Chapter 2: Money (Urdu Medium)

یہ نوٹس پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت انٹرمیڈیٹ (ICOM، جماعت 12) معاشیات کے نصاب کے باب دوم ‘زر’ پر مبنی ہیں۔ زر معیشت کی سب سے بڑی ایجاد ہے جس نے براہ راست تبادلہ کے نظام کی مشکلات کو ختم کر کے معاشی سرگرمیوں کو تیز اور آسان بنا دیا۔ زر کے بغیر کوئی جدید معیشت اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکتی۔

اس باب میں براہ راست تبادلہ کے نظام اور اس کی مشکلات، زر کے ارتقا کے مراحل، زر کی مختلف تعریفیں، زر کے فرائض، زر کی اقسام، اعتباری زر کے مختلف آلات (چیک، ہنڈی، بینک ڈرافٹ)، زر کی طلب اور رسد، زر کی قدر اور نظریہ مقدار زر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • براہ راست تبادلہ کے نظام کی تعریف اور اس کی سات بنیادی مشکلات بیان کریں۔
  • زر کے ارتقا کے چار مراحل (اشیائی، دھاتی، کاغذی، اعتباری زر) کی وضاحت کریں۔
  • زر کی مختلف تعریفیں (واکر، مورگن، کراؤتھ، کینز) بیان کریں اور ان کا موازنہ کریں۔
  • زر کے چھ بنیادی فرائض کو مثالوں سمیت بیان کریں۔
  • زر کی اقسام (دھاتی، کاغذی، قانونی، اعتباری، قریبی، حسابی زر) میں فرق واضح کریں۔
  • اعتباری زر کے آلات، بالخصوص چیک کی چار اقسام اور ہنڈی کی اقسام کی وضاحت کریں۔
  • کینز کے مطابق زر کی طلب کے تین محرکات (روز مرہ، ناگہانی، تخمینی) بیان کریں۔
  • زر کی رسد پر اثرانداز ہونے والے عوامل اور فشر کی مساواتِ تبادلہ (نظریہ مقدار زر) کی وضاحت کریں۔

کلیدی تصورات

براہ راست تبادلہ کا نظام

انسانی تمدن کے ابتدائی دور میں زر موجود نہیں تھا اس لیے لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ کرتے تھے، جسے براہ راست تبادلہ کا نظام (Barter System) کہا جاتا ہے۔ پروفیسر سٹینلے کے مطابق: ‘براہ راست تبادلہ کا نظام ایسی معیشت کو ظاہر کرتا ہے جس میں کوئی شے قبولیتِ عامہ کی حیثیت نہ رکھتی ہو اور اشیاء کا اشیاء سے تبادلہ کیا جاتا ہو۔’ سادہ الفاظ میں، براہ راست تبادلہ کے تحت اشیاء کا تبادلہ براہ راست اشیاء کے ساتھ کیا جاتا ہے اور زر استعمال نہیں کیا جاتا۔ یہ نظام ہزاروں سال تک رائج رہا اور آج بھی ترقی پذیر ممالک کے کئی پسماندہ علاقوں میں محدود پیمانے پر موجود ہے۔

زر کی طلب کے تین محرکات - گراف

معاشی نظام کے پھیلاؤ کے ساتھ براہ راست تبادلہ کے نظام میں کئی مشکلات پیدا ہوئیں جن کے باعث یہ نظام رفتہ رفتہ زوال پذیر ہو کر ختم ہو گیا۔ ان مشکلات میں سب سے نمایاں ضروریات کی دو طرفہ مطابقت کا فقدان تھا، یعنی ہر شخص کو ایسا فرد تلاش کرنا پڑتا تھا جو اس کی شے کے بدلے اپنی شے دینے پر تیار ہو، جو کہ ہمیشہ آسان نہیں تھا۔

براہ راست تبادلہ کے نظام کی مشکلات

براہ راست تبادلہ کے نظام کی سات بنیادی مشکلات یہ ہیں: (1) ضروریات کی دو طرفہ مطابقت کا فقدان – ہر ضرورت مند کو ایسا شخص تلاش کرنا پڑتا تھا جو اس کی شے کے عوض اپنی شے دینے پر تیار ہو۔ (2) مشترک پیمانہ قدر کا فقدان – اشیاء کی قدر جانچنے کا کوئی مشترکہ پیمانہ موجود نہ تھا۔ (3) اشیاء کی عدم تقسیم پذیری – گائے، بکری جیسی اشیاء کو چھوٹی مقدار میں تقسیم کرنا ممکن نہ تھا۔ (4) ذخیرہ قدر کا فقدان – زندہ مویشی یا خراب ہونے والی اشیاء کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا مشکل تھا۔

(5) دولت کی نقل مکانی کا فقدان – مویشیوں اور اشیاء کی صورت میں دولت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا مشکل تھا۔ (6) مستقبل کی ادائیگیوں میں دشواری – ادھار لین دین میں اشیاء کی قدر میں تبدیلی کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان نزاع پیدا ہوتی تھی۔ (7) حکومتی وصولیوں کے حصول میں دشواری – حکومت کو اپنے واجبات اشیاء کی صورت میں وصول اور خرچ کرنے میں کئی مسائل کا سامنا تھا۔ انہی مشکلات نے انسان کو ایسا مشترک آلہ تبادلہ تلاش کرنے پر مجبور کیا جو سب کو قابل قبول ہو، اور یوں زر کا ارتقا ہوا۔

زر کا ارتقا - خاکہ

زر کا ارتقا

براہ راست تبادلہ کے نظام کی خامیوں نے انسان کو ایسا آلہ تبادلہ تلاش کرنے پر مجبور کیا جو سب کو قابل قبول ہو۔ زر کے ارتقا کے چار بڑے مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ اشیائی یا اجناسی زر (Commodity Money) کا تھا جس میں جانور، کھالیں، تیر، غلہ، سیب، پتھر، کوڑیاں، تمباکو اور دھاتیں بطور زر استعمال ہوئیں، مگر ان میں عدم تقسیم پذیری اور ذخیرہ کی مشکلات کے باعث یہ مستقل آلہ تبادلہ نہ بن سکیں۔ دوسرا مرحلہ دھاتی زر (Metallic Money) کا تھا جس میں سونے چاندی کے سکے قبل از مسیح سے انیسویں صدی کے آخر تک استعمال ہوتے رہے، مگر ان پر میل جمنا اور کھوٹ ملانا ان کے نقائص تھے۔

تیسرا مرحلہ کاغذی زر (Paper Money) کا ہے جو حکومت یا مرکزی بینک جاری کرتا ہے اور آج دنیا کے تمام ممالک میں لین دین کا بنیادی ذریعہ ہے۔ کاغذی زر وزن میں ہلکا، مالیت میں زیادہ اور آسانی سے منتقل پذیر ہوتا ہے۔ چوتھا اور جدید ترین مرحلہ اعتباری زر (Credit Money) کا ہے، یعنی ایسی قانونی تحریر جس کا جاری کنندہ حامل کو درج شدہ رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے، جیسے چیک، ڈرافٹ، ہنڈی اور کریڈٹ کارڈز۔ آج دنیا کے تمام ممالک میں زر کی مقدار کا ایک نمایاں حصہ اعتباری زر پر مشتمل ہے اور اس کا استعمال روزبروز بڑھتا جا رہا ہے۔

زر کی تعریف

زر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مختلف ماہرینِ معاشیات نے زر کی مختلف انداز میں تعریفیں کی ہیں۔ پروفیسر واکر کے مطابق ‘زر سے مراد وہ شے ہے جو بطور زر تمام فرائض سرانجام دیتی ہے۔’ مورگن کے نزدیک زر ایسی شے ہے جو عام طور پر قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ جیفری کراؤتھ کے مطابق ‘کوئی بھی وہ شے زر کہلاتی ہے جسے آلہ تبادلہ کی حیثیت سے قبولیتِ عامہ حاصل ہو اور ساتھ ہی پیمانہ قدر اور ذخیرہ قدر کا کام سرانجام دے۔’ کراؤتھ نے قبولیتِ عامہ، پیمانہ قدر اور ذخیرہ قدر کی طرف توجہ دلائی مگر زر کے ایک اہم فرض یعنی مستقبل کی ادائیگیوں کو نظر انداز کر دیا۔

جے ایم کینز کی تعریف سب سے زیادہ جامع اور مفصل ہے، جس کے مطابق ‘زر وہ شے ہے جس کے ذریعے ادھار کے معاہدوں اور قیمت کے معاہدوں کی ادائیگیاں چکائی جاتی ہیں اور جس کی شکل میں عام قوتِ خرید کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔’ کینز کی تعریف کو چار حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے: ادھار کے معاہدے بحیثیت مستقبل کی ادائیگیاں، قیمت کے معاہدے بحیثیت پیمانہ قدر، معاہدوں کی ادائیگی بحیثیت آلہ تبادلہ، اور قبولیتِ عامہ و ذخیرہ قدر۔ اس تعریف میں زر کے تمام ممکنہ فرائض کا احاطہ کیا گیا ہے۔

زر کے فرائض

زر کے چھ اہم فرائض ہیں۔ سب سے پہلا اور بنیادی فرض آلہ تبادلہ (Medium of Exchange) ہے، جس کی بدولت افراد اپنی خدمات کے عوض زر کی صورت میں آمدنی وصول کرتے ہیں اور اشیاء کی خریداری کرتے ہیں، اور اب اشیاء کی دو طرفہ مطابقت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ دوسرا فرض پیمانہ قدر (Measure of Value) ہے، جس کے ذریعے مختلف اشیاء و خدمات کی قدر و قیمت کا موازنہ ممکن ہوتا ہے۔ تیسرا فرض انتقالِ قدر (Transfer of Value) ہے، جس کی بدولت لوگ اپنے اثاثے بیچ کر دوسری جگہ زر کے عوض نئے اثاثے خرید سکتے ہیں۔

چوتھا فرض حکومتی ادائیگیوں اور وصولیوں کا ذریعہ ہے، جس کے تحت حکومت اپنے تمام واجبات اور ادائیگیاں زر کی صورت میں وصول اور ادا کرتی ہے۔ پانچواں فرض معاشی ترقی (Economic Development) میں کردار ہے، کیونکہ زر کے مؤثر نظام سے سرمایہ کاری بڑھتی ہے، بیروزگاری کم ہوتی ہے اور معیارِ زندگی بلند ہوتا ہے۔ چھٹا فرض متفرق فرائض پر مشتمل ہے، جن میں روزمرہ حساب کتاب، بلا حیل و حجت قبولیت، سیال پذیری (Liquid Asset) اور جدید بینکاری نظام کی بنیاد شامل ہیں۔

زر کی اقسام

زر کی چھ بنیادی اقسام ہیں۔ دھاتی زر (Metallic Money) دو طرح کا ہوتا ہے: معیاری زر (Standard Money) جس کی ظاہری اور حقیقی قدر برابر ہوتی ہے، اور علامتی زر (Token Money) جس کی ظاہری قدر اس کی حقیقی قدر سے زیادہ ہوتی ہے، جیسے پاکستان کے موجودہ سکے۔ کاغذی زر (Paper Money) بھی دو طرح کا ہے: بدل پذیر کاغذی زر، جسے مرکزی بینک سونے چاندی میں بدلنے کا پابند ہوتا ہے، اور غیر بدل پذیر کاغذی زر (قانونی زر)، جسے حکومت جاری تو کرتی ہے مگر سونے چاندی میں بدلنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔

قانونی زر (Legal Tender) کو قرضوں اور عام لین دین میں قانوناً قبول کرنا لازم ہے، اور یہ محدود قانونی زر (چھوٹے سکے، ایک مقررہ حد تک قابلِ قبول) اور غیر محدود قانونی زر (کرنسی نوٹ، بلا حد قابلِ قبول) میں تقسیم ہوتا ہے۔ اعتباری زر (Credit Money) قرض خواہ اور مقروض کے درمیان بھروسے کی بنیاد پر گردش کرتا ہے، جیسے چیک اور ہنڈی۔ قریبی زر (Near Money) فوری طور پر آلہ تبادلہ نہیں بنتا مگر ضرورت پڑنے پر نقد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جیسے میعادی امانتیں اور بچت سرٹیفکیٹ۔ حسابی زر (Unit of Account) اشیاء کی قیمتوں اور رقم کی گنتی کی معیاری اکائی ہے، جیسے پاکستان کا روپیہ۔

اعتباری زر کے آلات: چیک اور ہنڈی

اعتباری زر کے کئی آلات ہیں۔ کتابی حساب (Book Account) میں دکاندار ادھار اشیاء کی مالیت اپنے رجسٹر میں درج کرتا ہے۔ تحریری وعدہ (Promissory Note) میں مقروض ایک مقررہ وقت میں ادھار کی رقم واپس کرنے کا تحریری وعدہ کرتا ہے۔ چیک (Cheque) بینک میں امانت رکھنے والوں کا وہ حکم نامہ ہے جس کے ذریعے بینک، چیک پیش کرنے والے کو درج شدہ رقم ادا کرتا ہے۔ چیک کی چار اقسام ہیں: حامل چیک (جو بھی پیش کرے وہ رقم لے سکتا ہے)، حکمی چیک (صرف نامزد شخص رقم لے سکتا ہے)، نشان زدہ چیک (رقم براہ راست وصول کنندہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی ہے) اور سفری چیک (سفر کے دوران نقد رقم کی حفاظت کے لیے)۔

بینک ڈرافٹ (Bank Draft) کے ذریعے لوگ اپنی رقم ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں۔ ہنڈی (Bill of Exchange) ایک ایسی دستاویز ہے جس پر ادھار تجارتی مال کی قیمت، سودے کی تاریخ اور واپسی کی مدت درج ہوتی ہے۔ ہنڈی کی دو اقسام ہیں: درشی ہنڈی، جس کی پیش کرتے ہی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، اور مدتی ہنڈی، جس کی ادائیگی ایک مقررہ مدت کے بعد کی جاتی ہے۔ بینک ہنڈی کے عوض قرض دینے کے عمل کو ہنڈی پر بند لگانا (Discounting) کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کفالتیں (Securities) بھی حکومت کی جاری کردہ ایسی رسیدیں ہیں جو بازارِ حصص میں خرید و فروخت کی جا سکتی ہیں۔

زر کی طلب: کینز کے تین محرکات

جے ایم کینز نے زر کی طلب یعنی سیال پذیری کی ترجیح (Liquidity Preference) کو تین محرکات کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔ پہلا محرکِ روزمرہ ضروریات (Transaction Motive) ہے، جس کے تحت گھرانے اور کاروباری ادارے اپنی روزمرہ ضروریات اور کاروباری اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدنی کا کچھ حصہ نقد رکھتے ہیں۔ یہ طلب براہِ راست آمدنی کے ساتھ بڑھتی یا گھٹتی ہے مگر شرح سود سے متاثر نہیں ہوتی۔ دوسرا محرکِ ناگہانی ضروریات (Precautionary Motive) ہے، جس کے تحت بیماری، حادثات یا بیروزگاری جیسے غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے رقم نقد رکھی جاتی ہے۔ یہ رقم بھی آمدنی کا معمولی حصہ ہونے کے باعث شرح سود سے غیر متاثر رہتی ہے۔

تیسرا محرکِ تخمینی (Speculative Motive) ہے، جسے سٹے بازی بھی کہتے ہیں، جس کے تحت لوگ اپنی پس انداز کردہ رقم مختلف کمپنیوں کے حصص اور بانڈز کی خرید و فروخت پر خرچ کر کے منافع کماتے ہیں۔ یہ واحد محرک ہے جو براہ راست شرح سود سے متاثر ہوتا ہے: شرح سود بڑھنے پر تخمینی طلب کم ہو جاتی ہے کیونکہ لوگ زر کو قرضوں میں دے کر بلند شرح سود کا فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ شرح سود کم ہونے پر تخمینی طلب بڑھ جاتی ہے۔ ان تینوں محرکات کا مجموعہ ہی زر کی کل طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

زر کی رسد

زر کی رسد سے مراد زر کی وہ مقدار ہے جو ایک خاص عرصہ میں معیشت کے اندر گردش کر رہی ہوتی ہے۔ زر کی رسد اشیاء کی رسد کے برعکس ایک معینہ ذخیرہ (Stock) کی مانند ہوتی ہے، نہ کہ مسلسل بہاؤ۔ زر کی رسد کئی عوامل پر منحصر ہے: زیرِ گردش زر یعنی حکومت اور مرکزی بینک کے جاری کردہ سکے اور کرنسی نوٹ (مرکزی بینک کو نوٹ چھاپتے وقت کم از کم 30 فیصد سونا، چاندی یا منظور شدہ زرِ تبادلہ بطور ضمانت رکھنا پڑتا ہے)؛ زرِ اعتبار یعنی بینکوں کے جاری کردہ چیک اور ڈرافٹ؛ بچتیں، جو انفرادی، کاروباری اور سرکاری تین ذرائع سے آتی ہیں اور جب بینکوں میں جمع ہو کر قرضوں کی صورت میں جاری کی جاتی ہیں تو زر کی رسد بڑھاتی ہیں۔

بیمہ کمپنیاں بھی پریمیم کی صورت میں جمع شدہ رقم سرمایہ کاری میں لگا کر زر کی رسد بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہیں، اور بازارِ حصص (Stock Exchange) میں حکومتی و نیم سرکاری اداروں کے حصص، کفالتوں اور بانڈز کی خرید و فروخت سے بھی سرمائے کی گردش اور زر کی رسد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ملک میں کساد بازاری کے حالات ہوں تو حکومت سرمایہ کاری بڑھا کر اور ٹیکس کم کر کے زر کی رسد بڑھاتی ہے، جبکہ افراطِ زر کے حالات میں ٹیکسوں میں اضافہ کر کے زر کی رسد کم کر دی جاتی ہے۔

زر کی قدر اور نظریہ مقدار زر

زر کی قدر سے مراد زر کی وہ قوتِ خرید ہے جس کے بدلے دیگر اشیاء کی مقررہ مقدار حاصل کی جا سکے۔ زر کی قدر اور قیمتوں میں معکوس (الٹ) تعلق پایا جاتا ہے: جب اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو زر کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور قیمتیں گرنے سے زر کی قدر بڑھ جاتی ہے۔ نظریہ مقدار زر کے مطابق زر کی رسد، قیمتوں کے معیار اور زر کی قدر کے مابین ایک مخصوص تعلق پایا جاتا ہے۔ پروفیسر ناگ کے مطابق اگر زر کی مقدار دو گنی کر دی جائے تو قیمتیں بھی دو گنی ہو جاتی ہیں اور زر کی قدر نصف رہ جاتی ہے، بشرطیکہ دیگر حالات بدستور رہیں۔

ارونگ فشر نے 1911 میں نظریہ مقدار زر کو مساواتِ تبادلہ (Equation of Exchange) کی صورت میں بیان کیا: PT = MV + M’V’، جسے قیمتوں کے تعین کے لیے P = MV/T کی شکل میں لکھا جا سکتا ہے، جہاں P قیمتوں کا معیار، T اشیاء و خدمات کی مقدار، M زر کی مقدار اور V زر کی گردش کی رفتار ہے۔ فشر کے مطابق T اور V مختصر عرصے میں معین رہتے ہیں۔ اس نظریہ پر کئی اعتراضات بھی کیے گئے ہیں: گردش زر اور اشیاء کا حجم درحقیقت ساکن نہیں بلکہ متغیر ہوتے ہیں، M اور V ایک دوسرے سے آزاد نہیں بلکہ باہم منسلک ہیں، اور قیمتوں میں تبدیلی ہمیشہ زر کی مقدار کے متناسب نہیں ہوتی بلکہ جنگ، آبادی کے دباؤ اور مصنوعی قلت جیسے دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے۔

اہم تعریفات

زر (پروفیسر واکر)

زر سے مراد وہ شے ہے جو بطور زر تمام فرائض سرانجام دیتی ہے: Money is what money does۔

زر (جے ایم کینز)

زر وہ شے ہے جس کے ذریعے ادھار اور قیمت کے معاہدوں کی ادائیگیاں چکائی جاتی ہیں اور جس کی شکل میں عام قوتِ خرید کا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔

براہ راست تبادلہ (Barter System)

ایسی معیشت جس میں کوئی شے قبولیتِ عامہ کی حیثیت نہ رکھتی ہو اور اشیاء کا اشیاء سے تبادلہ کیا جاتا ہو، بغیر زر استعمال کیے۔

معیاری زر (Standard Money)

ایسا دھاتی زر جس کی ظاہری اور حقیقی قدر آپس میں برابر ہو، جسے پوری مالیت کا سکہ بھی کہتے ہیں۔

علامتی زر (Token Money)

ایسا زر جس کی ظاہری قدر اس کی حقیقی یا اندرونی قدر سے کہیں زیادہ ہو، جیسے پاکستان کے موجودہ دھاتی سکے۔

قانونی زر (Legal Tender)

ایسا زر جسے قرضوں کی ادائیگی اور عام لین دین میں حکومت کی طرف سے قانوناً قبول کرنا لازم ہو، جس کو قبول نہ کرنا جرم تصور کیا جاتا ہے۔

اعتباری زر (Credit Money)

ایسی قانونی تحریر جس کا جاری کنندہ حامل کو درج شدہ رقم ادا کرنے کا پابند ہو اور جو قرض خواہ و مقروض کے درمیان بھروسے کی بنیاد پر گردش کرے۔

نظریہ مقدار زر

وہ نظریہ جس کے مطابق زر کی مقدار میں تبدیلی سے قیمتوں کے معیار اور زر کی قدر میں متناسب تبدیلی رونما ہوتی ہے، جسے فشر نے PT = MV مساوات سے ظاہر کیا۔

اہم حقائق و فارمولے

عنوانفارمولا / حقیقت
مساواتِ تبادلہ (فشر)PT = MV + M’V’ ، P = MV / T
زرِ محفوظات کی شرحمرکزی بینک کو جاری کردہ نوٹوں کی کم از کم 30% مالیت سونا، چاندی یا زرِ تبادلہ کی صورت میں محفوظ رکھنا لازم
نظریہ مقدار زر (پروفیسر ناگ)زر کی مقدار دو گنی = قیمتیں دو گنی اور زر کی قدر نصف؛ زر کی مقدار نصف = قیمتیں نصف اور زر کی قدر دو گنی
زر کی قدر اور قیمتوں کا تعلقزر کی قدر اور اشیاء کی قیمتوں میں معکوس (الٹ) تعلق: قیمتیں بڑھیں تو زر کی قدر گھٹے، قیمتیں گھٹیں تو زر کی قدر بڑھے
مثالی حساب: P=MV/Tاگر M=200, V=3, T=30 تو P = (200×3)/30 = 20 روپے
زر کی طلب کے محرکات (کینز)روزمرہ ضروریات کا محرک + ناگہانی ضروریات کا محرک + تخمینی محرک = زرِ نقد کی کل طلب (سیال پذیری کی ترجیح)
زر کی رسد کے ذرائعزیرِ گردش زر + زرِ اعتبار (چیک/ڈرافٹ) + بچتیں (انفرادی+کاروباری+سرکاری) + بیمہ کمپنیاں + بازارِ حصص
چیک کی اقسامحامل چیک، حکمی چیک، نشان زدہ چیک، سفری چیک — چار بنیادی اقسام

خاکہ جات و تصاویر

زر کا ارتقا: ایک خاکہ جو زر کے چار بڑے تاریخی مراحل کو ترتیب سے ظاہر کرتا ہے: اشیائی زر سے دھاتی زر، پھر کاغذی زر اور آخر میں جدید اعتباری زر تک۔

زر کی اقسام کی درجہ بندی: ایک درجہ بندی کا خاکہ جو زر کی چھ بنیادی اقسام (دھاتی، کاغذی، قانونی، اعتباری، قریبی اور حسابی زر) اور ان کی ذیلی اقسام کو ظاہر کرتا ہے۔

زر کی اقسام کی درجہ بندی - خاکہ

زر کی طلب کے تین محرکات (کینز): ایک بار چارٹ جو کینز کے مطابق زر کی طلب کے تین محرکات — روزمرہ ضروریات، ناگہانی ضروریات اور تخمینی محرک — اور ان میں سے صرف تخمینی محرک کے شرح سود سے متاثر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات

براہ راست تبادلہ سے کیا مراد ہے؟

براہ راست تبادلہ ایسا نظام ہے جس میں زر استعمال کیے بغیر اشیاء کا تبادلہ براہ راست دوسری اشیاء کے ساتھ کیا جاتا ہے، جیسا کہ پروفیسر سٹینلے نے بیان کیا ہے۔

زر کے ارتقا کے چار مراحل کون سے ہیں؟

زر کے ارتقا کے چار مراحل یہ ہیں: اشیائی/اجناسی زر، دھاتی زر، کاغذی زر اور اعتباری زر۔

معیاری زر اور علامتی زر میں کیا فرق ہے؟

معیاری زر کی ظاہری اور حقیقی قدر برابر ہوتی ہے، جبکہ علامتی زر کی ظاہری قدر اس کی حقیقی قدر سے زیادہ ہوتی ہے، جیسے پاکستان کے موجودہ سکے۔

حامل چیک اور حکمی چیک میں کیا فرق ہے؟

حامل چیک جو بھی بینک میں پیش کرے وہ رقم حاصل کر سکتا ہے، جبکہ حکمی چیک کی رقم صرف وہی شخص وصول کر سکتا ہے جس کے نام یہ چیک جاری کیا گیا ہو۔

کینز کے مطابق زر کی طلب کے تین محرکات کون سے ہیں؟

کینز کے مطابق زر کی طلب کے تین محرکات ہیں: روزمرہ ضروریات کا محرک، ناگہانی ضروریات کا محرک اور تخمینی محرک، جن میں سے صرف تخمینی طلب شرح سود سے متاثر ہوتی ہے۔

نظریہ مقدار زر کیا بیان کرتا ہے؟

نظریہ مقدار زر بیان کرتا ہے کہ زر کی مقدار میں اضافہ یا کمی سے قیمتوں کے معیار اور زر کی قدر میں متناسب تبدیلی رونما ہوتی ہے، جسے فشر نے PT=MV مساوات سے ظاہر کیا۔

تفصیلی سوالات و جوابات

براہ راست تبادلہ کے نظام کی مشکلات کی تفصیل سے وضاحت کریں اور بیان کریں کہ ان مشکلات نے زر کے ارتقا میں کیا کردار ادا کیا۔

انسانی تمدن کے ابتدائی دور میں جب زر موجود نہیں تھا تو لوگ اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے براہ راست تبادلہ کے نظام کا سہارا لیتے تھے، یعنی اشیاء کے بدلے اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا تھا، مگر معاشی نظام کے وسیع اور پیچیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس نظام میں کئی سنگین مشکلات پیدا ہونا شروع ہو گئیں جن کی وجہ سے بالآخر یہ نظام اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔ سب سے پہلی اور سب سے بنیادی مشکل ضروریات کی دو طرفہ مطابقت کا فقدان تھی، یعنی اگر کسی شخص کے پاس گندم ہو اور وہ اسے کپڑے کے بدلے دینا چاہتا ہو تو اسے ایسا شخص تلاش کرنا پڑتا تھا جس کے پاس نہ صرف کپڑا ہو بلکہ وہ اسے گندم کے عوض دینے پر بھی تیار ہو، اور ایسی مطابقت کا ملنا اکثر بہت مشکل ثابت ہوتا تھا۔ دوسری مشکل مشترک پیمانہ قدر کا فقدان تھی، کیونکہ اشیاء کی قدر و مالیت جاننے کا کوئی مشترکہ معیار موجود نہیں تھا جس سے یہ طے کیا جا سکے کہ ایک شے کے بدلے دوسری شے کی کتنی مقدار حاصل کی جائے، جس کی وجہ سے سودے طے کرنا بہت دشوار ہو جاتا تھا۔ تیسری مشکل اشیاء کی عدم تقسیم پذیری کی تھی، کیونکہ گائے، بکری یا مکان جیسی اشیاء کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے ان کے بدلے مختلف چھوٹی چھوٹی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں تھا۔ چوتھی مشکل ذخیرہ قدر کے فقدان کی تھی، کیونکہ زندہ مویشیوں کی دیکھ بھال پر کثیر اخراجات اور وسیع جگہ درکار ہوتی تھی جبکہ سبزیوں اور دیگر خراب ہونے والی اشیاء کو طویل عرصے تک محفوظ رکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ پانچویں مشکل دولت کی نقل مکانی کے فقدان کی تھی، کیونکہ مویشیوں اور اشیاء کی صورت میں موجود دولت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا انتہائی مشکل اور پرخرچ کام تھا۔ چھٹی مشکل مستقبل کی ادائیگیوں سے متعلق تھی، کیونکہ اگر کوئی شخص کسی کو ادھار میں گندم یا مویشی دیتا تو واپسی کے وقت اس شے کی قدر یا معیار میں تبدیلی کی وجہ سے دونوں فریقین کے درمیان نزاع پیدا ہو جاتی تھی۔ ساتویں اور آخری مشکل حکومتی وصولیوں اور اخراجات سے متعلق تھی، کیونکہ حکومت کو اپنے واجبات اشیاء کی صورت میں وصول اور خرچ کرنے میں ذخیرہ اور تقسیم جیسے وہی مسائل درپیش تھے جو عام افراد کو تھے۔ انہی سات مشکلات کے مجموعی اثر نے انسان کو ایسا مشترک اور سب کو قابل قبول آلہ تبادلہ تلاش کرنے پر مجبور کر دیا جو ان تمام مسائل کا حل پیش کر سکے، اور یوں تاریخی طور پر پہلے اشیائی زر، پھر دھاتی زر، اس کے بعد کاغذی زر اور آخر میں جدید اعتباری زر کے مراحل سے گزرتے ہوئے زر کا موجودہ نظام وجود میں آیا، جس نے تمام مذکورہ بالا مشکلات کا مؤثر حل فراہم کر دیا۔

زر کی تعریف اور اس کے تمام فرائض کی تفصیل سے وضاحت کریں۔

زر کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے مختلف ماہرینِ معاشیات نے وقتاً فوقتاً زر کی مختلف انداز میں تعریفیں بیان کی ہیں، جن میں سے ہر ایک زر کے کسی نہ کسی پہلو پر روشنی ڈالتی ہے۔ پروفیسر واکر کے مطابق زر وہ شے ہے جو بطور زر تمام فرائض سرانجام دیتی ہے، یعنی جو کام زر کرتا ہے وہی اس کی تعریف ہے۔ مورگن کے نزدیک زر ایسی شے ہے جو عام طور پر قرضوں کی ادائیگی میں استعمال ہوتی ہے۔ جیفری کراؤتھ نے زر کو ایسی شے قرار دیا جسے آلہ تبادلہ کی حیثیت سے قبولیتِ عامہ حاصل ہو اور جو بیک وقت پیمانہ قدر اور ذخیرہ قدر کا کام بھی سرانجام دے، مگر ان کی تعریف میں زر کا ایک اہم فرض یعنی مستقبل کی ادائیگیوں کا معیار نظر انداز ہو گیا۔ اسی کمی کو دور کرتے ہوئے جے ایم کینز نے سب سے جامع تعریف پیش کی، جس کے مطابق زر وہ شے ہے جس کے ذریعے ادھار کے معاہدوں اور قیمت کے معاہدوں کی ادائیگیاں چکائی جاتی ہیں اور جس کی شکل میں عام قوتِ خرید کا ذخیرہ کیا جاتا ہے، اور اس تعریف میں زر کے تمام فرائض یعنی مستقبل کی ادائیگیوں کا معیار، پیمانہ قدر، آلہ تبادلہ، قبولیتِ عامہ اور ذخیرہ قدر سب شامل ہیں۔ انہی تعریفوں کی روشنی میں زر کے چھ اہم فرائض کو تفصیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا اور بنیادی فرض آلہ تبادلہ کا ہے، جس کی بدولت عاملینِ پیدائش اپنی خدمات کے عوض زر کی صورت میں آمدنی حاصل کرتے ہیں اور کاروباری ادارے اشیاء فراہم کر کے زر وصول کرتے ہیں، جس سے اشیاء کی دو طرفہ مطابقت کی ضرورت ہی ختم ہو گئی۔ دوسرا فرض پیمانہ قدر کا ہے، جس کے ذریعے مختلف اشیاء و خدمات کی قدر و قیمت کا تعین اور موازنہ ممکن ہوا۔ تیسرا فرض انتقالِ قدر کا ہے، جس کی بدولت لوگ اپنے اثاثوں کو بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے دوسری جگہ نئے اثاثے خرید سکتے ہیں۔ چوتھا فرض حکومتی ادائیگیوں اور وصولیوں کے ذریعے کے طور پر ہے، جس سے حکومت اپنے تمام واجبات اور اخراجات آسانی سے سرانجام دے سکتی ہے۔ پانچواں فرض معاشی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے، کیونکہ زر کے مؤثر نظام سے سرمایہ کاری، روزگار اور معیارِ زندگی میں بہتری آتی ہے۔ چھٹا اور آخری فرض متفرق نوعیت کا ہے جس میں روزمرہ حساب کتاب، بلا حیل و حجت قبولیت، سیال پذیری اور جدید بینکاری نظام کی بنیاد جیسے پہلو شامل ہیں۔ ان تمام فرائض کے باعث زر کو جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

ذیل میں سے کون سا زر کے فرائض میں شامل نہیں ہے؟ (الف) آلہ تبادلہ (ب) مشترک پیمانہ قدر (ج) انتقالِ قدر (د) شرح سود کا تعین

درست جواب: (د) شرح سود کا تعین۔ شرح سود کا تعین زر کا فرض نہیں بلکہ مرکزی بینک کی مالیاتی پالیسی کا معاملہ ہے۔ زر کے فرائض میں آلہ تبادلہ، پیمانہ قدر، انتقالِ قدر، حکومتی ادائیگیاں اور معاشی ترقی شامل ہیں۔

ایسا زر جس کی ظاہری اور حقیقی قدر آپس میں برابر ہو، وہ کہلاتا ہے: (الف) کاغذی زر (ب) قریبی زر (ج) اعتباری زر (د) معیاری زر

درست جواب: (د) معیاری زر۔ معیاری زر (Standard Money) کی ظاہری اور حقیقی قدر برابر ہوتی ہے، اسی لیے اسے پوری مالیت کا سکہ بھی کہتے ہیں۔

ذیل میں سے کون سی اعتباری زر کی قسم ہے؟ (الف) کاغذی نوٹ (ب) معیاری زر (ج) کریڈٹ کارڈ (د) قانونی زر

درست جواب: (ج) کریڈٹ کارڈ۔ کریڈٹ کارڈ اعتباری زر کی جدید قسم ہے، جس کے ذریعے بینک کی مخصوص سہولت سے ادائیگی کی جاتی ہے۔

ایسا چیک جس کے ذریعے حامل براہ راست بینک سے رقم نہیں نکلوا سکتا، کہلاتا ہے: (الف) حامل چیک (ب) سفری چیک (ج) حکمی چیک (د) نشان زدہ چیک

درست جواب: (د) نشان زدہ چیک۔ نشان زدہ چیک (Crossed Cheque) کی رقم براہ راست نقد نہیں دی جاتی بلکہ وصول کنندہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔

چیک بینکوں میں امانتیں جمع کروانے والوں کے کیا ہوتے ہیں؟ (الف) اثاثے (ب) حکم نامے (ج) اکاؤنٹ (د) معاہدے

درست جواب: (ب) حکم نامے۔ چیک دراصل بینک کے نام لکھے گئے حکم نامے ہوتے ہیں کہ درج شدہ رقم پیش کرنے والے کو ادا کر دی جائے۔

زر کی طلب کا کون سا محرک براہ راست شرح سود سے متاثر ہوتا ہے؟ (الف) روزمرہ ضروریات کا محرک (ب) ناگہانی ضروریات کا محرک (ج) تخمینی محرک (د) کاروباری محرک

درست جواب: (ج) تخمینی محرک۔ کینز کے مطابق صرف تخمینی محرک (Speculative Motive) شرح سود سے براہ راست متاثر ہوتا ہے؛ شرح سود بڑھنے پر تخمینی طلب کم ہو جاتی ہے۔

مرکزی بینک کو کاغذی نوٹ جاری کرتے وقت کم از کم کتنے فیصد زرِ محفوظات رکھنا لازم ہے؟ (الف) 10 فیصد (ب) 20 فیصد (ج) 30 فیصد (د) 50 فیصد

درست جواب: (ج) 30 فیصد۔ مرکزی بینک کو جاری کردہ نوٹوں کی کل مالیت کا کم از کم 30 فیصد سونا، چاندی یا منظور شدہ زرِ تبادلہ کی صورت میں محفوظ رکھنا لازم ہے۔

فشر کی مساواتِ تبادلہ میں T سے کیا مراد ہے؟ (الف) زر کی مقدار (ب) زر کی گردش کی رفتار (ج) اشیاء و خدمات کی مقدار (د) قیمتوں کا معیار

درست جواب: (ج) اشیاء و خدمات کی مقدار۔ فشر کی مساواتِ تبادلہ PT=MV میں T سے مراد اشیاء و خدمات کی کل مقدار (Transactions) ہے۔

زر کی مقدار دو گنی ہونے سے نظریہ مقدار زر کے مطابق کیا ہوتا ہے؟ (الف) قیمتیں نصف ہو جاتی ہیں (ب) قیمتیں دو گنی ہو جاتی ہیں (ج) قیمتیں غیرمتاثر رہتی ہیں (د) زر کی قدر بڑھ جاتی ہے

درست جواب: (ب) قیمتیں دو گنی ہو جاتی ہیں۔ پروفیسر ناگ کے مطابق زر کی مقدار دو گنی ہونے سے قیمتیں بھی دو گنی ہو جاتی ہیں اور زر کی قدر نصف رہ جاتی ہے۔

اشیاء کے بدلے اشیاء کا لین دین کیا کہلاتا ہے؟ (الف) اعتباری زر کا نظام (ب) براہ راست تبادلہ کا نظام (ج) قانونی زر کا نظام (د) حسابی زر کا نظام

درست جواب: (ب) براہ راست تبادلہ کا نظام۔ زر استعمال کیے بغیر اشیاء کے بدلے اشیاء کے لین دین کو براہ راست تبادلہ کا نظام (Barter System) کہا جاتا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • براہ راست تبادلہ کے نظام کی 7 مشکلات: دو طرفہ مطابقت کا فقدان، مشترک پیمانہ قدر کا فقدان، عدم تقسیم پذیری، ذخیرہ قدر کا فقدان، دولت کی نقل مکانی کا فقدان، مستقبل کی ادائیگیوں میں دشواری، حکومتی وصولیوں میں دشواری۔
  • زر کے ارتقا کے 4 مراحل: اشیائی/اجناسی زر -> دھاتی زر -> کاغذی زر -> اعتباری زر۔ تعریفیں: واکر (Money is what money does)، مورگن (قرضوں کی ادائیگی)، کراؤتھ (قبولیتِ عامہ+پیمانہ قدر+ذخیرہ قدر)، کینز (سب سے جامع، مستقبل کی ادائیگیاں بھی شامل)۔
  • زر کے 6 فرائض: آلہ تبادلہ، پیمانہ قدر، انتقالِ قدر، حکومتی ادائیگیاں و وصولیاں، معاشی ترقی، متفرق فرائض (روزمرہ حساب، قبولیت، سیال پذیری)۔
  • زر کی اقسام: دھاتی (معیاری/علامتی)، کاغذی (بدل پذیر/غیر بدل پذیر)، قانونی (محدود/غیر محدود)، اعتباری، قریبی، حسابی زر۔ چیک کی 4 اقسام: حامل، حکمی، نشان زدہ، سفری۔ ہنڈی کی 2 اقسام: درشی، مدتی۔
  • کینز کے 3 محرکات: روزمرہ ضروریات (آمدنی سے متاثر)، ناگہانی ضروریات (آمدنی سے متاثر)، تخمینی محرک (صرف یہی شرح سود سے متاثر)۔ زر کی رسد کے ذرائع: زیرِ گردش زر، زرِ اعتبار، بچتیں (انفرادی/کاروباری/سرکاری)، بیمہ کمپنیاں، بازارِ حصص۔
  • زر کی قدر اور قیمتوں میں معکوس تعلق۔ فشر کی مساواتِ تبادلہ: PT=MV+M’V’ یا P=MV/T۔ نظریہ مقدار زر پر تنقید: T اور V ساکن نہیں، M اور V آزاد نہیں، قیمتوں میں تبدیلی ہمیشہ متناسب نہیں ہوتی۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔

امتحانی نکات

  • براہ راست تبادلہ کی سات مشکلات کو ترتیب سے یاد رکھیں (دو طرفہ مطابقت، پیمانہ قدر، تقسیم پذیری، ذخیرہ، نقل مکانی، مستقبل کی ادائیگیاں، حکومتی وصولیاں) – یہ اکثر تفصیلی سوال میں پوچھی جاتی ہیں۔
  • زر کے ارتقا کے چار مراحل (اشیائی-دھاتی-کاغذی-اعتباری) کو ایک زنجیر کی طرح یاد رکھیں، ہر مرحلے کی ایک مثال ذہن نشین کر لیں۔
  • چاروں ماہرین (واکر، مورگن، کراؤتھ، کینز) کی تعریفوں کا فرق سمجھیں – خصوصاً کینز کی تعریف کیوں سب سے جامع ہے۔
  • چیک کی چار اقسام (حامل، حکمی، نشان زدہ، سفری) اور ہنڈی کی دو اقسام (درشی، مدتی) کو مثالوں سمیت یاد رکھیں۔
  • کینز کے تین محرکات میں یہ نکتہ ضرور یاد رکھیں کہ صرف تخمینی محرک شرح سود سے متاثر ہوتا ہے، باقی دو آمدنی پر منحصر ہیں۔
  • فشر کی مساواتِ تبادلہ PT=MV اور اس کی مثالی حساب کتاب (M, V, T دے کر P نکالنا) پر عددی سوال ضرور تیار رکھیں۔