Chapter 3: Bank (Urdu Medium)

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب سوم ‘بینک’ پر مبنی ہیں۔ لفظ ‘بینک’ اطالوی زبان کے الفاظ بینکس یا بینکو سے ماخوذ ہے۔ ابتدا میں لوگ اپنی قیمتی اشیاء سناروں اور مہاجنوں کے پاس امانت رکھتے تھے، اور وقت کے ساتھ یہی رجحان جدید بینکاری نظام کی بنیاد بنا۔

اس باب میں بینک کے مفہوم اور اقسام، تجارتی بینکوں کے فرائض، زرِ اعتباری کی تخلیق کے عمل اور اس کی حد بندیوں، مرکزی بینک کے فرائض، زری پالیسی کے مقداری اور معیاری طریقوں، اور سود کے مفہوم و بلا سود بینکاری کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • بینک کے مفہوم کی وضاحت کریں اور کراؤتھ کی تعریف بیان کریں۔
  • بینکوں کی آٹھ اقسام (مرکزی، تجارتی، زرعی، صنعتی، تعاونی، بچت، مبادلہ، رہن) میں فرق کریں۔
  • تجارتی بینکوں کے فرائض، بالخصوص امانتیں وصول کرنا اور قرضے جاری کرنا، بیان کریں۔
  • زرِ اعتباری کی تخلیق کے عمل کو عددی مثال کی مدد سے سمجھائیں۔
  • زرِ اعتباری کی تخلیق کو محدود کرنے والے عوامل بیان کریں۔
  • مرکزی بینک کے فرائض (نوٹ اجراء، حکومت کا بینک، بینکوں کا بینک، بازارِ زر کا ناظم) کی وضاحت کریں۔
  • زری پالیسی کے مقداری طریقوں (شرحِ بینک، کھلا بازار عمل، محفوظات کا تناسب) کی وضاحت کریں۔
  • سود کے مفہوم اور بلا سود بینکاری کے بنیادی طریقوں (مشارکہ، مضاربہ) کی وضاحت کریں۔

کلیدی تصورات

بینک کا مفہوم اور تاریخی پس منظر

لفظ ‘بینک’ اطالوی زبان کے الفاظ بینکس، بینکو یا بینک سے ماخوذ ہے۔ ابتدا میں جب بینک موجود نہیں تھے تو لوگ اپنی پس انداز کی ہوئی رقم اور قیمتی اشیاء سوداگروں، مہاجنوں یا سناروں کے پاس بطور امانت رکھوا دیتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان امانت داروں نے محسوس کیا کہ چند ہی لوگ اپنی امانتیں واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں، چنانچہ انہوں نے باقی رقم ضرورت مندوں کو قرضے کے طور پر دینا شروع کر دی اور سود وصول کرنے لگے۔ یہی رجحان آگے چل کر جدید بینکاری نظام کی بنیاد بنا۔

پروفیسر جی کراؤتھ کے مطابق ‘بینک قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضہ مہیا کرتا ہے۔ چونکہ بینک کی جاری کردہ رسیدیں عوام بلاعذر قبول کر لیتے ہیں، اس طرح بینک زر کی تخلیق کرتے ہیں۔’ سادہ الفاظ میں بینک ایک ایسا مالیاتی ادارہ ہے جو لوگوں کی بچائی ہوئی رقم زرِ محفوظ کی حیثیت سے رکھتا ہے اور ضرورت مندوں کو قرضے فراہم کرتا ہے، اور اسی عمل میں زرِ اعتبار کی تخلیق کرتا ہے۔

بینکوں کی اقسام: مرکزی بینک اور تجارتی بینک

بینکوں کی پہلی اور اہم قسم مرکزی بینک (Central Bank) ہے، جو کسی ملک کے بینکاری نظام کا سربراہ ہوتا ہے اور منافع کمانا اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ پروفیسر ڈی کاک کے مطابق ‘مرکزی بینک ملک کے بینکاری اور زری نظام کا سربراہ ہوتا ہے اور عوام کی بھلائی و اقتصادی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔’ پاکستان کے مرکزی بینک کا نام سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے، جو نوٹ چھاپنے کی اجارہ داری رکھتا ہے اور گردشِ زر کو کنٹرول کرتا ہے۔

دوسری اہم قسم تجارتی بینک (Commercial Banks) ہیں، جو منافع کمانے کی غرض سے قائم کیے جاتے ہیں اور لوگوں کی امانتیں وصول کر کے ضرورت مندوں کو قرضے دیتے ہیں۔ فشر کے مطابق ‘تجارتی بینک ایسے مالی ادارے ہوتے ہیں جو حکومت کی منظوری سے قائم کیے جاتے ہیں اور امانتیں وصول کرنے و قرضے جاری کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔’ پاکستان کے بڑے تجارتی بینکوں میں حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک اور یونائیٹڈ بینک شامل ہیں۔ تجارتی بینک فہرست بینک (مرکزی بینک کے اصولوں کے پابند) اور غیر فہرست بینک (کم پابندیوں کے حامل) میں تقسیم ہوتے ہیں۔

بینکوں کی اقسام: زرعی، صنعتی، تعاونی، بچت، مبادلہ اور رہن بینک

زرعی بینک (Agriculture Banks) کاشتکاروں کو کھاد، بیج اور زرعی آلات کی خریداری کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتے ہیں؛ پاکستان میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) اس میں نمایاں ہے۔ صنعتی بینک (Industrial Banks) صنعتکاروں کو مشینری اور عمارات کے لیے قرضے دیتے ہیں، جیسے پی آئی سی آئی سی اور صنعتی ترقیاتی بینک۔ تعاونی بینک (Cooperative Banks) امداد باہمی کی انجمنوں کے اراکین کو مدد آپ کے اصول پر قرضے فراہم کرتے ہیں۔

بچت بینک (Saving Banks) کوئی الگ ادارے نہیں بلکہ تمام تجارتی بینک اور ڈاک خانے لوگوں میں بچت کا رجحان پیدا کرنے کے لیے یہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ مبادلہ بینک (Exchange Banks) ملکی کرنسی کو غیر ملکی کرنسی میں بدلنے اور درآمد و برآمد کنندگان کی مدد کا کام کرتے ہیں۔ رہن رکھنے کے بینک (Mortgage Banks) جائیدادوں اور مکانات کو رہن رکھ کر قرضے فراہم کرتے ہیں، جیسے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن (HBFC)۔

تجارتی بینکوں کے فرائض: امانتیں وصول کرنا

تجارتی بینکوں کا سب سے بنیادی فرض لوگوں کی امانتیں وصول کرنا ہے، جو چار اقسام کی ہوتی ہیں۔ طلبی کھاتے یا رواں کھاتے (Demand/Current Deposits) کو مالک جب چاہے نکلوا سکتا ہے اور ان پر کوئی سود نہیں ملتا۔ میعادی امانتیں (Time Deposits) ایک مقررہ مدت کے لیے جمع کروائی جاتی ہیں اور ان پر زیادہ شرح سود ملتا ہے، مگر مقررہ وقت سے پہلے نکلوانا مشکل ہوتا ہے۔

بچت امانتیں (Saving Deposits) لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بچتوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور ہفتے میں محدود بار نکلوائی جا سکتی ہیں۔ چوتھی قسم نفع و نقصان کی شراکتی امانتیں (Profit & Loss Sharing Deposits) ہیں، جو یکم جولائی 1985 سے پاکستان میں بلا سود بینکاری نظام کے تحت رائج کی گئیں، جن میں امانت دار بینک کے منافع یا نقصان میں شریک ہوتا ہے، اور شرح ہر چھ ماہ بعد اعلان کی جاتی ہے۔

تجارتی بینکوں کے فرائض: قرضے جاری کرنا اور دیگر خدمات

تجارتی بینک قرضوں کا حساب کھول کر، اوور ڈرافٹ کی سہولت دے کر اور ہنڈیوں پر بٹہ لگا کر ضرورت مندوں کو قرضے فراہم کرتے ہیں۔ ہر بینک اپنی امانتوں کا 20 سے 30 فیصد زرِ نقد کی صورت میں محفوظ رکھتا ہے اور باقی رقم قرضوں میں جاری کرتا ہے۔ اوور ڈرافٹ کی سہولت صرف اچھے اور مستقل کھاتے داروں کو ملتی ہے، جس کے تحت وہ اپنے کھاتے میں موجود رقم سے زائد رقم نکلوا سکتے ہیں۔

ان کے علاوہ تجارتی بینک سہل آلہ مبادلہ (چیک، ڈرافٹ) فراہم کرتے ہیں، انتقالِ زر کی سہولت دیتے ہیں، سرمایہ کاری کا ذریعہ بنتے ہیں، لوگوں کی قیمتی اشیاء کے محافظ ہوتے ہیں، اور غیر ملکی کرنسی کے لین دین جیسے متفرق فرائض بھی سرانجام دیتے ہیں۔ ان تمام خدمات کی بدولت تجارتی بینک معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

زرِ اعتباری کی تخلیق کا عمل

زرِ اعتباری کی تخلیق تجارتی بینکوں کا سب سے اہم فریضہ ہے، جس کے تحت وہ اصل امانتوں کی بنیاد پر کئی گنا زیادہ مالیت کے قرضے جاری کرتے ہیں، اسی لیے انہیں ‘زرِ اعتبار پیدا کرنے کے کارخانے’ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر بینک A کے پاس 50 ملین روپے کی نئی امانت جمع ہو تو بینک اس کا 20 فیصد یعنی 10 ملین روپے زرِ نقد محفوظ رکھ کر باقی 80 فیصد یعنی 40 ملین روپے قرضے میں جاری کر دیتا ہے۔ یہ 40 ملین روپے جب بینک B میں بذریعہ چیک جمع ہوتے ہیں تو بینک B بھی اپنا 20 فیصد یعنی 8 ملین محفوظ رکھ کر باقی 32 ملین قرضے میں جاری کر دیتا ہے۔

زرِ اعتباری کی تخلیق کا عمل - گراف

یہ سلسلہ بینک C، D اور اس سے آگے تک جاری رہتا ہے جب تک نئی امانت صفر کے قریب نہ پہنچ جائے۔ اس مثال میں ابتدائی 50 ملین روپے کی امانت، پورے بینکاری نظام میں مل کر 250 ملین روپے تک پہنچ جاتی ہے، یعنی ابتدائی امانت سے 5 گنا زیادہ امانتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کو اعتباری زر کی تخلیق (Credit Creation) کہا جاتا ہے، اور اس کا زری ضرب کار (Multiplier) 1 کو زرِ محفوظات کے تناسب پر تقسیم کر کے معلوم کیا جاتا ہے (یہاں 1/0.2 = 5)۔

زرِ اعتباری کی تخلیق کی حد بندیاں

بینک اپنی مرضی سے لامحدود زرِ اعتبار تخلیق نہیں کر سکتے کیونکہ ان پر کئی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ ان میں زر کی مقدار، عوام کی زرِ نقد کے لیے طلب، قرض داروں کی قلت، معاشی آثارِ چڑھاؤ (کساد بازاری یا خوشحالی)، زرِ نقد محفوظات کا تناسب، اور ضامن اثاثوں کی کمی شامل ہیں۔ کراؤتھ کے مطابق ‘بینک فضاؤں سے زر تخلیق نہیں کرتے بلکہ دولت کی مختلف اشکال کو زر کی شکل میں بدل دیتے ہیں۔’

اس کے علاوہ بینکوں کا باہمی تعاون اور مرکزی بینک کی زری پالیسی بھی زرِ اعتبار کی تخلیق کو متاثر کرتی ہے۔ اگر تجارتی بینک ایک دوسرے سے تعاون نہ کریں تو کوئی ایک بینک اکیلا زرِ اعتبار تخلیق نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جب مرکزی بینک شرحِ سود بڑھاتا ہے تو لوگ قرض لینا کم کر دیتے ہیں اور زرِ اعتبار کی تخلیق گھٹ جاتی ہے، جبکہ نرم زری پالیسی سے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔

مرکزی بینک کے فرائض: نوٹ اجراء اور حکومت کا بینک

مرکزی بینک کا سب سے پہلا فرض نوٹ جاری کرنا (Issue of Notes) ہے۔ پاکستان کا مرکزی بینک یکم جولائی 1948 کو قائم ہوا اور اسے نوٹ جاری کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔ نوٹ جاری کرنے کے دو بڑے اصول ہیں: معتمدہ ضمانت کا اصول (Fixed Fiduciary System)، جس میں ایک خاص حد کے بعد ہر نوٹ کی مالیت کے برابر سونا، چاندی محفوظ رکھنا پڑتا ہے (برطانیہ، ناروے، جاپان میں رائج)؛ اور تناسب محفوظات کا نظام (Proportional Reserve System)، جس میں جاری کردہ نوٹوں کی پشت پر ایک مقررہ تناسب (پاکستان میں 30 فیصد) زرِ تبادلہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

مرکزی بینک کا دوسرا اہم فرض حکومت کا بینک (Banker to the Government) ہونا ہے۔ اس حیثیت میں مرکزی بینک وفاقی و صوبائی حکومتوں کی امانتیں رکھتا ہے، ٹیکس وصولیاں اور سرکاری تنخواہیں ادا کرتا ہے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرتا ہے، حکومت کی کفالتوں کی خرید و فروخت کرتا ہے، اور ملکی کرنسی کی قدر میں تبدیلی کے بارے میں حکومت کو مشورہ دیتا ہے۔

مرکزی بینک کے فرائض: بینکوں کا بینک اور بازارِ زر کا ناظم

مرکزی بینک بینکوں کا بینک (Banker's Bank) بھی کہلاتا ہے، کیونکہ تمام تجارتی بینک اس کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں، اسے اپنی ہنڈیاں بھجواتے ہیں، نئی شاخوں کے لیے اجازت لیتے ہیں اور اپنا کچھ سرمایہ اس کے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ اسی حیثیت میں مرکزی بینک بینکوں کی آخری پناہ گاہ (Lender of the Last Resort) بھی ہے، یعنی مشکل وقت میں دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے تجارتی بینکوں کو قرضہ فراہم کرتا ہے، اور بینکوں کا حساب گھر (Clearing House) بن کر ان کے درمیان چیکوں کے تصفیے کا کام بھی کرتا ہے۔

مرکزی بینک دھاتی سرمائے اور زرِ مبادلہ کا محافظ بھی ہے، کیونکہ پاکستان کا تمام زرِ مبادلہ مرکزی بینک میں جمع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک بازارِ زر کا ناظم (Controller of Money Market) بھی کہلاتا ہے، کیونکہ یہ زر کی مقدار پر کنٹرول حاصل کر کے قیمتوں کے نظام کو استحکام بخشتا ہے — افراطِ زر میں سختی اور تفریطِ زر میں نرمی کی پالیسی اپناتا ہے۔

زری پالیسی کے مقداری اور معیاری طریقے

مرکزی بینک زرِ اعتبار کو کنٹرول کرنے کے لیے مقداری طریقے استعمال کرتا ہے۔ شرحِ بینک کی پالیسی (Bank Rate Policy) وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قرضہ دیتا ہے؛ افراطِ زر میں یہ شرح بڑھا کر اور تفریطِ زر میں گھٹا کر قرضوں کی مقدار کنٹرول کی جاتی ہے۔ کھلے بازار کا عمل (Open Market Operations) میں مرکزی بینک سرکاری کفالتیں اور بانڈز خرید و فروخت کر کے زر کی رسد کو متاثر کرتا ہے۔ زرِ محفوظات کے تناسب میں تبدیلی (Change in Reserve Ratio) کے ذریعے بھی بینکوں کی قرضہ دینے کی صلاحیت کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

مقداری طریقوں کے علاوہ مرکزی بینک معیاری یا کیفیتی طریقے (Qualitative Methods) بھی استعمال کرتا ہے، جن میں اخلاقی ترغیب (Moral Persuasion) — تجارتی بینکوں کو زبانی ہدایات دینا، نشرواشاعت (Publicity) — معاشی حالات سے متعلق معلومات شائع کرنا، اور راست اقدام (Direct Action) — ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کے خلاف براہ راست کارروائی، شامل ہیں۔

سود کا مفہوم اور بلا سود بینکاری

سود (Interest) سے مراد وہ اضافی رقم ہے جو قرض دار، قرض خواہ کو اصل رقم کے علاوہ ادا کرتا ہے، یعنی سرمائے کے استعمال کی قیمت۔ اسلامی نظریے کی روشنی میں پاکستان نے یکم جولائی 1981 کو بلا سود بینکاری (Interest Free Banking) کا نظام رائج کیا، جس میں سود کی بجائے نفع و نقصان کی بنیاد پر شراکتی کھاتے کھولے گئے۔

بلا سود بینکاری کے بنیادی طریقوں میں مشارکہ (Musharika) — جس میں بینک اور گاہک مشترکہ سرمایہ کاری میں نفع و نقصان کے شریک بنتے ہیں؛ مضاربہ (Modaraba) — جس میں ایک فریق سرمایہ اور دوسرا محنت لگاتا ہے؛ کرایہ داری کی شراکت (Rental Sharing)؛ خریداری پر مبنی کرایہ (Lease Financing)؛ اور حصصی شراکت (Equity Participation) شامل ہیں۔ ان تمام طریقوں کا مقصد سود کے بغیر نفع و نقصان کی مساوی تقسیم پر مبنی بینکاری نظام قائم کرنا ہے۔

اہم تعریفات

بینک (پروفیسر کراؤتھ)

بینک قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضہ مہیا کر کے زرِ اعتبار کی تخلیق کرتا ہے۔

مرکزی بینک (پروفیسر ڈی کاک)

ملک کے بینکاری اور زری نظام کا سربراہ، جو منافع کی بجائے عوام کی بھلائی اور اقتصادی ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔

تجارتی بینک (فشر)

حکومت کی منظوری سے قائم مالی ادارے جو امانتیں وصول کرنے اور قرضے جاری کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔

زرِ اعتباری کی تخلیق (Credit Creation)

بینکوں کا وہ عمل جس میں وہ اصل امانتوں کی بنیاد پر کئی گنا زیادہ مالیت کے قرضے جاری کر کے نئی فرضی امانتیں پیدا کرتے ہیں۔

فہرست بینک (Scheduled Bank)

ایسا بینک جو اپنے فرائض مرکزی بینک کے متعین کردہ اصول و ضوابط کے مطابق سرانجام دے اور اپنی امانتوں کا مقررہ تناسب مرکزی بینک کے پاس محفوظ رکھے۔

شرحِ بینک (Bank Rate)

وہ شرح جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قرضہ دینے کی غرض سے پیش کردہ ہنڈیوں پر دوبارہ بٹہ لگاتا ہے۔

کھلے بازار کا عمل (Open Market Operations)

مرکزی بینک کا وہ طریقہ کار جس کے تحت وہ زر کی مقدار میں کمی بیشی کے لیے سرکاری کفالتوں اور بانڈز کی خرید و فروخت کرتا ہے۔

مضاربہ (Modaraba)

بلا سود بینکاری کا وہ طریقہ جس میں ایک فریق سرمایہ اور دوسرا فریق محنت لگاتا ہے اور دونوں طے شدہ تناسب سے نفع میں شریک ہوتے ہیں۔

اہم حقائق و فارمولے

عنوانفارمولا / حقیقت
زری ضرب کار (Credit Multiplier)ضرب کار = 1 / زرِ محفوظات کا تناسب؛ مثال: 1/0.2 = 5 گنا
زرِ اعتباری تخلیق کی مثالابتدائی امانت 50 ملین روپے؛ 20% (10 ملین) زرِ نقد محفوظ؛ 80% (40 ملین) قرضہ جاری؛ پورے نظام میں کل امانتیں = 250 ملین روپے
قانونی زرِ محفوظات کا تناسبتجارتی بینک اپنی امانتوں کا 20 سے 30 فیصد زرِ نقد کی صورت میں محفوظ رکھنے کے پابند
نوٹ اجراء کی محفوظات کی شرحپاکستان میں مرکزی بینک کو نوٹوں کی پشت پر کم از کم 30% سونا، چاندی یا منظور شدہ زرِ تبادلہ رکھنا لازم
شرحِ بینک اور شرحِ سود کا تعلقشرحِ بینک ہمیشہ شرحِ سود سے کم ہوتی ہے؛ افراطِ زر میں شرحِ بینک بڑھے، تفریطِ زر میں گھٹے
بینک کی بیلنس شیٹ (بینک A مثال)واجبات: نئی امانت = 50 ملین؛ اثاثے: زرِ نقد محفوظ = 10 ملین + نیا قرضہ = 40 ملین؛ میزان = 50 ملین دونوں طرف

خاکہ جات و تصاویر

بینکوں کی اقسام کی درجہ بندی: ایک درجہ بندی کا خاکہ جو بینکوں کی آٹھ بنیادی اقسام — مرکزی، تجارتی، زرعی، صنعتی، تعاونی، بچت، مبادلہ اور رہن بینک — کو ظاہر کرتا ہے۔

بینکوں کی اقسام کی درجہ بندی - خاکہ

زرِ اعتباری کی تخلیق کا عمل: ایک خاکہ جو دکھاتا ہے کہ کس طرح بینک A، B، C اور D کے ذریعے ایک ابتدائی 50 ملین روپے کی امانت پورے بینکاری نظام میں 250 ملین روپے تک بڑھ جاتی ہے۔

مرکزی بینک کے سات فرائض: ایک ہب خاکہ جو مرکزی بینک کے سات بنیادی فرائض — نوٹ اجراء، حکومت کا بینک، بینکوں کا بینک، محفوظ سرمائے کا محافظ، زرِ مبادلہ کا محافظ، بازارِ زر کا ناظم اور متفرق فرائض — کو ظاہر کرتا ہے۔

مرکزی بینک کے سات فرائض - خاکہ

مختصر سوالات و جوابات

بینک کی تعریف کریں۔

بینک ایک ایسا مالیاتی ادارہ ہے جو لوگوں کی بچائی ہوئی رقم زرِ محفوظ کی حیثیت سے رکھتا ہے اور ضرورت مندوں کو قرضے فراہم کرتا ہے، جیسا کہ پروفیسر کراؤتھ نے بیان کیا ہے۔

فہرست بینک اور غیر فہرست بینک میں کیا فرق ہے؟

فہرست بینک مرکزی بینک کے مقرر کردہ اصولوں کا مکمل پابند ہوتا ہے اور اپنی امانتوں کا مقررہ تناسب مرکزی بینک کے پاس محفوظ رکھتا ہے، جبکہ غیر فہرست بینک ان پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔

زرِ اعتباری کی تخلیق سے کیا مراد ہے؟

زرِ اعتباری کی تخلیق وہ عمل ہے جس میں بینک اصل امانتوں کی بنیاد پر کئی گنا زیادہ مالیت کے قرضے جاری کر کے نئی فرضی امانتیں پیدا کرتے ہیں۔

شرحِ بینک سے کیا مراد ہے؟

شرحِ بینک وہ شرح ہے جس پر مرکزی بینک تجارتی بینکوں کو قرضہ دینے کی غرض سے پیش کردہ ہنڈیوں پر دوبارہ بٹہ لگاتا ہے، جو ہمیشہ شرحِ سود سے کم ہوتی ہے۔

مرکزی بینک کو بینکوں کی آخری پناہ گاہ کیوں کہا جاتا ہے؟

کیونکہ مشکل وقت میں جب کسی تجارتی بینک کے پاس زرِ نقد محفوظات کم رہ جائیں تو مرکزی بینک اسے آسان شرائط پر قرضہ دے کر دیوالیہ ہونے سے بچاتا ہے۔

مضاربہ اور مشارکہ میں کیا فرق ہے؟

مشارکہ میں بینک اور گاہک دونوں مشترکہ سرمایہ لگاتے ہیں، جبکہ مضاربہ میں ایک فریق صرف سرمایہ اور دوسرا فریق صرف محنت لگاتا ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

زرِ اعتباری کی تخلیق کے عمل کو عددی مثال کی مدد سے تفصیل سے بیان کریں، اور اس عمل کو محدود کرنے والے عوامل بھی بیان کریں۔

زرِ اعتباری کی تخلیق تجارتی بینکوں کا سب سے اہم اور بنیادی فریضہ ہے، جس کی بدولت وہ اصل امانتوں کی نسبت کئی گنا زیادہ مالیت کے قرضے جاری کر کے اپنے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں، اور اسی لیے تجارتی بینکوں کو زرِ اعتبار پیدا کرنے کے کارخانے کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو ایک تفصیلی عددی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: فرض کریں بینک A کے پاس کسی گاہک کی طرف سے 50 ملین روپے کی ایک نئی امانت جمع کروائی جاتی ہے۔ بینک اپنے قانونی ضوابط کے مطابق اس امانت کا 20 فیصد یعنی 10 ملین روپے زرِ نقد کی صورت میں اپنے پاس محفوظ رکھ لیتا ہے، اور باقی 80 فیصد یعنی 40 ملین روپے کسی ضرورت مند کو قرضے کی صورت میں جاری کر دیتا ہے۔ یاد رہے قرضہ جاری کرتے وقت بینک قرض دار کو نقد رقم نہیں دیتا بلکہ اس کے نام ایک نیا کھاتہ کھول کر رقم اس کے کھاتے میں جمع کر دیتا ہے اور چیک بک اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ جب یہ 40 ملین روپے بذریعہ چیک بینک B میں جمع کروائے جاتے ہیں تو بینک B کے لیے یہ ایک نئی امانت بن جاتی ہے، اور بینک B بھی اسی اصول کے مطابق اس کا 20 فیصد یعنی 8 ملین روپے محفوظ رکھ کر باقی 80 فیصد یعنی 32 ملین روپے کسی اور شخص کو قرضے میں دے دیتا ہے۔ یہ سلسلہ بینک C، D اور اس سے آگے تک اسی تناسب سے جاری رہتا ہے، ہر مرحلے پر نئی امانت پچھلی امانت کے 80 فیصد کے برابر ہوتی ہے، جب تک کہ نئی امانت کی مالیت صفر کے قریب نہ پہنچ جائے۔ اگر تمام بینکوں کی نئی امانتوں کا مجموعہ نکالا جائے تو ابتدائی 50 ملین روپے کی امانت پورے بینکاری نظام میں مل کر 250 ملین روپے تک پہنچ جاتی ہے، یعنی ابتدائی امانت کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ امانتیں پیدا ہو جاتی ہیں، جسے زری ضرب کار (1 کو زرِ محفوظات کے تناسب یعنی 0.2 پر تقسیم کرنے) سے بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم بینک اپنی مرضی سے لامحدود زرِ اعتبار تخلیق نہیں کر سکتے کیونکہ اس عمل پر کئی حدود عائد ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے، اعتباری زر کی تخلیق کا دار و مدار ملک میں گردش کرنے والی زر کی مقدار پر ہوتا ہے، کیونکہ اگر لوگوں کے پاس زرِ نقد کم ہو تو وہ بینکوں میں کم رقم جمع کروائیں گے۔ دوسرے، عوام کی زرِ نقد کے لیے طلب بھی اہم ہے، کیونکہ اگر لوگ چیکوں کی بجائے نقد ادائیگیاں زیادہ کریں تو بینکوں کی امانتیں کم ہو جائیں گی۔ تیسرے، قرض داروں کی قلت بھی رکاوٹ بنتی ہے، کیونکہ نقد ذخائر موجود ہونے کے باوجود اگر کوئی قرض طلب نہ کرے تو زرِ اعتبار تخلیق نہیں ہو سکتا۔ چوتھے، معاشی آثارِ چڑھاؤ یعنی کساد بازاری یا خوشحالی کے حالات بھی قرضوں کی طلب کو متاثر کرتے ہیں۔ پانچویں، مرکزی بینک کا مقرر کردہ زرِ نقد محفوظات کا تناسب بھی براہ راست زرِ اعتبار کی مقدار کو کنٹرول کرتا ہے، کیونکہ تناسب بڑھنے سے تخلیق رک جاتی ہے اور کم ہونے سے بڑھ جاتی ہے۔ چھٹے، ضامن اثاثوں کی کمی کی صورت میں بینک قرضے جاری نہیں کر سکتے، اسی لیے کراؤتھ نے کہا کہ بینک فضاؤں سے زر تخلیق نہیں کرتے بلکہ دولت کی مختلف اشکال کو زر کی شکل میں بدل دیتے ہیں۔ ساتویں، بینکوں کا آپسی تعاون بھی ضروری ہے، کیونکہ اگر ایک بینک اکیلا قرضے جاری کرے اور دوسرے نہ کریں تو اس کے نقد ذخائر گھٹ کر وہ دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ آخر میں مرکزی بینک کی زری پالیسی، یعنی شرحِ سود میں کمی بیشی، بھی اس پورے عمل کو براہ راست متاثر کرتی ہے۔

مرکزی بینک کے فرائض کی تفصیل سے وضاحت کریں۔

مرکزی بینک کسی بھی ملک کے بینکاری اور زری نظام کا سربراہ ہوتا ہے اور اس کے فرائض کو کئی اہم زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا اور بنیادی فرض نوٹ جاری کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان کا مرکزی بینک، سٹیٹ بینک آف پاکستان، جو یکم جولائی 1948 کو قائم ہوا، ملک میں کرنسی نوٹ چھاپنے کی مکمل اجارہ داری رکھتا ہے اور اس کے جاری کردہ نوٹ قانونی زر کی حیثیت رکھتے ہیں؛ نوٹ جاری کرنے میں یہ عموماً تناسب محفوظات کے نظام پر عمل کرتا ہے، جس کے تحت جاری کردہ نوٹوں کی پشت پر 30 فیصد سونا، چاندی یا زرِ تبادلہ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ دوسرا اہم فرض حکومت کا بینک ہونا ہے، جس کے تحت مرکزی بینک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی امانتیں رکھتا ہے، انہیں قرضے فراہم کرتا ہے، ٹیکس وصولیوں اور سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کرتا ہے، اور بین الاقوامی زرِ مبادلہ کی ادائیگیوں میں حکومت کی مدد کرتا ہے۔ تیسرا فرض بینکوں کا بینک ہونا ہے، کیونکہ تمام تجارتی بینک مرکزی بینک کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں، اپنی ہنڈیاں اسی سے بھجواتے ہیں اور نئی شاخیں کھولنے کے لیے اس سے اجازت لیتے ہیں۔ اسی حیثیت میں مرکزی بینک بینکوں کی آخری پناہ گاہ بھی کہلاتا ہے، کیونکہ مشکل وقت میں کسی تجارتی بینک کے دیوالیہ ہونے کے خطرے کے پیش نظر مرکزی بینک اسے قرضہ فراہم کر کے بچاتا ہے، اور ساتھ ہی بینکوں کا حساب گھر بھی بنتا ہے جو مختلف بینکوں کے درمیان چیکوں کے تصفیے کا کام کرتا ہے۔ چوتھا فرض دھاتی سرمائے اور زرِ مبادلہ کا محافظ ہونا ہے، کیونکہ ملک کا تمام سونا، چاندی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ مرکزی بینک کی تحویل میں رہتا ہے۔ پانچواں اور نہایت اہم فرض بازارِ زر کا ناظم ہونا ہے، جس کے تحت مرکزی بینک زر کی مقدار پر کنٹرول حاصل کر کے قیمتوں کے نظام کو مستحکم رکھتا ہے؛ اس مقصد کے لیے وہ مقداری طریقے استعمال کرتا ہے، جن میں شرحِ بینک کی پالیسی، یعنی افراطِ زر میں شرح بڑھانا اور تفریطِ زر میں گھٹانا؛ کھلے بازار کا عمل، یعنی سرکاری کفالتوں اور بانڈز کی خرید و فروخت کے ذریعے زر کی رسد کو کنٹرول کرنا؛ اور زرِ محفوظات کے تناسب میں تبدیلی شامل ہیں۔ ان مقداری طریقوں کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک معیاری یا کیفیتی طریقے بھی اپناتا ہے، جن میں اخلاقی ترغیب کے تحت تجارتی بینکوں کو زبانی ہدایات دینا، نشرواشاعت کے تحت معاشی حالات سے متعلق آگاہی فراہم کرنا، اور راست اقدام کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے بینکوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرنا شامل ہیں۔ آخر میں مرکزی بینک متفرق فرائض بھی سرانجام دیتا ہے، جن میں زرعی و صنعتی شعبوں کی ترقی کے لیے پالیسیاں وضع کرنا، بچت کو فروغ دینا، حکومت کو اعداد و شمار کی بنیاد پر رہنمائی دینا اور بینکوں کے عملے کی تربیت کا اہتمام کرنا شامل ہیں۔ ان تمام فرائض کے ذریعے مرکزی بینک کسی بھی ملک کی معاشی استحکام اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

پاکستان کے مرکزی بینک کا نام کیا ہے؟ (الف) نیشنل بینک آف پاکستان (ب) سٹیٹ بینک آف پاکستان (ج) حبیب بینک (د) زرعی ترقیاتی بینک

درست جواب: (ب) سٹیٹ بینک آف پاکستان۔ پاکستان کا مرکزی بینک سٹیٹ بینک آف پاکستان ہے، جو یکم جولائی 1948 کو قائم ہوا۔

تجارتی بینک اپنی امانتوں کا کتنا فیصد عموماً زرِ نقد کی صورت میں محفوظ رکھتے ہیں؟ (الف) 5-10% (ب) 10-15% (ج) 20-30% (د) 50%

درست جواب: (ج) 20-30%۔ تجارتی بینک اپنی کل امانتوں کا 20 سے 30 فیصد حصہ زرِ نقد کی صورت میں محفوظ رکھتے ہیں تاکہ امانت داروں کی طلبی ضروریات پوری کر سکیں۔

ذیل میں سے کون سا بینک زرعی شعبے کی ترقی کے لیے قائم کیا گیا؟ (الف) صنعتی بینک (ب) زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) (ج) بچت بینک (د) مبادلہ بینک

درست جواب: (ب) زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL)۔ زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) پاکستان میں کسانوں کو زرعی قرضے فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

زرِ اعتباری کی تخلیق کے عمل میں بینک قرض جاری کرتے وقت گاہک کو کیا دیتا ہے؟ (الف) نقد رقم (ب) سونے کے سکے (ج) نئے کھاتے میں رقم اور چیک بک (د) زمین

درست جواب: (ج) نئے کھاتے میں رقم اور چیک بک۔ بینک قرض دار کو نقد رقم نہیں دیتا بلکہ اس کے نام نیا کھاتہ کھول کر رقم اس میں جمع کر دیتا ہے اور چیک بک حوالے کرتا ہے۔

مرکزی بینک کو ‘بینکوں کی آخری پناہ گاہ’ کیوں کہا جاتا ہے؟ (الف) کیونکہ یہ نوٹ چھاپتا ہے (ب) کیونکہ یہ مشکل وقت میں تجارتی بینکوں کو قرضہ دے کر بچاتا ہے (ج) کیونکہ یہ ٹیکس وصول کرتا ہے (د) کیونکہ یہ سود کی شرح مقرر کرتا ہے

درست جواب: (ب) کیونکہ یہ مشکل وقت میں تجارتی بینکوں کو قرضہ دے کر بچاتا ہے۔ مشکل وقت میں جب کسی تجارتی بینک کے پاس زرِ نقد محفوظات کم رہ جائیں تو مرکزی بینک اسے قرضہ فراہم کر کے دیوالیہ ہونے سے بچاتا ہے۔

شرحِ بینک کا موازنہ کس سے کیا جا سکتا ہے؟ (الف) پرچون قیمت (ب) تھوک قیمت (ج) کرایہ (د) ٹیکس

درست جواب: (ب) تھوک قیمت۔ شرحِ بینک دراصل مرکزی بینک کی طرف سے تجارتی بینکوں کو دیے جانے والے قرضوں کی تھوک قیمت ہے، جبکہ تجارتی بینک گاہکوں کو پرچون قیمت پر قرضے دیتے ہیں۔

کھلے بازار کے عمل میں مرکزی بینک کیا خرید و فروخت کرتا ہے؟ (الف) زمین (ب) سرکاری کفالتیں اور بانڈز (ج) کرنسی نوٹ (د) مشینری

درست جواب: (ب) سرکاری کفالتیں اور بانڈز۔ کھلے بازار کے عمل میں مرکزی بینک زر کی رسد میں کمی بیشی کے لیے سرکاری کفالتوں، بانڈز اور تشکیلات کی خرید و فروخت کرتا ہے۔

پاکستان میں بلا سود بینکاری کب رائج کی گئی؟ (الف) 1948 (ب) 1971 (ج) 1981 (د) 2000

درست جواب: (ج) 1981۔ پاکستان نے یکم جولائی 1981 کو تمام بینکوں میں بلا سود بینکاری نظام رائج کیا۔

مضاربہ میں کون سا فریق صرف محنت لگاتا ہے؟ (الف) سرمایہ فراہم کرنے والا (ب) محنت کرنے والا فریق (مضارب) (ج) بینک (د) حکومت

درست جواب: (ب) محنت کرنے والا فریق (مضارب)۔ مضاربہ میں ایک فریق (رب المال) سرمایہ فراہم کرتا ہے جبکہ دوسرا فریق (مضارب) صرف محنت لگاتا ہے، اور دونوں طے شدہ تناسب سے نفع میں شریک ہوتے ہیں۔

اخلاقی ترغیب، نشرواشاعت اور راست اقدام کس قسم کے طریقے ہیں؟ (الف) مقداری طریقے (ب) معیاری (کیفیتی) طریقے (ج) مالیاتی طریقے (د) زرعی طریقے

درست جواب: (ب) معیاری (کیفیتی) طریقے۔ اخلاقی ترغیب، نشرواشاعت اور راست اقدام مرکزی بینک کے معیاری یا کیفیتی طریقے (Qualitative Methods) ہیں، جو مقداری طریقوں سے مختلف ہیں۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • بینک (کراؤتھ): قرضوں کا کاروبار، امانتیں وصول کر کے قرضے دینا اور زرِ اعتبار کی تخلیق۔ 8 اقسام: مرکزی، تجارتی (فہرست/غیر فہرست)، زرعی، صنعتی، تعاونی، بچت، مبادلہ، رہن بینک۔
  • تجارتی بینکوں کے فرائض: امانتیں وصول کرنا (طلبی/میعادی/بچت/نفع-نقصان شراکتی)، قرضے جاری کرنا (قرض کھاتہ/اوور ڈرافٹ/ہنڈی پر بٹہ)، سہل آلہ مبادلہ، انتقالِ زر، سرمایہ کاری، قیمتی اشیاء کی حفاظت۔
  • زرِ اعتباری تخلیق: 50 ملین امانت -> 20% محفوظ (10M) + 80% قرضہ (40M) -> اگلا بینک بھی یہی تناسب دہراتا ہے -> کل نظام میں 250 ملین (5 گنا)۔ ضرب کار = 1/محفوظات کا تناسب۔
  • تخلیق کی حدود: زر کی مقدار، نقد طلب، قرض داروں کی قلت، معاشی اتار چڑھاؤ، محفوظات کا تناسب، ضامن اثاثے، بینکوں کا تعاون، مرکزی بینک کی پالیسی۔
  • مرکزی بینک کے فرائض: نوٹ اجراء (30% محفوظات)، حکومت کا بینک، بینکوں کا بینک (آخری پناہ گاہ + حساب گھر)، زرِ مبادلہ کا محافظ، بازارِ زر کا ناظم (شرحِ بینک، کھلا بازار، محفوظات کا تناسب + اخلاقی ترغیب، نشرواشاعت، راست اقدام)۔
  • سود = قرض پر اضافی رقم۔ پاکستان میں بلا سود بینکاری (1981) سے: مشارکہ، مضاربہ، کرایہ داری کی شراکت، خریداری پر مبنی کرایہ، حصصی شراکت۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔

امتحانی نکات

  • بینکوں کی آٹھ اقسام کو ایک فہرست کی صورت میں یاد رکھیں، ہر ایک کی ایک پاکستانی مثال (جیسے ZTBL، HBFC) ضرور یاد رکھیں۔
  • زرِ اعتباری کی تخلیق کی عددی مثال (50 ملین سے 250 ملین) کو مرحلہ وار (بینک A، B، C، D) یاد رکھیں – یہ اکثر تفصیلی سوال میں پوچھی جاتی ہے۔
  • زرِ اعتباری کی تخلیق کی آٹھ حد بندیوں کو ایک فہرست کی صورت میں یاد رکھیں۔
  • مرکزی بینک کے فرائض کو سات واضح زمروں میں تقسیم کر کے یاد رکھیں (نوٹ اجراء، حکومت کا بینک، بینکوں کا بینک، محفوظات کا محافظ، زرِ مبادلہ کا محافظ، بازارِ زر کا ناظم، متفرق)۔
  • مقداری طریقوں (شرحِ بینک، کھلا بازار عمل، محفوظات کا تناسب) اور معیاری طریقوں (اخلاقی ترغیب، نشرواشاعت، راست اقدام) میں فرق ضرور یاد رکھیں۔
  • مشارکہ اور مضاربہ کا فرق مثال سمیت یاد رکھیں – یہ اکثر مختصر سوال میں پوچھا جاتا ہے۔