Urdu Class 10 Lesson 8: Dosti Ka Phal (Shafi Aqeel) Notes

سبق 8: دوستی کا پھل (Dosti Ka Phal (Shafi Aqeel))

یہ نوٹس پنجاب بورڈ کے تحت جماعت دہم کی کتاب اردو (لازمی) کے آٹھویں سبق ‘دوستی کا پھل’ پر مبنی ہیں، جو معروف محقق اور لوک ادب کے ماہر شفیع عقیل کی کتاب ‘پنجابی لوک داستانیں’ سے ماخوذ ایک پنجابی لوک داستان ہے۔

یہ نوٹس امتحانی پرچے کی ساخت کے مطابق تیار کیے گئے ہیں: ان میں واقعہ وار خلاصہ، مرکزی خیال، اہم الفاظ کے معنی اور مختصر و تفصیلی سوالات شامل ہیں۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

مصنف کا تعارف

شفیع عقیل کا خاندانی نام محمد شفیع تھا، جب کہ وہ ادبی دنیا میں ‘شفیع عقیل’ کے قلمی نام سے مشہور ہوئے (بعض تحریروں میں ‘شین۔ سین’ کے نام سے بھی لکھتے رہے)۔ وہ 1930ء میں لاہور کے نواحی علاقے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی زمانہ دھرم پورہ (حال مصطفیٰ آباد) میں گزارا۔ باقاعدہ اسکولی تعلیم حاصل نہ کر سکے، البتہ بعد میں منشی فاضل اور ادیب فاضل کے امتحانات پاس کیے۔

1950ء میں کراچی آ گئے، جہاں صحافت سے وابستہ ہو کر روزنامہ ‘جنگ’ سے منسلک ہوئے اور کئی دہائیوں تک اس کے ادبی و فنی صفحات سے جڑے رہے۔ 1951ء میں بچوں کے میگزین ‘بھائی جان’ کے ایڈیٹر بنے، اور مشہور مزاحیہ شاعر و صحافی مجید لاہوری کے رسالے ‘نمکدان’ کے مدیرِ معاون بھی رہے۔ 1972ء سے 1982ء تک ہفت روزہ ‘اخبار جہاں’ کے ایڈیٹر رہے۔

شفیع عقیل نے دنیا بھر کے سفر کیے اور سفرنامے بھی لکھے، لیکن جس موضوع میں انھیں خاص مہارت حاصل تھی وہ لوک کہانیاں تھیں۔ انھوں نے دنیا کے مختلف ممالک کی لوک کہانیوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور خاص طور پر پنجاب کی لوک داستانوں، لوک کہانیوں اور حکایتوں پر متعدد کتابیں مرتب کیں، جن میں ‘پنجابی لوک داستانیں’ خاص شہرت رکھتی ہے۔ وہ ایک اچھے مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر، نقاد اور سفرنامہ نگار بھی تھے۔ ان کا انتقال 2013ء میں کراچی میں ہوا۔

قواعد کے اہم نکات

حروفِ تاکید

وہ حروف جو کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے: ضرور بالضرور، بالکل، ہرگز، مطلق۔ مثال: ‘یہ بات بالکل درست ہے۔’

حروفِ شرط و جزا

وہ حروف جو کسی عمل کو دوسرے عمل سے مشروط کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: ‘اگر وہ محنت کرتا تو کامیاب ہو جاتا۔’ یہاں ‘اگر’ حرفِ شرط اور ‘تو’ حرفِ جزا ہے۔

حروفِ اضراب

وہ حروف جو کسی بات کو رد کر کے یا ترقی دے کر اعلیٰ کو ادنیٰ یا ادنیٰ کو اعلیٰ بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: ‘وہ اس کا بیٹا ہی نہیں، بلکہ شاگرد بھی ہے۔’ یہاں ‘بلکہ’ حرفِ اضراب ہے۔

حروفِ تردید

وہ حروف جو دو باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کے موقع پر ادا کیے جاتے ہیں۔ جیسے: یا کہ، خواہ، چاہے۔ مثال: ‘اچھا ہو یا کہ برا، اپنا ہو یا بیگانہ۔’

حرفِ بیان

وہ حرف جو کسی بات کی وضاحت کے لیے استعمال ہو، عموماً ‘کہ’ کی صورت میں۔ مثال: ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ حق بات نہ چھپاؤ۔’

تلخیص نگاری

کسی عبارت یا اقتباس کو مختصر اور جامع انداز میں، اصل عبارت کے تقریباً ایک تہائی حصے میں، اہم نکات برقرار رکھتے ہوئے اور غیر ضروری باتیں حذف کرتے ہوئے دوبارہ لکھنے کا فن۔

سبق کا تعارف

زیرِ نصاب لوک داستان ‘دوستی کا پھل’ میں شفیع عقیل نے دوستی کے موضوع کو جانوروں اور پرندوں کی زبانی ایک علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ دوستی اور اتحاد سے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔

واقعہ وار خلاصہ

کبوتری کی فکر اور دوستی کی تجویز

ایک جنگل میں ایک کبوتر اور کبوتری امن سے رہتے تھے۔ جب کبوتری نے انڈے دیے تو اسے ہر وقت ان کی حفاظت کی فکر رہنے لگی۔ اس نے کبوتر کو سمجھایا کہ مصیبت کے وقت کام آنے کے لیے انھیں کوئی سچا دوست بنانا چاہیے، چاہے وہ اپنی برادری کا نہ بھی ہو۔

گدھوں سے دوستی

کبوتری کے سمجھانے پر کبوتر ہچکچاتے ہوئے قریبی درخت پر رہنے والے گدھوں کے جوڑے کے پاس گیا۔ گدھ نے بھی خوشی سے دوستی کی پیشکش قبول کر لی اور دونوں پڑوسی آج سے دوست بن گئے۔

سانپ سے دوستی

گدھ کی تجویز پر کبوتر اور گدھ ایک قریبی درخت کی کھوہ میں رہنے والے سانپ کے پاس گئے۔ اگرچہ تینوں مختلف برادریوں سے تھے، مگر سانپ نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کے وعدے پر دوستی قبول کر لی۔

شکاری کا خطرہ

برسوں بعد کبوتری کے انڈوں کی جگہ ننھے بچوں نے لے لی۔ ایک شکاری، جسے دن بھر کوئی شکار نہ ملا تھا، اسی درخت کے نیچے آ رکا اور گھونسلا دیکھ کر رات کے اندھیرے میں چڑھنے کے لیے آگ جلا کر تیاری کرنے لگا۔

پانی سے آگ بجھانا

کبوتر اور کبوتری نے پہلے خود کوشش کی اور دریا سے اپنے پروں میں پانی بھر کر بار بار آگ پر چھڑکا۔ شکاری نے دو بار آگ دوبارہ جلائی، مگر ہر بار بجھ گئی۔ تیسری بار بڑی لکڑیوں سے جلائی گئی آگ بجھانا ان کے بس سے باہر ہوا تو انھوں نے گدھ دوستوں کو بلایا، جنھوں نے اپنے بڑے پروں سے پانی لا کر آگ بجھا دی۔

سانپ کی مدد اور شکاری کی پسپائی

تھک ہار کر شکاری نے رات وہیں گزارنے اور صبح گھونسلا نکالنے کا ارادہ کیا۔ کبوتر اور گدھ نے رات کو سانپ سے مدد مانگی، جس نے یقین دلایا کہ وہ صبح خود انتظام کرے گا۔ صبح جب شکاری درخت پر چڑھنے آیا تو اس نے ایک بہت بڑا سانپ تنے کے گرد لپٹا اور پھنکارتا دیکھا۔ خوف زدہ ہو کر وہ سامان چھوڑ کر بھاگ گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔

مرکزی خیال

اس لوک داستان کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دوستی اور اتحاد میں بڑی طاقت ہوتی ہے — مختلف برادریوں اور فطرتوں کے ہونے کے باوجود، سچے دوست مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اور مل کر بڑے سے بڑے خطرے کو بھی ٹال سکتے ہیں۔ کہانی یہ بھی سکھاتی ہے کہ مدد مانگنے سے پہلے خود کوشش کرنی چاہیے، اور دوستی کا اصل امتحان مشکل وقت ہی میں ہوتا ہے۔

اہم الفاظ کے معنی

گھونسلا

پرندوں کا رہنے کا آشیانہ جو وہ تنکوں سے بناتے ہیں۔

خجیدگی

ہلکی اداسی یا رنجیدگی۔

آؤ دیکھا نہ تاؤ

بغیر سوچے سمجھے، فوراً۔

حواس باختہ ہونا

ہوش و حواس کھو بیٹھنا، بہت گھبرا جانا۔

بھاڑ میں جانا

(محاورتاً) کسی چیز کی بالکل پروا نہ کرنا، اسے نظرانداز کر دینا۔

الاؤ

لکڑیوں وغیرہ کی جلائی گئی بڑی آگ۔

ثابت قدم رہنا

مشکل وقت میں بھی اپنے وعدے یا موقف پر قائم رہنا۔

تدبیر

کسی مسئلے کے حل کے لیے سوچی گئی ترکیب یا منصوبہ۔

برادری

ذات یا قبیلہ، ہم نسل و ہم قوم لوگوں کا گروہ۔

لوک داستان

عوامی روایت میں نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہونے والی کہانی۔

خاکہ

دوستی کا پھل: کہانی کے اہم مراحل: ایک خاکہ جو لوک داستان میں بیان کیے گئے چھ اہم مراحل کا خلاصہ دکھاتا ہے۔

دوستی کا پھل: کہانی کے اہم مراحل - اردو جماعت دہم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

کبوتری کو ہر وقت کس بات کی فکر رہتی تھی؟

اپنے انڈوں اور بچوں کی حفاظت کی۔

کبوتری نے اکیلے پن کا احساس ختم کرنے کے لیے کیا مشورہ دیا؟

کوئی سچا دوست بنانے کا، چاہے وہ اپنی برادری کا نہ بھی ہو۔

کبوتر کی دوستی سب سے پہلے کس سے ہوئی؟

قریبی درخت پر رہنے والے گدھوں کے جوڑے سے۔

تیسرا دوست کون بنا؟

درخت کی کھوہ میں رہنے والا سانپ۔

شکاری نے درخت پر چڑھنے کے لیے کیا تدبیر کی؟

روشنی حاصل کرنے کے لیے آگ جلائی۔

کبوتر اور کبوتری نے شکاری کی آگ کیسے بجھائی؟

دریا سے اپنے پروں میں پانی بھر کر بار بار آگ پر چھڑکا۔

صبح شکاری نے درخت کے گرد کیا دیکھا؟

ایک بہت بڑا سانپ تنے کے گرد لپٹا اور پھنکارتا ہوا۔

کہانی کا اخلاقی سبق کیا ہے؟

دوستی اور اتحاد سے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

‘دوستی کا پھل’ کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کریں۔

کہانی کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟

کبوتری اپنے انڈوں کی حفاظت کے لیے فکر مند ہو کر کبوتر کو دوست بنانے کا مشورہ دیتی ہے۔

دوستی کا دائرہ کیسے بڑھا؟

پہلے گدھوں کے جوڑے سے، پھر ان کی تجویز پر سانپ سے بھی دوستی ہو گئی۔

خطرہ کیسے پیدا ہوا؟

ایک شکاری نے ان کے گھونسلے کو دیکھ لیا اور رات کو آگ جلا کر درخت پر چڑھنے کی تیاری کی۔

خطرہ کیسے ٹلا؟

کبوتر، کبوتری اور گدھوں نے مل کر آگ بجھائی، اور آخر میں سانپ نے درخت کے گرد لپٹ کر شکاری کو ڈرا کر بھگا دیا۔

‘دوستی کا پھل’ کے کرداروں اور اس کے اخلاقی سبق پر روشنی ڈالیں۔

کہانی کے مرکزی کردار کون سے ہیں؟

کبوتر اور کبوتری، گدھوں کا جوڑا، ایک سانپ، اور ایک شکاری۔

کبوتری کا کردار کیسا پیش کیا گیا ہے؟

وہ دور اندیش اور سمجھ دار ہے — دوستی بنانے کی تجویز بھی دیتی ہے اور مشکل میں پہلے خود کوشش کرنے کا مشورہ بھی۔

گدھ اور سانپ نے دوستی کیسے نبھائی؟

دونوں نے مشکل وقت میں فوراً مدد کی — گدھوں نے آگ بجھانے میں مدد دی اور سانپ نے شکاری کو ڈرا کر بھگا دیا۔

کہانی سے کیا سبق ملتا ہے؟

یہ کہ سچی دوستی اور اتحاد سے، برادری کے فرق کے باوجود، بڑے سے بڑے خطرے کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

‘دوستی کا پھل’ کس صنف کی تحریر ہے؟ (الف) افسانہ (ب) لوک داستان (ج) سوانح (د) مضمون

درست جواب: (ب) لوک داستان۔ یہ ایک لوک داستان ہے جو پنجابی لوک ادب سے ماخوذ ہے۔

یہ کہانی کس کتاب سے لی گئی ہے؟ (الف) پنجابی لوک داستانیں (ب) پطرس کے مضامین (ج) سفرِ مینا (د) پریم چالیسی

درست جواب: (الف) پنجابی لوک داستانیں۔ یہ کہانی شفیع عقیل کی کتاب ‘پنجابی لوک داستانیں’ سے لی گئی ہے۔

شفیع عقیل کا خاندانی نام کیا تھا؟ (الف) محمد شفیع (ب) شفیع عقیل (ج) شین سین (د) محمد شریف

درست جواب: (الف) محمد شفیع۔ ان کا خاندانی نام محمد شفیع تھا، ‘شفیع عقیل’ ان کا قلمی نام تھا۔

شفیع عقیل نے کس میگزین کی ادارت کی؟ (الف) بچوں کے میگزین ‘بھائی جان’ (ب) سیاسی رسالہ (ج) فلمی رسالہ (د) کھیلوں کا رسالہ

درست جواب: (الف) بچوں کے میگزین ‘بھائی جان’۔ وہ بچوں کے میگزین ‘بھائی جان’ کے ایڈیٹر رہے۔

شفیع عقیل کس موضوع میں خاص مہارت رکھتے تھے؟ (الف) شاعری (ب) لوک کہانیاں (ج) تاریخ (د) فلسفہ

درست جواب: (ب) لوک کہانیاں۔ انھیں لوک کہانیاں جمع کرنے اور مرتب کرنے میں خاص مہارت حاصل تھی۔

کبوتر نے سب سے پہلے کس سے دوستی کی؟ (الف) سانپ سے (ب) گدھوں سے (ج) شکاری سے (د) ہرن سے

درست جواب: (ب) گدھوں سے۔ پہلے قریبی درخت پر رہنے والے گدھوں کے جوڑے سے دوستی ہوئی۔

تیسرا دوست کون بنا؟ (الف) ہرن (ب) سانپ (ج) لومڑی (د) طوطا

درست جواب: (ب) سانپ۔ تیسرا دوست ایک سانپ تھا جو قریبی درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔

شکاری نے آگ کیوں جلائی؟ (الف) کھانا پکانے کے لیے (ب) روشنی حاصل کر کے گھونسلا ڈھونڈنے کے لیے (ج) سردی سے بچنے کے لیے (د) جانوروں کو ڈرانے کے لیے

درست جواب: (ب) روشنی حاصل کر کے گھونسلا ڈھونڈنے کے لیے۔ اس نے اندھیرے میں گھونسلا تلاش کرنے کے لیے روشنی کے طور پر آگ جلائی۔

صبح شکاری کو درخت پر کیا نظر آیا جس سے وہ خوف زدہ ہو کر بھاگا؟ (الف) شیر (ب) بہت بڑا سانپ (ج) آندھی (د) دوسرا شکاری

درست جواب: (ب) بہت بڑا سانپ۔ درخت کے تنے کے گرد ایک بہت بڑا سانپ لپٹا اور پھنکار رہا تھا۔

کہانی کا مرکزی پیغام کیا ہے؟ (الف) دولت کی اہمیت (ب) دوستی اور اتحاد کی طاقت (ج) تنہائی کے فوائد (د) شکار کے آداب

درست جواب: (ب) دوستی اور اتحاد کی طاقت۔ کہانی سکھاتی ہے کہ دوستی اور اتحاد سے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • شفیع عقیل (1930ء-2013ء، اصل نام محمد شفیع): لوک ادب کے ماہر، مرتبِ ‘پنجابی لوک داستانیں’، صحافی و مدیر (روزنامہ جنگ، بھائی جان، اخبار جہاں)۔
  • ‘دوستی کا پھل’ ایک پنجابی لوک داستان ہے جس میں کبوتر، کبوتری، گدھ اور سانپ کی دوستی بیان کی گئی ہے۔
  • کہانی کے چھ مراحل: فکر و تجویز، گدھوں سے دوستی، سانپ سے دوستی، شکاری کا خطرہ، پانی سے آگ بجھانا، سانپ کی مدد سے شکاری کی پسپائی۔
  • مرکزی خیال: دوستی اور اتحاد سے بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دی جا سکتی ہے۔
  • قواعد: حروفِ تاکید، شرط و جزا، اضراب، تردید اور حرفِ بیان کی تعریفیں اور مثالیں یاد رکھیں۔
  • تلخیص نگاری: اصل عبارت کے تقریباً ایک تہائی حصے میں، اہم نکات کے ساتھ مختصر تحریر کا فن۔

امتحانی نکات

  • کہانی کے خلاصے کے لیے چھ مراحل کو ترتیب وار مختصر جملوں میں یاد رکھیں۔
  • شفیع عقیل کی اہم تاریخیں اور ادارتی خدمات (بھائی جان، اخبار جہاں) الگ سے یاد رکھیں۔
  • ‘دوستی کا پھل’ کا ماخذ (پنجابی لوک داستانیں) اور اس کی صنف (لوک داستان) امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہے۔
  • حروف کی پانچوں اقسام (تاکید، شرط و جزا، اضراب، تردید، بیان) کو مثالوں کے ساتھ یاد رکھیں۔
  • تلخیص نگاری کا اصول (اصل عبارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ) امتحان میں پوچھا جا سکتا ہے۔