیتی ہے۔ دوسرا مسئلہ بیرونی قرضوں کا بوجھ ہے، جس سے مصارفِ قرضہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ آبادی میں تیز اضافہ ہے، جو بے روزگاری اور غربت کو بڑھاتا ہے۔ چوتھا مسئلہ سرمائے کی قلت اور پانچواں زراعت پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل سے کم استفادہ، انسانی وسائل کی کم استعداد، محدود ملکی منڈی، توازنِ تجارت اور ادائیگی میں خسارہ، غیر ترقی یافتہ ذرائعِ نقل و حمل، ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی (Brain Drain)، ٹیکنالوجی کی پسماندگی اور جذبۂ حبِ الوطنی کا فقدان بھی اہم مسائل ہیں جو ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی کی راہ میں حائل رہتے ہیں۔
پاکستان میں معاشی منصوبہ بندی کی تاریخ اور پاکستان کے زرعی و صنعتی شعبوں کے مسائل تفصیل سے بیان کریں۔
معاشی منصوبہ بندی کا آغاز 1917 کے سوشلسٹ انقلاب کے بعد روس میں ہوا اور 1928 میں روس نے اس کا عملی نفاذ کیا۔ پاکستان میں 1947 میں قیام کے فوراً بعد قومی منصوبہ بندی ایجنسی قائم کی گئی، اور 1948 میں ترقیاتی بورڈ نے پہلا چھ سالہ منصوبہ یعنی کولمبو پلان (1951-57) تیار کیا، جس کے تحت وارسک ڈیم بنایا گیا۔ 1953 میں پلاننگ بورڈ نے پہلا پانچ سالہ منصوبہ (1955-60) بنایا، اور 1958 کے مارشل لاء کے بعد اسے پاکستان پلاننگ کمیشن کا نام دیا گیا، جس کے چیئرمین وزیرِ اعظم مقرر ہوئے۔ پاکستان میں کل آٹھ پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے، جن کا حجم پہلے منصوبے کے 1,080 کروڑ روپے سے بڑھ کر آٹھویں منصوبے میں 170,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ آٹھویں منصوبے کے بعد پانچ سالہ منصوبہ بندی کا دور ختم ہو گیا اور اب سالانہ ترقیاتی پروگرام اور ویژن 2025 جیسے طویل المدتی منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ منصوبہ بندی کے بنیادی مقاصد میں قومی و فی کس آمدنی میں اضافہ، دولت کی تقسیم میں تفاوت کا خاتمہ، بے روزگاری کا خاتمہ اور خوراک میں خودکفالت شامل ہیں۔ اسی دوران پاکستان کا زرعی شعبہ، جو GDP کا 20.9 فیصد اور 45 فیصد لیبر فورس کا روزگار فراہم کرتا ہے، کئی مسائل کا شکار ہے: قابلِ کاشت رقبے کا غیر مؤثر استعمال، ناکافی آبپاشی، زرعی مداخل اور قرضوں کی کمی، سیم و تھور، جاگیرداری نظام اور فصلوں کی بیماریاں (جن سے تقریباً 25 فیصد فصل ضائع ہوتی ہے) نمایاں مسائل ہیں۔ ان کے حل کے لیے جدید کاشتکاری، بلا سود قرضے، بہتر آبپاشی اور جاگیرداری نظام کے خاتمے جیسے اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کا صنعتی شعبہ، جو GDP کا 25.4 فیصد فراہم کرتا ہے، معدنیات کی قلت، سرمائے کی کمی، پرانی ٹیکنالوجی، محدود ملکی منڈی اور WTO کے قوانین جیسے چیلنجز کا سامنا کرتا ہے، جن کے حل کے لیے مستقل صنعتی پالیسی، جدید ٹیکنالوجی کی درآمد اور بنیادی صنعتی ڈھانچے کی ترقی جیسے اقدامات ضروری ہیں۔
معروضی سوالات (MCQs)
معاشی ترقی کی سب سے جامع تعریف کس نے دی؟ (الف) آرتھر لیوس (ب) ایچ ایف ولیمسن (ج) مائر اینڈ بالڈون (د) پروفیسر نرکسے
درست جواب: (ج) مائر اینڈ بالڈون۔ معاشی ترقی کی سب سے جامع تعریف مائر اینڈ بالڈون نے دی، جس کے مطابق یہ ایک طویل عرصے پر محیط عمل ہے۔
غیر ترقی یافتہ ممالک کی تعریف کس نے دی؟ (الف) پروفیسر لیوس (ب) پروفیسر نرکسے (ج) پروفیسر رابنز (د) ایڈم سمتھ
درست جواب: (ب) پروفیسر نرکسے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک کی تعریف پروفیسر نرکسے نے دی۔
پاکستان کا پہلا چھ سالہ منصوبہ کیا کہلاتا ہے؟ (الف) ویژن 2025 (ب) کولمبو پلان (ج) مارشل پلان (د) پروگرام 2010
درست جواب: (ب) کولمبو پلان۔ پاکستان کا پہلا چھ سالہ منصوبہ (1951-57) کولمبو پلان کہلاتا ہے۔
پاکستان پلاننگ کمیشن کب قائم ہوا؟ (الف) 1953 (ب) 1955 (ج) 1958 (د) 1961
درست جواب: (ج) 1958۔ 1958 کے مارشل لاء کے بعد قومی منصوبہ بندی بورڈ کو پاکستان پلاننگ کمیشن کا نام دیا گیا۔
پاکستان میں کل کتنے پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے؟ (الف) پانچ (ب) چھ (ج) سات (د) آٹھ
درست جواب: (د) آٹھ۔ پاکستان میں 1955 سے 1998 تک کل آٹھ پانچ سالہ منصوبے بنائے گئے۔
زرعی زمین کا کاشت کے ناقابل ہو جانا کیا کہلاتا ہے؟ (الف) افراطِ زر (ب) سیم و تھور (ج) تفریطِ زر (د) غربت کا چکر
درست جواب: (ب) سیم و تھور۔ زرعی زمین میں پانی جمع ہونے اور نمکیات بڑھنے سے زمین کا کاشت کے ناقابل ہونا سیم و تھور کہلاتا ہے۔
پاکستان کے صنعتی شعبے کا GDP میں حصہ کتنا ہے؟ (الف) 13.2% (ب) 20.9% (ج) 25.4% (د) 45%
درست جواب: (ج) 25.4%۔ پاکستان کے صنعتی شعبے کا GDP میں حصہ 25.4 فیصد ہے۔
پاکستان میں کم آمدنی والے 20 فیصد افراد کل آمدنی کا کتنا حصہ حاصل کرتے ہیں؟ (الف) 8% (ب) 20% (ج) 35% (د) 45%
درست جواب: (الف) 8%۔ پاکستان میں کم آمدنی والے 20 فیصد افراد کل آمدنی کا صرف 8 فیصد حاصل کر پاتے ہیں۔
معاشی ترقی کے عوامل کی کتنی بڑی اقسام ہیں؟ (الف) دو (ب) تین (ج) چار (د) پانچ
درست جواب: (ب) تین۔ معاشی ترقی کے عوامل کی تین بڑی اقسام ہیں: معاشی، سماجی و ثقافتی اور سیاسی عوامل۔
فصلوں کی بیماریوں سے پاکستان میں کتنی فیصد فصل کا نقصان ہوتا ہے؟ (الف) 10% (ب) 15% (ج) 25% (د) 35%
درست جواب: (ج) 25%۔ کیڑوں اور بیماریوں کے باعث پاکستان میں تقریباً 25 فیصد فصل کا نقصان ہوتا ہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- معاشی ترقی: پسماندہ معیشت کا ترقی یافتہ کی طرف سفر۔ مائر اینڈ بالڈون کی تعریف سب سے جامع۔ پیمائش کے مظاہر: حقیقی قومی پیداوار، فی کس آمدنی، سرمایہ اشیاء، محنت کی کارکردگی۔
- ترقی پذیر معیشتوں کے مسائل: پست فی کس آمدنی، بیرونی قرضے، آبادی میں اضافہ، سرمائے کی قلت، زراعت پر انحصار، Brain Drain۔
- معاشی ترقی کے عوامل: معاشی (قدرتی وسائل، تشکیلِ سرمایہ)، سماجی و ثقافتی (رویے)، سیاسی (استحکام)۔
- پاکستان میں منصوبہ بندی: کولمبو پلان (1951-57) → 8 پانچ سالہ منصوبے (1955-98، 1080 سے 170,000 کروڑ روپے) → سالانہ ترقیاتی پروگرام۔
- زرعی شعبہ: GDP 20.9%، لیبر فورس 45%۔ مسائل: آبپاشی، سیم و تھور، جاگیرداری۔ صنعتی شعبہ: GDP 25.4%، لیبر فورس 13.2%۔ مسائل: ٹیکنالوجی، سرمایہ، WTO۔
- پاکستان میں معیارِ زندگی پست: فی کس آمدنی 1,512 ڈالر؛ آمدنی تفاوت 8% بمقابلہ 45%۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔
امتحانی نکات
- معاشی ترقی کی تین بڑی تعریفوں (لیوس، ولیمسن، مائر اینڈ بالڈون) کو ماہرِ معاشیات کے نام کے ساتھ یاد رکھیں – یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھی جاتی ہیں۔
- پاکستان کے آٹھ پانچ سالہ منصوبوں کے سال اور حجم کو ترتیب سے یاد رکھیں، خصوصاً پہلے اور آٹھویں منصوبے کے اعداد۔
- زرعی اور صنعتی شعبوں کے GDP اور لیبر فورس میں حصے کے اعداد و شمار کا موازنہ یاد رکھیں (20.9% بمقابلہ 25.4%؛ 45% بمقابلہ 13.2%)۔
- ترقی پذیر معیشتوں کے 15 مسائل کو مختصر کلیدی الفاظ کی شکل میں یاد رکھیں تاکہ تفصیلی سوال میں مکمل جواب دیا جا سکے۔
- زرعی اور صنعتی مسائل کے حل کی تجاویز کو الگ الگ فہرست میں یاد رکھیں تاکہ دونوں شعبوں کا موازنہ آسانی سے کیا جا سکے۔