سبق 10: بابل کے کھنڈر (Babal ke Khandar (Jameel-ud-Din Aali))
یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے دسویں سبق ‘بابل کے کھنڈر’ پر مبنی ہیں، جو جمیل الدین عالی کے سفر نامے ‘دنیا مرے آگے’ سے لیا گیا ایک اقتباس ہے۔
یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں واقعہ وار خلاصہ، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
جمیل الدین عالی کا خاندانی نام مرزا جمیل الدین احمد خاں تھا؛ ‘عالی’ تخلص کرتے تھے اور اسی نام سے معروف ہوئے۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ نواب علاء الدین احمد خاں (مرزا غالب کے شاگرد اور قریبی رشتے دار) کے پوتے اور نواب امیر الدین احمد خاں کے فرزند تھے۔ 1944ء میں اینگلو عربک کالج، دہلی سے بی اے کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی آ گئے۔
1951ء میں سی ایس پی (موجودہ سی ایس ایس) کا امتحان پاس کیا اور کئی برس اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کام کیا۔ 1967ء سے 1988ء تک نیشنل بینک آف پاکستان کے نائب صدر رہے۔ روزنامہ ‘جنگ’ میں برسوں کالم لکھتے رہے، پاکستان رائٹرز گلڈ کے بانیوں میں شامل تھے، اور 1962ء سے طویل عرصے تک انجمن ترقی اردو پاکستان کے اعزازی معتمد رہے۔ اردو سائنس بورڈ، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور مقتدرہ قومی زبان کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن بھی رہے، اور 1997ء سے 2003ء تک سینٹ کے ممبر رہے۔
شاعری میں ‘غزلیں، دوہے، گیت’ اور ‘جیوے جیوے پاکستان’، جب کہ نثر میں سفر نامے ‘دنیا مرے آگے’ اور ‘تماشا میرے آگے’ خاص طور پر معروف ہیں۔ انھیں 1991ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس اور 2004ء میں ہلالِ امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔ 23 نومبر 2015ء کو کراچی میں وفات پائی۔
اہم اصطلاحات
آپ بیتی
کسی شخص کا اپنی زندگی کے اہم واقعات کو دل چسپ انداز میں خود تحریر کرنا آپ بیتی کہلاتا ہے؛ یہ ہمیشہ متعلقہ شخصیت کی اپنی لکھی ہوتی ہے، کوئی دوسرا شخص نہیں لکھتا۔ اردو کی مشہور آپ بیتیوں میں شہاب نامہ، زر گزشت اور مٹی کا دیا شامل ہیں۔
سفر نامہ
وہ تحریر جس میں مصنف کسی سفر کے دوران اپنے مشاہدات اور پیش آنے والے واقعات کو دل چسپ انداز میں پیش کرتا ہے، سفر نامہ کہلاتی ہے۔ ماضی میں سفر نامے صرف جغرافیائی و تاریخی معلومات تک محدود ہوتے تھے، اب ان میں دیگر اصنافِ ادب کے عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔
یادداشت
کسی طے شدہ معاملے یا معاہدے پر عمل درآمد اور یاد دہانی کی غرض سے خاص نکات پر مبنی تحریر یادداشت کہلاتی ہے۔
معلوماتی رپورٹ
وہ تحریر جو کسی خاص موضوع کے بارے میں دوسروں تک معلومات پہنچانے کے لیے قلم بند کی جائے، معلوماتی رپورٹ کہلاتی ہے۔
سبق کا تعارف
زیرِ نصاب اقتباس جمیل الدین عالی کے سفر نامے ‘دنیا مرے آگے’ سے لیا گیا ہے، جس میں وہ اپنے ساتھی میر خلیل الرحمن کے ہمراہ عراق کے قدیم شہر بابل کے کھنڈرات کی سیر کا احوال بیان کرتے ہیں، اور بابل کی تاریخ، عروج و زوال اور اس سے جڑی روایات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
واقعہ وار خلاصہ
سفر کا آغاز اور راستے کی گفتگو
کوفہ سے بابل کی طرف روانگی ہوتی ہے، جو موٹر سے تقریباً دو گھنٹے اور بغداد سے پینتالیس پچاس میل کے فاصلے پر ہے۔ مصنف اور ان کے ساتھی میر خلیل الرحمن پرانے زمانے کے شاہانہ قافلوں اور آج کے سادہ سفر کا موازنہ کرتے ہیں۔
بابل کی قدامت اور حمورابی کا دور
بابل کی قدامت کے بارے میں کتابِ مقدس سے لے کر یونانی سیاح ہیرودوٹس اور جرمن ماہرینِ آثارِ قدیم تک بے شمار روایتیں ملتی ہیں۔ ہاروت و ماروت کی داستان بیان ہوتی ہے، اور اٹھارھویں صدی قبل مسیح میں حمورابی کی قانون سازی کا ذکر آتا ہے جس کی وجہ سے اسے پہلا قانون دہندہ کہا جاتا ہے۔
بختِ نصر کا دور اور بابل کی تعمیرِ نو
حمورابی کا بابل سولہویں صدی قبل مسیح میں حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ ہوا، مگر ساتویں صدی قبل مسیح میں بختِ نصر نے چالیس سالہ حکومت میں اسے دوبارہ عروج پر پہنچایا۔ بختِ نصر کے دہریہ ہونے کے باعث اس کی موت کے بعد جلد ہی ایرانی شہنشاہ سائرس نے بابل پر قبضہ کر لیا۔
عراقی گائیڈ کا بختِ نصر کو للکارنا
کھنڈرات کے درمیان کھڑا ہو کر عراقی گائیڈ بختِ نصر کی روح کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی فوجیں، اس کا جاہ و جلال سب ختم ہو گیا، جب کہ وہ خود ایک عام آدمی ہو کر بھی زندہ ہے۔ مصنف اس منظر سے متاثر ہو کر موت اور یادگار کے فرق پر غور کرتے ہیں، اور اپنے حالیہ زیارتِ کربلا کا حوالہ دیتے ہیں۔
بابِ عشتار اور شاہی محلات
عشتار دیوی سے منسوب باب عشتار سرخ اینٹوں سے بنا اور ارغوانوں و بیلوں کی تصویروں سے مزین ایک شان دار دروازہ ہے، جہاں سے ایک شاہراہِ جلوس نصف میل تک جاتی ہے۔ اس کے قریب تیرہ ایکڑ پر پھیلے شاہی محلات کا علاقہ ہے جس میں دار بابل (دیوان) بھی شامل تھا۔
زوالِ بابل کی پیشین گوئی اور اختتامی تاثرات
روایت کے مطابق دار بابل کی دیوار پر ایک پراسرار ہاتھ نے بابل کے زوال کی پیشین گوئی لکھی تھی، جسے تاریخ کی ایک مستقل حقیقت قرار دیا جاتا ہے۔ مصنف کھنڈروں کے قریب واقع ایک چھوٹے عجائب خانے میں قدیم بابل کا نمونہ دیکھ کر یہ سوچ کر عبرت محسوس کرتے ہیں کہ آج کے سیاح بھی ایک دن ماضی بن جائیں گے۔
مرکزی خیال
اس سبق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیاوی اقتدار، شان و شوکت اور ظلم عارضی ہوتے ہیں، جب کہ عام انسان کی زندگی اور نیک کام ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں — جیسا کہ عراقی گائیڈ کا بختِ نصر جیسے جابر بادشاہ کا مذاق اڑانا ظاہر کرتا ہے کہ موت طاقت ور اور کمزور، سب کو برابر کر دیتی ہے، اور صرف وہی لوگ یاد رہ جاتے ہیں جنھوں نے دوسروں کے لیے کچھ کیا ہو۔
اہم الفاظ کے معنی
جاہ و جلال
شان و شوکت، عظمت و رعب۔
شایانِ نمود
نمائش اور دکھاوے کے قابل، شاندار۔
بامِ عروج
عروج کی انتہا، بلندی کی چوٹی۔
مطلق العنان
خود مختار حکمران، جسے کوئی روکنے والا نہ ہو۔
عروج و زوال
بلندی اور پستی، ترقی اور تنزلی کا سلسلہ۔
دجلہ و فرات
عراق کے دو مشہور دریا، جن کے درمیان قدیم بابل واقع تھا۔
بوق و قرنا
بگل اور نرسنگا جیسے پرانے باجوں کی آوازیں۔
طرزِ تحریر
لکھنے کا انداز و اسلوب۔
خبوطِ الحواس
ذہنی توازن کا بگڑ جانا، سنک یا دیوانگی۔
قدامت
پرانا پن، دیرینگی۔
خاکہ
بابل کے کھنڈر: سفر کے اہم مراحل: ایک خاکہ جو سفر نامے کے اقتباس میں بیان کیے گئے چھ اہم مراحل کا خلاصہ دکھاتا ہے۔
مختصر سوالات و جوابات
بابل کی قدامت کے بارے میں کیا بیان ہوا ہے؟
بے شمار روایتیں، اندازے اور انکشافات کتابِ مقدس سے لے کر ہیرودوٹس جیسے یونانی سیاحوں اور بیسویں صدی کے جرمن ماہرینِ آثارِ قدیم کی کتابوں تک ملتے ہیں۔
بابل میں دو فرشتوں کو کیوں الٹا لٹکایا گیا تھا؟
روایت کے مطابق ہاروت و ماروت کو بابل کی بداعمالیوں کی نگرانی کے لیے بھیجا گیا تھا، مگر وہ خود اسی آزمائش میں پھنس گئے اور اسی سزا کے طور پر انھیں لٹکایا گیا۔
بغداد اور بابل کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟
بغداد سے بابل کا فاصلہ تقریباً پینتالیس پچاس میل ہے، موٹر سے تقریباً دو گھنٹے کا راستہ۔
حمورابی کون تھا اور اس کا کارنامہ کیا سمجھا جاتا ہے؟
حمورابی اٹھارھویں صدی قبل مسیح کا بابلی شہنشاہ تھا جس نے معاشرے کے لیے دستور اور قوانین مرتب کیے، اسی لیے اسے پہلا قانون دہندہ کہا جاتا ہے۔
بابل کے کوئی دو حیرت انگیز پہلو بیان کریں۔
بابِ عشتار کی شان دار تعمیر اور نقش و نگار، اور دار بابل کی دیوار پر لکھی زوالِ بابل کی پیشین گوئی۔
سائرس کا تعلق کس ملک سے تھا؟
سائرس ایران کا شہنشاہ تھا۔
سلطنتِ بابل و نینوا کی کھدائی کے دوران کن چیزوں کے آثار ملے؟
اینٹوں پر کندہ جانوروں اور انسان نما مخلوقات کی تصویریں، وضاحتی علامات، اور شہر کی تعمیرات کے نمونے ملے۔
سبق ‘بابل کے کھنڈر’ جمیل الدین عالی کی کس کتاب سے لیا گیا ہے؟
یہ سبق ان کے سفر نامے ‘دنیا مرے آگے’ سے لیا گیا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
سبق ‘بابل کے کھنڈر’ میں بیان کیے گئے مصنف کے مشاہدات اور تاثرات کو تفصیل سے بیان کریں۔
مصنف بابل تک کیسے پہنچے اور راستے میں کیا گفتگو ہوئی؟
مصنف کوفہ سے موٹر کے ذریعے بابل پہنچے، اور راستے میں اپنے ساتھی میر خلیل الرحمن کے ساتھ پرانے زمانے کے شاہانہ سفر اور آج کے سادہ سفر کا موازنہ کیا۔
عراقی گائیڈ نے بختِ نصر کو کس انداز میں للکارا؟
گائیڈ نے کھنڈرات کے درمیان کھڑے ہو کر بختِ نصر کی روح سے کہا کہ اس کی فوجیں اور جاہ و جلال ختم ہو چکے، جب کہ وہ خود ایک عام آدمی ہو کر بھی زندہ ہے۔
بابِ عشتار اور شاہی محلات کا منظر کیسا تھا؟
بابِ عشتار سرخ اینٹوں اور اژدھوں و بیلوں کی تصویروں سے مزین ایک شان دار دروازہ تھا، جس سے ملحق تیرہ ایکڑ پر پھیلے شاہی محلات کا علاقہ تھا۔
سبق کے اختتام پر مصنف کے تاثرات کیا تھے؟
قریبی عجائب خانے میں قدیم بابل کا نمونہ دیکھ کر مصنف نے یہ سوچ کر عبرت محسوس کی کہ آج کے سیاح بھی ایک دن ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔
بابل کی تاریخی اہمیت اور اس کے عروج و زوال پر روشنی ڈالیں۔
حمورابی کا دور اور اس کی قانون سازی کیا اہمیت رکھتی ہے؟
حمورابی نے اٹھارھویں صدی قبل مسیح میں معاشرتی حقوق و فرائض پر مبنی دستور و قوانین مرتب کیے، جس کی وجہ سے اسے پہلا قانون دہندہ کہا جاتا ہے۔
بختِ نصر نے بابل کو دوبارہ کیسے آباد کیا؟
بختِ نصر نے چالیس سال حکومت کر کے دجلہ و فرات کے درمیان اس زرخیز شہر کو دوبارہ تہذیب و تعمیر کی بلندی پر پہنچایا۔
بابل کا زوال کن مراحل سے گزرا؟
پہلے حمورابی کا بابل سولہویں صدی قبل مسیح میں حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ ہوا؛ بعد میں بختِ نصر کے دہریہ ہونے کے باعث اس کی موت کے بعد سائرس نے بابل پر قبضہ کر لیا۔
بابل کے کھنڈرات آج ہمیں کیا سبق دیتے ہیں؟
یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیاوی اقتدار اور شان و شوکت عارضی ہے، اور صرف وہی یاد رکھے جاتے ہیں جنھوں نے دوسروں کے لیے کچھ کیا ہو۔
معروضی سوالات (MCQs)
بابل دو دریاؤں کے درمیان واقع ہے: (الف) دجلہ اور بغداد کے (ب) فرات اور کوفہ کے (ج) دجلہ اور فرات کے (د) کوفہ اور بغداد کے
درست جواب: (ج) دجلہ اور فرات کے۔ بابل دجلہ اور فرات کے درمیان واقع ہے۔
شاہی محلات کا علاقہ پھیلا ہوا تھا: (الف) دس ایکڑ زمین میں (ب) بارہ ایکڑ زمین میں (ج) تیرہ ایکڑ زمین میں (د) پندرہ ایکڑ زمین میں
درست جواب: (ج) تیرہ ایکڑ زمین میں۔ شاہی محلات کا علاقہ تیرہ ایکڑ زمین میں پھیلا ہوا تھا۔
عراقی گائیڈ تھا: (الف) بیزار (ب) سنجیدہ (ج) کمزور (د) خبوط الحواس
درست جواب: (د) خبوط الحواس۔ عراقی گائیڈ خبوط الحواس (سنکی) طبیعت کا حامل تھا۔
بختِ نصر تھا: (الف) یہودی (ب) مسیحی (ج) زرتشتی (د) دہریہ
درست جواب: (د) دہریہ۔ بختِ نصر دہریہ تھا، یعنی خدا یا دیوتاؤں کو نہیں مانتا تھا۔
بابل میں سکندرِ اعظم نے جشن منایا: (الف) تین دن (ب) تین راتیں (ج) تین دن، تین راتیں (د) پانچ دن، پانچ راتیں
درست جواب: (ج) تین دن، تین راتیں۔ سکندرِ اعظم نے بابل میں تین دن، تین رات جشن منایا۔
ہیرودوٹس تھا: (الف) رومی سیاح (ب) عراقی سیاح (ج) یونانی سیاح (د) جرمن سیاح
درست جواب: (ج) یونانی سیاح۔ ہیرودوٹس ایک یونانی سیاح تھا۔
بابل کو دوبارہ بامِ عروج پر پہنچایا: (الف) بیرونی حملہ آوروں نے (ب) سکندرِ اعظم نے (ج) حمورابی نے (د) بختِ نصر نے
درست جواب: (د) بختِ نصر نے۔ بختِ نصر نے بابل کو دوبارہ بامِ عروج پر پہنچایا۔
سبق ‘بابل کے کھنڈر’ کی صنف ہے: (الف) افسانہ (ب) سفر نامہ (ج) خاکہ (د) انشائیہ
درست جواب: (ب) سفر نامہ۔ یہ سبق ایک سفر نامے کا اقتباس ہے۔
حمورابی نے کس صدی قبل مسیح میں دستور و قوانین بنائے؟ (الف) دسویں صدی (ب) بارہویں صدی (ج) اٹھارھویں صدی (د) بیسویں صدی
درست جواب: (ج) اٹھارھویں صدی۔ حمورابی نے اٹھارھویں صدی قبل مسیح میں دستور و قوانین مرتب کیے۔
بابِ عشتار کس دیوی سے منسوب ہے؟ (الف) عشتار دیوی (ب) اشتار دیوی (ج) عطا دیوی (د) عزیزہ دیوی
درست جواب: (الف) عشتار دیوی۔ بابِ عشتار عشتار دیوی سے منسوب ہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- جمیل الدین عالی (1925ء-2015ء): پیدائش دہلی، بی اے اینگلو عربک کالج دہلی (1944ء)، سی ایس پی امتحان پاس (1951ء)، نائب صدر نیشنل بینک آف پاکستان (1967ء-1988ء)۔
- اہم تصانیف: سفر نامے ‘دنیا مرے آگے’ اور ‘تماشا میرے آگے’؛ شاعری میں ‘غزلیں، دوہے، گیت’ اور ‘جیوے جیوے پاکستان’۔
- سفر کے چھ مراحل: کوفہ سے روانگی، حمورابی کا دور، بختِ نصر کی تعمیرِ نو، گائیڈ کا بختِ نصر کو للکارنا، بابِ عشتار و شاہی محلات، زوال کی پیشین گوئی۔
- حمورابی: اٹھارھویں صدی قبل مسیح کا بابلی شہنشاہ اور پہلا قانون دہندہ۔ بختِ نصر: چالیس سال حکومت کرنے والا دہریہ بادشاہ جس نے بابل کو دوبارہ آباد کیا۔
- مرکزی خیال: دنیاوی اقتدار عارضی ہے، صرف نیک کام اور خدمتِ خلق ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔
- اصطلاحات: آپ بیتی، سفر نامہ، یادداشت اور معلوماتی رپورٹ کی تعریفیں اور فرق یاد رکھیں۔
امتحانی نکات
- سفر کے خلاصے کے لیے چھ مراحل کو ترتیب وار مختصر جملوں میں یاد رکھیں۔
- جمیل الدین عالی کی اہم تاریخیں اور تصانیف الگ سے یاد رکھیں۔
- حمورابی اور بختِ نصر کے کارناموں کا فرق امتحان میں اکثر پوچھا جاتا ہے۔
- ‘آپ بیتی’ اور ‘سفر نامہ’ کا فرق مثال کے ساتھ یاد رکھیں۔
- بابِ عشتار اور شاہی محلات سے متعلق اعداد و شمار (رقبہ، فاصلہ) لفظ بہ لفظ یاد رکھیں۔