یہ باب نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ زندگی کے ہر شعبے کے لیے کامل نمونہ ہے۔ اس باب میں نبی کریم ﷺ کو بطور سربراہِ خاندان، سربراہِ ریاست، سپہ سالار اور معاشی تعلیمات کے معلم کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔
اس باب کا مطالعہ طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ خاندانی، سیاسی، عسکری اور معاشی زندگی کے ہر پہلو کے لیے راہ نما اصول فراہم کرتی ہے۔
تعلیمی مقاصد
- نبی کریم ﷺ کے بطور سربراہِ خاندان کردار اور خاندان کے مختلف افراد سے حسنِ سلوک کو سمجھنا
- نبی کریم ﷺ کے بطور سربراہِ ریاست ریاستِ مدینہ کے قیام، نظم و نسق اور خارجہ پالیسی کو جاننا
- نبی کریم ﷺ کے بطور سپہ سالار اوصاف اور آدابِ جہاد کو سمجھنا اور جہاد و دہشت گردی میں فرق واضح کرنا
- نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات — کسبِ حلال، ارتکازِ دولت کی مذمت اور سود کی حرمت — سے آگاہی حاصل کرنا
- سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں شامل کرنا
کلیدی تصورات
نبی کریم ﷺ بطور مثالی سربراہِ خاندان
نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ایک اہم پہلو آپ ﷺ کی خاندانی زندگی ہے۔ آپ ﷺ نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نصیحت فرمائی کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگو اور اسی سے مدد طلب کرو۔ اپنے سوتیلے بیٹے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کو کھانے کے آداب سکھائے: بسم اللہ پڑھنا اور دائیں ہاتھ سے اپنے سامنے سے کھانا۔
آپ ﷺ خاندان کے بزرگوں کا بے حد احترام فرماتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حصہ ہے' (سنن ابی داؤد: 4843)۔ اپنی ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: 'تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں' (جامع ترمذی: 3895)۔ آپ ﷺ اپنی بیٹیوں سے بھی بے پناہ محبت فرماتے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے آنے پر خود کھڑے ہو کر استقبال فرماتے۔
آپ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور اپنی نواسی حضرت امامہ رضی اللہ عنہا سمیت خاندان کے تمام بچوں کے ساتھ شفقت کا برتاؤ فرمایا۔ نبی کریم ﷺ نے صلہ رحمی کی بہت تاکید فرمائی: 'جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور عمر میں برکت ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے' (صحیح بخاری: 5985)۔
نبی کریم ﷺ بطور مثالی سربراہِ ریاست
نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد ریاستِ مدینہ کی بنیاد رکھی۔ اس کے قیام کے لیے تین بنیادی اقدامات کیے: مواخاتِ مدینہ (مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ)، میثاقِ مدینہ (یہود اور دیگر قبائل کے ساتھ تحریری امن معاہدہ) اور مسجدِ نبوی کی تعمیر، جسے ریاستی امور کی مرکزی حیثیت دی گئی۔
آپ ﷺ کی حکمتِ عملی کے بنیادی عناصر میں اشاعتِ اسلام (صفہ کو باقاعدہ درس گاہ بنانا)، احترامِ انسانیت (غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی حفاظت) اور ریاست کا مؤثر نظم و نسق شامل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے، اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا' (صحیح بخاری: 893)۔ آپ ﷺ نے گورنر مقرر کیے (مثلاً حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا) اور سرکاری ملازمین کے لیے ضرورت کے مطابق تنخواہ کا نظام قائم کیا۔
خارجہ پالیسی میں آپ ﷺ نے دیگر قبائل و ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے اور مختلف بادشاہوں کو اسلام کی دعوت پر مبنی خطوط ارسال فرمائے۔ میثاقِ مدینہ کو آپ ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ بطور مثالی سپہ سالار
نبی کریم ﷺ ایک بے مثال سپہ سالار تھے جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ آپ ﷺ کی فتوحات کا راز ایمانی قوت، شجاعت، بہترین منصوبہ بندی اور جنگی رازداری میں پوشیدہ تھا۔ آپ ﷺ نے تقریباً اٹھائیس غزوات میں اسلامی لشکر کی قیادت فرمائی، مگر آپ ﷺ ہمیشہ لڑائی سے حتی الامکان گریز کرتے اور صلح کو ترجیح دیتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 'وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ' (سورۃ الانفال: 61) یعنی 'اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہو جائیں اور اللہ پر بھروسا کریں'۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ ﷺ نے چودہ سو جانثار صحابہ کرام کی موجودگی کے باوجود لڑائی کی بجائے دشمن کی شرائط پر صلح کو ترجیح دی، جو آپ ﷺ کی امن پسندی کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ اہم مواقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرتے تھے، جیسے غزوۂ احد میں نوجوان صحابہ کے مشورے پر عمل کیا اور غزوۂ خندق میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی رائے پر خندق کھودی گئی۔
آپ ﷺ نے آدابِ جنگ سکھائے: بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا، قیدیوں سے حسنِ سلوک کرنا، مقتولین کی بے حرمتی نہ کرنا، عبادت گاہوں اور سرسبز درختوں کو نقصان نہ پہنچانا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنے جانی دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ جہاد کا مقصد ہمیشہ کمزوروں کا دفاع، مظلوموں کی مدد اور دین کی سربلندی رہا، ذاتی مفاد یا لوگوں کو خوف زدہ کرنا ہرگز نہیں — یہی وہ بنیادی اصول ہے جو اسلام کے تصورِ جہاد کو دہشت گردی سے واضح طور پر ممتاز کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کا رازق ہے اور ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق جائز ذریعے سے رزق کما سکتا ہے، بشرطیکہ شریعت کی حدود کا خیال رکھا جائے۔ کسبِ حلال کے تین بڑے ذرائع ہیں: تجارت، زراعت اور ہنر مندی۔ نبی کریم ﷺ نے خود تجارت فرمائی اور دیانت دار تاجر کی بہت فضیلت بیان فرمائی: 'سچا اور دیانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا' (جامع ترمذی: 1209)۔
زراعت کو بھی کسبِ حلال کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا: 'جو مسلمان کوئی درخت یا کھیت لگائے اور اس سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے' (صحیح بخاری: 2320)۔ ہنر مندی بھی حلال روزی کا معزز ذریعہ ہے — نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کی محنت کی کمائی کو بہترین کمائی قرار دیا۔
اسلام کا معاشی نظام ارتکازِ دولت کی سختی سے مذمت کرتا ہے، یعنی دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہو کر معاشرے کے فائدے سے محروم رہ جانا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: 'وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ' (سورۃ التوبہ: 34) یعنی 'جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجیے'۔ زکوٰۃ، عشر، صدقات اور میراث کی منصفانہ تقسیم دولت کی گردش کو یقینی بناتے ہیں۔
قرآن مجید میں سود کو صریح طور پر حرام اور اللہ تعالیٰ و اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے (سورۃ البقرہ: 278-279)۔ اسلام ذخیرہ اندوزی (اشیائے ضروریہ کو مہنگے داموں فروخت کرنے کے لیے روک رکھنا) سے بھی سختی سے منع کرتا ہے۔ تجارت میں ملاوٹ اور دھوکا دہی کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: 'جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں' (صحیح مسلم: 102)۔ ان تعلیمات پر عمل سے معاشرے میں معاشی توازن اور دیانت داری فروغ پاتی ہے۔
اہم تعریفات
مواخاتِ مدینہ سے کیا مراد ہے؟
نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار کے درمیان جو رشتہ اخوت قائم فرمایا، اسے مواخاتِ مدینہ کہتے ہیں۔
میثاقِ مدینہ کیا ہے؟
مدینہ منورہ میں بسنے والے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان طے پانے والا تحریری امن معاہدہ جس نے ریاستِ مدینہ کو منظم کیا۔
سپہ سالار کے بنیادی اوصاف بیان کریں۔
دور اندیشی، تدبر، جنگی مہارت، نظم و ضبط کا قیام، سپاہیوں کی حوصلہ افزائی اور بہادری کا مظاہرہ سپہ سالار کے بنیادی اوصاف ہیں۔
جہاد اور دہشت گردی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
جہاد کا مقصد دفاع، مظلوموں کی مدد اور دین کی سربلندی ہے جب کہ دہشت گردی کا مقصد ذاتی مفاد، لوگوں کو خوف زدہ کرنا اور ناجائز قبضہ ہے۔
ارتکازِ دولت سے کیا مراد ہے؟
دولت کا چند ہاتھوں یا مخصوص طبقے میں جمع ہو جانا اور دوسروں تک اس کے فوائد کا نہ پہنچنا ارتکازِ دولت کہلاتا ہے۔
ذخیرہ اندوزی کی تعریف کریں۔
اشیائے ضروریہ کو مہنگے داموں بیچنے کے لیے روک کر رکھنا ذخیرہ اندوزی کہلاتا ہے۔
کسبِ حلال کے تین بڑے ذرائع کون سے ہیں؟
تجارت، زراعت اور ہنر مندی کسبِ حلال کے تین بڑے ذرائع ہیں۔
اہم حقائق و خلاصہ جدول
| عنوان | خلاصہ |
|---|---|
| ریاستِ مدینہ کی بنیاد کے تین اقدامات | مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ، تعمیرِ مسجدِ نبوی |
| نبی کریم ﷺ کی قیادت میں غزوات | تقریباً اٹھائیس (28) غزوات |
| آدابِ جنگ | بوڑھوں، بچوں، عورتوں کا قتل ممنوع؛ قیدیوں سے حسنِ سلوک؛ عبادت گاہوں کا احترام |
| کسبِ حلال کے ذرائع | تجارت، زراعت، ہنر مندی |
| معاشی برائیاں جن سے اسلام نے منع کیا | سود، ارتکازِ دولت، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، رشوت |
خاکہ جات
نبی کریم ﷺ کے چار کردار: سربراہِ خاندان، سربراہِ ریاست، سپہ سالار اور معلمِ معیشت کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کے کردار کا خاکہ

ریاستِ مدینہ کی بنیاد: مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ اور مسجدِ نبوی — ریاستِ مدینہ کے قیام کے تین بنیادی اقدامات

مختصر سوالات و جوابات
نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو کیا نصیحت فرمائی؟
نبی کریم ﷺ نے انہیں سکھایا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی سے مانگو اور اسی سے مدد طلب کرو۔
ریاستِ مدینہ کے قیام کے کوئی سے دو بنیادی اقدامات بیان کریں۔
مواخاتِ مدینہ (مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ) اور میثاقِ مدینہ (یہود کے ساتھ تحریری امن معاہدہ)۔
بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ کے دو اوصاف لکھیں۔
بہترین منصوبہ بندی اور جنگی رازوں کی مکمل حفاظت آپ ﷺ کے نمایاں اوصاف تھے۔
صلح حدیبیہ میں نبی کریم ﷺ کے کردار کو بیان کریں۔
چودہ سو جانثار صحابہ کی موجودگی کے باوجود آپ ﷺ نے لڑائی کی بجائے دشمن کی شرائط پر صلح کو ترجیح دی، جو امن پسندی کا مظہر ہے۔
قیدیوں سے حسنِ سلوک کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات تحریر کریں۔
آپ ﷺ نے قیدیوں پر ظلم و تشدد سے منع فرمایا اور صحابہ کرام کو ان کے ساتھ رحم دلی اور نرمی کا حکم دیا۔
اسلامی معاشی نظام کے کوئی سے دو اصول بیان کریں۔
اللہ تعالیٰ کو رازق ماننا اور ارتکازِ دولت کی مذمت اسلامی معاشی نظام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔
اسلام میں سود کی مذمت کس طرح بیان کی گئی ہے؟
قرآن مجید میں سود کو حرام اور اللہ تعالیٰ و اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔
زراعت سے متعلق اسلامی تعلیمات تحریر کریں۔
درخت یا کھیت لگانا صدقہ ہے؛ اگر اس سے کوئی پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو یہ کاشتکار کے لیے اجر کا باعث بنتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
سربراہِ خاندان کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کے مثالی کردار پر جامع نوٹ لکھیں۔
نبی کریم ﷺ نے بطور سربراہِ خاندان بچوں کی تربیت، بزرگوں کے احترام، ازواج سے حسنِ سلوک اور اولاد سے محبت کی بہترین مثالیں قائم کیں۔ آپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ پر توکل سکھایا، بزرگوں کی تعظیم کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا حصہ قرار دیا، اور فرمایا کہ سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔ آپ ﷺ کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ خاندان کے ہر فرد کے حقوق کا خیال رکھنا اور صلہ رحمی کرنا، خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کی بنیاد ہے۔
سربراہِ ریاست کی حیثیت سے نبی کریم ﷺ کے کارناموں پر روشنی ڈالیں۔
نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے بعد مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ اور مسجدِ نبوی کی تعمیر کے ذریعے ریاستِ مدینہ کی مضبوط بنیاد رکھی۔ داخلی طور پر آپ ﷺ نے امن، تعلیم اور نظم و نسق کو یقینی بنایا، جب کہ خارجی طور پر سفارتی تعلقات استوار کیے اور اسلام کی دعوت دنیا بھر کے حکمرانوں تک پہنچائی۔ آپ ﷺ نے یہ اصول قائم فرمایا کہ اقتدار ایک امانت اور ذمہ داری ہے نہ کہ محض اعزاز، جو آج بھی ہر سربراہِ ریاست کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
بطور سپہ سالار نبی کریم ﷺ کے اوصاف اور آدابِ جنگ پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
نبی کریم ﷺ نے محدود وسائل کے باوجود بہترین حکمتِ عملی، رازداری اور صحابہ کرام سے مشاورت کے ذریعے کامیابیاں حاصل کیں۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ لڑائی پر صلح کو ترجیح دی، جیسا کہ صلح حدیبیہ سے ظاہر ہے۔ آپ ﷺ نے آدابِ جنگ سکھائے: بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کا قتل ممنوع، قیدیوں سے نرمی، اور عبادت گاہوں و درختوں کی حفاظت۔ فتحِ مکہ پر عام معافی کا اعلان اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد کا مقصد دفاع اور دین کی سربلندی تھا، نہ کہ انتقام یا تخریب کاری — یہی وہ نکتہ ہے جو اسلامی جہاد کو دہشت گردی سے ممتاز کرتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
نبی کریم ﷺ کی معاشی تعلیمات کا مرکزی اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی رازق ہے اور انسان کو تجارت، زراعت اور ہنر مندی جیسے جائز ذرائع سے رزق کمانا چاہیے۔ آپ ﷺ نے دیانت دار تجارت کی بہت فضیلت بیان فرمائی اور ارتکازِ دولت، ذخیرہ اندوزی، سود اور ملاوٹ جیسی برائیوں کی سختی سے مذمت کی۔ زکوٰۃ، عشر اور صدقات جیسے احکام دولت کی گردش کو یقینی بناتے ہیں تاکہ معاشرے میں معاشی توازن اور انصاف قائم رہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوطالب کی وفات کے سال کو قرار دیا: (الف) عام الفیل (ب) عام الحزن (ج) عام الوفود (د) عام الصبر
درست جواب: (ب) عام الحزن۔ نبی کریم ﷺ نے چچا حضرت ابوطالب کی وفات کے سال کو 'عام الحزن' (غم کا سال) قرار دیا۔
ریاستی امور کی انجام دہی کے لیے مرکزی حیثیت حاصل تھی: (الف) دارِ ارقم کو (ب) مسجدِ نبوی کو (ج) صفہ کو (د) دارِ ندوہ کو
درست جواب: (ب) مسجدِ نبوی کو۔ ریاستِ مدینہ کے تمام امور کی انجام دہی کے لیے مسجدِ نبوی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا گیا: (الف) شام کا (ب) مصر کا (ج) یمن کا (د) ایران کا
درست جواب: (ج) یمن کا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر فرمایا۔
نبی کریم ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار قرار دیا جاتا ہے: (الف) فتحِ مکہ کو (ب) میثاقِ مدینہ کو (ج) غزوۂ بدر کو (د) غزوۂ خندق کو
درست جواب: (ب) میثاقِ مدینہ کو۔ میثاقِ مدینہ کو نبی کریم ﷺ کی خارجہ پالیسی کا شاہکار کہا جاتا ہے۔
غزوۂ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کا مشورہ دیا: (الف) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (ب) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ج) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (د) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے
درست جواب: (ج) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورے پر غزوۂ خندق میں خندق کھودی گئی۔
نبی کریم ﷺ کی قیادت میں لڑے جانے والے غزوات کی تعداد ہے: (الف) اٹھارہ (ب) بائیس (ج) اٹھائیس (د) چالیس
درست جواب: (ج) اٹھائیس۔ نبی کریم ﷺ نے بطور سپہ سالار تقریباً اٹھائیس غزوات میں اسلامی لشکر کی قیادت فرمائی۔
آدابِ جہاد کے مطابق قتل نہ کرنے کا حکم ہے: (الف) بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو (ب) دشمن کے سپاہیوں کو (ج) قیدیوں کو (د) مذہبی راہنماؤں کو
درست جواب: (الف) بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو۔ نبی کریم ﷺ نے حکم فرمایا کہ لڑائی میں بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔
اسلام کے معاشی نظام کا بنیادی اصول ہے: (الف) اللہ تعالیٰ کو رازق ماننا (ب) ملازمت اختیار کرنا (ج) تجارت کو فروغ دینا (د) کاشت کاری کرنا
درست جواب: (الف) اللہ تعالیٰ کو رازق ماننا۔ اسلام کے معاشی نظام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ساری کائنات کا رازق اللہ تعالیٰ ہے۔
ارتکازِ دولت سے مراد ہے: (الف) دولت کی منصفانہ تقسیم (ب) دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا (ج) زیادہ منافع کمانا (د) دولت کا استعمال
درست جواب: (ب) دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا۔ ارتکازِ دولت سے مراد دولت کا چند ہاتھوں یا مخصوص طبقے میں جمع ہو جانا ہے۔
قرآن مجید میں سود کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ: (الف) مکروہ ہے (ب) اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے (ج) صرف تجارت میں جائز ہے (د) معمولی گناہ ہے
درست جواب: (ب) اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ قرآن مجید میں سود کو حرام اور اللہ تعالیٰ و اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا گیا ہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- نبی کریم ﷺ بطور سربراہِ خاندان: بچوں کی تربیت، بزرگوں کا احترام، ازواج و اولاد سے محبت
- ریاستِ مدینہ کی بنیاد: مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ، مسجدِ نبوی
- بطور سپہ سالار: صلح کو ترجیح، مشاورت، آدابِ جنگ (بوڑھوں/بچوں/عورتوں کا تحفظ)
- تقریباً 28 غزوات، فتحِ مکہ پر عام معافی کا اعلان
- جہاد کا مقصد: دفاع، مظلوموں کی مدد، دین کی سربلندی — نہ کہ ذاتی مفاد یا دہشت گردی
- معاشی تعلیمات: اللہ رازق ہے، کسبِ حلال (تجارت، زراعت، ہنر مندی)
- ممنوعہ معاشی امور: سود، ارتکازِ دولت، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ
امتحانی نکات
- پیئرنگ اسکیم کے مطابق باب سوم سے 2 معروضی سوال پوچھے جاتے ہیں
- Q.2 میں باب اول و دوم کے ساتھ ملا کر اس باب سے بھی مختصر سوالات پوچھے جا سکتے ہیں
- Q.5(i) کا 8 نمبر کا تفصیلی سوال باب اول یا باب سوم میں سے آتا ہے — سپہ سالار اور معاشی تعلیمات کے حصے پر خاص توجہ دیں
- جہاد اور دہشت گردی میں فرق کا سوال اہم ہے، اسے واضح مثالوں کے ساتھ یاد کریں
- ریاستِ مدینہ کی بنیاد کے تین اقدامات اور آدابِ جنگ کے نکات کو ترتیب سے یاد رکھیں