سبق 12: کچھ ذریعہ تعلیم کے باب میں (Kuch Zariya-e-Taleem ke Baab Mein (Dr. Abul Lais Siddiqui))
یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے بارھویں سبق ‘کچھ ذریعہ تعلیم کے باب میں’ پر مبنی ہیں، جو ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی کتاب ‘آج کا اردو ادب’ سے لیا گیا ایک استدلالی مضمون ہے۔ (نوٹ: نصابی فہرست میں اس سبق کا نام ‘بچوں کی تعلیم کے باب میں’ درج ہے، جب کہ متن کا اپنا عنوان اور تمام مشقی سوالات ‘کچھ ذریعہ تعلیم کے باب میں’ کہتے ہیں — یہی درست عنوان ہے؛ یہ مضمون بچوں کی تعلیم کے بجائے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے موضوع پر ہے۔)
یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں دلیل وار خلاصہ، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی 15 جون 1916ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن بدایوں تھا اور ابتدائی تعلیم آگرہ اور بدایوں میں حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی (نگران رشید احمد صدیقی تھے) اور شعبہ اردو کے پہلے پی ایچ ڈی اسکالر بنے؛ ان کا تحقیقی مقالہ ‘لکھنؤ کا دبستانِ شاعری’ کے موضوع پر تھا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مختلف جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دیے، اور لسانیات میں مزید تعلیم کے لیے لندن اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز اور کولمبیا یونیورسٹی (امریکہ) گئے۔ واپسی پر پہلے لاہور، پھر کراچی میں سکونت اختیار کی، اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے تقریباً بیس برس خدمات انجام دیں، جہاں پچاس سے زائد پی ایچ ڈی مقالوں کی نگرانی کی۔ اردو لغت بورڈ سے 1962ء سے 1984ء تک بطور چیف ایڈیٹر وابستہ رہے، جس دوران بورڈ کی مجوزہ بائیس جلدوں میں سے چھ جلدیں شائع ہوئیں۔
وہ بیک وقت نقاد، محقق، ماہرِ تعلیم اور استاد تھے۔ ان کی بیس سے زائد تصانیف میں ‘آج کا اردو ادب’، ‘تاریخ زبان و ادب اردو’، ‘روایت اور تجربے’، ‘اقبال اور مسلکِ تصوف’، ‘لکھنؤ کا دبستانِ شاعری’، ‘اردو کی ادبی تاریخ کا خاکہ’ اور ‘رفت و بود’ (آپ بیتی) شامل ہیں۔ 7 ستمبر 1994ء کو کراچی میں وفات پائی۔
اہم اصطلاحات
ذریعہ تعلیم
وہ زبان جس کے ذریعے کسی ملک یا ادارے میں باقاعدہ تعلیم دی اور حاصل کی جاتی ہے؛ اسی زبان کا مسئلہ اس سبق کا اصل موضوع ہے۔
اصطلاحاتِ علمیہ
کسی خاص علم یا فن سے متعلق مخصوص الفاظ، جو اس علم کے مفاہیم کو واضح طور پر ادا کرتے ہیں۔
قومی زبان
وہ زبان جو کسی قوم کی اکثریت بولتی اور سمجھتی ہے، اور جسے اس قوم کی تہذیبی و علمی شناخت حاصل ہو۔
لسانیات
زبان کی ساخت، تاریخ اور ارتقا کا سائنسی مطالعہ کرنے والا علم، جس میں مصنف خود ماہر تھے۔
سبق کا تعارف
زیرِ نصاب مضمون ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی کتاب ‘آج کا اردو ادب’ سے لیا گیا ہے، جس میں مصنف نے پاکستان میں ذریعہ تعلیم کے دیرینہ مسئلے پر بحث کرتے ہوئے اردو کو سائنسی و علمی تعلیم کا ذریعہ بنانے کے حق میں دلائل پیش کیے ہیں اور اس کی مخالفت میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔
دلیل وار خلاصہ
تاریخی پس منظر: فارسی کا اقتدار اور اردو کا ظہور
مصنف کے مطابق جب تک فارسی برصغیر کی سرکاری و دفتری زبان رہی، وہی علمی و ادبی زبان بھی رہی، حالانکہ وہ بنیادی طور پر ایک اچھی مگر غیر ملکی زبان تھی۔ صوفیائے کرام اور علمائے عظام نے سب سے پہلے اردو کو تبلیغِ دین کا ذریعہ بنایا، پھر شعرا و نثر نگاروں نے اسے اپنے خیالات کے اظہار کا وسیلہ بنا کر اس کا سرمایہ بڑھایا، یہاں تک کہ یہ فارسی کی جانشین بن گئی۔
پہلا اعتراض: انگریزی چھوڑنے کا خدشہ
کچھ نادان دوستوں کا خیال ہے کہ اگر قوم انگریزی زبان کا سایہ چھوڑ دے تو یتیم اور جاہل ہو جائے گی، بین الاقوامی سطح پر اس کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور وہ علوم و فنون کے اس ذخیرے سے محروم رہ جائے گی جو انگریزی میں روز بروز بڑھ رہا ہے۔
دوسرا اعتراض: اردو میں علمی اصطلاحات کی کمی
زبان دوست طبقے کا ایک حصہ اصولاً قومی زبان میں تعلیم کا حامی تو ہے، مگر اس کے خیال میں اردو ابھی اس قابل نہیں کہ اسے ذریعہ تعلیم بنایا جائے، کیونکہ اس میں علمی و فنی اصطلاحات کی کمی ہے اور سائنسی مضامین کے اظہار کا اسلوب پیدا نہیں ہوا۔
مصنف کا جواب: جرمنی، روس اور جاپان کی مثالیں
مصنف جرمنی، روس اور جاپان کی مثالیں دیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ان اقوام نے اپنی اپنی قومی زبانوں ہی میں سائنسی و صنعتی ترقی حاصل کی، اور آج بھی ان زبانوں میں شائع ہونے والا سائنسی لٹریچر انگریزی سے کم نہیں۔ ان کے نزدیک سائنس کی ترقی الفاظ کے پہلے سے موجود ذخیرے کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ خود سائنس کی ترقی زبان کے ذخیرے میں اضافہ کرتی ہے۔
اصطلاح سازی کا اصول
مصنف کے نزدیک علمی اصطلاحات پہلے سے جمع کر لینا اور بعد میں کتابیں لکھنا ‘گھوڑے کے آگے گاڑی جوتنے’ کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اصطلاحات کتابوں اور مضامین کے لکھے جانے کے دوران ہی رائج ہوتی اور معیاری قرار پاتی ہیں؛ اردو کے لیے فارسی، عربی اور برصغیر کی دیگر زبانیں اصطلاح سازی کا اہم ماخذ ہیں۔
اختتامیہ: قومی تحریک کی ضرورت
مصنف اختتام میں زور دیتے ہیں کہ قومی زبان کی ترقی کا مسئلہ صرف چند ادارے یا حکومتی سرپرستی حل نہیں کر سکتی، بلکہ اسے ایک قومی تحریک کی صورت میں چلانا ہوگا، جس میں اساتذہ، طلبہ، مصنفین، ناشرین، تعلیمی حکام اور صنعتی و کاروباری ادارے سب اپنا اپنا کردار ادا کریں۔
مرکزی خیال
اس مضمون کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اردو، دیگر اقوام کی قومی زبانوں کی طرح، سائنسی و علمی تعلیم کا ذریعہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے؛ اصطلاحات کی نام نہاد کمی کوئی مستقل رکاوٹ نہیں کیونکہ اصطلاحات علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ خود بخود جنم لیتی ہیں، اور اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مسئلہ محض اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی خلوص دل سے کی گئی اجتماعی کاوش سے ہی حل ہو سکتا ہے۔
اہم الفاظ کے معنی
آبیاری کرنا
پانی دینا، پرورش اور نشوونما کرنا (یہاں مجازاً: کسی چیز کو ترقی دینا)۔
تصنیف و تالیف
کتابیں لکھنے اور مرتب کرنے کا عمل۔
ارباب بصیرت
بصیرت اور دور اندیشی رکھنے والے لوگ، اہلِ دانش۔
اصطلاحات
کسی خاص علم یا فن سے متعلق مخصوص، متعین معنی رکھنے والے الفاظ۔
مجموعہ
کئی چیزوں یا تحریروں کا اکٹھا مرتب کردہ ذخیرہ۔
مرہونِ منت
کسی کا احسان مند، کسی چیز پر منحصر۔
سایہ عاطفت
شفقت و محبت کی چھاؤں، سرپرستی۔
متفقہ
جس پر سب کا اتفاق ہو، متفق علیہ۔
قومی تحریک
کسی قومی مقصد کے حصول کے لیے پوری قوم کی منظم اور مشترکہ کوشش۔
رائے عامہ
عوام کی اکثریت کی مشترکہ سوچ یا خیال۔
خاکہ
کچھ ذریعہ تعلیم کے باب میں: دلیل کے اہم مراحل: ایک خاکہ جو مضمون میں پیش کیے گئے دلائل کے چھ اہم مراحل کا خلاصہ دکھاتا ہے۔
مختصر سوالات و جوابات
‘ذریعہ تعلیم’ سے کیا مراد ہے؟
وہ زبان جس کے ذریعے باقاعدہ تعلیم دی اور حاصل کی جاتی ہے، ذریعہ تعلیم کہلاتی ہے۔
برصغیر میں فارسی زبان کی کیا حیثیت رہی؟
جب تک فارسی سرکاری و دفتری زبان رہی، وہی علمی و ادبی زبان بھی رہی، حالانکہ اصل میں وہ ایک غیر ملکی زبان تھی۔
اردو کی ترویج میں سب سے پہلے کس نے بنیادی کردار ادا کیا؟
صوفیائے کرام اور علمائے عظام نے سب سے پہلے اردو کو تبلیغِ دین کا ذریعہ بنا کر اس کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا۔
‘اردو زبان میں علمی و فنی اصطلاحات کی کمی ہے’ — یہ اعتراض مصنف کے نزدیک کہاں تک درست ہے؟
مصنف کے نزدیک یہ اعتراض غلط ہے، کیونکہ اصطلاحات علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ خود بخود پیدا ہوتی ہیں، پہلے سے موجود ہونا ضروری نہیں۔
وہ کون سی اقوام ہیں جنہوں نے اپنی قومی زبان میں سائنس سمیت ہر میدان میں ترقی کی؟
مصنف کے مطابق جرمنی، روس اور جاپان نے اپنی اپنی قومی زبانوں میں سائنسی و صنعتی ترقی حاصل کی۔
اردو زبان کے دو اہم ماخذ کون سی زبانیں ہیں؟
فارسی اور عربی، اردو کی اصطلاح سازی کے دو اہم ماخذ ہیں۔
مصنف کے نزدیک سائنس کی ترقی کا انحصار کس بات پر ہے؟
مصنف کے نزدیک سائنس کی ترقی زبان میں پہلے سے موجود اصطلاحات کے ذخیرے پر منحصر نہیں، بلکہ خود سائنس کی ترقی زبان کے ذخیرے میں اضافہ کرتی ہے۔
ذریعہ تعلیم کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مصنف نے آخر میں کیا تجویز دی؟
مصنف نے تجویز دی کہ اسے ایک قومی تحریک کی طرح چلایا جائے، جس میں اساتذہ، طلبہ، مصنفین، ناشرین اور تعلیمی و صنعتی ادارے سب حصہ لیں۔
تفصیلی سوالات و جوابات
اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے حق میں مصنف کے دلائل کی وضاحت کریں۔
مصنف نے تاریخی پس منظر کیسے پیش کیا ہے؟
مصنف نے بتایا کہ اردو نے فارسی کے زیرِ اثر رہ کر بھی رفتہ رفتہ ترقی کی اور بالآخر اس کی جانشین بن گئی۔
مصنف نے دیگر اقوام کی کون سی مثالیں دی ہیں؟
جرمنی، روس اور جاپان کی مثالیں دی ہیں، جنہوں نے اپنی زبانوں میں سائنسی ترقی حاصل کی۔
اصطلاحات کے مسئلے پر مصنف کا مؤقف کیا ہے؟
مصنف کے نزدیک اصطلاحات علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ خود پیدا ہوتی ہیں، پہلے جمع کرنا ضروری نہیں۔
مصنف اردو کی لسانی صلاحیت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
مصنف کے مطابق اردو میں نئے الفاظ قبول کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے، جو اسے جدید علوم کے لیے موزوں بناتی ہے۔
اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں حائل رکاوٹوں اور ان کے تدارک پر مصنف کے خیالات بیان کریں۔
انگریزی چھوڑنے کا خوف کیا ہے اور مصنف اسے کیسے رد کرتے ہیں؟
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انگریزی چھوڑنے سے قوم پسماندہ ہو جائے گی، مگر مصنف اسے دیگر اقوام کی مثالوں سے غلط ثابت کرتے ہیں۔
اصطلاحات کی کمی کا اعتراض کیسے پیش کیا جاتا ہے؟
کچھ زبان دوست بھی یہ کہتے ہیں کہ اردو میں سائنسی اصطلاحات کا فقدان ہے، اس لیے ابھی اسے ذریعہ تعلیم بنانے کا وقت نہیں آیا۔
مصنف قومی تحریک کی ضرورت پر کیوں زور دیتے ہیں؟
کیونکہ مصنف کے نزدیک یہ مسئلہ صرف چند ادارے یا حکومتی سرپرستی حل نہیں کر سکتی، اجتماعی کوشش درکار ہے۔
اس قومی تحریک میں کن لوگوں کا کردار اہم بتایا گیا ہے؟
اساتذہ، طلبہ، مصنفین، مؤلفین، ناشرین، تعلیمی حکام اور صنعتی و کاروباری ادارے، سب کا کردار اہم بتایا گیا ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
‘اس کی حیثیت ایک اچھی اور غیر ملکی زبان کی تھی’ — اس بیان میں اشارہ ہے: (الف) عربی کی طرف (ب) فارسی کی طرف (ج) اردو کی طرف (د) دکنی کی طرف
درست جواب: (ب) فارسی کی طرف۔ اشارہ فارسی کی طرف ہے، جو برصغیر میں سرکاری زبان رہی۔
جس زبان کے اثر و اقتدار نے اردو کی ترقی کو روکے رکھا، وہ ہے: (الف) انگریزی (ب) فارسی (ج) عربی (د) ہریانوی
درست جواب: (ب) فارسی۔ فارسی کے اثر و اقتدار نے ایک عرصے تک اردو کی ترقی روکے رکھی۔
اردو زبان کو درباروں میں سلاطین اور امرا کی سرپرستی حاصل ہوئی: (الف) دہلی کے (ب) لکھنؤ کے (ج) دکن کے (د) گولکنڈہ کے
درست جواب: (الف) دہلی کے۔ مضمون کے مطابق دہلی کے درباروں میں اردو کو سلاطین و امرا کی سرپرستی حاصل ہوئی۔
نادان دوستوں کے بقول، انگریزی کا سایہ چھوڑنے سے قوم بن جائے گی: (الف) مفلس (ب) بدتہذیب (ج) بے ہنر (د) یتیم
درست جواب: (د) یتیم۔ نادان دوستوں کے خیال میں قوم یتیم اور جاہل ہو جائے گی۔
اردو کی ترقی سے قبل، برصغیر کی علمی زبان تھی: (الف) انگریزی (ب) صرف فارسی (ج) فارسی اور عربی (د) صرف عربی
درست جواب: (ج) فارسی اور عربی۔ اردو کی ترقی سے قبل فارسی اور عربی دونوں علمی زبانیں تھیں۔
نئے الفاظ کے قبول کرنے کی بڑی صلاحیت پائی جاتی ہے: (الف) عربی زبان میں (ب) فارسی زبان میں (ج) اردو زبان میں (د) انگریزی زبان میں
درست جواب: (ج) اردو زبان میں۔ مصنف کے مطابق اردو میں نئے الفاظ قبول کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔
مصنف کے مطابق سائنسی ترقی کس چیز پر منحصر نہیں؟ (الف) محنت پر (ب) زبان میں پہلے سے موجود اصطلاحات کے ذخیرے پر (ج) تعلیم پر (د) قومی جذبے پر
درست جواب: (ب) زبان میں پہلے سے موجود اصطلاحات کے ذخیرے پر۔ مصنف کے نزدیک سائنسی ترقی زبان میں پہلے سے موجود اصطلاحات پر منحصر نہیں۔
مصنف نے اپنی مثال میں کن تین اقوام کا ذکر کیا ہے؟ (الف) فرانس، اٹلی، اسپین (ب) جرمنی، روس، جاپان (ج) چین، بھارت، مصر (د) ترکی، ایران، ملائشیا
درست جواب: (ب) جرمنی، روس، جاپان۔ مصنف نے جرمنی، روس اور جاپان کی مثالیں دی ہیں۔
یہ مضمون ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی کس کتاب سے لیا گیا ہے؟ (الف) رفت و بود (ب) آج کا اردو ادب (ج) تاریخ زبان و ادب اردو (د) لکھنؤ کا دبستانِ شاعری
درست جواب: (ب) آج کا اردو ادب۔ یہ مضمون ان کی کتاب ‘آج کا اردو ادب’ سے لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے اردو لغت بورڈ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر کتنے عرصے خدمات انجام دیں؟ (الف) 1955ء تا 1970ء (ب) 1962ء تا 1984ء (ج) 1970ء تا 1990ء (د) 1980ء تا 1994ء
درست جواب: (ب) 1962ء تا 1984ء۔ وہ 1962ء سے 1984ء تک اردو لغت بورڈ کے چیف ایڈیٹر رہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- ڈاکٹر ابواللیث صدیقی (1916ء-1994ء): آگرہ میں پیدائش، علی گڑھ سے ایم اے/پی ایچ ڈی، لندن و کولمبیا میں لسانیات کی تعلیم، کراچی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر، اردو لغت بورڈ کے چیف ایڈیٹر (1962-1984)۔
- اہم تصانیف: آج کا اردو ادب، تاریخ زبان و ادب اردو، روایت اور تجربے، اقبال اور مسلکِ تصوف، لکھنؤ کا دبستانِ شاعری؛ آپ بیتی: رفت و بود۔
- دلیل کے چھ مراحل: تاریخی پس منظر (فارسی و اردو)، انگریزی چھوڑنے کا خدشہ، اصطلاحات کی کمی کا اعتراض، جرمنی/روس/جاپان کی مثالیں، اصطلاح سازی کا اصول، قومی تحریک کی ضرورت۔
- مرکزی خیال: اردو سائنسی و علمی تعلیم کا ذریعہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے؛ اصطلاحات کی کمی کوئی مستقل رکاوٹ نہیں۔
- اردو کی اصطلاح سازی کے دو اہم ماخذ: فارسی اور عربی۔
- یاد رکھیں: مضمون کا اصل عنوان ‘کچھ ذریعہ تعلیم کے باب میں’ ہے، ‘بچوں کی تعلیم’ نہیں۔
امتحانی نکات
- مضمون کے دلائل کو چھ مراحل میں ترتیب وار مختصر جملوں میں یاد رکھیں۔
- ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی اہم تاریخیں اور تصانیف الگ سے یاد رکھیں۔
- جرمنی، روس اور جاپان کی مثالیں امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہیں — انہیں ترتیب سے یاد رکھیں۔
- اصطلاح سازی کے اصول (اصطلاحات پہلے نہیں، علم کی ترقی کے ساتھ ساتھ بنتی ہیں) کی وضاحت مثال کے ساتھ لکھنا سیکھیں۔
- اہم اصطلاحات (ذریعہ تعلیم، اصطلاحاتِ علمیہ، قومی زبان) کی تعریفیں لفظ بہ لفظ یاد رکھیں۔