Urdu Class 10 Lesson 18: Ghazal (Momin Khan Momin) Notes

سبق 18: غزل (اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا) (Ghazal: Asar Us Ko Zara Nahin Hota (Momin Khan Momin))

یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے اٹھارہویں سبق پر مبنی ہیں، جو مومن خاں مومن کی مشہور غزل ‘اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا’ ہے (ماخذ: دیوانِ مومن)۔ یہ کتاب کی غزل کی صنف کا دوسرا سبق ہے۔

یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں شعر وار تشریح، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

شاعر کا تعارف

مومن خاں مومن اردو کے ممتاز شاعر تھے، 1800ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ‘مومن خاں’ تھا مگر وہ ‘مومن’ کے تخلص سے مشہور ہوئے۔ وہ مرزا غالب کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے غزل، رباعی اور دیگر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کی شہرت کی بنیادی وجہ ان کی غزل گوئی ہے۔ شاعری میں انھوں نے شاہ نصیر کی شاگردی اختیار کی۔

مومن نہ صرف شاعر بلکہ حکیم بھی تھے اور طب کے پیشے سے وابستہ رہ کر معاش کماتے تھے۔ انھیں علمِ نجوم، ریاضی، طب، موسیقی اور علمِ رمل میں بھی خاص مہارت حاصل تھی۔ ان کے مزاج میں رومانیت، نزاکت اور فلسفیانہ رنگ نمایاں تھا۔ ان کی شاعری میں سادگی، برجستگی اور جذبات کی گہرائی پائی جاتی ہے؛ انھوں نے مشکل قوافی اور پیچیدہ بندشوں سے گریز کرتے ہوئے سادہ مگر دل نشیں انداز اپنایا۔

مومن کا تمام کلام ‘کلیاتِ مومن’ کی صورت میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کا انتقال ایک حادثے کے نتیجے میں ہوا — وہ اپنے گھر کی چھت سے گر گئے اور کچھ عرصہ علیل رہنے کے بعد 1852ء میں دہلی میں وفات پائی، جہاں وہ آسودہ خاک ہیں۔ ان کے شعر ‘تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا’ کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ مرزا غالب نے اسے سراہتے ہوئے کہا کہ اس ایک شعر کے بدلے ان کا سارا دیوان لے لیا جائے۔

اہم اصطلاحات

اس غزل کی ہیئت

زیرِ نصاب غزل کے سات اشعار مطلع سے مقطع تک ہیں۔ ردیف ‘نہیں ہوتا’ ہے اور قافیہ ‘الف’ پر مبنی الفاظ (فزا، برا، کیا، دوسرا، جدا، سوا، خدا) ہیں۔ مقطع میں شاعر نے اپنا تخلص ‘مومن’ استعمال کیا ہے۔

صنعتِ تضاد

علمِ بدیع کی اصطلاح میں ایسے الفاظ کا استعمال جن کے معنی ایک دوسرے کی ضد ہوں، مثلاً ہنسنا اور رونا، بہار اور خزاں۔ اس غزل کے مطلع میں ‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ صنعتِ تضاد کی مثال ہیں۔

تضاد ایجابی

جب متضاد الفاظ کے ساتھ حرفِ نفی استعمال نہ ہوا ہو تو اسے تضاد ایجابی کہتے ہیں، جیسے حیدر علی آتش کا شعر جس میں ‘خزاں’ اور ‘بہار’ کا تضاد بیان ہوا ہے۔

تضاد سلبی

جب دو الفاظ ایک ہی مادے سے مشتق ہوں، ایک مثبت اور دوسرا منفی، تو اسے تضاد سلبی کہتے ہیں، جیسے ناصر کاظمی کے شعر میں ‘آئیں’ اور ‘نہ آئیں’۔

غزل کا تعارف

زیرِ نصاب غزل مومن کی رومانی اور نازک مزاج شاعری کی نمائندہ ہے۔ اس میں محبوب کی بے التفاتی، دلی کیفیات کے اظہار کی مشکلات اور صبر و سکون جیسے روایتی غزل کے موضوعات کو نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ منتخب غزل مکمل غزل کے سات اشعار پر مشتمل ہے۔

شعر وار تشریح

شعر 1 (مطلع): بے حسی و بے پروائی کا اظہار

‘اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا / رنج، راحت فزا نہیں ہوتا۔’ شاعر کہتا ہے کہ محبوب پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اور نہ ہی اسے کسی غم یا مسرت کا احساس ہوتا ہے — یعنی محبوب کی بے حسی و بے پروائی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ صنعتِ تضاد کی خوب صورت مثال ہیں۔

شعر 2: ناصح کی نصیحت کی حقیقت

‘ذکرِ اغیار سے ہوا معلوم / حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا۔’ شاعر کہتا ہے کہ جب رقیبوں (اغیار) کا ذکر سنا تو معلوم ہوا کہ ناصح کی نصیحت بری نہیں ہوتی — یعنی وقت کے ساتھ نصیحت کرنے والے کی بات کی صداقت واضح ہو جاتی ہے۔

شعر 3: محبوب کے نہ ملنے کی حسرت

‘تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے / ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا۔’ شاعر محبوب کے اپنا نہ ہونے پر حسرت کا اظہار کرتا ہے، کہتا ہے کہ اگر تم میرے ہو جاتے تو دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہ رہتا۔

شعر 4: محبوب کی یاد کی کیفیت (مشہور شعر)

‘تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔’ یہ غزل کا سب سے مشہور شعر ہے: جب شاعر تنہا ہوتا ہے تو محبوب کی یاد اس قدر شدت سے آتی ہے کہ گویا وہ اس کے پاس ہی موجود ہو۔ اس شعر کے بارے میں یہ روایت مشہور ہے کہ مرزا غالب نے اسے بے حد سراہا۔

شعر 5: دلی کیفیت بیان کرنے کی مشکل

‘حالِ دل، یار کو لکھوں کیوں کر / ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا۔’ شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے دل کا حال محبوب کو کیسے لکھے، جب کہ اس کا ہاتھ دل سے الگ ہی نہیں ہوتا — یعنی غم کی شدت سے ہاتھ دل پر رکھا رہ جاتا ہے، لکھنے کی مہلت ہی نہیں ملتی۔

شعر 6: صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں

‘چارہ دل سوائے صبر نہیں / سو تمھارے سوا نہیں ہوتا۔’ شاعر کہتا ہے کہ دل کا علاج صبر کے سوا کچھ نہیں، اور صبر بھی محبوب ہی کی طرح نایاب اور دستیاب نہیں — یعنی نہ محبوب ملتا ہے نہ صبر آتا ہے۔

شعر 7 (مقطع): تخلص کے ساتھ فلسفیانہ سوال

‘کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن / صنم آخر خدا نہیں ہوتا۔’ مقطع میں شاعر اپنے تخلص ‘مومن’ کے ساتھ سوال کرتا ہے کہ محبوب (صنم) اس کی بے قرار التجا کیوں سنے، آخر وہ خدا تو نہیں — ایک لطیف فلسفیانہ و مذہبی اشارہ جو محبوب کی بے نیازی کو نمایاں کرتا ہے۔

مرکزی خیال

اس غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مومن خاں مومن اپنے محبوب کی بے پروائی، اپنی دلی کیفیات کے اظہار کی مشکلات اور صبر کی کیفیت کو نہایت سادہ، برجستہ اور دل نشیں انداز میں بیان کرتے ہیں۔ غزل کے اشعار میں عشق کی نزاکت، جدائی کا کرب اور محبوب سے بے لوث وابستگی جھلکتی ہے، اور مقطع میں ایک لطیف فلسفیانہ سوال کے ساتھ غزل اپنے اختتام کو پہنچتی ہے — یہ مجموعی طور پر مومن کے رومانی و نازک مزاج شاعرانہ اسلوب کی بہترین مثال ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

اثر

کسی بات یا عمل کا نتیجہ یا تاثیر۔

رنج

غم، دکھ، تکلیف۔

راحت فزا

آرام اور سکون بڑھانے والی؛ ‘فزا’ کا مطلب بڑھانے والا۔

اغیار

غیر لوگ، رقیب، بیگانے۔

حرفِ ناصح

نصیحت کرنے والے کی بات۔

جدا

الگ، علیحدہ۔

چارہ

علاج، تدبیر۔

عرضِ مضطر

بے قرار، بے چین شخص کی التجا یا فریاد۔

صنم

بت؛ یہاں محبوب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔

تخلص

شاعر کا قلمی نام، جو عموماً مقطع میں استعمال ہوتا ہے؛ اس غزل میں تخلص ‘مومن’ ہے۔

خاکہ

غزل: سات اشعار کا خلاصہ: ایک خاکہ جو غزل کے مطلع سے مقطع تک سات اشعار کے موضوعات کا خلاصہ دکھاتا ہے۔

غزل اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا: سات اشعار کا خاکہ - اردو جماعت دہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

مطلع میں شاعر محبوب کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

شاعر کہتا ہے کہ محبوب پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، نہ اسے رنج ہوتا ہے نہ راحت۔

‘حرفِ ناصح’ سے کیا مراد ہے؟

‘حرفِ ناصح’ سے مراد نصیحت کرنے والے کی بات ہے؛ شاعر کے نزدیک اغیار کے ذکر سے معلوم ہوا کہ یہ نصیحت بری نہیں ہوتی۔

حالِ دل لکھنے میں شاعر کو کیا مشکل پیش آتی ہے؟

شاعر کا ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنے دل کا حال محبوب کو لکھ نہیں پاتا۔

‘عرضِ مضطر’ کون نہیں سن سکتا اور کیوں؟

شاعر کے بقول محبوب (صنم) اس کی بے قرار التجا نہیں سنتا، کیونکہ آخر صنم خدا تو نہیں ہوتا۔

شاعر کو صبر کیوں نہیں آتا؟

شاعر کے مطابق دل کا چارہ صبر کے سوا کچھ نہیں، مگر صبر بھی محبوب کی طرح نایاب ہے، اس لیے یہ اسے میسر نہیں آتا۔

زیرِ مطالعہ غزل کے مطلع اور مقطع کی نشان دہی کریں۔

مطلع: ‘اثر اُس کو ذرا نہیں ہوتا / رنج، راحت فزا نہیں ہوتا’۔ مقطع: ‘کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن / صنم آخر خدا نہیں ہوتا’۔

اس غزل کی ردیف کیا ہے؟

اس غزل کی ردیف ‘نہیں ہوتا’ ہے۔

مطلع میں کون سی شعری صنعت استعمال ہوئی ہے؟

مطلع میں صنعتِ تضاد استعمال ہوئی ہے — ‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ میں تضاد پایا جاتا ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

زیرِ نظر غزل کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں اور اس میں محبوب سے متعلق شاعر کے جذبات کی وضاحت کریں۔

مطلع میں شاعر محبوب کی کس کیفیت کا ذکر کرتا ہے؟

مطلع میں شاعر محبوب کی بے حسی اور بے پروائی کا ذکر کرتا ہے کہ اس پر کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

شعر نمبر 4 (‘تم مرے پاس ہوتے ہو گویا’) میں شاعر کیا بیان کرتا ہے؟

شاعر بیان کرتا ہے کہ تنہائی میں محبوب کی یاد اس قدر شدید ہوتی ہے کہ گویا وہ اس کے پاس ہی موجود ہو۔

شعر نمبر 5 میں شاعر کو حالِ دل لکھنے میں کیا مشکل پیش آتی ہے؟

شاعر کا ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنی دلی کیفیت محبوب کو لکھ نہیں پاتا۔

مقطع میں شاعر اپنے تخلص کے ساتھ کیا سوال کرتا ہے؟

مقطع میں شاعر ‘مومن’ تخلص کے ساتھ سوال کرتا ہے کہ صنم اس کی بے قرار التجا کیوں سنے، آخر وہ خدا تو نہیں۔

غزل کی ہیئت اور اس میں صنعتِ تضاد کی مثالیں تلاش کر کے بیان کریں۔

اس غزل کا مطلع، مقطع، قافیہ اور ردیف کیا ہیں؟

مطلع پہلا شعر ہے، مقطع آخری شعر جس میں تخلص ‘مومن’ آتا ہے، ردیف ‘نہیں ہوتا’ ہے اور قافیہ ‘الف’ پر مبنی الفاظ جیسے فزا، برا، کیا ہیں۔

صنعتِ تضاد کسے کہتے ہیں؟

علمِ بدیع میں ایسے الفاظ کا استعمال جن کے معنی ایک دوسرے کی ضد ہوں، صنعتِ تضاد کہلاتا ہے، جیسے ہنسنا اور رونا۔

تضاد ایجابی اور تضاد سلبی میں کیا فرق ہے؟

تضاد ایجابی میں متضاد الفاظ کے ساتھ حرفِ نفی استعمال نہیں ہوتا؛ تضاد سلبی میں ایک ہی مادے سے دو الفاظ، ایک مثبت اور دوسرا منفی صورت میں آتے ہیں۔

اس غزل کے مطلع میں تضاد کی مثال کیسے موجود ہے؟

مطلع میں ‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس لیے یہاں صنعتِ تضاد کی خوب صورت مثال موجود ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

اس غزل میں ‘نہیں ہوتا’ ہے: (الف) قافیہ (ب) ردیف (ج) مطلع (د) مقطع

درست جواب: (ب) ردیف۔ ‘نہیں ہوتا’ اس غزل کی ردیف ہے۔

غزل کا ایسا آخری شعر جس میں شاعر نے اپنا تخلص برتا ہو، کہلاتا ہے: (الف) مطلع (ب) حسنِ مطلع (ج) مقطع (د) آخری شعر

درست جواب: (ج) مقطع۔ ایسے شعر کو مقطع کہتے ہیں۔

مومن خاں مومن کے بقول ‘رنج’ نہیں ہوتا: (الف) جاں فزا (ب) دل فزا (ج) راحت فزا (د) روح فزا

درست جواب: (ج) راحت فزا۔ شاعر کہتا ہے کہ رنج راحت فزا نہیں ہوتا۔

‘حرفِ ناصح برا نہیں ہوتا’ — یہ حقیقت شاعر پر کھلی: (الف) ذکرِ یار سے (ب) ذکرِ حبیب سے (ج) ذکرِ اغیار سے (د) ذکرِ رقیب سے

درست جواب: (ج) ذکرِ اغیار سے۔ شاعر پر یہ حقیقت اغیار کے ذکر سے کھلی۔

‘نہیں ہوتا’ سے پہلے آنے والا قافیہ کس شعر میں ‘جدا’ ہے؟ (الف) شعر 3 میں (ب) شعر 5 میں (ج) شعر 6 میں (د) شعر 7 میں

درست جواب: (ب) شعر 5 میں۔ شعر 5 میں ‘ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا’ آیا ہے۔

مقطع میں شاعر کا تخلص ہے: (الف) اسد (ب) غالب (ج) مومن (د) ناصر

درست جواب: (ج) مومن۔ اس غزل کے مقطع میں تخلص ‘مومن’ استعمال ہوا ہے۔

‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ میں کون سی صنعت پائی جاتی ہے؟ (الف) صنعتِ تلمیح (ب) صنعتِ تضاد (ج) صنعتِ تکرار (د) صنعتِ مبالغہ

درست جواب: (ب) صنعتِ تضاد۔ ‘رنج’ اور ‘راحت’ باہم متضاد الفاظ ہیں، اس لیے یہاں صنعتِ تضاد ہے۔

مومن خاں مومن کس شاعر کے ہم عصر تھے؟ (الف) نظیر اکبر آبادی (ب) مرزا غالب (ج) میر انیس (د) علامہ اقبال

درست جواب: (ب) مرزا غالب۔ مومن خاں مومن مرزا غالب کے ہم عصر تھے۔

مومن خاں مومن کا انتقال ہوا: (الف) 1852ء میں (ب) 1869ء میں (ج) 1935ء میں (د) 1938ء میں

درست جواب: (الف) 1852ء میں۔ مومن خاں مومن کا انتقال 1852ء میں دہلی میں ہوا۔

مومن خاں مومن شاعری کے علاوہ کس پیشے سے وابستہ تھے؟ (الف) وکالت (ب) طب (حکمت) (ج) درس و تدریس (د) تجارت

درست جواب: (ب) طب (حکمت)۔ مومن پیشے کے اعتبار سے حکیم تھے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • مومن خاں مومن (1800ء-1852ء): پیدائش و وفات دہلی، اصل نام مومن خاں، تخلص مومن، حکیم بھی تھے، شاہ نصیر کے شاگرد، کلیاتِ مومن مشہور تصنیف، مرزا غالب کے ہم عصر۔
  • زیرِ نصاب غزل کا ماخذ دیوانِ مومن، سات اشعار (مطلع سے مقطع تک)، ردیف ‘نہیں ہوتا’۔
  • شعر وار تشریح: محبوب کی بے پروائی، ناصح کی نصیحت کی حقیقت، محبوب کے نہ ملنے کی حسرت، تنہائی میں یاد کی شدت (مشہور شعر)، حالِ دل لکھنے کی مشکل، صبر کے سوا چارہ نہیں، مقطع میں فلسفیانہ سوال۔
  • اہم اصطلاحات: اس غزل کی ہیئت، صنعتِ تضاد، تضاد ایجابی، تضاد سلبی۔
  • صنعتِ تضاد کی مثال: مطلع میں ‘رنج’ اور ‘راحت’ کے الفاظ۔
  • یاد رکھیں: مقطع میں تخلص ‘مومن’ آتا ہے؛ شعر ‘تم مرے پاس ہوتے ہو گویا’ غزل کا سب سے مشہور شعر ہے۔

امتحانی نکات

  • غزل کے سات اشعار کا خلاصہ الگ الگ مختصر جملوں میں یاد رکھیں۔
  • مطلع اور مقطع کی الگ الگ نشان دہی کی مشق کریں — امتحان میں اکثر پوچھا جاتا ہے۔
  • صنعتِ تضاد کی تعریف اور مطلع سے اس کی مثال (رنج/راحت) یاد رکھیں۔
  • تضاد ایجابی اور تضاد سلبی میں فرق یاد رکھیں۔
  • شعر ‘تم مرے پاس ہوتے ہو گویا’ سے متعلق مرزا غالب کی روایت یاد رکھیں۔