باب 11: حکومتِ پاکستان کے مالیات – معاشیات دوم سال (اردو میڈیم) – Public Finance of Pakistan Notes

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب یازدہم ‘حکومتِ پاکستان کے مالیات’ پر مبنی ہیں۔ پاکستان میں مرکزی، صوبائی اور مقامی حکومتیں 1973 کے آئین کے تحت اپنے فرائض سرانجام دیتی ہیں، جن کے لیے انہیں مالیات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس باب میں پاکستان میں ٹیکسوں کی اقسام، مرکزی و صوبائی حکومتوں کی آمدنی کے ذرائع، NFC ایوارڈ، اخراجات کی مدات، اور نظامِ زکوٰۃ، عشر و انفاق فی سبیل اللہ کو بطور ذریعہ آمدن و معاشرتی انصاف تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • پاکستان میں ٹیکسوں کی اقسام (براہِ راست/بالواسطہ، تناسب/مترادف/تنزیہ) بیان کریں۔
  • وفاقی حکومت کی آمدنی کے ذرائع اور NFC ایوارڈ کی وضاحت کریں۔
  • وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اخراجات کی مدات بیان کریں۔
  • صوبائی حکومتوں کی آمدنی کے ذرائع کی وضاحت کریں۔
  • نظامِ زکوٰۃ اور نظامِ عشر کی وضاحت کریں۔
  • زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کے معاشرتی انصاف میں کردار کو بیان کریں۔

کلیدی تصورات

پاکستان میں ٹیکسوں کی اقسام

ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے، جو شہریوں کے ذمے واجب الادا وہ رقم ہے جو وہ حکومت کی خدمات کے بدلے خزانے میں جمع کرواتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکس دو بنیادی اقسام میں تقسیم ہیں: براہِ راست ٹیکس (انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس)، جن سے حکومت کی کل آمدنی کا 39.5 فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے، اور بالواسطہ ٹیکس (کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس)، جن سے 60.5 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نافذ کرنے والا سب سے بڑا ادارہ مرکزی بورڈ آف ریونیو (CBR) ہے۔

شرحِ ٹیکس کے لحاظ سے چار اقسام ہیں: تناسب ٹیکس (Proportional Tax) — تمام آمدنی والوں سے ایک ہی شرح؛ مترادف ٹیکس (Progressive Tax) — آمدنی بڑھنے کے ساتھ شرح میں اضافہ؛ تنزیہ ٹیکس (Regressive Tax) — آمدنی بڑھنے پر شرح میں کمی؛ اور زائد قدری ٹیکس (Value Added Tax) — پیداوار کے ہر مرحلے پر عائد ہونے والا ٹیکس۔

حکومتِ پاکستان کی آمدنی کے ذرائع اور NFC ایوارڈ

وفاقی حکومت کی آمدنی کے اہم ذرائع میں کسٹم ڈیوٹی (درآمدی و برآمدی محصولات)، مرکزی ایکسائز ڈیوٹی، انکم و کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس، گفٹ ٹیکس (1963 سے نافذ، شرح 5% تا 30%)، ویلتھ ٹیکس، اسٹیٹ ڈیوٹی (1947 سے نافذ)، ڈاک و ٹیلی فون خدمات، سود کی وصولیاں، اور املاک و کاروبار شامل ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ 2010 کے تحت وفاقی حکومت کے قابلِ تقسیم محاصل میں سے ایک فیصد خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کی جنگ کے اخراجات کے لیے، باقی رقم میں سے 56 فیصد صوبوں کو اور 44 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا ہے۔ صوبوں میں تقسیم: پنجاب 51.74%، سندھ 24.55%، خیبر پختونخوا 14.62%، اور بلوچستان 9.09%۔

وفاقی حکومت کے اخراجات کی مدات

وفاقی حکومت کے اخراجات کی اہم مدات میں دفاع (کل محاصل کا تقریباً 17.2%، اسلحہ و فوجی تربیت پر خرچ)، سود کی ادائیگی (بیرونی قرضوں پر، مارچ 2012 میں کل بیرونی قرضہ تقریباً 60.3 ملین ڈالر)، اور نظم و نسق (تقریباً 18%، پولیس و عدلیہ پر خرچ) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اعانت (خوردنی تیل و ضروریاتِ زندگی پر سبسڈی)، سماجی و معاشرتی خدمات (تعلیم، صحت)، معاشی خدمات (نقل و حمل، زراعت، آبپاشی)، ترقیاتی اخراجات (سالانہ ترقیاتی پروگرام)، اور اجتماعی خدمات (سڑکیں، مواصلات) بھی وفاقی حکومت کے اخراجات کی اہم مدات ہیں۔

صوبائی حکومتوں کے ذرائع آمدن

پاکستان کی چار صوبائی حکومتوں (پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان) کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ وفاقی حکومت کے ٹیکسوں میں 56 فیصد حصہ ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی ایکسائز ڈیوٹی (دیسی شراب، سینما ٹکٹ)، نظم و نسق کے محکموں کی فیس و جرمانے، مالیۂ زمین، اور آبیانہ (نہری پانی کا معاوضہ) بھی اہم ذرائع ہیں۔

دیگر ذرائع میں موٹر گاڑیوں پر ٹیکس (رجسٹریشن فیس، روڈ ٹیکس)، اسٹامپ پیپر اور کورٹ فیس، حکومتی رجسٹریشن فیس، معاشرتی خدمات کے محکموں کی وصولیاں، اور متفرق ذرائع (قرضوں پر سود، تفریحی ٹیکس، پٹرول ٹیکس) شامل ہیں۔

صوبائی حکومتوں کے اخراجات کی مدات

صوبائی حکومتوں کے اخراجات کی سب سے بڑی مد سول انتظامیہ (پولیس، عدالتیں، جیلیں) ہے۔ اس کے علاوہ دیگر محکموں کے ملازمین کی تنخواہیں اور انتظامی اخراجات بھی نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔

صوبائی حکومتوں کو مرکزی حکومت یا دیگر اداروں سے حاصل کردہ قرضوں پر سود کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، اور معاشی خدمات کے محکموں (زراعت، مواصلات، صحتِ عامہ، سائنس کی ترقی، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن) پر بھی خاطر خواہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔

نظامِ زکوٰۃ

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی اور نشوونما کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے، جس کی ادائیگی سے ایثار، قربانی اور سخاوت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اکثر مقامات پر نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت کا ذکر ایک ساتھ کیا گیا ہے۔

قرآنِ پاک میں زکوٰۃ کی رقم آٹھ مستحقین پر خرچ کرنے کا حکم آیا ہے: فقرا، مساکین، عاملین (زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے)، تالیفِ قلب، فی الرقاب، غارمین (قرض دار)، فی سبیل اللہ، اور ابن السبیل۔ زکوٰۃ کا مستحکم نظام معاشرے سے غربت و افلاس کا خاتمہ کرتا ہے۔

نظامِ عشر اور انفاق فی سبیل اللہ

عشر کے لغوی معنی دسواں حصہ کے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں عشر زرعی پیداوار کی زکوٰۃ ہے جو زمین کے مالکان ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں مارچ 1983 میں عشر کی وصولی کا نظام نافذ ہوا: قدرتی ذرائع سے کاشت شدہ زمین کی پیداوار کا 10 فیصد اور مصنوعی ذرائع سے آبپاشی کی جانے والی پیداوار کا 5 فیصد بطور عشر وصول کیا جاتا ہے۔

انفاق فی سبیل اللہ سے مراد اللہ کی راہ میں رضاکارانہ مالی امداد ہے، جس کا مقصد دولت کے ارتکاز کو روک کر معاشرے کے تمام افراد تک مساوی طور پر پہنچانا ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں ارشاد ہے کہ نیکی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان اپنی پسندیدہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔

زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ بطور ذریعہ آمدن و معاشرتی انصاف

زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ سے حاصل ہونے والی آمدنی حکومت کے ذرائع آمدن کا حصہ بنتی ہے اور معاشرے میں سماجی انصاف قائم کرتی ہے۔ ان کے اہم اثرات میں دولت کی منصفانہ تقسیم، غربت کا خاتمہ، بے روزگاری کا علاج، اور باہمی اخوت و بھائی چارے کا فروغ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ یہ نظام ذخیرہ اندوزی کا علاج کرتا ہے (کیونکہ ذخیرہ شدہ دولت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے)، فضول خرچی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، سرمائے کی گردش میں اضافہ کرتا ہے، اور مجموعی طور پر معیشت کے پھیلاؤ اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔

اہم تعریفات

ٹیکس (Tax)

شہریوں کے ذمے وہ واجب الادا رقم جو وہ حکومت کی خدمات کے بدلے خزانے میں جمع کرواتے ہیں، جس کے بدلے کوئی براہِ راست مراعات نہیں ملتیں۔

براہِ راست ٹیکس (Direct Tax)

وہ ٹیکس جو براہِ راست فرد یا ادارے کی آمدنی یا جائیداد پر عائد ہو، جیسے انکم ٹیکس۔

بالواسطہ ٹیکس (Indirect Tax)

وہ ٹیکس جس کا بوجھ حتمی طور پر صارف پر منتقل ہو جاتا ہے، جیسے سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی۔

زکوٰۃ (Zakat)

ایک مالی عبادت جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے اور مقررہ شرح سے مستحقین میں تقسیم کی جاتی ہے۔

عشر (Ushr)

زرعی پیداوار کی زکوٰۃ جو زمین کے مالکان دیتے ہیں؛ قدرتی آبپاشی پر 10% اور مصنوعی آبپاشی پر 5%۔

انفاق فی سبیل اللہ (Charity)

اللہ کی راہ میں رضاکارانہ مالی امداد جس کا مقصد دولت کی مساویانہ تقسیم ہے۔

NFC ایوارڈ (NFC Award)

قابلِ تقسیم وفاقی محاصل کی وفاقی و صوبائی حکومتوں میں تقسیم کا فارمولا؛ تازہ ترین ایوارڈ 2010۔

مترادف ٹیکس (Progressive Tax)

وہ ٹیکس جس کی شرح آمدنی بڑھنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

اہم حقائق و فارمولے

عنوانفارمولا / حقیقت
پاکستان: براہِ راست بمقابلہ بالواسطہ ٹیکسبراہِ راست ٹیکس: 39.5%؛ بالواسطہ ٹیکس: 60.5%
NFC ایوارڈ 2010: صوبوں میں تقسیمپنجاب: 51.74%؛ سندھ: 24.55%؛ خیبر پختونخوا: 14.62%؛ بلوچستان: 9.09%
وفاقی اخراجات کی مدات (فیصد)دفاع: تقریباً 17.2%؛ نظم و نسق: تقریباً 18%
عشر کی شرحقدرتی ذرائع سے آبپاشی: 10%؛ مصنوعی ذرائع سے آبپاشی: 5% (نفاذ: مارچ 1983)
گفٹ ٹیکس اور اسٹیٹ ڈیوٹیگفٹ ٹیکس: نفاذ 1963، شرح 5%-30%؛ اسٹیٹ ڈیوٹی: نفاذ 1947
صوبائی حصہ در وفاقی ٹیکسصوبوں کا وفاقی ٹیکسوں میں حصہ: 56%؛ وفاقی حکومت کا حصہ: 44%

خاکہ جات و تصاویر

براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس کا تناسب: ایک پائی چارٹ جو پاکستان کی کل ٹیکس آمدنی میں براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے۔

براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس کا تناسب - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

NFC ایوارڈ کے تحت صوبوں میں وسائل کی تقسیم: ایک بار چارٹ جو NFC ایوارڈ 2010 کے تحت چاروں صوبوں میں وسائل کی تقسیم کا فیصد ظاہر کرتا ہے۔

NFC ایوارڈ کے تحت صوبوں میں وسائل کی تقسیم - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کے سماجی اثرات: ایک درختی خاکہ جو زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کے تین بڑے سماجی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کے سماجی اثرات - معاشیات دوم سال اردو میڈیم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس میں فرق بیان کریں۔

براہِ راست ٹیکس براہِ راست آمدنی پر عائد ہوتا ہے جبکہ بالواسطہ ٹیکس کا بوجھ حتمی طور پر صارف پر منتقل ہو جاتا ہے۔

مترادف ٹیکس سے کیا مراد ہے؟

مترادف ٹیکس وہ ٹیکس ہے جس کی شرح آمدنی بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔

NFC ایوارڈ 2010 کے تحت صوبوں کو کتنا حصہ ملتا ہے؟

NFC ایوارڈ 2010 کے تحت وفاقی محاصل کا 56 فیصد صوبوں کو اور 44 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا ہے۔

زکوٰۃ کے لغوی معنی کیا ہیں؟

زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی اور نشوونما کے ہیں۔

عشر سے کیا مراد ہے؟

عشر زرعی پیداوار کی زکوٰۃ ہے جو زمین کے مالکان ادا کرتے ہیں؛ قدرتی آبپاشی پر 10% اور مصنوعی آبپاشی پر 5% وصول کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس نافذ کرنے والا سب سے بڑا ادارہ کون سا ہے؟

پاکستان میں ٹیکس نافذ کرنے والا سب سے بڑا ادارہ مرکزی بورڈ آف ریونیو (CBR) ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

پاکستان میں ٹیکسوں کی اقسام اور وفاقی حکومت کی آمدنی کے ذرائع تفصیل سے بیان کریں۔

ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان میں ٹیکس دو بنیادی اقسام میں تقسیم ہیں: براہِ راست ٹیکس (انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس)، جن سے 39.5 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے، اور بالواسطہ ٹیکس (کسٹمز، سیلز ٹیکس)، جن سے 60.5 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ شرحِ ٹیکس کے لحاظ سے مزید چار اقسام ہیں: تناسب ٹیکس (یکساں شرح)، مترادف ٹیکس (بڑھتی شرح)، تنزیہ ٹیکس (گھٹتی شرح)، اور زائد قدری ٹیکس (پیداوار کے ہر مرحلے پر)۔ وفاقی حکومت کی آمدنی کے اہم ذرائع میں کسٹم ڈیوٹی، مرکزی ایکسائز ڈیوٹی، انکم و کارپوریٹ ٹیکس، سیلز ٹیکس، گفٹ ٹیکس (1963 سے، شرح 5-30%)، ویلتھ ٹیکس، اسٹیٹ ڈیوٹی (1947 سے)، ڈاک و ٹیلی فون خدمات، سود کی وصولیاں اور املاک و کاروبار شامل ہیں۔ NFC ایوارڈ 2010 کے تحت وفاقی محاصل میں سے ایک فیصد خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کی جنگ کے اخراجات کے لیے دیا جاتا ہے، باقی رقم میں سے 56 فیصد صوبوں کو اور 44 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا ہے۔ صوبوں میں تقسیم پنجاب 51.74%، سندھ 24.55%، خیبر پختونخوا 14.62% اور بلوچستان 9.09% کے تناسب سے ہوتی ہے۔ اس طرح پاکستان کا ٹیکس نظام اور وسائل کی تقسیم کا فارمولا ملک کی مالی ساخت کی بنیاد ہیں۔

زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کس طرح معاشرتی انصاف قائم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں؟

زکوٰۃ ایک مالی عبادت ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے اور قرآنِ پاک میں آٹھ مستحقین (فقرا، مساکین، عاملین، تالیفِ قلب، فی الرقاب، غارمین، فی سبیل اللہ، ابن السبیل) پر خرچ کرنے کا حکم ہے۔ عشر زرعی پیداوار کی زکوٰۃ ہے، جو پاکستان میں مارچ 1983 سے نافذ ہے، اور قدرتی آبپاشی پر 10% جبکہ مصنوعی آبپاشی پر 5% کی شرح سے وصول کی جاتی ہے۔ انفاق فی سبیل اللہ اللہ کی راہ میں رضاکارانہ مالی امداد ہے۔ یہ تینوں ذرائع حکومت کی آمدنی کا حصہ بھی بنتے ہیں اور معاشرے میں سماجی انصاف کا قیام بھی کرتے ہیں۔ ان کے اہم اثرات میں دولت کی منصفانہ تقسیم شامل ہے، جس سے امیر اور غریب طبقات کے درمیان فرق کم ہوتا ہے اور دولت کا ارتکاز ٹوٹتا ہے۔ دوسرا اثر غربت کا خاتمہ ہے، جس سے بوڑھے، نادار اور بے روزگار افراد کی کفالت ممکن ہوتی ہے۔ تیسرا اثر بے روزگاری کا علاج ہے، کیونکہ مالی امداد ملنے سے لوگ کاروبار شروع کر پاتے ہیں۔ چوتھا اثر باہمی اخوت و بھائی چارہ ہے، جس سے معاشرے میں محبت اور شکرگزاری کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ نظام ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، فضول خرچی کو روکتا ہے، سرمائے کی گردش میں اضافہ کرتا ہے، اور مجموعی طور پر معیشت کے پھیلاؤ اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ اس طرح زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ اسلامی معاشی نظام میں معاشرتی انصاف کے مضبوط ستون ہیں۔

معروضی سوالات (MCQs)

پاکستان میں براہِ راست ٹیکسوں سے کتنا فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے؟ (الف) 25% (ب) 39.5% (ج) 60.5% (د) %75

درست جواب: (ب) 39.5%۔ پاکستان کی کل ٹیکس آمدنی کا 39.5 فیصد براہِ راست ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے۔

آمدنی بڑھنے کے ساتھ شرح میں کمی والا ٹیکس کیا کہلاتا ہے؟ (الف) Proportional Tax (ب) Progressive Tax (ج) Regressive Tax (د) Value Added Tax

درست جواب: (ج) Regressive Tax۔ آمدنی بڑھنے کے ساتھ شرح میں کمی والا ٹیکس تنزیہ ٹیکس (Regressive Tax) کہلاتا ہے۔

گفٹ ٹیکس پاکستان میں کب نافذ ہوا؟ (الف) 1947 (ب) 1958 (ج) 1963 (د) 1974

درست جواب: (ج) 1963۔ گفٹ ٹیکس پاکستان میں 1963 میں نافذ ہوا۔

NFC ایوارڈ 2010 کے تحت پنجاب کو کتنا فیصد حصہ ملتا ہے؟ (الف) 24.55% (ب) 14.62% (ج) 51.74% (د) 9.09%

درست جواب: (ج) 51.74%۔ NFC ایوارڈ 2010 کے تحت پنجاب کو 51.74 فیصد حصہ ملتا ہے۔

وفاقی حکومت کے اخراجات میں دفاع کا حصہ تقریباً کتنا ہے؟ (الف) 10% (ب) 17.2% (ج) 25% (د) 40%

درست جواب: (ب) 17.2%۔ وفاقی حکومت کے کل محاصل کا تقریباً 17.2 فیصد دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔

مصنوعی ذرائع سے آبپاشی کی جانے والی زمین پر عشر کی شرح کیا ہے؟ (الف) 2.5% (ب) 5% (ج) 7.5% (د) 10%

درست جواب: (ب) 5%۔ مصنوعی ذرائع سے آبپاشی کی جانے والی زمین پر 5 فیصد عشر وصول کیا جاتا ہے۔

عشر کا نظام پاکستان میں کب نافذ ہوا؟ (الف) 1973 (ب) 1979 (ج) 1983 (د) 1990

درست جواب: (ج) 1983۔ عشر کی وصولی کا نظام پاکستان میں مارچ 1983 میں نافذ کیا گیا۔

صوبے وفاقی حکومت کے ٹیکسوں میں کتنا فیصد حصہ حاصل کرتے ہیں؟ (الف) 30% (ب) 44% (ج) 56% (د) 70%

درست جواب: (ج) 56%۔ صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے ٹیکسوں میں سے 56 فیصد حصہ حاصل کرتی ہیں۔

زکوٰۃ کی رقم کتنے مستحقین پر خرچ کرنے کا حکم ہے؟ (الف) پانچ (ب) چھ (ج) سات (د) آٹھ

درست جواب: (د) آٹھ۔ قرآنِ پاک میں زکوٰۃ کی رقم آٹھ مستحقین پر خرچ کرنے کا حکم آیا ہے۔

اسٹیٹ ڈیوٹی ایکٹ کب نافذ ہوا؟ (الف) 1930 (ب) 1947 (ج) 1958 (د) 1963

درست جواب: (ب) 1947۔ اسٹیٹ ڈیوٹی کا نفاذ پاکستان میں 1947 میں ہوا (ایکٹ 1930 میں جاری ہوا تھا)۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • ٹیکس اقسام: براہِ راست (39.5%) بمقابلہ بالواسطہ (60.5%)؛ شرح کے لحاظ سے: تناسب، مترادف، تنزیہ، زائد قدری۔
  • وفاقی آمدنی کے ذرائع: کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، گفٹ ٹیکس (1963)، ویلتھ ٹیکس، اسٹیٹ ڈیوٹی (1947)۔
  • NFC ایوارڈ 2010: صوبے 56%، وفاق 44%؛ پنجاب 51.74%، سندھ 24.55%، KP 14.62%، بلوچستان 9.09%۔
  • وفاقی اخراجات: دفاع 17.2%، نظم و نسق 18%، سود کی ادائیگی، اعانت، ترقیاتی اخراجات۔
  • زکوٰۃ: 8 مستحقین (فقرا، مساکین، عاملین، وغیرہ)۔ عشر: قدرتی 10%، مصنوعی 5% (نفاذ 1983)۔
  • زکوٰۃ/عشر/انفاق کے اثرات: دولت کی تقسیم، غربت کا خاتمہ، بے روزگاری کا علاج، اخوت۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔

امتحانی نکات

  • چاروں شرحِ ٹیکس اقسام (تناسب، مترادف، تنزیہ، زائد قدری) کی مثالوں سمیت تعریف یاد رکھیں۔
  • NFC ایوارڈ 2010 میں چاروں صوبوں کے فیصد کو ترتیب سے یاد رکھیں (پنجاب > سندھ > KP > بلوچستان)۔
  • وفاقی اور صوبائی اخراجات کی مدات کا فرق الگ الگ فہرست میں یاد رکھیں۔
  • زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین کی فہرست ترتیب سے یاد رکھیں – یہ اکثر مختصر سوالات میں پوچھی جاتی ہے۔
  • زکوٰۃ، عشر اور انفاق فی سبیل اللہ کے آٹھ سماجی اثرات کو کلیدی الفاظ میں یاد رکھیں۔