باب 7: پاکستان کی قومی آمدنی – معاشیات دوم سال (اردو میڈیم) – National Income of Pakistan Notes

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب ہفتم ‘پاکستان کی قومی آمدنی’ پر مبنی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی صنعتی و زرعی بنیاد کمزور تھی، مگر گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان کی خام قومی پیداوار اور فی کس آمدنی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے، اگرچہ سیاسی عدم استحکام اور دیگر عوامل کے باعث یہ ترقی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سست رہی۔

اس باب میں پاکستان کی خام قومی پیداوار (GNP)، قومی آمدنی کی پیمائش میں درپیش مشکلات، فی کس آمدنی کا تصور اور اس کی کمی کی وجوہات، فی کس آمدنی بڑھانے کی تجاویز، اور ٹیکس کلچر کی اہمیت و پاکستان میں اس کی موجودہ صورتحال تفصیل سے بیان کی گئی ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • پاکستان کی خام قومی پیداوار (GNP) کی نمو کی تاریخ بیان کریں۔
  • قومی آمدنی میں مختلف شعبوں کے حصے کی وضاحت کریں۔
  • پاکستان میں قومی آمدنی کی پیمائش میں درپیش مشکلات بیان کریں۔
  • فی کس آمدنی کے تصور اور اس کی اہمیت کی وضاحت کریں۔
  • پاکستان میں کم فی کس آمدنی کی وجوہات کا تجزیہ کریں۔
  • فی کس آمدنی بڑھانے کی تجاویز اور ٹیکس کلچر کی اہمیت بیان کریں۔

کلیدی تصورات

پاکستان کی خام قومی پیداوار (GNP)

قیامِ پاکستان کے بعد سے قومی آمدنی میں اضافے کی شرح مختلف عشروں میں مختلف رہی: پچاس کے عشرے (1950-60) میں 3.5 فیصد، ساٹھ کے عشرے (1960-70) میں 7 فیصد (سب سے زیادہ)، ستر کے عشرے میں 5 فیصد، نوے کے عشرے میں 4 فیصد (سب سے کم)، اور 2000-06 کے دوران اوسطاً 5 فیصد سالانہ۔

پاکستان کی خام قومی پیداوار 2004-05 میں 4681.99 بلین روپے سے بڑھ کر 2014-15 میں 11195.70 بلین روپے تک پہنچ گئی۔ زراعت کا حصہ جو 1969-70 میں GNP کا 40 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 20.9 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ صنعت کا حصہ ایوب خان کے دور کے 16 فیصد سے بڑھ کر 2014-15 میں 20.30 فیصد ہو گیا ہے۔

قومی آمدنی کی پیمائش کے طریقے

پاکستان میں قومی آمدنی کی بنیادی معلومات وفاقی ادارہ شماریات اکٹھا کرتا ہے، اور یہ اعداد و شمار ہر سال قومی بجٹ کے اعلان سے ایک روز پہلے معاشی جائزہ (Economic Survey) کی صورت میں شائع کیے جاتے ہیں۔ زراعت، صنعت اور کان کنی میں پیداوار کے طریقے (Product Method)، نقل و حمل، بیمہ کاری اور خدمات میں آمدنی کے طریقے (Income Method)، جبکہ تعمیرات میں خرچ کے طریقے (Expenditure Method) سے قومی آمدنی معلوم کی جاتی ہے۔

قومی آمدنی کے اعداد و شمار دو طرح سے پیش کیے جاتے ہیں: رواں قیمتوں کے لحاظ سے (Current Prices) اور ساکن قیمتوں کے لحاظ سے (Constant Prices)، جس میں کسی ایک سال کو بنیادی سال مان کر پیمائش کی جاتی ہے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں 1999-2000 کی قیمتوں کو بنیادی سال کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔

قومی آمدنی کی پیمائش میں درپیش مشکلات

پاکستان میں قومی آمدنی کی پیمائش میں کئی مشکلات درپیش ہیں: تربیت یافتہ عملے کی کمی، غیر ذمہ دار عملہ، عوام کا عدم تعاون (کئی افراد اصل معلومات چھپانے کے لیے رشوت بھی دیتے ہیں)، بلا معاوضہ خدمات (جیسے گھریلو خواتین کا کام) جو شمار نہیں ہوتیں، اور گھریلو صنعتوں کے اعداد و شمار کا نہ ہونا۔

اس کے علاوہ ناخواندگی، سمگلنگ (جس سے تقریباً 20 فیصد کاروبار شمار میں نہیں آتا)، حساب کتاب نہ رکھنا، فرسودگی کے اخراجات کا صحیح تعین نہ ہونا، اور غیر زری پیداوار (جیسے کاشتکاروں کا اپنی ضرورت کا اناج ذخیرہ کرنا) بھی قومی آمدنی کی درست پیمائش میں رکاوٹ ہیں۔

فی کس آمدنی کا تصور اور عالمی موازنہ

کسی ملک کی کل قومی آمدنی کو کل آبادی سے تقسیم کرنے سے فی کس آمدنی (Per Capita Income) حاصل ہوتی ہے: فی کس قومی آمدنی = کل قومی آمدنی ÷ کل آبادی۔ فی کس آمدنی سے کسی ملک کے عوام کے معیارِ زندگی اور معاشی ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تاہم یہ دولت کی تقسیم کی صحیح عکاسی نہیں کرتی۔

IMF کے معیار کے مطابق ممالک کو زیادہ، درمیانی اور کم فی کس آمدنی والے تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ (83,073 ڈالر) اور سنگاپور (49,271 ڈالر) زیادہ آمدنی والے ممالک میں شامل ہیں، جبکہ پاکستان (1,512 ڈالر) کم فی کس آمدنی والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو بھارت (1,514 ڈالر) کے قریب مگر بنگلہ دیش (767 ڈالر) اور ایتھوپیا (365 ڈالر) سے بہتر ہے۔

پاکستان میں کم فی کس آمدنی کی معاشی وجوہات

پاکستان میں کم فی کس آمدنی کی کئی معاشی وجوہات ہیں: قدرتی وسائل کی قلت (تیل اور معیاری لوہے کی کمی)، زراعت پر حد سے زیادہ انحصار (باوجود اس کے غذائی خودکفالت حاصل نہ ہونا)، سرمائے کی کمی (کم بچت کی شرح)، صنعتی پسماندگی (جدید ٹیکنالوجی کا فقدان)، اور افراطِ آبادی (1.92 فیصد سالانہ شرحِ نمو)۔

اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ (جو بجٹ کا بڑا حصہ مصارفِ قرضہ میں لے جاتا ہے)، تجارتِ خارجہ میں مسلسل خسارہ، ناقص معاشی منصوبہ بندی، اور محنت کی پست استعداد کار بھی فی کس آمدنی میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

پاکستان میں کم فی کس آمدنی کی سیاسی و معاشرتی وجوہات

معاشی وجوہات کے علاوہ کئی سیاسی و معاشرتی عوامل بھی فی کس آمدنی کو متاثر کرتے ہیں: معاشی و معاشرتی برائیاں (ذخیرہ اندوزی، سمگلنگ، رشوت خوری)، سیاسی ابتری (بار بار بدلتی حکومتی پالیسیاں)، جغرافیائی سیاسی حالات (پاکستان کا خطے میں حساس محلِ وقوع اور جنگی صورتحال)، اور بدعنوانی۔

سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی (Capital Flight) — جس میں سرمایہ دار طبقہ اپنا سرمایہ متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ اور مغربی ممالک میں محفوظ رکھنا پسند کرتا ہے — اور اعلیٰ دماغ افراد کی بیرونِ ملک منتقلی (Brain Drain) بھی پاکستان کی قومی و فی کس آمدنی پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔

فی کس آمدنی میں اضافے کے لیے تجاویز

فی کس آمدنی بڑھانے کے لیے کئی اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں: زرعی ترقی (جدید کاشتکاری، آسان قرضے، ریسرچ سینٹرز)، صنعتی ترقی (جدید ٹیکنالوجی، برآمدی مصنوعات کا فروغ)، ذرائع توانائی کی ترقی، اور عوام میں ترقی کا جذبہ پیدا کرنا۔

اس کے علاوہ موافق توازنِ تجارت (خام مال کی بجائے مصنوعات کی برآمد)، سیاسی استحکام، تشکیلِ سرمایہ میں اضافہ، مؤثر معاشی منصوبہ بندی، دولت کی مساویانہ تقسیم، شرحِ خواندگی میں اضافہ، آبادی کی منصوبہ بندی، قرضوں سے نجات، اور ہنر مند افراد کی حوصلہ افزائی بھی اہم تجاویز ہیں۔

ٹیکس کلچر کا تصور اور اہمیت

کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت، امن و امان، عدلیہ و انتظامیہ کا قیام اور عوامی فلاح کے لیے اقدامات کرے، اور اس کے لیے ٹیکسوں کی وصولی ناگزیر ہے۔ پروفیسر ڈی وی ٹی کے مطابق ٹیکس حکومت کی ان خدمات کا معاوضہ ہے جو وہ عوام کی فلاح کے لیے سرانجام دیتی ہے۔

ٹیکسوں کی دو بڑی اقسام ہیں: براہِ راست محصول (انکم ٹیکس، دولت ٹیکس، جائیداد ٹیکس) اور بالواسطہ محصول (سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی)۔ ایک اچھا ٹیکس کلچر اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب نظام سادہ، منصفانہ اور عوام دوست ہو، اور ٹیکس دہندگان کی ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق ٹیکس عائد کیا جائے۔

پاکستان میں ٹیکس کلچر کی صورتحال

پاکستان کی آبادی 191.71 ملین ہے، مگر ٹیکس گزاروں کی تعداد نہایت کم ہے اور ان میں بھی اکثریت تنخواہ دار طبقے کی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کی شرح خام ملکی پیداوار (Tax to GDP Ratio) کے تناسب سے صرف 9.2 فیصد ہے، جو دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ 2011-12 میں مزید 23 لاکھ افراد کی نشاندہی ہوئی جو ٹیکس ادا کرنے کے قابل تھے، مگر صرف 7 لاکھ کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا۔

ٹیکس وصولی کی کم شرح کی وجوہات میں پیچیدہ نظامِ ٹیکس، عدم لچک (Inelastic)، غیر مؤثر اور غیر منصفانہ نظام شامل ہیں۔ ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے حکومت پاکستان نے 2002 میں کئی اقدامات کیے، جن میں دولت ٹیکس کا خاتمہ، جنرل سیلز ٹیکس کے دائرہ کار میں توسیع، خودکار نظامِ ٹیکس (Self Assessment Scheme) کا آغاز، اور کراچی، لاہور و پشاور میں بڑے و درمیانے درجے کے ٹیکس ادائیگی یونٹس کا قیام شامل ہیں۔

اہم تعریفات

خام قومی پیداوار (GNP)

کسی ملک کے شہریوں کی جانب سے ایک سال کے دوران ملک کے اندر اور باہر پیدا کی جانے والی تمام حتمی اشیاء و خدمات کی مجموعی مالیت۔

فی کس آمدنی (Per Capita Income)

کسی ملک کی کل قومی آمدنی کو کل آبادی پر تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والی اوسط آمدنی۔

معاشی جائزہ (Economic Survey)

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہر سال بجٹ کے اعلان سے ایک روز قبل شائع کی جانے والی دستاویز جس میں معیشت کی مجموعی کارکردگی کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔

سرمائے کا بیرونِ ملک انخلا (Capital Flight)

سرمایہ داروں کا اپنا سرمایہ ملک سے نکال کر بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر رکھنا۔

ذہین افراد کی نقل مکانی (Brain Drain)

کسی ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کا بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک منتقل ہو جانا۔

ٹیکس کلچر (Tax Culture)

معاشرے میں ٹیکس کی ادائیگی کو قومی ذمہ داری سمجھنے اور رضاکارانہ طور پر ادا کرنے کا رجحان۔

براہِ راست محصول (Direct Tax)

وہ ٹیکس جس کی ادائیگی کرنے والا شخص خود براہِ راست حکومتی خزانے میں رقم جمع کرواتا ہے، جیسے انکم ٹیکس۔

بالواسطہ محصول (Indirect Tax)

وہ ٹیکس جو کسی کاروباری ادارے کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے اور پھر حکومتی خزانے میں جمع ہوتا ہے، جیسے سیلز ٹیکس۔

اہم حقائق و فارمولے

عنوانفارمولا / حقیقت
فی کس آمدنی کا فارمولافی کس قومی آمدنی = کل قومی آمدنی ÷ کل آبادی
GNP کی شرحِ نمو (بلحاظ عشرہ)1950-60: 3.5%؛ 1960-70: 7% (زیادہ ترین)؛ 1970-80: 5%؛ 1990-2000: 4% (کم ترین)
پاکستان کی خام قومی پیداوار2004-05: 4681.99 بلین روپے؛ 2014-15: 11195.70 بلین روپے
زراعت اور صنعت کے GNP میں حصے کا موازنہزراعت: 1969-70 میں 40% → 2014-15 میں 20.9%؛ صنعت: ایوب دور میں 16% → 2014-15 میں 20.30%
پاکستان کی فی کس آمدنی (عالمی موازنہ)پاکستان: 1,512 ڈالر؛ بھارت: 1,514 ڈالر؛ بنگلہ دیش: 767 ڈالر؛ سوئٹزرلینڈ: 83,073 ڈالر
پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح1.92% سالانہ؛ کل آبادی تقریباً 191.71 ملین
پاکستان کا Tax to GDP Ratioصرف 9.2 فیصد — دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم

خاکہ جات و تصاویر

پاکستان کی GNP کی شرحِ نمو (بلحاظ عشرہ): ایک بار چارٹ جو پچاس کے عشرے سے 2000 کی دہائی تک پاکستان کی خام قومی پیداوار کی اوسط شرحِ نمو کا موازنہ ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی GNP کی شرحِ نمو - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

فی کس آمدنی کا عالمی موازنہ: ایک بار چارٹ جو پاکستان کی فی کس آمدنی کا بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک سے موازنہ ظاہر کرتا ہے۔

فی کس آمدنی کا عالمی موازنہ - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

پاکستان میں ٹیکس وصولی کا رجحان: ایک لائن چارٹ جو 2004-05 سے 2012-13 تک پاکستان کی کل ٹیکس وصولی میں اضافے کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس وصولی کا رجحان - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

فی کس آمدنی سے کیا مراد ہے؟

کسی ملک کی کل قومی آمدنی کو کل آبادی پر تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والی اوسط آمدنی کو فی کس آمدنی کہتے ہیں۔

ٹیکس کلچر سے کیا مراد ہے؟

معاشرے میں ٹیکس کی ادائیگی کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے رضاکارانہ طور پر ادا کرنے کے رجحان کو ٹیکس کلچر کہتے ہیں۔

پاکستان کی فی کس آمدنی کتنی ہے؟

معاشی جائزہ 2014-15 کے مطابق پاکستان کی فی کس آمدنی تقریباً 1,512 امریکی ڈالر ہے۔

قومی آمدنی کی پیمائش میں بلا معاوضہ خدمات کیوں شامل نہیں ہوتیں؟

کیونکہ ان خدمات (جیسے گھریلو خواتین کا گھر کا کام) کا کوئی مالی معاوضہ وصول نہیں کیا جاتا، اس لیے یہ پیداواری سرگرمی کے طور پر شمار نہیں کی جا سکتیں۔

پاکستان میں Tax to GDP Ratio کتنا ہے؟

پاکستان میں خام ملکی پیداوار کے تناسب سے ٹیکس کی شرح صرف 9.2 فیصد ہے۔

براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس کی مثالیں دیں۔

براہِ راست ٹیکس: انکم ٹیکس، دولت ٹیکس، جائیداد ٹیکس۔ بالواسطہ ٹیکس: سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی۔

تفصیلی سوالات و جوابات

پاکستان میں قومی آمدنی کی پیمائش میں درپیش مشکلات تفصیل سے بیان کریں۔

پاکستان میں قومی آمدنی کی صحیح پیمائش کئی مشکلات کے باعث دشوار ہے۔ سب سے پہلی مشکل تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے: پاکستان میں ایسے قابلِ اعتماد ادارے اور تربیت یافتہ افراد کی کمی ہے جو ملک کے وسیع و عریض علاقوں سے درست اعداد و شمار اکٹھے کر سکیں۔ دوسری مشکل غیر ذمہ دار عملہ ہے: ملازمین اکثر دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور فیلڈ میں جا کر معلومات اکٹھی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تیسری مشکل عوام کا عدم تعاون ہے: تعلیم کی کمی اور محکموں کے خوف کے باعث لوگ اعداد و شمار اکٹھا کرنے والوں سے تعاون نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات صحیح معلومات چھپانے کے لیے رشوت بھی دیتے ہیں۔ چوتھی مشکل بلا معاوضہ خدمات ہیں: گھریلو خواتین کا کھانا پکانا، کپڑے دھونا یا بچوں کی دیکھ بھال جیسی خدمات چونکہ معاوضے کے بغیر انجام دی جاتی ہیں، اس لیے یہ قومی آمدنی میں شمار نہیں ہو پاتیں۔ پانچویں مشکل گھریلو صنعتوں کے اعداد و شمار کا نہ ہونا ہے، کیونکہ گھروں میں قائم چھوٹی صنعتوں کی پیداوار زیادہ تر باہر کی نظروں سے پوشیدہ رہتی ہے۔ چھٹی مشکل ناخواندگی ہے، جس کی وجہ سے اشیاء کی مقدار اور قیمت کا ریکارڈ رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ساتویں مشکل سمگلنگ ہے: پاکستان کی وسیع سرحدوں کے باعث کروڑوں روپے کا سامان بغیر کسی ریکارڈ کے سمگل ہوتا ہے، جس سے تقریباً 20 فیصد کاروبار حساب میں نہیں آتا۔ آٹھویں مشکل حساب کتاب نہ رکھنا ہے: زیادہ آمدنی والے افراد ٹیکس سے بچنے کے لیے اور کم آمدنی والے افراد اہمیت نہ سمجھتے ہوئے حساب کتاب نہیں رکھتے۔ نویں مشکل فرسودگی کے اخراجات کا درست تعین نہ ہونا ہے، جس سے خالص قومی پیداوار (NNP) واضح نہیں ہو پاتی۔ آخری مشکل غیر زری پیداوار ہے: دیہات میں کاشتکار اکثر اپنی پیداوار کا کچھ حصہ ذاتی استعمال کے لیے رکھ لیتے ہیں، جو کبھی بازار میں فروخت نہیں ہوتا اور اس لیے قومی آمدنی میں شمار نہیں ہو پاتا۔ ان تمام مشکلات کے باعث پاکستان میں قومی آمدنی کے حاصل شدہ اعداد و شمار کی درستگی پر اکثر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

فی کس آمدنی سے کیا مراد ہے؟ پاکستان میں فی کس آمدنی کم ہونے کی وجوہات اور اسے بڑھانے کی تجاویز تفصیل سے بیان کریں۔

فی کس آمدنی سے مراد کسی ملک کی کل قومی آمدنی کو اس کی کل آبادی پر تقسیم کرنے سے حاصل ہونے والی اوسط آمدنی ہے، یعنی فی کس قومی آمدنی = کل قومی آمدنی ÷ کل آبادی۔ اس سے کسی ملک کے عوام کے معیارِ زندگی اور معاشی ترقی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ IMF کے معیار کے مطابق پاکستان کی فی کس آمدنی 1,512 ڈالر ہے، جو اسے کم فی کس آمدنی والے ممالک کی صف میں کھڑا کرتی ہے، اگرچہ یہ بھارت (1,514 ڈالر) کے قریب ہے مگر سوئٹزرلینڈ (83,073 ڈالر) جیسے ممالک سے کہیں کم ہے۔ پاکستان میں کم فی کس آمدنی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے قدرتی وسائل کی قلت ہے: پاکستان میں معیاری تیل اور لوہے کی کمی ہے، جس کے باعث بھاری زرمبادلہ درآمدات پر خرچ ہوتا ہے۔ دوسری وجہ زراعت پر حد سے زیادہ انحصار ہے، جبکہ اس کے باوجود ملک غذائی خودکفالت حاصل نہیں کر سکا۔ تیسری وجہ سرمائے کی کمی ہے، جس سے سرمایہ کاری اور پیداوار دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ چوتھی وجہ صنعتی پسماندگی ہے، جبکہ پانچویں وجہ افراطِ آبادی ہے، جو 1.92 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ، تجارتِ خارجہ میں مسلسل خسارہ، ناقص معاشی منصوبہ بندی، محنت کی پست استعداد کار، معاشی و معاشرتی برائیاں، سیاسی ابتری، جغرافیائی سیاسی حالات، بدعنوانی، سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی اور ذہین افراد کی نقلِ مکانی بھی اہم وجوہات ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے کئی تجاویز پیش کی جاتی ہیں: زرعی ترقی کے لیے جدید کاشتکاری، آسان قرضے اور ریسرچ سینٹرز کا قیام؛ صنعتی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور برآمدی مصنوعات کا فروغ؛ ذرائع توانائی کی ترقی؛ عوام میں ترقی کا جذبہ پیدا کرنا؛ موافق توازنِ تجارت کے لیے خام مال کی بجائے مصنوعات کی برآمد؛ سیاسی استحکام؛ تشکیلِ سرمایہ میں اضافہ؛ مؤثر معاشی منصوبہ بندی؛ دولت کی مساویانہ تقسیم؛ شرحِ خواندگی میں اضافہ؛ آبادی کی منصوبہ بندی؛ قرضوں سے نجات؛ اور ہنر مند افراد کی حوصلہ افزائی۔ ان تمام اقدامات پر عمل درآمد سے پاکستان کی فی کس آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

پاکستان میں GNP کی شرحِ نمو کس عشرے میں سب سے زیادہ رہی؟ (الف) 1950-60 (ب) 1960-70 (ج) 1970-80 (د) 1990-2000

درست جواب: (ب) 1960-70۔ پاکستان میں GNP کی شرحِ نمو ساٹھ کے عشرے (1960-70) میں سب سے زیادہ یعنی 7 فیصد رہی۔

1969-70 میں پاکستان کی GNP میں زراعت کا حصہ کتنا تھا؟ (الف) 20.9% (ب) 30% (ج) 40% (د) 50%

درست جواب: (ج) 40%۔ 1969-70 میں زراعت کا حصہ GNP کا 40 فیصد تھا، جو اب کم ہو کر 20.9 فیصد رہ گیا ہے۔

قومی آمدنی کی بنیادی معلومات پاکستان میں کون سا ادارہ اکٹھا کرتا ہے؟ (الف) سٹیٹ بینک (ب) وفاقی ادارہ شماریات (ج) وزارتِ خزانہ (د) SECP

درست جواب: (ب) وفاقی ادارہ شماریات۔ قومی آمدنی کی بنیادی معلومات وفاقی ادارہ شماریات (Federal Bureau of Statistics) اکٹھا کرتا ہے۔

فی کس آمدنی کا فارمولا کیا ہے؟ (الف) کل آمدنی ÷ کل خاندان (ب) کل آمدنی ÷ کل آبادی (ج) کل آمدنی ÷ کل مزدور (د) کل آمدنی ÷ کل صنعتیں

درست جواب: (ب) کل آمدنی ÷ کل آبادی۔ فی کس آمدنی = کل قومی آمدنی ÷ کل آبادی۔

IMF کے معیار کے مطابق پاکستان کس زمرے میں شامل ہے؟ (الف) زیادہ فی کس آمدنی والے ممالک (ب) درمیانی فی کس آمدنی والے ممالک (ج) کم فی کس آمدنی والے ممالک (د) کوئی زمرہ نہیں

درست جواب: (ج) کم فی کس آمدنی والے ممالک۔ پاکستان کی فی کس آمدنی 1,512 ڈالر ہونے کی وجہ سے یہ کم فی کس آمدنی والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان میں سمگلنگ کی وجہ سے تقریباً کتنا کاروبار حساب میں نہیں آتا؟ (الف) 10% (ب) 15% (ج) 20% (د) 30%

درست جواب: (ج) 20%۔ سمگلنگ کے باعث پاکستان میں تقریباً 20 فیصد کاروبار (انڈرگراؤنڈ اکانومی) حساب میں نہیں آتا۔

درج ذیل میں سے کون سا براہِ راست ٹیکس ہے؟ (الف) سیلز ٹیکس (ب) ایکسائز ڈیوٹی (ج) انکم ٹیکس (د) کسٹم ڈیوٹی

درست جواب: (ج) انکم ٹیکس۔ انکم ٹیکس ایک براہِ راست ٹیکس ہے، جبکہ سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی بالواسطہ ٹیکس ہیں۔

پاکستان میں Tax to GDP Ratio کتنا ہے؟ (الف) 5% (ب) 9.2% (ج) 15% (د) 20%

درست جواب: (ب) 9.2%۔ پاکستان میں ٹیکس کی شرح خام ملکی پیداوار کے تناسب سے صرف 9.2 فیصد ہے۔

ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے حکومت پاکستان نے دولت ٹیکس کب ختم کیا؟ (الف) 1995 (ب) 2000 (ج) 2002 (د) 2010

درست جواب: (ج) 2002۔ حکومتِ پاکستان نے 2002 میں ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے دولت ٹیکس (Wealth Tax) کو ختم کیا۔

پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً کتنی ہے؟ (الف) 0.9% (ب) 1.92% (ج) 2.5% (د) 3.2%

درست جواب: (ب) 1.92%۔ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً 1.92 فیصد سالانہ ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • پاکستان کی GNP: 2004-05 میں 4681.99 بلین روپے سے 2014-15 میں 11195.70 بلین روپے۔ زراعت کا حصہ 40% (1969-70) سے کم ہو کر 20.9% رہ گیا؛ صنعت 16% سے بڑھ کر 20.30%۔
  • قومی آمدنی کی پیمائش میں مشکلات: تربیت یافتہ عملے کی کمی، عوام کا عدم تعاون، بلا معاوضہ خدمات، سمگلنگ (20% کاروبار)، غیر زری پیداوار۔
  • فی کس آمدنی = کل قومی آمدنی ÷ کل آبادی۔ پاکستان: 1,512 ڈالر (کم آمدنی والے ممالک میں شامل)؛ بھارت: 1,514، سوئٹزرلینڈ: 83,073۔
  • کم فی کس آمدنی کی وجوہات: قدرتی وسائل کی قلت، زراعت پر انحصار، سرمائے کی کمی، صنعتی پسماندگی، افراطِ آبادی (1.92%)، قرضوں کا بوجھ، Brain Drain، Capital Flight۔
  • فی کس آمدنی بڑھانے کی تجاویز: زرعی و صنعتی ترقی، موافق توازنِ تجارت، سیاسی استحکام، دولت کی مساویانہ تقسیم، شرحِ خواندگی میں اضافہ، آبادی کی منصوبہ بندی۔
  • ٹیکس کلچر: براہِ راست (انکم، دولت، جائیداد) بمقابلہ بالواسطہ (سیلز، ایکسائز) ٹیکس۔ پاکستان کا Tax to GDP Ratio صرف 9.2%۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔

امتحانی نکات

  • GNP کی شرحِ نمو کے اعشاریوں کو ترتیب سے یاد رکھیں: 1950s (3.5%)، 1960s (7% – عروج)، 1970s (5%)، 1990s (4% – کم ترین)۔
  • فی کس آمدنی کا فارمولا اور پاکستان کے اعداد (1,512 ڈالر) کو دیگر ممالک سے موازنہ کر کے یاد رکھیں – یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھا جاتا ہے۔
  • قومی آمدنی کی پیمائش میں 10 مشکلات اور فی کس آمدنی کی 15 وجوہات کو مختصر الفاظ (کی-ورڈز) کی شکل میں یاد رکھیں تاکہ تفصیلی سوال میں مکمل جواب دیا جا سکے۔
  • براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس کی مثالوں کو الگ الگ فہرست میں یاد رکھیں۔
  • پاکستان کے Tax to GDP Ratio (9.2%) اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے 2002 کے حکومتی اقدامات کی فہرست کو یاد رکھیں۔