باب 12: پاکستان کی تجارتِ خارجہ – معاشیات دوم سال (اردو میڈیم) – Foreign Trade of Pakistan Notes

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب دوازدہم ‘پاکستان کی تجارتِ خارجہ’ پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی ملک اپنی تمام ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، اس لیے بین الاقوامی تجارت ہر ملک کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

اس باب میں پاکستان کی اہم برآمدات و درآمدات، توازنِ ادائیگی، اس میں خرابی کے اسباب، علاقائی و بین الاقوامی تنظیموں (ECO، SAARC، WTO) کے کردار، اور بیرونی شرح مبادلہ کی اقسام تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • پاکستان کے لیے تجارتِ خارجہ کی اہمیت بیان کریں۔
  • پاکستان کی اہم برآمدات اور درآمدات کی وضاحت کریں۔
  • توازنِ ادائیگی کے تصور اور اس میں خرابی کے اسباب بیان کریں۔
  • ECO، SAARC اور WTO کے قیام و مقاصد کی وضاحت کریں۔
  • WTO کے پاکستان پر اثرات کا تجزیہ کریں۔
  • بیرونی شرح مبادلہ کی اقسام اور پاکستان کے تجربے کی وضاحت کریں۔

کلیدی تصورات

تجارتِ خارجہ کی اہمیت اور پاکستان کی اہم برآمدات

کوئی بھی ملک اپنی ضرورت کی تمام اشیاء خود تیار نہیں کر سکتا، اس لیے ممالک آپس میں تجارت کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے تجارتِ خارجہ کئی وجوہات کی بنا پر اہم ہے: نایاب و مہنگی اشیاء کا حصول ممکن ہوتا ہے، بڑے پیمانے کی پیداوار سے مصارف کم ہوتے ہیں، مشینری و ٹیکنالوجی کی درآمد سے معاشی ترقی تیز ہوتی ہے، اور قومی آمدنی و معیارِ زندگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان کی اہم برآمدات میں کپاس اور سوتی مصنوعات (کل برآمدات کا تقریباً 54%)، چاول (تقریباً 8.78%)، چڑا اور چڑے کی مصنوعات (تقریباً 4.4%)، قالین، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، اور ہوزری و تیار شدہ کپڑے (تقریباً 28.5%) شامل ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر برآمدات امریکہ، جرمنی، جاپان، برطانیہ اور یورپی یونین کو ہوتی ہیں۔

پاکستان کی اہم درآمدات اور ان کا رخ

پاکستان کی درآمدات تین بڑی اقسام میں تقسیم ہیں: بنیادی اشیاء، نیم تیار شدہ اشیاء، اور مصنوعات۔ اہم درآمدی اشیاء میں پٹرولیم مصنوعات، مشینری (بجلی، تعمیراتی، زرعی)، اشیائے خوراک (خشک دودھ، خوردنی تیل، دالیں)، اور کیمیکلز و ادویات شامل ہیں۔ 2014-15 کے پہلے دس ماہ میں برآمدات میں صرف 1.0 فیصد اضافہ ہوا جبکہ درآمدات میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان کی زیادہ تر درآمدات امریکہ، بھارت، انڈونیشیا، چین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہوتی ہیں۔ تیل کی درآمدات میں اضافے کے باعث سعودی عرب اور کویت کا حصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ جاپان کا حصہ کم ہو رہا ہے۔ 2007-08 میں ان ممالک سے درآمدات کا حصہ 36.7 فیصد تھا جو 2014-15 میں بڑھ کر تقریباً 50 فیصد ہو گیا۔

پاکستان کا توازنِ ادائیگی

توازنِ ادائیگی سے مراد کسی ملک کے باشندوں اور دنیا کے دیگر ممالک کے باشندوں کے درمیان ایک سال کے دوران ہونے والے تمام معاشی لین دین کا مکمل ریکارڈ ہے۔ جب مجموعی وصولی ادائیگیوں سے زیادہ ہو تو توازن موافق (Favourable) اور جب ادائیگیاں وصولیوں سے زیادہ ہوں تو یہ مخالف (Unfavourable) کہلاتا ہے۔

توازنِ ادائیگی میں مرئی اشیاء (درآمدی و برآمدی سامان) اور غیر مرئی اشیاء (بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات، بیمہ، سیاحت) شامل ہوتی ہیں۔ 1950-51 اور 1972-73 کے علاوہ پاکستان کا توازنِ ادائیگی ہمیشہ ناموافق رہا ہے۔

پاکستان کے توازنِ ادائیگی میں خرابی کے اسباب

پاکستان کی برآمدات چند محدود اشیاء (کپاس، چاول، چڑا) پر مشتمل ہیں اور محدود منڈیوں تک رسائی ہے، جس سے برآمدات کی نوعیت توازنِ ادائیگی کو متاثر کرتی ہے۔ کوالٹی کے مسائل کے باعث مصنوعات کی کم قیمت ملتی ہے، اور کئی ممالک کوٹے کی پابندیاں بھی عائد کرتے ہیں۔ نسبتِ درآمد و برآمد بھی پاکستان کے حق میں نہیں ہوتی۔

توازنِ ادائیگی میں خرابی کے اسباب - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

درآمدات میں مسلسل اضافہ، مصارفِ پیدائش میں اضافہ (تیل، مشینری، اجرتیں)، غیر مرئی درآمدات میں اضافہ (بیمہ، تعلیم، سیاحت)، کرنسی کی بیرونی قدر میں کمی (1972 میں 154.3% کمی)، اور اہرنمائش (Demonstration Effect) بھی توازنِ ادائیگی کی خرابی کے اہم اسباب ہیں۔

علاقائی تنظیمیں: ECO اور SAARC

اقتصادی تعاون کی تنظیم (ECO) کی بنیاد 1964 میں پاکستان، ایران اور ترکی نے RCD کے نام سے رکھی، جسے 1985 میں ECO کا نام دیا گیا۔ بعد میں وسط ایشیا کے چھ ممالک اور افغانستان شامل ہونے سے ارکان کی تعداد دس ہو گئی۔ اس کے مقاصد میں باہمی تجارت کا فروغ، مشترکہ صنعتوں کا قیام، اور وسائل کا باہمی استعمال شامل ہیں۔

سارک (SAARC) کا قیام 1985 میں ڈھاکہ میں سات ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، مالدیپ) کے سربراہان کے اجلاس میں عمل میں آیا۔ اس کے مقاصد میں اجتماعی خودانحصاری، باہمی اعتماد سازی، اور معاشی و ثقافتی تعاون شامل ہیں۔ سارک ممالک کے درمیان نیوکلیائی تنصیبات، ثقافتی اور غذائی تحفظ کے کئی معاہدے ہوئے ہیں۔

عالمی تجارتی تنظیم (WTO): مقاصد اور معاہدات

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کا قیام 1994 میں مراکش کانفرنس میں ہوا، جو 1948 کے GATT معاہدے کی جگہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی۔ پاکستان WTO کا بانی رکن ہے۔ WTO کے مقاصد میں بین الاقوامی تجارت کو آزاد کرنا، سبسڈیز کا خاتمہ، اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہیں۔

WTO کے تحت تین بڑے معاہدے ہوئے: معاہدہ برائے زراعت (زرعی سبسڈی میں کمی)، تجارت سے متعلق دانشورانہ املاک کے حقوق (TRIPS)، اور تجارت سے متعلق سرمایہ کاری کا معاہدہ (TRIMS)۔ ان معاہدوں کے تحت رکن ممالک کو اپنی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔

WTO کے پاکستان پر اثرات

زرعی شعبے پر WTO کے اثرات کے تحت پاکستان کو کھاد و زرعی ادویات پر سبسڈی کم کرنا پڑے گی، جس سے پیداواری لاگت بڑھے گی۔ صنعتی شعبے میں پاکستان کو چین، بھارت اور دیگر ممالک کی سستی مصنوعات سے سخت مقابلہ درپیش ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل کی صنعت میں۔

توازنِ ادائیگی پر WTO کے اثرات کے تحت پاکستان کی برآمدات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جبکہ درآمدی بل میں اضافہ متوقع ہے۔ سماجی و ثقافتی اثرات میں مغربی مصنوعات کے استعمال سے روایتی اقدار کا کمزور ہونا اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی قوت میں اضافہ شامل ہیں۔

بیرونی شرح مبادلہ: اقسام اور پاکستان کا تجربہ

شرح مبادلہ سے مراد وہ شرح ہے جس پر کسی ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی سے کیا جاتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں: معین شرح مبادلہ (Fixed Exchange Rate) — جو مرکزی بنک طے کرتا ہے اور بین الاقوامی تجارت میں پیشگی اندازہ ممکن بناتا ہے، اور لچکدار شرح مبادلہ (Flexible/Floating) — جو طلب و رسد کی قوتوں سے طے ہوتی ہے۔

پاکستانی روپیہ ستمبر 1971 سے 8 جنوری 1982 تک امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک رہا، جس کے بعد اسے عدم وابستہ (Delink) کر دیا گیا۔ اب پاکستان منظم پچ پر مبنی شرح مبادلہ (Managed Floating Exchange Rate) کا نظام اختیار کیے ہوئے ہے، جسے مرکزی بنک ہفتہ وار بنیادوں پر متعین کرتا ہے۔

اہم تعریفات

توازنِ ادائیگی (Balance of Payments)

کسی ملک کے باشندوں اور دنیا کے دیگر ممالک کے باشندوں کے درمیان ایک سال کے دوران تمام معاشی لین دین کا مکمل ریکارڈ۔

مرئی اشیاء (Visible Items)

توازنِ ادائیگی میں شامل درآمدی و برآمدی سامان جیسے کپاس، چاول، مشینری۔

غیر مرئی اشیاء (Invisible Items)

بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلات، بیمہ، سیاحت اور سفری اخراجات جیسی خدمات۔

شرح مبادلہ (Exchange Rate)

وہ شرح جس پر کسی ایک ملک کی کرنسی کا تبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی سے کیا جاتا ہے۔

اہرنمائش (Demonstration Effect)

دوسرے ممالک کی مصنوعات کے استعمال کا رجحان جو درآمدات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

WTO (World Trade Organization)

1994 میں قائم ہونے والی عالمی تجارتی تنظیم جو بین الاقوامی تجارت کو آزاد بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

ECO (اقتصادی تعاون کی تنظیم)

پاکستان، ایران اور ترکی کی 1985 میں قائم کردہ تنظیم جو بعد میں دس ارکان تک پھیل گئی۔

SAARC (سارک)

جنوبی ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم، قیام 1985، سات رکن ممالک پر مشتمل۔

اہم حقائق و فارمولے

عنوانفارمولا / حقیقت
پاکستان کی برآمدات میں اہم اشیاء کا حصہ (2014-15)کپاس و سوتی مصنوعات: 54%؛ چاول: 8.78%؛ چڑا: 4.4%؛ ہوزری و گارمنٹس: 28.5%
پاکستان کی درآمدات کی مداتاشیائے خوراک: 11.4%؛ مشینری اور پٹرولیم مصنوعات: بڑا حصہ؛ دیگر: 5.2%
کرنسی کی قدر میں کمی1972 میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی: 154.3%
پاکستان کا موافق توازنِ ادائیگیصرف دو سال موافق رہا: 1950-51 اور 1972-73
علاقائی تنظیموں کا قیامECO (بطور RCD): 1964، نام تبدیل 1985؛ SAARC: 1985؛ WTO: 1994
WTO کی رکنیتقیام کے وقت ارکان: 124؛ موجودہ ارکان: تقریباً 150 (دنیا کی 97% تجارت پر حاوی)

خاکہ جات و تصاویر

پاکستان کی برآمدات میں اہم اشیاء کا حصہ: ایک پائی چارٹ جو پاکستان کی کل برآمدات میں کپاس، چاول، چڑا اور دیگر اشیاء کے فیصد حصے کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی برآمدات میں اہم اشیاء کا حصہ - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

پاکستان کی رکنیت: علاقائی و بین الاقوامی تنظیمیں: ایک خاکہ جو پاکستان کی رکنیت رکھنے والی تین اہم تنظیموں — ECO، SAARC اور WTO — کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان کی رکنیت: علاقائی و بین الاقوامی تنظیمیں - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

توازنِ ادائیگی میں خرابی کے اسباب: ایک درختی خاکہ جو توازنِ ادائیگی میں خرابی کے اسباب کو تین بڑے گروہوں میں ظاہر کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات

پاکستان کے لیے تجارتِ خارجہ کیوں اہم ہے؟

تجارتِ خارجہ سے نایاب اشیاء کا حصول، پیداواری مصارف میں کمی، ٹیکنالوجی کی درآمد اور قومی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

توازنِ ادائیگی سے کیا مراد ہے؟

توازنِ ادائیگی کسی ملک کے باشندوں اور دیگر ممالک کے باشندوں کے درمیان ایک سال میں ہونے والے تمام معاشی لین دین کا مکمل ریکارڈ ہے۔

توازنِ ادائیگی موافق کب ہوتا ہے؟

جب کسی ملک کی مجموعی وصولی ادائیگیوں کی نسبت زیادہ ہو تو توازنِ ادائیگی موافق (Favourable) کہلاتا ہے۔

ECO کب اور کن ممالک نے قائم کی؟

ECO کی بنیاد 1964 میں پاکستان، ایران اور ترکی نے RCD کے نام سے رکھی، جسے 1985 میں ECO کا نام دیا گیا۔

معین اور لچکدار شرح مبادلہ میں فرق بیان کریں۔

معین شرح مبادلہ مرکزی بنک طے کرتا ہے جبکہ لچکدار شرح مبادلہ طلب و رسد کی قوتوں سے طے ہوتی ہے۔

WTO کا قیام کب ہوا؟

ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کا قیام 1994 میں مراکش کانفرنس میں عمل میں آیا۔

تفصیلی سوالات و جوابات

پاکستان کی اہم برآمدات اور درآمدات تفصیل سے بیان کریں۔

پاکستان کی اہم برآمدات میں سب سے نمایاں حصہ کپاس اور سوتی مصنوعات کا ہے جو کل برآمدات کا تقریباً 54 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ چاول (تقریباً 8.78%)، چڑا اور چڑے کی مصنوعات (تقریباً 4.4%)، قالین، مچھلی، سبزیاں و پھل، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، اور ہوزری و تیار شدہ کپڑے (تقریباً 28.5%) بھی اہم برآمدات میں شامل ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر برآمدات امریکہ، جرمنی، جاپان، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کو ہوتی ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کی درآمدات تین بڑی اقسام میں تقسیم ہیں: بنیادی اشیاء، نیم تیار شدہ اشیاء، اور مصنوعات۔ اہم درآمدی اشیاء میں پٹرولیم مصنوعات (جن کی درآمد بین الاقوامی تیل کی قیمتوں سے متاثر ہوتی ہے)، مشینری (بجلی، تعمیراتی، زرعی اور صنعتی)، اشیائے خوراک (خشک دودھ، خوردنی تیل، دالیں — کل درآمدات کا تقریباً 11.4%)، اور کیمیکلز و ادویات شامل ہیں۔ پاکستان کی زیادہ تر درآمدات امریکہ، بھارت، انڈونیشیا، چین، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ہوتی ہیں۔ تیل کی بڑھتی طلب کے باعث سعودی عرب اور کویت کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ چونکہ درآمدات کی شرح نمو برآمدات سے زیادہ رہی ہے، اس لیے پاکستان کا تجارتی توازن اکثر خسارے میں رہتا ہے۔

پاکستان کے توازنِ ادائیگی میں خرابی کے اسباب بیان کریں اور اس کے حل کے لیے تجاویز دیں۔

پاکستان کا توازنِ ادائیگی 1950-51 اور 1972-73 کے علاوہ ہمیشہ ناموافق رہا ہے۔ اس کی پہلی وجہ برآمدات کی نوعیت ہے، کیونکہ پاکستان کی برآمدات چند محدود اشیاء (کپاس، چاول، چڑا) پر مشتمل ہیں اور نئی منڈیوں تک رسائی محدود ہے۔ دوسری وجہ مصنوعات کی کم قیمت ہے، جو کوالٹی کے مسائل اور بین الاقوامی سطح پر منفی پراپیگنڈے کے باعث ہے۔ تیسری وجہ کوٹے کی پابندیاں ہیں جو کئی ممالک پاکستانی مصنوعات پر عائد کرتے ہیں۔ چوتھی وجہ نسبتِ درآمد و برآمد کا ناموافق ہونا ہے۔ پانچویں وجہ درآمدات میں مسلسل اضافہ ہے، خصوصاً پٹرول، مشینری اور زرعی مداخل کی درآمد کے باعث۔ چھٹی وجہ مصارفِ پیدائش میں اضافہ ہے، جس کے باعث پاکستانی مصنوعات چین جیسے ممالک کی سستی اشیاء کا مقابلہ نہیں کر پاتیں۔ ساتویں وجہ غیر مرئی درآمدات میں اضافہ ہے، جیسے بیرونی بیمہ، تعلیم اور سیاحت پر اخراجات۔ آٹھویں وجہ 1972 میں کرنسی کی قدر میں 154.3 فیصد کمی ہے، جس سے درآمدات مہنگی ہوئیں اور قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ نویں وجہ اہرنمائش (Demonstration Effect) ہے، جس کے باعث لوگ غیر ملکی مصنوعات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی برآمدات کو متنوع بنائے، نئی منڈیاں تلاش کرے، مصنوعات کا معیار بہتر کرے، اور درآمدات کے متبادل اندرونِ ملک تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرے۔

معروضی سوالات (MCQs)

پاکستان کی کل برآمدات میں کپاس اور سوتی مصنوعات کا حصہ تقریباً کتنا ہے؟ (الف) 25% (ب) 40% (ج) 54% (د) 70%

درست جواب: (ج) 54%۔ پاکستان کی کل برآمدات میں کپاس اور سوتی مصنوعات کا حصہ تقریباً 54 فیصد ہے۔

پاکستان کا توازنِ ادائیگی کن سالوں میں موافق رہا؟ (الف) 1947-48، 1950-51 (ب) 1950-51، 1972-73 (ج) 1965-66، 1971-72 (د) 1958-59، 1980-81

درست جواب: (ب) 1950-51، 1972-73۔ پاکستان کا توازنِ ادائیگی صرف 1950-51 اور 1972-73 میں موافق رہا۔

پاکستان نے اپنی کرنسی کی قدر میں کتنی کمی کی تھی 1972 میں؟ (الف) 100% (ب) 120% (ج) 154.3% (د) 200%

درست جواب: (ج) 154.3%۔ پاکستان نے 1972 میں اپنی کرنسی کی قدر میں 154.3 فیصد کمی کی۔

ECO کا پرانا نام کیا تھا؟ (الف) SAARC (ب) RCD (ج) GATT (د) OIC

درست جواب: (ب) RCD۔ ECO کا پرانا نام RCD (Regional Cooperation for Development) تھا۔

سارک کا قیام کب عمل میں آیا؟ (الف) 1980 (ب) 1983 (ج) 1985 (د) 1990

درست جواب: (ج) 1985۔ سارک کا قیام 1985 میں ڈھاکہ میں سربراہان کے اجلاس میں عمل میں آیا۔

WTO کا قیام کب ہوا؟ (الف) 1948 (ب) 1986 (ج) 1994 (د) 2005

درست جواب: (ج) 1994۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) کا قیام 1994 میں ہوا۔

WTO سے پہلے کون سا معاہدہ رائج تھا؟ (الف) SAARC (ب) ECO (ج) GATT (د) OIC

درست جواب: (ج) GATT۔ WTO سے پہلے GATT (General Agreement on Tariff and Trade) رائج تھا۔

لچکدار شرح مبادلہ کا تعین کس بنیاد پر ہوتا ہے؟ (الف) مرکزی بنک کے حکم پر (ب) طلب و رسد کی قوتوں سے (ج) پارلیمنٹ کی منظوری سے (د) IMF کے احکامات پر

درست جواب: (ب) طلب و رسد کی قوتوں سے۔ لچکدار شرح مبادلہ کا تعین بیرونی کرنسی کی طلب و رسد کی قوتوں سے ہوتا ہے۔

پاکستانی روپیہ کب تک امریکی ڈالر سے منسلک رہا؟ (الف) 1971 تا 1980 (ب) 1971 تا 1982 (ج) 1980 تا 1990 (د) 1990 تا 2000

درست جواب: (ب) 1971 تا 1982۔ پاکستانی روپیہ ستمبر 1971 سے 8 جنوری 1982 تک امریکی ڈالر سے منسلک رہا۔

WTO کے کتنے بڑے معاہدے ہیں؟ (الف) دو (ب) تین (ج) چار (د) پانچ

درست جواب: (ب) تین۔ WTO کے تحت تین بڑے معاہدے ہیں: زراعت، TRIPS اور TRIMS۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • برآمدات: کپاس و سوتی مصنوعات 54%، چاول 8.78%، چڑا 4.4%۔ درآمدات: پٹرولیم، مشینری، خوراک 11.4%۔
  • توازنِ ادائیگی: مرئی و غیر مرئی اشیاء کا مکمل ریکارڈ۔ صرف 1950-51 اور 1972-73 میں موافق رہا۔
  • خرابی کے اسباب: برآمدات کی محدود نوعیت، کم قیمت، کوٹہ پابندیاں، درآمدات میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی۔
  • ECO: 1964 (بطور RCD) → 1985 (نام تبدیل)، 10 ارکان۔ SAARC: 1985، 7 ارکان۔
  • WTO: قیام 1994، GATT کی جگہ، تین معاہدے (زراعت، TRIPS، TRIMS)۔
  • شرح مبادلہ: معین (مرکزی بنک طے کرے) بمقابلہ لچکدار (طلب و رسد)۔ پاکستان: منظم پچ پر مبنی نظام۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔

امتحانی نکات

  • پاکستان کی تین بڑی برآمدی اشیاء (کپاس، چاول، چڑا) کے فیصد حصے کو ترتیب سے یاد رکھیں۔
  • توازنِ ادائیگی موافق رہنے والے دو سال (1950-51، 1972-73) اور ان کی وجوہات یاد رکھیں۔
  • ECO، SAARC اور WTO کے قیام کے سال اور بانی ارکان کو الگ الگ یاد رکھیں۔
  • توازنِ ادائیگی میں خرابی کے نو اسباب کو تین گروہوں (برآمدات، درآمدات، دیگر) میں تقسیم کر کے یاد رکھیں۔
  • معین اور لچکدار شرح مبادلہ کے فوائد و نقصانات کا موازنہ جدول کی شکل میں یاد رکھیں۔