Islamiat Class 11 Chapter 7: Islami Taleemat aur Asr-e-Hazir ke Taqaze Notes (Urdu Medium)

یہ باب تین اہم موضوعات پر مشتمل ہے: قانون کی پاسداری کی اہمیت، نظامِ اسلام کی نشانیوں (منصوبہ بندی، خود انصاری اور علمی ترقی) میں مسلمانوں کی ذمہ داریاں، اور اسلاموفوبیا کے تدارک میں ہمارا کردار۔

اس باب کا مقصد طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک ذمہ دار شہری اور بہتر مسلمان بنانا ہے۔

تعلیمی مقاصد

  • قانون کی پاسداری کے مفہوم، اہمیت اور اس کے معاشرتی فوائد کو سمجھنا
  • عہدِ رسالت ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی روشنی میں قانون کی پاسداری کی مثالیں جاننا
  • منصوبہ بندی، خود انصاری اور علمی ترقی کے اسلامی تصور اور ان کی عملی مثالوں سے آگاہی حاصل کرنا
  • اسلاموفوبیا کے مفہوم، اسباب اور اس کے تدارک میں مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریوں کو سمجھنا
  • 'پیغام پاکستان' کی روشنی میں اتحاد و اتفاق اور اسلام کے حقیقی چہرے کو اجاگر کرنے کی اہمیت کو جاننا

کلیدی تصورات

قانون کی پاسداری

قانون کی پاسداری سے مراد کسی ضابطہ حیات پر عمل درآمد کرنا اور اپنے طرزِ زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا ہے۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے وہاں امن و سکون اور معاشرتی فلاح و بہبود کو فروغ ملتا ہے۔ اسلام قانون کی پاسداری کو لازم قرار دیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ' یعنی 'اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے صاحبِ اختیار ہیں' (سورۃ النساء: 59)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'اگر تم پر ایک غلام بھی امیر بنا دیا جائے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی اطاعت کرو' (صحیح مسلم: 1298)۔

قانون کی پاسداری کی تاکید اس واقعے سے بھی عیاں ہے کہ ایک عورت کے چوری کرنے پر نبی کریم ﷺ نے سزا جاری فرمائی اور سفارش کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا کہ بنی اسرائیل اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ امیر کو سزا سے بری کر دیتے مگر غریب پر سزا نافذ کرتے (سنن نسائی: 4901)۔ نبی کریم ﷺ صاحبِ اختیار ہونے کے باوجود کبھی اپنے لیے کوئی خصوصی مراعات طلب نہ فرماتے اور نہ بادشاہوں جیسی شان و شوکت پسند فرماتے، بلکہ سادگی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے خطبۂ خلافت میں فرمایا: 'جب تک میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا رہوں، میری اطاعت تم پر لازم ہے۔' حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عدل کے ایسے داعی تھے کہ سفر میں اپنے غلام کے ساتھ باری باری سواری پر سوار ہوتے اور خود بھی عدالت میں پیش ہونے سے دریغ نہ کرتے۔

قوانین کی پاسداری اس بات کی ضمانت فراہم کرتی ہے کہ معاشرے کے ہر رکن کو اس کے حقوق میسر ہوں۔ اس سے امن و سکون، عدل و انصاف، معاشی خوش حالی اور اخلاقی اقدار کو فروغ ملتا ہے اور معاشرتی رذائل کا قلع قمع ہوتا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں ٹیکسز کی ادائیگی، ٹریفک قوانین کی پابندی، سرکاری تنصیبات کی حفاظت، عوامی مقامات اور اپنی گلی محلے کی صفائی کا خیال رکھنا اور کمزور ہم وطنوں کی مدد کرنا جیسے اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

نظامِ اسلام کی نشانیاں: منصوبہ بندی اور خود انصاری

اسلام دنیا و آخرت دونوں کی کامیابی کا ضامن ہے: 'رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً' یعنی 'اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما' (سورۃ البقرۃ: 201)۔ نظامِ اسلام کی نشانیوں سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کا حق بھی ادا کیا جائے۔

منصوبہ بندی سے مراد آنے والے وقت کے لیے تیاری کرنا اور وسائل کا بہتر استعمال ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'وَلَا تُسْرِفُوا' یعنی 'اور بے جا خرچ نہ کرو' (سورۃ الانعام: 141)، اور 'وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ' یعنی 'اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے قوت مہیا رکھو' (سورۃ الانفال: 60)۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کو قحط سے محفوظ رکھنے کے لیے شان دار منصوبہ بندی کی۔ منصوبہ بندی نبی کریم ﷺ کی سنت بھی ہے — غزوہ خندق میں مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے خندق کھدوائی گئی، اور ہجرتِ مدینہ کا واقعہ بھی آپ ﷺ کی مستقبل کی منصوبہ بندی کی روشن مثال ہے۔

خود انصاری کا مطلب ہے کہ انسان خود محنت کرے اور دوسروں کے سہارے پر نہ رہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ' یعنی 'اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے' (سورۃ النجم: 39)، اور 'إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ' یعنی 'اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے' (سورۃ الرعد: 11)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'جس نے دن بھر کی محنت سے تھک کر رات گزاری، وہ رات اس کے لیے مغفرت کی رات ہے' (کنز العمال: 9215)۔ محنت سے روزی کمانا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔

نظامِ اسلام کی نشانیاں: علمی ترقی

مکمل اسلامی نظامِ تعلیم وہ ہے جس میں روحانی اور مادی، دونوں طرح کے مفید علوم پڑھائے جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: 'اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا وَرِزْقًا طَيِّبًا' یعنی 'اے اللہ! میں تجھ سے علمِ نافع، مقبول عمل اور پاکیزہ رزق کا سوال کرتا ہوں' (سنن ابن ماجہ: 925)۔ علمِ نافع میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی، زبان دانی، معاشرت اور معیشت کا علم بھی شامل ہے۔

مسلمان سائنس دانوں نے علم کے میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں: طبیب و فلسفی ابن سینا کی کتاب 'القانون'، جاحظ کی 'کتاب الحیوان' اور ابوالقاسم الزہراوی کی جراحت پر مشہور کتاب 'التصریف لمن عجز عن التالیف' کئی صدیوں تک یورپ میں نصابی کتب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔ حکیم عمر خیام نے شمسی تقویم مرتب کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابوریحان البیرونی جیسے نامور سیاح اور سائنس دان نے سورج و چاند کی گردش، سورج گرہن اور سیاروں کے بارے میں غیر معمولی سائنسی معلومات فراہم کیں۔ خوارزمی پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے علمِ حساب اور الجبرا کو الگ الگ کر کے الجبرا کو منطقی انداز میں پیش کیا۔

اسلاموفوبیا کا مفہوم اور اسباب

فوبیا کا لغوی معنی خوف یا ڈر ہے، جب کہ اصطلاحاً یہ کسی چیز یا صورتِ حال کے بارے میں غیر معقول اور شدید خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلاموفوبیا سے مراد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بلاوجہ خوف زدہ ہونا اور غیر حقیقت پسندانہ خطرہ محسوس کرنا ہے۔ یہ اسلام اور اہلِ اسلام کے بارے میں تعصب اور منفی جذبات پر مبنی ایک رجحان ہے۔

یہ اصطلاح خصوصاً مغربی معاشرے میں نائن الیون کے واقعے کے بعد کثرت سے استعمال ہونے لگی، جب اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر منفی انداز میں پیش کیا گیا اور اسلام کے تصورِ جہاد کو بھی غلط رنگ دیا گیا۔ اس منفی پروپیگنڈے کے نتیجے میں مسلمانوں کو نقاب چھننے، مساجد پر حملوں اور قرآن مجید کی بے حرمتی جیسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ حالاں کہ کسی بھی مذہب کی مقدسات کی توہین ایک عالمی جرم اور بقائے باہمی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اسلاموفوبیا کو ایک عالمی مسئلہ تسلیم کیا گیا ہے، چنانچہ اقوام متحدہ میں 15 مارچ کو مسلمانوں سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ 2019ء میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملے (جس میں اکیاون مسلمان شہید ہوئے) کے بعد اقوام متحدہ میں قرارداد کی منظوری سے ہوا۔ 15 مارچ 2024ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی پیش کردہ ایک قرارداد بھی منظور کی، جس میں دنیا بھر کے ممالک سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پر قابو پانے کے اقدامات کرنے کو کہا گیا۔

مسلمانوں کی ذمہ داریاں اور پیغامِ پاکستان

مغربی میڈیا کے منفی کردار کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی باہمی لڑائیاں بھی اسلاموفوبیا کے اسباب میں شامل ہیں۔ اسی لیے ریاستِ پاکستان کی طرف سے 2018ء میں 'پیغامِ پاکستان' کے عنوان سے ایک متفقہ بیانیہ جاری کیا گیا، جس کے ساتھ 1800 سے زائد علماء کرام کے دستخطوں سے ایک متفقہ فتویٰ بھی جاری کیا گیا جس میں اسلام کے تصورِ جہاد کی درست وضاحت کی گئی، دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کی گئی اور قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی گئی۔

مسلم نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں، نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر حملوں کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں اور آپ ﷺ کی رواداری پر مبنی سیرت کو اجاگر کریں — جیسے آپ ﷺ نے یہودیانِ مدینہ کے ساتھ 'میثاقِ مدینہ' کی صورت میں امن کا معاہدہ کر کے مدینہ منورہ کو ایک پرامن ریاست بنایا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ باہمی احترام کو فروغ دیں، مسلم معاشروں میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں اور جذباتی ردعمل کے بجائے بصیرت اور مکالمے سے کام لیں۔

اہم تعریفات

قانون کی پاسداری سے کیا مراد ہے؟

کسی بھی ضابطہ حیات یا ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنا اور اپنے طرزِ زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا قانون کی پاسداری کہلاتا ہے۔

منصوبہ بندی کی تعریف کریں۔

آنے والے وقت کے لیے تیاری کرنا اور اپنے وسائل کا بہتر استعمال کرنا منصوبہ بندی کہلاتا ہے۔

خود انصاری کیا ہے؟

انسان کا خود محنت اور کوشش کرنا اور دوسروں کے سہارے پر نہ رہنا خود انصاری کہلاتا ہے۔

علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟

ہر وہ علم جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے، علمِ نافع کہلاتا ہے۔

اسلاموفوبیا کی تعریف کریں۔

اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بلاوجہ خوف زدہ ہونا اور غیر حقیقت پسندانہ خطرہ محسوس کرنا اسلاموفوبیا کہلاتا ہے۔

پیغامِ پاکستان کیا ہے؟

ریاستِ پاکستان کی جانب سے 2018ء میں جاری کیا گیا وہ متفقہ بیانیہ جس میں دہشت گردی کی مذمت اور اسلام کے تصورِ جہاد کی درست وضاحت کی گئی۔

اہم حقائق و خلاصہ جدول

عنوانخلاصہ
سورۃ النساء: 59اطاعتِ الٰہی، اطاعتِ رسول ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم
سورۃ الانفال: 60دشمن کے مقابلے کے لیے وسائل تیار رکھنے کا حکم
سورۃ النجم: 39انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے
عالمی یومِ مقابلہ اسلاموفوبیا15 مارچ (اقوامِ متحدہ)
کرائسٹ چرچ مسجد حملہ2019ء، نیوزی لینڈ — 51 مسلمان شہید
پیغامِ پاکستان2018ء — 1800 سے زائد علماء کرام کا متفقہ فتویٰ

خاکہ جات

قانون کی پاسداری کے ثمرات: امن و سکون، عدل و انصاف، معاشی خوش حالی اور اخلاقی اقدار کا خاکہ

Qanoon ki Pasdari Samrat - Islamiat 11 Chapter 7 Diagram

نظامِ اسلام کی نشانیاں: منصوبہ بندی، خود انصاری اور علمی ترقی — تینوں نشانیوں کا خاکہ

Nizam-e-Islam ki Nishaniyan - Islamiat 11 Chapter 7 Diagram

مختصر سوالات و جوابات

قانون کی پاسداری کی تعریف تحریر کریں۔

کسی ضابطہ حیات یا ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرنا اور اپنے طرزِ زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا قانون کی پاسداری کہلاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے معاشرتی بربادی کی بڑی وجہ کسے قرار دیا؟

امیر کو سزا سے بری کر دینا اور غریب پر سزا نافذ کرنا — یعنی قانون میں امتیازی سلوک — معاشرتی بربادی کی بڑی وجہ ہے۔

منصوبہ بندی کی کوئی سی ایک قرآنی مثال تحریر کریں۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کو قحط سے بچانے کے لیے شان دار منصوبہ بندی کی۔

خود انصاری سے متعلق ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیں۔

'وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ' — انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے (سورۃ النجم: 39)۔

علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟

ہر وہ علم جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے، علمِ نافع کہلاتا ہے، جس میں دینی و دنیاوی دونوں علوم شامل ہیں۔

اسلاموفوبیا کی دو صورتیں تحریر کریں۔

مساجد پر حملے اور نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس پر حملے اسلاموفوبیا کی دو نمایاں صورتیں ہیں۔

پیغامِ پاکستان کا بنیادی مقصد بیان کریں۔

دہشت گردی کی مذمت اور قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے تصورِ جہاد کی درست وضاحت پیغامِ پاکستان کا بنیادی مقصد ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

قانون کی پاسداری کے فوائد پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔

قانون کی پاسداری معاشرتی امن، عدل و انصاف اور خوش حالی کی ضامن ہے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے کبھی خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود عدالت میں پیش ہوتے اور احتساب کے لیے تیار رہتے۔ قانون کی پاسداری سے معاشرے میں ہر فرد کو اس کے حقوق میسر آتے ہیں، معاشی خوش حالی فروغ پاتی ہے اور رذائل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں ٹیکس کی ادائیگی، ٹریفک قوانین کی پابندی اور سرکاری املاک کی حفاظت جیسے فرائض ادا کرنے چاہئیں۔

نظامِ اسلام کی نشانی کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر تفصیل سے روشنی ڈالیں۔

نظامِ اسلام کی نشانیوں کے لیے منصوبہ بندی، خود انصاری اور علمی ترقی بنیادی ستون ہیں۔ منصوبہ بندی نبی کریم ﷺ کی سنت ہے، جیسا کہ غزوہ خندق اور ہجرتِ مدینہ کے واقعات سے ظاہر ہے۔ خود انصاری کا درس قرآن مجید نے دیا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ علمی ترقی کے میدان میں مسلمان سائنس دانوں — ابن سینا، الزہراوی، خوارزمی، البیرونی اور عمر خیام — نے دنیا کو گراں قدر علمی خدمات دیں۔ ان تینوں اصولوں پر عمل کر کے مسلمان دوبارہ عزت و عظمت حاصل کر سکتے ہیں۔

اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے عنوان پر بحث کریں۔

اسلاموفوبیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غیر حقیقت پسندانہ خوف اور تعصب کا نام ہے، جو خصوصاً نائن الیون کے بعد مغربی معاشرے میں فروغ پایا۔ اس کے نتیجے میں مساجد پر حملے، نقاب چھننا اور قرآن مجید کی بے حرمتی جیسے واقعات پیش آئے۔ اقوامِ متحدہ نے 15 مارچ کو مسلمانوں سے نفرت کے خلاف عالمی دن قرار دیا ہے۔ پاکستان نے 'پیغامِ پاکستان' کے ذریعے دہشت گردی کی مذمت اور اسلام کے حقیقی تصورِ جہاد کی وضاحت کی۔ مسلم نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مکالمے، رواداری اور مثبت کردار کے ذریعے اسلام کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔

معروضی سوالات (MCQs)

حقوق و شرائط کا توازن قائم رہتا ہے: (الف) ایثار و قربانی سے (ب) صبر و تحمل سے (ج) عدل و انصاف سے (د) باہمی ہمدردی سے

درست جواب: (ج) عدل و انصاف سے۔ حقوق و فرائض کا توازن عدل و انصاف کے قیام سے برقرار رہتا ہے۔

معاشرتی امن و سکون اور فلاح و بہبود کی ضامن ہے: (الف) قانون کی حکمرانی (ب) عوام کی معاشی ترقی (ج) مذہبی آزادی (د) گردشِ دولت

درست جواب: (الف) قانون کی حکمرانی۔ قانون کی حکمرانی معاشرتی امن و سکون اور فلاح و بہبود کی ضامن ہے۔

نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق بنی اسرائیل کی تباہی کی وجہ تھی: (الف) قانون کی خلاف ورزی (ب) فضول خرچی (ج) ملاوٹ (د) رشوت خوری

درست جواب: (الف) قانون کی خلاف ورزی۔ بنی اسرائیل امیر و غریب میں امتیازی سلوک یعنی قانون کی خلاف ورزی کے باعث ہلاک ہوئے۔

انسان کا اپنے آپ کو مستقبل کے لیے تیار کرنا کہلاتا ہے: (الف) خود انصاری (ب) منصوبہ بندی (ج) احتساب (د) وصیت

درست جواب: (ب) منصوبہ بندی۔ مستقبل کے لیے تیاری کرنے کو منصوبہ بندی کہا جاتا ہے۔

ابن سینا کی مشہور کتاب کا نام ہے: (الف) کتاب الحیوان (ب) القانون (ج) التصریف لمن عجز عن التالیف (د) احیاء العلوم

درست جواب: (ب) القانون۔ ابن سینا کی طب پر مشہور کتاب 'القانون' ہے۔

مشہور مسلم سائنس دان خوارزمی کا کارنامہ ہے: (الف) الجبرا اور حساب کو الگ کرنا (ب) آلاتِ جراحی وضع کرنا (ج) شمسی تقویم مرتب کرنا (د) زمین کا محیط ناپنا

درست جواب: (الف) الجبرا اور حساب کو الگ کرنا۔ خوارزمی نے علمِ حساب اور الجبرا کو الگ الگ کر کے الجبرا کو منطقی انداز میں پیش کیا۔

غزوہ خندق میں اہلِ مدینہ کے محفوظ رہنے کی وجہ تھی: (الف) منصوبہ بندی (ب) مالی قوت (ج) عسکری طاقت (د) جوشِ شہادت

درست جواب: (الف) منصوبہ بندی۔ خندق کھودنے کی منصوبہ بندی سے اہلِ مدینہ مشرکین کے حملے سے محفوظ رہے۔

اقوامِ متحدہ میں مسلمانوں سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے: (الف) 15 جنوری (ب) 15 فروری (ج) 15 مارچ (د) 15 اپریل

درست جواب: (ج) 15 مارچ۔ اقوامِ متحدہ میں 15 مارچ کو مسلمانوں سے نفرت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔

'پیغامِ پاکستان' کے نام سے دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ جاری ہوا: (الف) 2015 میں (ب) 2016 میں (ج) 2017 میں (د) 2018 میں

درست جواب: (د) 2018 میں۔ 'پیغامِ پاکستان' 2018ء میں جاری کیا گیا۔

نبی کریم ﷺ کی رواداری کی روشن مثال ہے: (الف) ہجرتِ مدینہ منورہ (ب) میثاقِ مدینہ (ج) مواخاتِ مدینہ (د) حلف الفضول

درست جواب: (ب) میثاقِ مدینہ۔ نبی کریم ﷺ نے یہودیانِ مدینہ کے ساتھ 'میثاقِ مدینہ' کی صورت میں امن کا معاہدہ کیا۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • قانون کی پاسداری: ضابطہ حیات پر عمل درآمد؛ اسلام میں اطاعتِ الٰہی، رسول ﷺ اور اولی الامر کا حکم
  • خلفائے راشدین: قانون کی پاسداری کی روشن مثالیں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا احتساب و عدل)
  • منصوبہ بندی: حضرت یوسف علیہ السلام (قحط سے بچاؤ)، غزوہ خندق، ہجرتِ مدینہ
  • خود انصاری: محنت و کوشش کا قرآنی درس؛ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت
  • علمی ترقی: ابن سینا (القانون)، الزہراوی (التصریف)، خوارزمی (الجبرا)، البیرونی، عمر خیام
  • اسلاموفوبیا: اسلام و مسلمانوں کے بارے میں غیر حقیقی خوف؛ نائن الیون کے بعد فروغ
  • 15 مارچ: اقوامِ متحدہ کا عالمی یومِ مقابلہ اسلاموفوبیا؛ کرائسٹ چرچ سانحہ 2019ء
  • پیغامِ پاکستان 2018ء: دہشت گردی کی مذمت، 1800+ علماء کا متفقہ فتویٰ

امتحانی نکات

  • پیئرنگ اسکیم کے مطابق باب ہفتم سے 1 معروضی سوال پوچھا جاتا ہے
  • Q.3 میں باب چہارم تا ہفتم کے 8 سوالات میں سے 5 کا انتخاب کر کے 10 نمبر کے جوابات لکھنے ہوتے ہیں
  • قرآنی آیات کے حوالہ جات (سورۃ النساء: 59، سورۃ النجم: 39 وغیرہ) درست ترتیب سے یاد رکھیں
  • مسلمان سائنس دانوں کے نام اور ان کی کتابوں کا جوڑا بنا کر یاد کریں
  • پیغامِ پاکستان اور اسلاموفوبیا سے متعلق تاریخی تاریخیں (2018، 2019، 15 مارچ) ذہن نشین کریں