یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب دہم ‘پاکستان کا بنکاری نظام’ پر مبنی ہیں۔ کسی بھی ملک کی اقتصادی ترقی کا انحصار فعال اور مستحکم بنکاری نظام پر ہوتا ہے کیونکہ مالیاتی ادارے لوگوں کی بچتوں کو یکجا کر کے سرمایہ کاری کو فروغ دیتے ہیں۔
اس باب میں تجارتی بنکوں کے قومیانے کا عمل، نیشنل بنک آف پاکستان، زرعی و صنعتی ترقیاتی بنکوں، معاشی ترقی میں تجارتی بنکوں اور سٹیٹ بنک کے کردار، بازارِ زر و بازارِ سرمایہ، ای کامرس، اور افراطِ زر کے اسباب و تدارک تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
تعلیمی مقاصد
- پاکستان میں تجارتی بنکوں کے قومیانے کے عمل کی وضاحت کریں۔
- نیشنل بنک، زرعی ترقیاتی بنک اور صنعتی ترقیاتی بنک کے فرائض بیان کریں۔
- معاشی ترقی میں تجارتی بنکوں کے کردار کی وضاحت کریں۔
- معاشی ترقی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے کردار کو بیان کریں۔
- بازارِ زر، بازارِ سرمایہ اور ای کامرس کے تصورات کی وضاحت کریں۔
- افراطِ زر کی اقسام، اسباب اور کنٹرول کے اقدامات بیان کریں۔
کلیدی تصورات
تجارتی بنک اور قومیانے کا عمل
تجارتی بنک ملکی تجارت، صنعت و حرفت کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگوں سے رقوم مختلف حسابات میں وصول کر کے انہیں منافع دیتے ہیں اور یہی رقوم ضرورت مند تاجروں کو قرض دے کر منافع کماتے ہیں۔ پاکستان میں 1973 سے پہلے تجارتی بنکوں کی تعداد 23 تھی، جن میں سے 15 پاکستانی اور باقی غیر ملکی تھے۔

حکومتِ پاکستان نے بنک قومیانے کے آرڈیننس 1974 کے تحت ملک کے تمام چھوٹے بنکوں کو پانچ بڑے بنکوں میں ضم کر دیا: نیشنل بنک آف پاکستان، حبیب بنک لمیٹڈ، مسلم کمرشل بنک لمیٹڈ، الائیڈ بنک لمیٹڈ اور یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ۔ غیر ملکی بنکوں اور کوآپریٹو بنکوں کو قومی تحویل میں نہیں لیا گیا۔
نیشنل بنک آف پاکستان
نیشنل بنک آف پاکستان 8 نومبر 1949 کو ایک آرڈیننس کے تحت وجود میں آیا اور 20 نومبر 1949 سے باقاعدہ کام شروع کیا۔ ابتدا میں اس کا فرض کلیدی زرعی اجناس (کپاس، گندم) کی خرید و فروخت تھا، مگر 1950 سے یہ عام تجارتی بنک کی طرح کام کر رہا ہے۔ قیام کے وقت اس کا منظور شدہ سرمایہ 6 کروڑ روپے اور ادا شدہ سرمایہ 3 کروڑ روپے تھا۔
نیشنل بنک کے اہم فرائض میں لوگوں کی امانتیں وصول کرنا، حکومت کے لیے مالیاتی وصولیاں و ادائیگیاں کرنا، تیل الایجاد اور طویل الایجاد قرضے فراہم کرنا، لاکرز کی سہولت دینا، صنعت و زراعت کو مالی معاونت دینا، اور زرمبادلہ کا کاروبار کرنا شامل ہیں۔ یہ ملک کا سب سے بڑا تجارتی بنک ہے جس کی زیادہ امانتیں اور قرضوں کا حجم دیگر بنکوں سے زیادہ ہے۔
زرعی ترقیاتی بنک لمیٹڈ
فروری 1961 میں دو مالیاتی اداروں (زرعی ترقی کی مالیاتی کارپوریشن اور پاکستان زرعی بنک) کو ضم کر کے زرعی ترقیاتی بنک آف پاکستان قائم کیا گیا۔ یہ بنک کسانوں کو تین طرح کے قرضے فراہم کرتا ہے: قلیل المیعاد (6 ماہ سے 8 ماہ، بیج و کھاد کے لیے)، درمیانی مدت (ڈیڑھ سے 5 سال، زرعی آلات کے لیے)، اور طویل المیعاد (5 سے 10 سال، ٹریکٹر و گودام کی تعمیر کے لیے)۔
زرعی ترقیاتی بنک نے تقریباً 32 ارب روپے کے قرضے تقریباً 5 لاکھ کسانوں کو جاری کر رکھے ہیں اور ملک بھر میں تقریباً 200 برانچیں زرعی ترقی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ یہ بنک ماڈل ولیج سکیم، دیہی بنک سکیم اور کمپیوٹر و انٹرنیٹ کے ذریعے کسانوں کو معلومات فراہم کرنے جیسی خدمات بھی سرانجام دیتا ہے۔
صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان
1949 میں قائم صنعتی مالیاتی کارپوریشن مالی وسائل کے فقدان کا مسئلہ حل نہ کر سکی، لہٰذا اگست 1961 میں اسے صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان کا نام دیا گیا۔ یہ بنک نئی صنعتوں کے قیام کے لیے قلیل و طویل المیعاد قرضے فراہم کرتا ہے، خصوصاً چھوٹی و درمیانی نجی صنعتوں (انجینئرنگ، کیمیائی کھاد، ٹیکسٹائل وغیرہ) کو۔
یہ بنک پسماندہ علاقوں کی صنعتوں کو زیادہ آسان شرائط پر قرضے دیتا ہے تاکہ متوازن معاشی ترقی ہو، برآمدی صنعتوں کو ترجیحی قرضے فراہم کرتا ہے، اور کاروباری یونٹوں میں براہِ راست سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ اس بنک نے اب تک تقریباً 9 ارب روپے کے قرضے جاری کر رکھے ہیں جس سے کئی نئی صنعتیں قائم ہوئیں۔
معاشی ترقی میں تجارتی بنکوں کا کردار
تجارتی بنک کسی ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں: وہ لوگوں کی بچتوں کو یکجا کر کے سرمایہ کی تشکیل کرتے ہیں، سرمائے کی نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں، بچت کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں، اور صنعتی و زرعی ترقی کے لیے آسان قرضے فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ بنک بین الاقوامی تجارت کے لیے زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں، رقوم کی منتقلی میں مدد دیتے ہیں، مکانات کی تعمیر کے لیے طویل المیعاد قرضے دیتے ہیں، افراطِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، زکوٰۃ کی وصولی و تقسیم کرتے ہیں، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر کے ملک کی مجموعی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔
معاشی ترقی میں سٹیٹ بنک کا کردار
سٹیٹ بنک آف پاکستان یکم جولائی 1948 کو قائم ہوا اور اس نے کمزور بنکاری نظام کی تعمیرِ نو، بنکوں کے عملے کی تربیت، اور بازارِ سرمایہ کی تشکیل (کراچی سٹاک ایکسچینج 1949، لاہور سٹاک ایکسچینج 1971، اسلام آباد سٹاک ایکسچینج) میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے اس نے زرعی ترقیاتی بنک قائم کیا، جس کا GDP میں حصہ 21.4 فیصد اور لیبر فورس میں حصہ 45 فیصد ہے۔
سٹیٹ بنک نے کئی خصوصی مالیاتی ادارے (HBFC، پاکستان صنعتی قرضہ و سرمایہ کاری کارپوریشن) قائم کیے، بچتوں کی حوصلہ افزائی کی، قرضوں کی متوازن تقسیم کی پالیسی بنائی، شرحِ بنک میں تبدیلی کے ذریعے افراطِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کیا، برآمدات کی افزائش کے لیے ایکسپورٹ فنانس سکیمیں شروع کیں، حکومت کو مالیات فراہم کیں، اور اسلامی بنکاری کے فروغ میں بھی کردار ادا کیا۔
بازارِ زر، بازارِ سرمایہ اور ای کامرس
بازارِ زر سے مراد وہ بازار ہے جہاں قلیل المدت قرضے جاری کیے جاتے ہیں، جس میں سٹیٹ بنک، تجارتی بنک، امداد باہمی کے بنک اور بیمہ کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے برعکس بازارِ سرمایہ میں طویل المیعاد قرضے اور کمپنیوں کے حصص و بانڈز کی خرید و فروخت ہوتی ہے، جس کا سب سے اہم ادارہ سٹاک ایکسچینج ہے۔
ای کامرس سے مراد مالی لین دین کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال ہے۔ اس کے ذریعے اکاؤنٹ ہولڈر اپنا بیلنس دیکھ سکتا ہے، رقم منتقل کر سکتا ہے، آن لائن خریداری کر سکتا ہے، اور بلوں کی ادائیگی کر سکتا ہے۔ ای کامرس نے کاروبار کو تیز، آسان اور بین الاقوامی سطح پر قابلِ رسائی بنا دیا ہے۔
افراطِ زر: تصور اور اقسام
افراطِ زر سے مراد قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اشیاء کی مقدار کے مقابلے میں زر کی مقدار بڑھ جائے۔ پروفیسر کینز کے مطابق جب اشیاء و خدمات کی پیداوار کی نسبت قیمتوں میں بڑھنے کا رجحان پایا جائے تو یہ افراطِ زر کہلاتا ہے۔
افراطِ زر کی دو اہم اقسام ہیں: طلب کے کھینچاؤ کا افراطِ زر (Demand Pull Inflation)، جو آبادی میں اضافے یا فیشن کی تبدیلی سے طلب بڑھنے پر پیدا ہوتا ہے (اس میں خزیدہ افراطِ زر اور تیز سرپٹ افراطِ زر شامل ہیں)، اور مصارفِ پیدائش میں بڑھوتری کا افراطِ زر (Cost Push Inflation)، جو خام مال اور مزدوروں کی اجرتوں میں اضافے سے پیدا ہوتا ہے۔
پاکستان میں افراطِ زر کے اسباب اور کنٹرول کے اقدامات
پاکستان میں افراطِ زر کے اہم اسباب میں زر کی مقدار میں اضافہ، تمویلِ خسارہ کی پالیسی، دفاعی اخراجات و سود کی ادائیگی، آبادی میں اضافہ، ناموافق موسمی حالات، روپے کی قدر میں کمی، بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اسمگلنگ و ذخیرہ اندوزی، اور صرفی معاشرہ شامل ہیں۔
افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے سرکاری اخراجات میں کمی، پیداوار میں اضافہ، تمویلِ خسارہ میں کمی، بچتوں کی حوصلہ افزائی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، شرحِ بنک میں تبدیلی، ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ، آبادی پر کنٹرول، اور برآمدات میں اضافہ جیسے اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔
اہم تعریفات
افراطِ زر (Inflation)
قیمتوں میں مسلسل اضافہ، جو اشیاء کی مقدار کے مقابلے میں زر کی مقدار بڑھنے سے پیدا ہوتا ہے۔
طلب کے کھینچاؤ کا افراطِ زر (Demand Pull Inflation)
جب اشیاء کی طلب بڑھ جانے کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو۔
مصارفِ پیدائش کا افراطِ زر (Cost Push Inflation)
خام مال اور مزدوروں کی اجرتوں میں اضافے کے سبب قیمتوں میں مسلسل اضافہ۔
بازارِ زر (Money Market)
وہ بازار جہاں قلیل المدت قرضے مالیاتی ادارے جاری کرتے ہیں، جیسے تجارتی ہنڈیاں اور خزانے کی ہنڈیاں۔
بازارِ سرمایہ (Capital Market)
وہ بازار جہاں طویل المیعاد قرضے اور کمپنیوں کے حصص و بانڈز کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
ای کامرس (E-Commerce)
مالی لین دین کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال، جس سے خریداری اور رقم کی منتقلی آسان ہو جاتی ہے۔
خزیدہ افراطِ زر (Creeping Inflation)
قیمتوں میں معمولی مگر مسلسل اضافہ۔
تیز سرپٹ افراطِ زر (Hyper Inflation)
قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے۔
اہم حقائق و فارمولے
| عنوان | فارمولا / حقیقت |
|---|---|
| پاکستان میں تجارتی بنکوں کا قومیانا | قومیانے کا آرڈیننس: 1974؛ قبل ازیں بنک: 23 (15 پاکستانی، 8 غیر ملکی)؛ بعد ازاں: 5 بڑے بنک |
| زرعی ترقیاتی بنک کے قرضے | کل قرضے: تقریباً 32 ارب روپے؛ مستفید کسان: تقریباً 5 لاکھ؛ برانچیں: تقریباً 200 |
| صنعتی ترقیاتی بنک کے قرضے | کل قرضے: تقریباً 9 ارب روپے (قیام: اگست 1961) |
| پاکستان کی سٹاک ایکسچینجز | کراچی سٹاک ایکسچینج: 1949؛ لاہور سٹاک ایکسچینج: 1971؛ اسلام آباد سٹاک ایکسچینج: بعد میں قائم |
| زرعی شعبے کے اعداد و شمار | GDP میں حصہ: 21.4%؛ لیبر فورس میں حصہ: 45% |
| زرعی ترقیاتی بنک کے قرضوں کی مدت | قلیل المیعاد: 6-8 ماہ؛ درمیانی مدت: 1.5-5 سال؛ طویل المیعاد: 5-10 سال |
خاکہ جات و تصاویر
پاکستان کے پانچ قومی تحویل شدہ بنک: ایک خاکہ جو 1974 کے آرڈیننس کے تحت قومی تحویل میں لیے گئے پانچ بڑے بنکوں کو ظاہر کرتا ہے۔

زرعی و صنعتی ترقیاتی بنکوں کے قرضے: ایک بار چارٹ جو زرعی ترقیاتی بنک اور صنعتی ترقیاتی بنک کے جاری کردہ قرضوں کے حجم کا موازنہ ارب روپے میں ظاہر کرتا ہے۔

افراطِ زر کی اقسام: ایک درختی خاکہ جو افراطِ زر کی دو بنیادی اقسام — طلب کے کھینچاؤ اور مصارفِ پیدائش کے افراطِ زر — کو ان کی ذیلی اقسام کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔
مختصر سوالات و جوابات
پاکستان میں بنک قومیانے کا آرڈیننس کب جاری ہوا؟
پاکستان میں بنک قومیانے کا آرڈیننس 1974 میں جاری ہوا، جس کے تحت تمام چھوٹے بنکوں کو پانچ بڑے بنکوں میں ضم کر دیا گیا۔
نیشنل بنک آف پاکستان کب قائم ہوا؟
نیشنل بنک آف پاکستان 8 نومبر 1949 کو قائم ہوا اور 20 نومبر 1949 سے باقاعدہ کام شروع کیا۔
زرعی ترقیاتی بنک کے قلیل المیعاد قرضے کس مقصد کے لیے ہیں؟
زرعی ترقیاتی بنک کے قلیل المیعاد قرضے (6 سے 8 ماہ) کسانوں کو بیج، کھاد اور ادویات کی فوری ضروریات کے لیے فراہم کیے جاتے ہیں۔
بازارِ زر اور بازارِ سرمایہ میں فرق بیان کریں۔
بازارِ زر میں قلیل المدت قرضے جبکہ بازارِ سرمایہ میں طویل المیعاد قرضے اور کمپنیوں کے حصص و بانڈز کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
افراطِ زر کی تعریف کریں۔
افراطِ زر سے مراد قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے جو اشیاء کی مقدار کے مقابلے میں زر کی مقدار بڑھنے سے پیدا ہوتا ہے۔
طلب کے کھینچاؤ کے افراطِ زر سے کیا مراد ہے؟
جب اشیاء کی طلب بڑھ جانے کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو تو اسے طلب کے کھینچاؤ کا افراطِ زر کہتے ہیں۔
تفصیلی سوالات و جوابات
پاکستان میں تجارتی بنکوں کے قومیانے کے عمل اور معاشی ترقی میں تجارتی بنکوں کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔
پاکستان میں 1973 سے پہلے تجارتی بنکوں کی تعداد 23 تھی، جن میں سے 15 پاکستانی اور باقی غیر ملکی تھے۔ حکومتِ پاکستان نے بنک قومیانے کے آرڈیننس 1974 کے تحت ملک کے تمام چھوٹے بنکوں کو پانچ بڑے بنکوں — نیشنل بنک آف پاکستان، حبیب بنک لمیٹڈ، مسلم کمرشل بنک لمیٹڈ، الائیڈ بنک لمیٹڈ اور یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ — میں ضم کر دیا۔ غیر ملکی بنکوں اور کوآپریٹو بنکوں کو قومی تحویل میں نہیں لیا گیا۔ نیشنل بنک آف پاکستان، جو 8 نومبر 1949 کو قائم ہوا، ملک کا سب سے بڑا تجارتی بنک ہے جس کی امانتیں اور قرضوں کا حجم دیگر بنکوں سے زیادہ ہے۔ تجارتی بنک کسی ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں: وہ لوگوں کی بچتوں کو یکجا کر کے سرمایہ کی تشکیل کرتے ہیں، سرمائے کی نقل و حرکت کو ممکن بناتے ہیں، اور بچت کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ صنعتی و زرعی ترقی کے لیے وہ آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتے ہیں جس سے کسان جدید آلات اور صنعت کار جدید ٹیکنالوجی استعمال کر پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بنک بین الاقوامی تجارت کے لیے زرمبادلہ فراہم کرتے ہیں، مکانات کی تعمیر کے لیے طویل المیعاد قرضے دیتے ہیں، افراطِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتے ہیں، زکوٰۃ کی وصولی و تقسیم کرتے ہیں، اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر کے ملک کی مجموعی پیداوار اور معیارِ زندگی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس طرح تجارتی بنک ملک کی مجموعی معاشی ترقی میں ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
معاشی ترقی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان یکم جولائی 1948 کو قائم ہوا اور نہایت نامساعد حالات میں اس نے پاکستان کے کمزور بنکاری نظام کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔ سب سے پہلے اس نے بنکاری نظام کی تعمیرِ نو کی، لائسنس جاری کر کے ملک بھر میں تجارتی بنکوں اور خصوصی مالی اداروں کا جال بچھا دیا۔ دوسرا اہم کردار بنکوں کے عملے کی تربیت ہے، جس کے لیے بنک آف پیسز ٹریننگ پروگرام شروع کیا گیا۔ تیسرا اہم کردار بازارِ سرمایہ کی تشکیل ہے، جس کے تحت 1949 میں کراچی سٹاک ایکسچینج، 1971 میں لاہور سٹاک ایکسچینج، اور بعد میں اسلام آباد سٹاک ایکسچینج قائم کی گئیں۔ چوتھا کردار زرعی شعبے کی ترقی ہے، جس کے لیے سٹیٹ بنک نے زرعی ترقیاتی بنک قائم کیا اور تجارتی بنکوں کو کسانوں کے لیے آسان قرضوں کی ہدایت دی، کیونکہ زراعت کا GDP میں حصہ 21.4 فیصد اور لیبر فورس میں 45 فیصد ہے۔ سٹیٹ بنک نے HBFC اور پاکستان صنعتی قرضہ و سرمایہ کاری کارپوریشن جیسے خصوصی مالیاتی ادارے بھی قائم کیے، بچتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے کئی سکیمیں شروع کیں، قرضوں کی متوازن تقسیم کی پالیسی بنائی تاکہ پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی کے مواقع ملیں، اور شرحِ بنک میں تبدیلی کے ذریعے افراطِ زر و تفریطِ زر کو کنٹرول کیا۔ اس کے علاوہ سٹیٹ بنک نے برآمدات کی افزائش کے لیے ایکسپورٹ فنانس سکیمیں شروع کیں، حکومت کو مالی مشیر کی حیثیت سے مالیات فراہم کیں، اور اسلامی بنکاری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان تمام اقدامات کے ذریعے سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ملک کی معاشی ترقی کی راہ ہموار کی۔
معروضی سوالات (MCQs)
پاکستان میں بنک قومیانے کا آرڈیننس کب جاری ہوا؟ (الف) 1970 (ب) 1972 (ج) 1974 (د) 1977
درست جواب: (ج) 1974۔ پاکستان میں تجارتی بنکوں کو 1974 کے آرڈیننس کے تحت قومی تحویل میں لیا گیا۔
قومیانے کے بعد کتنے بڑے بنک قائم رہے؟ (الف) تین (ب) پانچ (ج) سات (د) دس
درست جواب: (ب) پانچ۔ قومیانے کے بعد پانچ بڑے بنک قائم رہے: نیشنل بنک، حبیب بنک، مسلم کمرشل بنک، الائیڈ بنک اور یونائیٹڈ بنک۔
نیشنل بنک آف پاکستان کب قائم ہوا؟ (الف) 1947 (ب) 1948 (ج) 1949 (د) 1961
درست جواب: (ج) 1949۔ نیشنل بنک آف پاکستان 8 نومبر 1949 کو قائم ہوا۔
زرعی ترقیاتی بنک کب قائم ہوا؟ (الف) 1949 (ب) 1958 (ج) 1961 (د) 1974
درست جواب: (ج) 1961۔ زرعی ترقیاتی بنک آف پاکستان فروری 1961 میں دو اداروں کو ضم کر کے قائم کیا گیا۔
زرعی ترقیاتی بنک نے تقریباً کتنے ارب روپے کے قرضے جاری کیے ہیں؟ (الف) 9 (ب) 20 (ج) 32 (د) 50
درست جواب: (ج) 32۔ زرعی ترقیاتی بنک نے تقریباً 32 ارب روپے کے قرضے تقریباً 5 لاکھ کسانوں کو جاری کیے ہیں۔
صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان کب قائم ہوا؟ (الف) 1949 (ب) 1958 (ج) 1961 (د) 1965
درست جواب: (ج) 1961۔ صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان اگست 1961 میں صنعتی مالیاتی کارپوریشن کی جگہ قائم کیا گیا۔
کراچی سٹاک ایکسچینج کب قائم ہوئی؟ (الف) 1947 (ب) 1949 (ج) 1961 (د) 1971
درست جواب: (ب) 1949۔ کراچی سٹاک ایکسچینج 1949 میں سٹیٹ بنک کی کوششوں سے قائم ہوئی۔
طلب بڑھنے سے پیدا ہونے والا افراطِ زر کیا کہلاتا ہے؟ (الف) Cost Push Inflation (ب) Demand Pull Inflation (ج) Deflation (د) Stagflation
درست جواب: (ب) Demand Pull Inflation۔ طلب بڑھنے سے پیدا ہونے والا افراطِ زر Demand Pull Inflation کہلاتا ہے۔
قیمتوں میں معمولی مگر مسلسل اضافہ کیا کہلاتا ہے؟ (الف) Hyper Inflation (ب) Creeping Inflation (ج) Deflation (د) Stagflation
درست جواب: (ب) Creeping Inflation۔ قیمتوں میں معمولی مگر مسلسل اضافہ Creeping Inflation کہلاتا ہے۔
زراعت کا پاکستان کی GDP میں حصہ کتنا ہے؟ (الف) 13.2% (ب) 20.9% (ج) 21.4% (د) 25.4%
درست جواب: (ج) 21.4%۔ زراعت کا پاکستان کی GDP میں حصہ 21.4 فیصد ہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- تجارتی بنکوں کا قومیانا: آرڈیننس 1974، 23 بنکوں سے 5 بڑے بنکوں تک (NBP، HBL، MCB، ABL، UBL)۔
- نیشنل بنک آف پاکستان: قیام 1949؛ ملک کا سب سے بڑا تجارتی بنک۔
- زرعی ترقیاتی بنک: قیام 1961؛ قرضے 32 ارب روپے؛ 5 لاکھ کسان مستفید۔ صنعتی ترقیاتی بنک: قیام 1961؛ قرضے 9 ارب روپے۔
- سٹیٹ بنک کا کردار: بنکاری نظام کی تعمیرِ نو، عملے کی تربیت، بازارِ سرمایہ کی تشکیل (KSE 1949، LSE 1971)، زرعی ترقی، افراطِ زر کنٹرول۔
- بازارِ زر: قلیل المدت قرضے۔ بازارِ سرمایہ: طویل المیعاد قرضے و حصص۔ ای کامرس: انٹرنیٹ کے ذریعے مالی لین دین۔
- افراطِ زر کی اقسام: طلب کے کھینچاؤ کا افراطِ زر (Creeping، Hyper)؛ مصارفِ پیدائش کا افراطِ زر۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔
امتحانی نکات
- پانچ قومی تحویل شدہ بنکوں کے نام (NBP، HBL، MCB، ABL، UBL) کو ترتیب سے یاد رکھیں – یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھے جاتے ہیں۔
- زرعی ترقیاتی بنک کی تین قرضہ اقسام (قلیل، درمیانی، طویل المیعاد) کی مدت اور مقصد کا موازنہ یاد رکھیں۔
- سٹیٹ بنک کے گیارہ کرداروں کو مختصر کلیدی الفاظ میں یاد رکھیں تاکہ تفصیلی سوال میں مکمل جواب دیا جا سکے۔
- بازارِ زر اور بازارِ سرمایہ کا فرق مثالوں کے ساتھ یاد رکھیں۔
- افراطِ زر کی دو اقسام (Demand Pull، Cost Push) اور ان کی ذیلی اقسام کو الگ الگ یاد رکھیں۔