سبق 6: کفارہ (Kaffara (Munshi Premchand))
یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے چھٹے سبق ‘کفارہ’ پر مبنی ہیں، جو اردو کے معروف حقیقت نگار افسانہ نویس منشی پریم چند کے مجموعے ‘پریم چالیسی’ سے ماخوذ ایک افسانہ ہے۔
یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں واقعہ وار خلاصہ، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ وہ 31 جولائی 1880ء کو ضلع بنارس کے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاک خانے میں ملازم تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد ایک سکول میں مدرس ہو گئے اور 1900ء میں سرکاری ملازمت اختیار کی۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور 1919ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کیا۔
1921ء میں انھوں نے گاندھی جی کی تحریکِ عدم تعاون سے متاثر ہو کر سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور مکمل طور پر علمی و ادبی کاموں میں مشغول ہو گئے۔ 1936ء میں ‘انجمن ترقی پسند مصنفین’ کے پہلے اجلاس (لکھنؤ) کی صدارت کی، اور اسی سال 8 اکتوبر کو بنارس میں وفات پائی۔
پریم چند نے اپنی تحریروں میں ہندوستان کے دیہات میں بسنے والے مزدوروں اور کسانوں کی زندگی اور ان کے مسائل کامیابی سے بیان کیے۔ ان کی زبان سادہ اور مقامی رنگ لیے ہوئے ہے، اور ان کی تحریروں کی بنیاد معاشرتی مسائل اور نفسیاتی مشاہدے پر ہے۔ ان کا شمار اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ‘سوزِ وطن’، ‘پریم پچیسی’، ‘پریم چالیسی’، ‘زادِ راہ’ اور ‘واردات’ نمایاں ہیں، جب کہ ان کے ناولوں میں ‘میدانِ عمل’، ‘بازارِ حسن’ اور ‘گودان’ کو خاص شہرت ملی۔
قواعد کے اہم نکات
حروفِ ندا
وہ حروف جو کسی کو آواز دینے یا پکارنے کے لیے استعمال ہوں، ‘حروفِ ندا’ کہلاتے ہیں۔ جیسے: امی، اے، او، یا، ارے۔ مثال: ‘امی! میری بات سنیں۔’
حروفِ تحسین
وہ حروف جو کسی کی تعریف یا حوصلہ افزائی کے موقع پر ادا کیے جائیں، ‘حروفِ تحسین’ کہلاتے ہیں۔ جیسے: شاباش، آفرین، واہ، اللہ اللہ۔ مثال: ‘شاباش! آپ نے پہلا انعام حاصل کیا۔’
حروفِ نفرین
وہ حروف جو نفرت، حقارت یا برا بھلا کہنے کے موقع پر بولے جائیں، ‘حروفِ نفرین’ کہلاتے ہیں۔ جیسے: تف، لعنت، دھتکار۔ مثال: ‘لعنت ہے تمھارے جھوٹ پر۔’
حروفِ انبساط
وہ حروف جو خوشی اور مسرت کے موقع پر ادا کیے جائیں، ‘حروفِ انبساط’ کہلاتے ہیں۔ جیسے: سبحان اللہ، آفرین، بہت خوب۔ مثال: ‘سبحان اللہ! کیا خوب صورت منظر ہے۔’
حروفِ تاسف
وہ حروف جو افسوس اور غم کے موقع پر بولے جائیں، ‘حروفِ تاسف’ کہلاتے ہیں۔ جیسے: آہ، افسوس، ہائے ہائے۔ مثال: ‘آہ! اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔’
سبق کا تعارف
زیرِ نصاب افسانہ ‘کفارہ’ میں پریم چند نے حسد، بغض اور نفرت کے نتیجے میں پیش آنے والے ایک الم ناک واقعے، اور اس کے بعد ندامت سے جنم لینے والی خاموش توبہ کی کہانی بیان کی ہے۔ افسانہ گناہ اور کفارے کے تصور کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
واقعہ وار خلاصہ
مداری لال کا حسد اور خوف
ڈسٹرکٹ بورڈ کے ہیڈ کلرک مداری لال کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پرانا ہم جماعت سدھ چندر، جس سے وہ اسکول کے زمانے سے ہی حسد رکھتے تھے اور جسے نیچا دکھانے کی کئی ناکام کوششیں کر چکے تھے، نئے سیکرٹری کے طور پر تعینات ہوا ہے۔ مداری لال کو خوف ہے کہ سدھ چندر ماضی کی زیادتیوں کا بدلہ لے گا۔
سدھ چندر کی آمد اور خوش اخلاقی
مداری لال دفتر کے عملے میں سدھ چندر کے خلاف پیشگی بدگمانی پھیلا دیتے ہیں، مگر سدھ چندر آ کر نہایت خوش اخلاقی، عاجزی اور دوستانہ رویے سے سب کا دل جیت لیتا ہے۔ اس کی محبوبیت مداری لال کے حسد کو اور بھڑکا دیتی ہے۔
رقم کی چوری کا منصوبہ
ایک دن سیکرٹری کا کمرہ خالی پا کر مداری لال میز پر رکھے پانچ ہزار روپے کا پلندہ اٹھا لیتے ہیں اور ایک الماری میں چھپا دیتے ہیں، پھر کمرے کا دروازہ بند کروا کر ایسا تاثر دیتے ہیں کہ کسی باہر والے نے چوری کی ہو گی۔
رقم کا غائب ہونا اور سدھ چندر کی پریشانی
ٹھیکے دار کو رقم ادا کرنے کے وقت سدھ چندر کو پلندہ نہیں ملتا۔ سارا دفتر تلاش کرتا ہے مگر رقم کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ سدھ چندر شدید پریشانی اور خفت کا شکار ہو جاتا ہے، خصوصاً جب مداری لال بینک سے رقم نکال کر نقصان پورا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور سدھ چندر بتاتا ہے کہ اس کے پاس اتنی رقم نہیں۔
سدھ چندر کی خودکشی
بھاری رقم کا انتظام نہ ہونے اور بدنامی کے خوف سے اسی رات سدھ چندر خودکشی کر لیتا ہے۔ اگلی صبح یہ خبر مداری لال تک پہنچتی ہے، جو صدمے سے لرز اٹھتے ہیں۔
مداری لال کا کفارہ: بیوہ اور بچوں کی کفالت
بیوہ اور یتیم بچوں کی بے بسی دیکھ کر مداری لال شدید ندامت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ تدفین کے تمام انتظامات خود سنبھالتے ہیں، اور بعد میں بیوہ اور اس کے بچوں کو اپنے گھر لے آتے ہیں۔ دس سال تک ان کی کفالت کرتے ہیں، بیٹی کی شادی معزز گھرانے میں کرواتے ہیں اور بیٹوں کو کالج تک پڑھاتے ہیں — اپنے گناہ کو خدمت کے پردے میں چھپاتے ہوئے۔
مرکزی خیال
اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ حسد اور بغض انسان کو تباہی کی طرف لے جا سکتے ہیں، مگر ضمیر کی خلش انسان کو خاموش توبہ اور کفارے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔ پریم چند نے دکھایا ہے کہ سچا کفارہ اعلانیہ اعتراف کے بغیر بھی، خدمت اور قربانی کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے — مداری لال ساری زندگی اپنے گناہ کی معافی خاموشی سے کماتے رہتے ہیں۔
اہم الفاظ کے معنی
نیتِ برگزیدہ ہونا
نیت کا خراب یا بگڑ جانا، بدنیتی پیدا ہونا۔
نالہ و خراش
دردناک آہ و بکا، دل خراش رونا پیٹنا۔
ستیاناس کرنا
مکمل طور پر برباد یا تباہ کر دینا۔
نشتر چلانا
طنزیہ یا دل دکھانے والی بات کہنا، جذباتی طور پر گہرا زخم لگانا۔
تہمت لگانا
کسی پر جھوٹا الزام دھرنا۔
اوسان بحال ہونا
ہوش و حواس دوبارہ قابو میں آنا۔
دیرینہ خلش
پرانی اور دیرپا رنجش یا تکلیف۔
دل جوئی کرنا
کسی کا دل بہلانا، تسلی دینا۔
چشم پوشی کرنا
جان بوجھ کر نظرانداز کرنا، درگزر کرنا۔
پلندہ
بندھا ہوا بنڈل، خصوصاً نوٹوں یا کاغذات کا۔
خاکہ
کفارہ: کہانی کے اہم مراحل: ایک خاکہ جو افسانے میں بیان کیے گئے چھ اہم مراحل کا خلاصہ دکھاتا ہے۔
مختصر سوالات و جوابات
مداری لال اور سدھ چندر کے درمیان کیا تعلق تھا؟
دونوں پرانے ہم جماعت تھے، مگر مداری لال سدھ چندر سے اسکول کے زمانے سے حسد رکھتے تھے۔
سدھ چندر کی تعیناتی پر مداری لال کیوں پریشان ہوئے؟
کیونکہ وہ ڈرتے تھے کہ سدھ چندر ماضی کی دشمنی کا بدلہ لے گا۔
سدھ چندر نے دفتر کے عملے پر کیسا اثر ڈالا؟
اپنی خوش اخلاقی اور عاجزی سے اس نے جلد ہی سب کا دل جیت لیا۔
مداری لال نے کتنی رقم چرائی؟
انھوں نے پانچ ہزار روپے کا پلندہ چرا کر چھپا دیا۔
سدھ چندر نے خودکشی کیوں کی؟
بھاری رقم کا انتظام نہ ہو سکنے اور بدنامی کے خوف سے مجبور ہو کر انھوں نے خودکشی کر لی۔
مداری لال نے اپنی زیادتی کا کفارہ کیسے ادا کیا؟
انھوں نے بیوہ اور بچوں کو اپنے گھر لے جا کر دس سال تک ان کی کفالت کی۔
سدھ چندر کی بیٹی کی شادی کہاں ہوئی؟
اس کی شادی ایک ممتاز اور معزز خاندان میں ہوئی۔
افسانے کا عنوان ‘کفارہ’ کیوں رکھا گیا؟
کیونکہ مداری لال ساری زندگی اپنے گناہ کا کفارہ خدمت کے پردے میں چھپا کر ادا کرتے رہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
افسانہ ‘کفارہ’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔
افسانے کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟
مداری لال کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا پرانا حریف سدھ چندر نیا سیکرٹری بن کر آ رہا ہے، جس سے وہ خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔
مداری لال نے جرم کیسے کیا؟
موقع پا کر انھوں نے سیکرٹری کی میز سے پانچ ہزار روپے چرا کر چھپا دیے اور شک کسی باہر والے پر ڈال دیا۔
جرم کا انجام کیا ہوا؟
رقم نہ ملنے پر پریشان اور بدنام ہونے کے خوف سے سدھ چندر نے خودکشی کر لی۔
افسانے کا اختتام کیسے ہوتا ہے؟
مداری لال ندامت کے باعث بیوہ اور بچوں کی زندگی بھر کفالت کر کے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرتے ہیں۔
منشی پریم چند کی شخصیت اور فن کا مختصر جائزہ پیش کریں۔
پریم چند کے ابتدائی حالاتِ زندگی کیا تھے؟
وہ 1880ء میں گاؤں لمہی (ضلع بنارس) میں پیدا ہوئے اور 1919ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کیا۔
انھوں نے سرکاری ملازمت کیوں چھوڑی؟
1921ء میں گاندھی جی کی تحریکِ عدم تعاون سے متاثر ہو کر انھوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔
ان کے فن کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
وہ حقیقت نگاری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں اور دیہاتی زندگی اور معاشرتی مسائل کو سادہ زبان میں بیان کرتے ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف کون سی ہیں؟
ان کی مشہور تصانیف میں پریم چالیسی، سوزِ وطن، بازارِ حسن اور گودان شامل ہیں۔
معروضی سوالات (MCQs)
منشی پریم چند کب پیدا ہوئے؟ (الف) 1870ء (ب) 1880ء (ج) 1890ء (د) 1900ء
درست جواب: (ب) 1880ء۔ پریم چند 31 جولائی 1880ء کو گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔
پریم چند کا اصل نام کیا تھا؟ (الف) دھنپت رائے (ب) پریم ناتھ (ج) منشی رام (د) سدھ چندر
درست جواب: (الف) دھنپت رائے۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔
پریم چند نے سرکاری ملازمت سے استعفیٰ کب دیا؟ (الف) 1911ء (ب) 1919ء (ج) 1921ء (د) 1930ء
درست جواب: (ج) 1921ء۔ انھوں نے 1921ء میں تحریکِ عدم تعاون سے متاثر ہو کر استعفیٰ دیا۔
مداری لال اور سدھ چندر کا آپس میں کیا رشتہ تھا؟ (الف) رشتہ دار (ب) پرانے ہم جماعت (ج) پڑوسی (د) کاروباری شریک
درست جواب: (ب) پرانے ہم جماعت۔ دونوں پرانے ہم جماعت تھے۔
مداری لال نے سیکرٹری کی میز سے کتنی رقم چرائی؟ (الف) دو ہزار روپے (ب) تین ہزار روپے (ج) پانچ ہزار روپے (د) دس ہزار روپے
درست جواب: (ج) پانچ ہزار روپے۔ انھوں نے پانچ ہزار روپے کا پلندہ چرایا۔
سدھ چندر نے خودکشی کیوں کی؟ (الف) بیماری کے باعث (ب) رقم کے نقصان اور بدنامی کے خوف سے (ج) خاندانی جھگڑے سے (د) ملازمت چھوٹنے سے
درست جواب: (ب) رقم کے نقصان اور بدنامی کے خوف سے۔ بھاری رقم کا انتظام نہ ہونے اور بدنامی کے خوف سے انھوں نے خودکشی کی۔
مداری لال نے اپنی زیادتی کا کفارہ کیسے ادا کیا؟ (الف) معافی مانگ کر (ب) بیوہ اور بچوں کی کفالت کر کے (ج) استعفیٰ دے کر (د) عدالت میں اعتراف کر کے
درست جواب: (ب) بیوہ اور بچوں کی کفالت کر کے۔ انھوں نے بیوہ اور بچوں کو اپنے گھر لے جا کر ان کی کفالت کی۔
سدھ چندر کی بیٹی کی شادی کیسے خاندان میں ہوئی؟ (الف) غریب خاندان میں (ب) معزز خاندان میں (ج) دیہاتی خاندان میں (د) بیرونِ ملک خاندان میں
درست جواب: (ب) معزز خاندان میں۔ اس کی شادی ایک ممتاز اور معزز خاندان میں ہوئی۔
‘حروفِ ندا’ کس موقع پر استعمال ہوتے ہیں؟ (الف) تعریف کے وقت (ب) کسی کو پکارنے کے وقت (ج) افسوس کے وقت (د) خوشی کے وقت
درست جواب: (ب) کسی کو پکارنے کے وقت۔ حروفِ ندا کسی کو آواز دینے یا پکارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے امی، اے، یا۔
‘آہ’ اور ‘افسوس’ کس قسم کے حروف ہیں؟ (الف) حروفِ تحسین (ب) حروفِ انبساط (ج) حروفِ تاسف (د) حروفِ نفرین
درست جواب: (ج) حروفِ تاسف۔ آہ اور افسوس جیسے الفاظ حروفِ تاسف ہیں، جو غم کے موقع پر بولے جاتے ہیں۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- منشی پریم چند (1880ء-1936ء، اصل نام دھنپت رائے): گاؤں لمہی میں پیدائش، 1921ء میں ملازمت سے استعفیٰ، 1936ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی صدارت۔
- اہم تصانیف: پریم چالیسی، سوزِ وطن، بازارِ حسن، گودان۔ ‘کفارہ’ مجموعے ‘پریم چالیسی’ سے ماخوذ ہے۔
- کہانی کے چھ مراحل: حسد و خوف، سدھ چندر کی خوش اخلاقی، چوری کا منصوبہ، رقم کا غائب ہونا، خودکشی، بیوہ و بچوں کی کفالت۔
- مداری لال نے پانچ ہزار روپے چرائے؛ کفارے کے طور پر دس سال تک بیوہ اور بچوں کی کفالت کی۔
- مرکزی خیال: حسد کی تباہ کاری اور ضمیر کی خلش سے جنم لینے والی خاموش توبہ و کفارہ۔
- قواعد: حروفِ ندا، تحسین، نفرین، انبساط اور تاسف کی تعریفیں اور مثالیں یاد رکھیں۔
امتحانی نکات
- افسانے کے خلاصے کے لیے چھ مراحل کو ترتیب وار مختصر جملوں میں یاد رکھیں۔
- پریم چند کی اہم تاریخیں (پیدائش، استعفیٰ، وفات) اور تصانیف کے نام الگ سے یاد رکھیں۔
- ‘کفارہ’ کا ماخذ (پریم چالیسی) اور اس کی صنف (افسانہ) امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہے۔
- حروف کی پانچوں اقسام (ندا، تحسین، نفرین، انبساط، تاسف) کو مثالوں کے ساتھ یاد رکھیں۔
- اہم الفاظ کے معنی (نیتِ برگزیدہ، دیرینہ خلش وغیرہ) یاد رکھیں کیونکہ یہ سیاق و سباق کے سوالات میں پوچھے جا سکتے ہیں۔