سبق 3: اخلاقِ نبوی ﷺ (Akhlaq-e-Nabawi (Shibli Nomani))
یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے تیسرے سبق ‘اخلاقِ نبوی ﷺ’ پر مبنی ہیں، جس کے مصنف معروف عالم و محقق شبلی نعمانی ہیں۔ یہ سبق نثر کی صنف میں ہے اور اس میں نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کو آپ ﷺ کے قریبی ساتھیوں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔
یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں اقتباس وار خلاصہ، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی، قواعد و انشاء کے نکات (جمعوں کی اقسام، مضمون نویسی) اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
مصنف کا تعارف
شبلی نعمانی 1857ء میں ضلع اعظم گڑھ (بھارت) کے گاؤں بندول میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ شبلی نے بھی کچھ عرصہ وکالت کی، پھر علی گڑھ کالج میں فارسی و عربی کے استاد مقرر ہوئے، جہاں انھیں سر سید احمد خاں، حالی اور پروفیسر آرنلڈ کی صحبت میسر آئی۔ 1892ء میں آرنلڈ کے ساتھ انھوں نے مصر، شام اور قسطنطنیہ سمیت دیگر اسلامی علاقوں کا سفر کیا۔
سر سید کی وفات (1898ء) کے بعد شبلی نے علی گڑھ کالج سے استعفیٰ دے دیا اور حیدرآباد دکن کے دائرۃ المعارف کی نظامت سنبھالی۔ بعد ازاں لکھنؤ میں ندوۃ العلماء کے شعبہ تعلیمات کی نظامت بھی ان کے سپرد رہی۔ زندگی کے آخری برسوں میں انھوں نے اعظم گڑھ میں ایک اہم علمی ادارہ ‘دارالمصنفین’ قائم کیا، جو آج بھی علمی خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ 18 نومبر 1914ء کو اعظم گڑھ میں انتقال کر گئے۔
شبلی نعمانی شاعر بھی تھے، مگر ان کی شہرت کا مدار زیادہ تر نثر پر ہے، اور ان کا شمار اردو کے بڑے نثر نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے تاریخ، تنقید، سیرت، تذکرہ اور تصوف جیسے متنوع موضوعات پر قلم اٹھایا؛ جوشِ بیان، ایجاز و اختصار اور تحقیقی انداز ان کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ نبی کریم ﷺ کی سیرت پر لکھی گئی کتاب ‘سیرۃ النبی’ ہے (جو ان کی وفات کے بعد سید سلیمان ندوی نے مکمل کی)۔ دیگر اہم تصانیف میں ‘شعر العجم’ (پانچ جلدیں)، ‘الفاروق’، ‘المامون’، ‘سیرۃ النعمان’ اور ‘الغزالی’ شامل ہیں۔
قواعد و انشاء کے نکات
جمع سالم
جب کسی واحد سے جمع بنائی جائے اور واحد کی اصل صورت قائم رہے تو ایسی جمع ‘جمع سالم’ کہلاتی ہے، جیسے: باغ سے باغات، مکان سے مکانات۔
جمع مکسر (غیرِ سالم)
وہ جمع جس میں واحد کی اصل صورت قائم نہیں رہتی، ‘جمع مکسر’ کہلاتی ہے، جیسے: کتاب سے کتب، امت سے امم۔
جمع الجمع
بعض الفاظ کی جمع بنا کر پھر دوبارہ جمع بنائی جاتی ہے؛ اس صورت کو ‘جمع الجمع’ کہا جاتا ہے، جیسے: خبر سے اخبار، پھر اخبار سے اخبارات۔
مضمون
کسی مقررہ موضوع پر اپنے خیالات، جذبات اور تاثرات کا تحریری اظہار ‘مضمون’ کہلاتا ہے، جس میں تعارف، وضاحت اور نتیجہ کی ترتیب ہوتی ہے۔
مضمون کی اقسام
مضمون کی کئی قسمیں ہیں، مثلاً: علمی، تاریخی، تنقیدی، سوانحی، فلسفیانہ، سائنسی، اصلاحی، مذہبی اور ادبی مضمون۔
سبق کا تعارف
زیرِ نصاب سبق میں شبلی نعمانی نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کو خود آپ ﷺ کے قریب ترین ساتھیوں کی گواہیوں کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ مصنف کا استدلال ہے کہ کسی شخص کے اخلاق و عادات سے اس کے قریبی رفقاء سے بڑھ کر کوئی واقف نہیں ہو سکتا، اسی لیے حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ہند بن ابی ہالہؓ کی گواہیاں نقل کی گئی ہیں۔
اقتباس وار خلاصہ
حضرت خدیجہؓ کی گواہی
حضرت خدیجہؓ، جو نبوت سے پہلے اور بعد تقریباً پچیس برس تک آپ ﷺ کی رفیقۂ حیات رہیں، آغازِ وحی کے موقع پر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی رنجیدہ نہیں کرے گا، کیونکہ آپ ﷺ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرتے ہیں، مقروضوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، حق کی حمایت کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آتے ہیں۔
حضرت عائشہؓ کی گواہی
حضرت عائشہؓ کے مطابق نبی کریم ﷺ کبھی کسی کو برا بھلا نہیں کہتے تھے، برائی کے بدلے درگزر اور معافی سے کام لیتے تھے، اور دو باتوں میں سے ہمیشہ آسان بات کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے کبھی ذاتی معاملے میں انتقام نہیں لیا، اور کسی مسلمان کو نام لے کر لعنت نہیں کی، نہ ہی کبھی کسی خادم یا جانور کو ہاتھ سے مارا۔
حضرت علیؓ کی گواہی
حضرت علیؓ، جو طویل عرصہ آپ ﷺ کے قریب رہے، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نرم خو، مہربان طبع اور کشادہ دل تھے، عیب جو نہ تھے، اور اپنے نفس سے بحث و مباحثہ، فضول گفتگو اور بے مقصد باتوں کو دور رکھا تھا۔ آپ ﷺ کسی کو برا نہیں کہتے تھے، کسی کی عیب گیری نہیں کرتے تھے، اور صحابہ کرامؓ آپ ﷺ کا ذکر ہوتے ہی خاموشی سے، سر جھکائے سنتے تھے۔
حضرت ہند بن ابی ہالہؓ کی گواہی
حضرت ہند بن ابی ہالہؓ، جو گویا آپ ﷺ کی آغوش میں پرورش پائے تھے، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جو کھانا سامنے آتا تناول فرماتے اور اسے برا نہیں کہتے تھے۔ حق کی مخالفت پر آپ ﷺ کو غصہ آ جاتا تھا، مگر ذاتی معاملے میں کبھی غصہ نہیں آیا اور نہ کبھی انتقام لیا۔
مرکزی خیال
اس سبق کا مرکزی خیال یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کی سب سے مستند گواہی وہ لوگ دے سکتے ہیں جو آپ ﷺ کے قریب ترین رہے۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ہند بن ابی ہالہؓ کی گواہیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ درگزر، رحم دلی، سادگی، صبر اور اعتدال کا مجسمہ تھے — اور یہی اوصاف ہر مسلمان کے لیے عملی نمونہ ہیں۔
اہم الفاظ کے معنی
صلہ رحمی
رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا، ان کے حقوق ادا کرنا۔
خدمتِ زوجیت
بیوی کے طور پر ساتھ نبھانا، ازدواجی رفاقت۔
درگزر
معاف کر دینا، چشم پوشی کرنا۔
انتقام
بدلہ لینا۔
اخلاقِ مبارکہ
بابرکت عادات و اطوار۔
تحمل
برداشت، بردباری۔
راست گو
سچ بولنے والا۔
صراحتاً
کھل کر، واضح طور پر۔
عیب گیری
دوسروں کے عیب تلاش کرنا، نکتہ چینی۔
مرعوب
دبا ہوا، متاثر ہو کر خوف زدہ۔
خاکہ
چار گواہوں کی گواہیاں: ایک خاکہ جو سبق میں بیان کی گئی چاروں شخصیات کی گواہیوں کا خلاصہ دکھاتا ہے۔
مختصر سوالات و جوابات
سبق کے متن کے مطابق کن شخصیات نے نبی کریم ﷺ کے حسنِ اخلاق کی گواہی دی ہے؟
سبق میں حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ اور حضرت ہند بن ابی ہالہؓ کی گواہیاں بیان کی گئی ہیں۔
حضرت خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ کو کن باتوں کی بنا پر تسلی دی؟
حضرت خدیجہؓ نے کہا کہ آپ ﷺ صلہ رحمی کرتے ہیں، مقروضوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں، اس لیے اللہ آپ ﷺ کو کبھی رنجیدہ نہیں کرے گا۔
حضرت عائشہؓ کے مطابق نبی کریم ﷺ برائی کا جواب کیسے دیتے تھے؟
حضرت عائشہؓ کے مطابق آپ ﷺ برائی کے بدلے برائی نہیں کرتے تھے، بلکہ درگزر اور معافی سے کام لیتے تھے۔
حضرت علیؓ نے آپ ﷺ کی کن تین عادتوں کا ذکر کیا؟
حضرت علیؓ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے اپنے نفس سے بحث و مباحثہ، ضرورت سے زیادہ بات کرنا اور بے مقصد گفتگو کو دور کر دیا تھا۔
حضرت ہند بن ابی ہالہؓ نے آپ ﷺ کے کھانے کی عادت کے بارے میں کیا بتایا؟
انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ جو کھانا سامنے آتا تناول فرماتے اور اسے کبھی برا نہیں کہتے تھے۔
جمع سالم کسے کہتے ہیں؟ ایک مثال دیں۔
جس جمع میں واحد کی اصل صورت قائم رہے، وہ جمع سالم کہلاتی ہے، جیسے باغ سے باغات۔
جمع الجمع کسے کہتے ہیں؟ ایک مثال دیں۔
جب کسی جمع کی دوبارہ جمع بنائی جائے تو اسے جمع الجمع کہتے ہیں، جیسے خبر سے اخبار اور پھر اخبار سے اخبارات۔
مضمون کسے کہتے ہیں؟
کسی مقررہ موضوع پر خیالات، جذبات اور تاثرات کے تحریری اظہار کو مضمون کہتے ہیں۔
تفصیلی سوالات و جوابات
سبق ‘اخلاقِ نبوی ﷺ’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔
سبق کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
سبق کا بنیادی مقصد نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کو آپ ﷺ کے قریبی ساتھیوں کی زبانی، مستند انداز میں پیش کرنا ہے۔
حضرت خدیجہؓ اور حضرت عائشہؓ کی گواہیوں میں کیا مشترک ہے؟
دونوں گواہیاں آپ ﷺ کی رحم دلی، درگزر اور دوسروں کی مدد کے جذبے کو اجاگر کرتی ہیں۔
حضرت علیؓ اور حضرت ہند بن ابی ہالہؓ کی گواہیوں میں کیا نمایاں ہے؟
یہ گواہیاں آپ ﷺ کی سادگی، اعتدال اور غصے پر قابو رکھنے کی عادت کو نمایاں کرتی ہیں۔
سبق سے طلبہ کو کیا سبق ملتا ہے؟
طلبہ کو سبق ملتا ہے کہ درگزر، رحم دلی، سادگی اور صبر جیسی صفات اپنا کر ایک بہتر انسان بنا جا سکتا ہے۔
شبلی نعمانی کی شخصیت اور علمی خدمات کا مختصر جائزہ پیش کریں۔
شبلی نعمانی کے ابتدائی حالاتِ زندگی کیا تھے؟
وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے گاؤں بندول میں پیدا ہوئے اور بعد میں علی گڑھ کالج میں فارسی و عربی کے استاد مقرر ہوئے۔
سر سید کی وفات کے بعد ان کی مصروفیات کیا رہیں؟
سر سید کی وفات کے بعد انھوں نے علی گڑھ سے استعفیٰ دے کر حیدرآباد دکن کے دائرۃ المعارف کی نظامت سنبھالی، پھر ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تعلیمی نظامت بھی کی۔
ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ کیا ہے؟
ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ نبی کریم ﷺ کی سیرت پر لکھی گئی کتاب ‘سیرۃ النبی’ ہے۔
ان کا ادبی مقام کیا ہے؟
شبلی نعمانی کا شمار اردو کے بڑے نثر نگاروں میں ہوتا ہے، اور ان کا اسلوب جوشِ بیان، ایجاز و اختصار اور تحقیقی انداز کے لیے مشہور ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
شبلی نعمانی کب پیدا ہوئے؟ (الف) 1847ء (ب) 1857ء (ج) 1867ء (د) 1877ء
درست جواب: (ب) 1857ء۔ شبلی نعمانی 1857ء میں پیدا ہوئے۔
شبلی نعمانی کا انتقال کس سن میں ہوا؟ (الف) 1904ء (ب) 1914ء (ج) 1924ء (د) 1934ء
درست جواب: (ب) 1914ء۔ ان کا انتقال 18 نومبر 1914ء کو اعظم گڑھ میں ہوا۔
شبلی نعمانی نے علی گڑھ کالج میں کیا پڑھایا؟ (الف) ریاضی (ب) فارسی و عربی (ج) انگریزی (د) تاریخ
درست جواب: (ب) فارسی و عربی۔ وہ علی گڑھ کالج میں فارسی و عربی کے استاد تھے۔
شبلی نعمانی نے کس شہر میں ‘دارالمصنفین’ قائم کیا؟ (الف) لکھنؤ (ب) دہلی (ج) اعظم گڑھ (د) حیدرآباد
درست جواب: (ج) اعظم گڑھ۔ انھوں نے اعظم گڑھ میں دارالمصنفین قائم کیا۔
شبلی نعمانی کا سب سے بڑا علمی کارنامہ کون سی کتاب ہے؟ (الف) الفاروق (ب) سیرۃ النبی (ج) الغزالی (د) المامون
درست جواب: (ب) سیرۃ النبی۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ‘سیرۃ النبی’ ہے۔
سبق میں کن کی گواہی سب سے پہلے بیان کی گئی ہے؟ (الف) حضرت عائشہؓ (ب) حضرت خدیجہؓ (ج) حضرت علیؓ (د) حضرت ہند بن ابی ہالہؓ
درست جواب: (ب) حضرت خدیجہؓ۔ سبق میں سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ کی گواہی بیان کی گئی ہے۔
حضرت عائشہؓ کے مطابق آپ ﷺ برائی کا جواب کیسے دیتے تھے؟ (الف) برائی سے (ب) خاموشی سے (ج) درگزر اور معافی سے (د) غصے سے
درست جواب: (ج) درگزر اور معافی سے۔ آپ ﷺ برائی کے بدلے درگزر اور معافی سے کام لیتے تھے۔
‘جمع سالم’ کی مثال کون سی ہے؟ (الف) کتاب سے کتب (ب) باغ سے باغات (ج) خبر سے اخبارات (د) امت سے امم
درست جواب: (ب) باغ سے باغات۔ ‘باغ سے باغات’ جمع سالم کی مثال ہے، جس میں واحد کی اصل صورت قائم رہتی ہے۔
‘کتاب سے کتب’ کس قسم کی جمع کی مثال ہے؟ (الف) جمع سالم (ب) جمع مکسر (ج) جمع الجمع (د) جمع مؤنث
درست جواب: (ب) جمع مکسر۔ ‘کتاب سے کتب’ جمع مکسر کی مثال ہے، جس میں واحد کی اصل صورت قائم نہیں رہتی۔
مضمون کی کتنی بنیادی خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟ (الف) دو (ب) تین (ج) چار (د) پانچ
درست جواب: (ج) چار۔ مضمون کی تین بنیادی خصوصیات بیان کی گئی ہیں: تعارف، وضاحت اور نتیجہ۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- شبلی نعمانی (1857ء-1914ء): اعظم گڑھ کے گاؤں بندول میں پیدائش، علی گڑھ کالج میں فارسی و عربی کے استاد، دائرۃ المعارف حیدرآباد کے ناظم، بانیِ دارالمصنفین اعظم گڑھ۔
- سب سے بڑا کارنامہ: ‘سیرۃ النبی’۔ دیگر تصانیف: شعر العجم، الفاروق، المامون، سیرۃ النعمان، الغزالی۔
- سبق میں چار گواہیاں: حضرت خدیجہؓ (صلہ رحمی و مہمان نوازی)، حضرت عائشہؓ (درگزر و معافی)، حضرت علیؓ (نرم خوئی و اعتدال)، حضرت ہند بن ابی ہالہؓ (سادگی و ضبطِ نفس)۔
- قواعد: جمع سالم (باغ-باغات)، جمع مکسر (کتاب-کتب)، جمع الجمع (خبر-اخبار-اخبارات)۔
- مضمون کی خصوصیات: تعارف، وضاحت، نتیجہ؛ اقسام: علمی، تاریخی، تنقیدی، سوانحی، مذہبی وغیرہ۔
- مرکزی خیال: نبی کریم ﷺ کے اخلاقِ مبارکہ کی سب سے مستند گواہی آپ ﷺ کے قریب ترین ساتھی دے سکتے ہیں۔
امتحانی نکات
- امتحان میں ‘پیراگراف کی تشریح’ کے سوال کے لیے متن کے کسی بھی اقتباس کا مفہوم اپنے الفاظ میں لکھنے کی مشق کریں۔
- چاروں گواہوں کے نام اور ہر ایک کی گواہی کا مرکزی نکتہ الگ الگ یاد رکھیں تاکہ مختصر سوالات میں الجھن نہ ہو۔
- جمع سالم، جمع مکسر اور جمع الجمع کی تعریفات اور مثالیں اچھی طرح یاد رکھیں — یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھی جاتی ہیں۔
- شبلی نعمانی کی اہم تاریخیں (پیدائش، دارالمصنفین کا قیام، وفات) یاد رکھیں۔
- مضمون کی تعریف، خصوصیات اور اقسام کو سمجھیں کیونکہ یہ انشاء کے سوالات میں کام آتا ہے۔