یہ باب 1973ء کے آئین کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتی ڈھانچے، عدلیہ کے کردار، وفاق اور صوبوں کے فرائض میں فرق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامی اکائیوں، وفاقی-صوبائی اور صوبائی-مقامی حکومتوں کے باہمی تعلقات، اور مقامی حکومتوں کے مختلف درجات و فرائض پر مشتمل ہے۔
اس باب کا مقصد طلبہ کو پاکستان کے کثیر الجہتی انتظامی ڈھانچے — وفاقی سطح سے لے کر یونین کونسل کی سطح تک — کا تسلسل کے ساتھ جائزہ دینا ہے۔
تعلیمی مقاصد
- 1973ء کے آئین کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتی ڈھانچے اور ان کے فرائض کی وضاحت کرنا
- وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے فرائض میں فرق بیان کرنا
- آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی انتظامی اکائیوں کے ڈھانچے اور فرائض کی وضاحت کرنا
- وفاقی و صوبائی حکومتوں کے باہمی تعلقات کی نوعیت کی نشان دہی کرنا
- صوبائی و مقامی حکومتوں کے مابین تعلقات کا تجزیہ کرنا
- مقامی حکومت کے مختلف درجات کا ڈھانچہ بیان کرنا
- مختلف سطح پر مقامی حکومتوں کے فرائض کا جائزہ لینا
کلیدی تصورات
1973ء کے آئین کے تحت وفاقی ڈھانچہ
صدرِ پاکستان: ملک کا سربراہ صدر ہوتا ہے جس کا انتخاب قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پانچ سال کے لیے کرتے ہیں۔ صدر وزیرِ اعظم کے مشورے پر عمل کرتا ہے، پارلیمنٹ کے پاس شدہ بلوں کو منظور یا واپس بھجواتا ہے، آرڈیننس جاری کر سکتا ہے، سفیروں کا تقرر کرتا ہے اور غیر ممالک کے سفیروں کے کاغذاتِ نامزدگی وصول کرتا ہے، اور اندرونی یا بیرونی خطرے کی صورت میں ہنگامی حالات کا اعلان کر سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم: وفاقی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے جسے قومی اسمبلی کثرتِ رائے سے منتخب کرتی ہے اور جو اسمبلی میں اکثریت برقرار رہنے تک عہدے پر فائز رہ سکتا ہے۔ اس کی مدد کے لیے وفاقی کابینہ ہوتی ہے جس کے ارکان پارلیمنٹ کے اراکین میں سے منتخب کیے جاتے ہیں؛ وزیرِ اعظم اور کابینہ اپنی کارکردگی کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔
وفاقی کابینہ دو قسم کے وزرا پر مشتمل ہوتی ہے: وفاقی وزیر (وزارت کا سیاسی سربراہ، ایوان میں وزارت کی نمائندگی کرتا ہے) اور وزیرِ مملکت (ڈویژن کا سیاسی سربراہ)۔ دونوں وزیرِ اعظم کی خوشنودی تک عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔
انتظامی درجہ بندی (بلحاظ گریڈ): وفاقی سیکرٹری (گریڈ 21-22، وزارت کا انتظامی سربراہ، پالیسی سازی اور نفاذ دونوں کرتا ہے) -> ایڈیشنل سیکرٹری (گریڈ 21، ڈویژن کا انتظامی سربراہ) -> جوائنٹ سیکرٹری (گریڈ 20، ایڈیشنل سیکرٹری سے جونیئر، اپنے ونگ کا انچارج) -> ڈپٹی سیکرٹری (گریڈ 19، اپنی برانچ کا انچارج) -> سیکشن آفیسر (گریڈ 17-18، اپنے سیکشن کا انچارج، روزمرہ امور چلاتا ہے)۔
صوبائی حکومتوں کا ڈھانچہ
صوبائی حکومت کی تنظیم وفاقی حکومت سے ملتی جلتی ہے اور اسے تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، صوبائی ٹیکس اور آمدورفت جیسے شعبوں پر اختیارات حاصل ہیں۔ صوبائی گورنر صوبے کا سربراہ ہوتا ہے جسے صدر نامزد کرتا ہے اور جو صدر کی مرضی تک عہدے پر رہ سکتا ہے؛ گورنر صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرتا ہے، اسے خطاب کرتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے مشورے پر اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے اور آرڈیننس جاری کر سکتا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ صوبے کا انتظامی سربراہ ہوتا ہے جسے صوبائی اسمبلی کثرتِ رائے سے منتخب کرتی ہے؛ وہ اپنی کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے، امن و امان کا ذمہ دار ہوتا ہے اور چیف سیکرٹری کے ذریعے انتظامیہ کو کنٹرول کرتا ہے۔ چیف سیکرٹری صوبے کا اعلیٰ ترین انتظامی افسر ہوتا ہے، صوبائی کابینہ کا سیکرٹری ہوتا ہے اور تمام محکموں کے سیکرٹریوں کی کمیٹی کا چیئرمین بھی ہوتا ہے۔
صوبائی انتظامی درجہ بندی: سیکرٹری (گریڈ 20، محکمے کا انتظامی سربراہ) -> ایڈیشنل سیکرٹری (گریڈ 19) -> ڈپٹی سیکرٹری (گریڈ 18) -> سیکشن آفیسر (گریڈ 17، اپنے سیکشن کا سربراہ)۔
1973ء کے آئین کے تحت عدلیہ کا کردار
متقننہ اور انتظامیہ کے بعد عدلیہ حکومت کا تیسرا اہم شعبہ ہے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم سے پہلے آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس تھا؛ اب آئین و قانون کی تشریح وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کا اختیار ہے، جب کہ سپریم کورٹ ملک کے باقی عدالتی نظام (عدالتِ عالیہ، ضلعی و مقامی عدالتیں) کی نگرانی کرتی ہے۔
عدلیہ کے فرائض: (۱) عدل و انصاف کی فراہمی — عوام کے بنیادی حقوق کی ضامن، مجرموں کو سزا اور بے گناہوں کو رہائی دلاتی ہے۔ (۲) قانون اور آئین کی تشریح — نظیریں (Precedents) قائم کرتی ہے اور وفاقی-صوبائی اختیارات کے تنازع میں حتمی فیصلہ دیتی ہے۔ (۳) مشاورتی فرائض — سربراہِ مملکت کو قانونی امور پر مشورہ دیتی ہے۔ (۴) عدالتی نظرِ ثانی — مقننہ کے کسی قانون کو آئین کے خلاف پا کر کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
1973ء کے آئین کے تحت وفاق اور صوبوں کے فرائض
وفاقی حکومت کے فرائض (بنامِ صدر انجام پاتے ہیں): یونین کو قائم رکھنا اور اکائیوں کے مفادات کا تحفظ، پالیسی سازی میں صوبوں کی معاونت، معیشت کی بحالی اور ٹیکس عائد کرنا، اندرونی و بیرونی تجارت کو منظم کرنا، اندرونی امن و آزادی کا تحفظ، عدالتی نظام کا قیام، اور دفاع کے لیے فوج رکھنا و جنگ کا اعلان کرنا۔
صوبوں کے فرائض (بنامِ گورنر انجام پاتے ہیں): قانون سازی (تعلیم، صحت، زراعت، فوجداری طریقہ کار وغیرہ پر، بشرطیکہ وفاقی قوانین سے متصادم نہ ہو)، عوامی خدمات (بنیادی ڈھانچہ، اسکول، اسپتال)، امن و امان (پولیس فورس)، مالیاتی انتظام (صوبائی بجٹ) اور مقامی حکومتوں کی نگرانی۔
وفاقی اور صوبائی فرائض میں فرق: وفاق کا اختیار پورے ملک پر محیط ہے جب کہ صوبے کا اختیار اسی صوبے تک محدود؛ وفاق کا سربراہ منتخب صدر ہے جب کہ صوبے کا سربراہ نامزد گورنر؛ وزیرِ اعظم کا انتخاب قومی اسمبلی اور وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب متعلقہ صوبائی اسمبلی کرتی ہے؛ پاکستان میں ایک وفاقی حکومت جب کہ چار صوبائی حکومتیں (پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا) اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان جیسی وفاقی اکائیاں ہیں؛ وفاقی ادارے وفاقی قوانین جب کہ صوبائی ادارے صوبائی و مقامی قوانین کے تحت چلتے ہیں۔ صدر کا عہدہ پارلیمانی نظام میں علامتی (Ceremonial) نوعیت کا ہے کیونکہ وہ وزیرِ اعظم کے مشورے کا پابند ہوتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کا انتظامی ڈھانچہ
آزاد جموں و کشمیر کا اپنا منتخب صدر، وزیرِ اعظم، قانون ساز اسمبلی اور سپریم کورٹ ہے۔ کشمیر کونسل ریاست کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کے 14 ارکان ہوتے ہیں (8 آزاد جموں و کشمیر سے، 6 حکومتِ پاکستان کے نمائندے)؛ اس کا چیئرمین وزیرِ اعظم پاکستان ہوتا ہے۔
صدر آزاد جموں و کشمیر کا آئینی سربراہ ہے جسے قانون ساز اسمبلی پانچ سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم ریاست کا انتظامی سربراہ ہے۔ قانون ساز اسمبلی (مظفرآباد میں واقع) 53 ارکان پر مشتمل ہے: 45 براہِ راست منتخب، اور علما، ٹیکنوکریٹ، بیرونِ ملک مقیم کشمیری و خواتین کے لیے مخصوص نشستیں؛ یہ قانون سازی، پالیسی سازی اور بجٹ پاس کرنے کے فرائض انجام دیتی ہے۔
عدلیہ: سپریم کورٹ (چیف جسٹس اور تین ججز) تمام اپیلوں کا فیصلہ کرتی ہے؛ ہائی کورٹ کے تین سرکٹ بینچ مظفرآباد، میرپور اور راولاکوٹ میں کام کرتے ہیں اور ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں سنتے ہیں۔
گلگت بلتستان کا انتظامی ڈھانچہ
حکومتِ پاکستان نے 2009ء میں شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان کا نام دے کر محدود خود مختاری دی، قانون ساز اسمبلی قائم کر کے انتخابات کروائے اور گلگت بلتستان کونسل قائم کی۔ کونسل کے 12 ارکان ہوتے ہیں (6 وزیرِ اعظم پاکستان نامزد کرتا ہے، 6 قانون ساز اسمبلی منتخب کرتی ہے)؛ چیئرمین وزیرِ اعظم پاکستان ہوتا ہے۔ گورنر آئینی سربراہ ہے (حکومتِ پاکستان کا تقرر کردہ)، جب کہ وزیرِ اعلیٰ انتظامیہ کا سربراہ ہے جسے قانون ساز اسمبلی کثرتِ رائے سے منتخب کرتی ہے۔
قانون ساز اسمبلی 33 ارکان پر مشتمل ہے: 24 براہِ راست منتخب، 6 خواتین، 3 ٹیکنوکریٹ۔ عدلیہ چیف کورٹ (2009ء کے صدارتی حکم نامے کے تحت، ہائی کورٹ کے مساوی درجہ، علاقے کی اپیلوں کی سماعت کرتی ہے) اور سپریم اپیلیٹ کورٹ (ایک چیف جج اور دو ججز، سپریم کورٹ آف پاکستان کے مساوی درجہ، وزیرِ اعظم پاکستان تین سال کے لیے تقرر کرتا ہے) پر مشتمل ہے۔ گلگت بلتستان چودہ اضلاع پر مشتمل ہے اور اپنے خوبصورت نظاروں، دلکش وادیوں اور بلند و بالا برف پوش پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعلقات کی نوعیت
مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI): وزیرِ اعظم، تمام وزرائے اعلیٰ اور وفاقی حکومت کے نامزد تین وفاقی وزرا پر مشتمل؛ وفاقی-صوبائی اختلافات حل کرتی اور وسائل تقسیم کرتی ہے (مثلاً پانی کی تقسیم پر تنازع)۔ نیشنل اکنامک کونسل (NEC): وزیرِ اعظم چیئرمین، تمام وزرائے اعلیٰ ممبر؛ معاشی صورتِ حال کا جائزہ لیتی اور پالیسیاں مرتب کرتی ہے۔ قومی سلامتی کونسل (NSC): وزیرِ اعظم کی صدارت میں، ملکی سلامتی کی پالیسیاں مرتب کرتی ہے۔
دیگر تعلقات: صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی رضامندی سے اپنے اختیارات ایک دوسرے کو سونپ سکتی ہیں؛ صوبائی حکومتیں انتظامی اختیارات وفاقی اختیارات سے متصادم نہ ہونے کی شرط پر استعمال کر سکتی ہیں؛ ملک بھر میں تجارتی سرگرمیاں آزادانہ ہیں اور مجلسِ شوریٰ یکساں تجارتی پالیسی مرتب کر سکتی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد مشترکہ فہرست ختم کر کے اس کے تمام امور صوبوں کے حوالے کر دیے گئے؛ مجلسِ شوریٰ صرف وفاقی فہرست پر جب کہ صوبائی اسمبلیاں باقی تمام امور پر قانون سازی کر سکتی ہیں۔
صوبائی و مقامی حکومتوں کے باہمی تعلقات
1973ء کے آئین کی شق 140-A کے تحت صوبائی حکومتوں کے لیے مقامی حکومتیں قائم کر کے انہیں سیاسی، انتظامی و معاشی اختیارات دینا لازم ہے۔ اگست 2001ء میں صدارتی حکم کے تحت مقامی حکومتیں قائم کی گئیں اور کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ضلع مجسٹریٹ کے عہدے ختم کر کے اختیارات ناظم و نائب ناظم کے حوالے کیے گئے، جس سے ضلعی انتظامیہ صوبوں کی بجائے مقامی حکومتوں کے کنٹرول میں آ گئی۔
چوں کہ صوبائی حکومتوں نے اپنے اختیارات مقامی حکومتوں کو تفویض کیے تھے، انہیں مقامی حکومتیں معطل کرنے کا اختیار بھی حاصل تھا۔ خود مختاری کی کمی اور اختیارات کی کھینچاتانی (مثلاً پولیس و زراعت کے محکمے مقامی حکومتوں کے حوالے نہ کیے جانا) کے باعث یہ نظام جلد کمزور ہوا۔ جون 2005ء میں مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی لائی گئی اور اختیارات دوبارہ صوبوں کو منتقل ہو گئے؛ وزیرِ اعلیٰ کو ضلعی ناظم کی تجاویز مسترد کرنے اور ناظم بنانے کا اختیار مل گیا، اور صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں میں وسائل تقسیم کرنے کی پابند نہ رہیں۔
مقامی حکومتوں کے مختلف درجات اور فرائض
2013ء میں تمام صوبوں نے مقامی حکومتوں کے قیام کے لیے قوانین منظور کیے: دیہی علاقوں میں عمومی طور پر دو درجاتی نظام (یونین کونسل، ضلع/تحصیل کونسل) جب کہ خیبر پختونخوا میں تین درجاتی نظام رائج ہوا؛ شہری علاقوں میں تین درجاتی نظام (میونسپل/ٹاؤن کمیٹی، میونسپل کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن) قائم کیا گیا۔
دیہی سطح: یونین کونسل ایک چیئرمین، وائس چیئرمین اور 6 جنرل کونسلرز (بمع مخصوص نشستیں) پر مشتمل؛ اس کے فرائض میں بجٹ و ٹیکس کی منظوری، عوامی راستوں و پانی کی فراہمی، اور مقامی قوانین کا نفاذ شامل ہے۔ ضلع/تحصیل کونسل کا چیئرمین و وائس چیئرمین منتخب ہوتے ہیں، ایک کابینہ ہوتی ہے جس میں ایک مذہبی عالم (اسکالر) بھی شامل ہوتا ہے؛ چیف آفیسر سیکرٹری کے طور پر تمام محکموں کی نگرانی کرتا ہے۔ فرائض میں سالانہ بجٹ کی منظوری، سڑکوں و پلوں کی تعمیر، قدرتی آفات میں امداد اور بیواؤں و معذوروں کی مدد شامل ہے۔
شہری سطح: میونسپل/ٹاؤن کمیٹی (چیئرمین، وائس چیئرمین)، میونسپل کارپوریشن (میئر، ڈپٹی میئر) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن (لارڈ میئر، ڈپٹی میئر) بالترتیب بڑھتے ہوئے شہری درجات ہیں۔ ان کے مشترکہ فرائض میں ترقیاتی منصوبہ بندی، سڑکوں و پارکوں کی تعمیر و بحالی، پینے کے پانی و نکاسی کا انتظام، ٹریفک و ٹرانسپورٹ کا نظم، لائسنس و پرمٹ کا اجرا، اور بیواؤں، یتیموں، معذوروں و آفات کے متاثرین کی مدد شامل ہے۔
اہم تعریفات
مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کیا ہے؟
وزیرِ اعظم، تمام وزرائے اعلیٰ اور وفاقی حکومت کے نامزد تین وفاقی وزرا پر مشتمل وہ ادارہ جو وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات حل کرتا اور وسائل تقسیم کرتا ہے۔
عدالتی نظرِ ثانی سے کیا مراد ہے؟
مقننہ کے منظور کردہ کسی قانون کو آئین کے خلاف پا کر عدلیہ کا اسے کالعدم قرار دینے کا اختیار، عدالتی نظرِ ثانی کہلاتا ہے۔
کشمیر کونسل کیا ہے؟
آزاد جموں و کشمیر کا سب سے اعلیٰ ادارہ جس کے 14 ارکان ہوتے ہیں اور جس کا چیئرمین وزیرِ اعظم پاکستان ہوتا ہے۔
چیف سیکرٹری کون ہوتا ہے؟
صوبے کا انتظامی امور کے لیے سربراہ جو صوبائی کابینہ کا سیکرٹری اور تمام سیکرٹریوں کی کمیٹی کا چیئرمین بھی ہوتا ہے۔
مقامی حکومت سے کیا مراد ہے؟
صوبائی حکومت کی جانب سے سیاسی، انتظامی و معاشی اختیارات تفویض کردہ وہ منتخب ادارہ جو ضلعی یا اس سے نچلی سطح پر خدمات فراہم کرتا ہے۔
لارڈ میئر کون ہوتا ہے؟
میٹروپولیٹن کارپوریشن کا منتخب انتظامی سربراہ، جس کی عدم موجودگی میں ڈپٹی میئر فرائض سرانجام دیتا ہے۔
اہم حقائق و خلاصہ جدول
| عنوان | خلاصہ |
|---|---|
| صدرِ پاکستان کی مدت | 5 سال |
| کشمیر کونسل کے ارکان | 14 (8 AJK + 6 وفاق) |
| آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ارکان | 53 |
| گلگت بلتستان کونسل کے ارکان | 12 (6 نامزد + 6 منتخب) |
| گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ارکان | 33 |
| مقامی حکومتوں کا قیام | اگست 2001ء |
| مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی | جون 2005ء |
| گلگت بلتستان کا نام و محدود خود مختاری | 2009ء |
| شق 140-A (مقامی حکومتوں کا تحفظ) | آئینِ 1973ء |
خاکہ جات
وفاقی و صوبائی انتظامی ڈھانچے کا موازنہ: صدر/وزیرِ اعظم سے سیکشن آفیسر تک اور گورنر/وزیرِ اعلیٰ سے سیکشن آفیسر تک درجہ بندی کا خاکہ

مقامی حکومتوں کے درجات: دیہی (یونین کونسل، ضلع/تحصیل کونسل) اور شہری (میونسپل کمیٹی، کارپوریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن) درجات کا خاکہ

مختصر سوالات و جوابات
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ارکان کی تعداد کتنی ہے؟
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے۔
گلگت بلتستان کونسل کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟
اس کے 12 ارکان ہوتے ہیں: 6 ارکان وزیرِ اعظم پاکستان نامزد کرتا ہے اور 6 ارکان گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی منتخب کرتی ہے۔
صوبائی حکومت کے کوئی سے دو فرائض تحریر کریں۔
قانون سازی (تعلیم، صحت، زراعت وغیرہ پر) اور عوامی خدمات (بنیادی ڈھانچہ، اسکول و اسپتال کی فراہمی)۔
پاکستان میں مقامی حکومتیں کب قائم کی گئیں؟
پاکستان میں مقامی حکومتیں اگست 2001ء میں صدارتی حکم کے تحت قائم کی گئیں۔
مقامی حکومتوں کے مختلف درجات بیان کریں۔
دیہی علاقوں میں یونین کونسل اور ضلع/تحصیل کونسل، اور شہری علاقوں میں میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور میٹروپولیٹن کارپوریشن۔
چیف آفیسر کیا فرائض سرانجام دیتا ہے؟
چیف آفیسر کونسل کے سیکرٹری کے طور پر تمام محکموں کی نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
1973ء کے آئین کے تحت وفاق اور صوبوں کے فرائض بیان کریں۔
وفاقی حکومت بنامِ صدر یونین کو قائم رکھنے، معیشت کی بحالی، اندرونی و بیرونی تجارت کے نظم، امن و آزادی کے تحفظ، عدالتی نظام کے قیام اور دفاع جیسے فرائض انجام دیتی ہے، جو وزیرِ اعظم اور کابینہ کے ذریعے سرانجام پاتے ہیں۔ صوبے بنامِ گورنر قانون سازی (تعلیم، صحت، زراعت وغیرہ)، عوامی خدمات کی فراہمی، امن و امان، مالیاتی انتظام اور مقامی حکومتوں کی نگرانی جیسے فرائض انجام دیتے ہیں، جو وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کے ذریعے سرانجام پاتے ہیں۔ وفاقی اختیار پورے ملک پر جب کہ صوبائی اختیار متعلقہ صوبے تک محدود ہوتا ہے۔
گلگت بلتستان کا انتظامی ڈھانچہ اور فرائض بیان کریں۔
حکومتِ پاکستان نے 2009ء میں شمالی علاقہ جات کو گلگت بلتستان کا نام دے کر محدود خود مختاری دی۔ اس کا انتظامی ڈھانچہ گلگت بلتستان کونسل (12 ارکان، چیئرمین وزیرِ اعظم پاکستان)، گورنر (آئینی سربراہ)، وزیرِ اعلیٰ (انتظامی سربراہ) اور 33 رکنی قانون ساز اسمبلی پر مشتمل ہے۔ عدلیہ چیف کورٹ اور سپریم اپیلیٹ کورٹ پر مشتمل ہے، جن کا درجہ بالترتیب ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے مساوی ہے۔ گلگت بلتستان چودہ اضلاع پر مشتمل ہے۔
صوبائی و مقامی حکومتوں کے باہمی تعلقات واضح کریں۔
1973ء کے آئین کی شق 140-A کے تحت صوبائی حکومتوں پر مقامی حکومتیں قائم کرنا اور انہیں اختیارات دینا لازم ہے۔ اگست 2001ء میں مقامی حکومتیں قائم ہوئیں اور ضلعی انتظامیہ کا کنٹرول صوبوں سے مقامی حکومتوں کو منتقل ہوا، لیکن صوبائی حکومتوں کے پاس مقامی حکومتیں معطل کرنے اور اختیارات واپس لینے کا حق برقرار رہا۔ اختیارات کی کھینچاتانی کے باعث جون 2005ء میں نظام تبدیل کر دیا گیا اور اختیارات دوبارہ صوبائی حکومتوں کے پاس آ گئے۔
پاکستان میں ضلعی یا تحصیل کونسل کے فرائض بیان کریں۔
ضلع/تحصیل کونسل قوانین اور ٹیکسوں کی منظوری، سالانہ بجٹ کی تیاری و نفاذ، صنعت و زراعت کے لیے زمین کی فراہمی، سڑکوں و پلوں کی تعمیر، مویشی منڈیوں اور کھیلوں کے میلوں کا انعقاد، قدرتی آفات میں امداد، اور بیواؤں، یتیموں و معذوروں کی مدد جیسے فرائض انجام دیتی ہے۔ اس کا چیف آفیسر تمام محکموں کی نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
پاکستان میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فرائض واضح کریں۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن ترقیاتی منصوبہ بندی، رہائشی کالونیوں و بازاروں کی تعمیر، سڑکوں، پلوں و انڈرپاسوں کی تعمیر و بحالی، پینے کے پانی و نکاسیِ آب کے انتظام، لائبریریوں و ثقافتی مراکز کے قیام، بجٹ کی منظوری، کھیلوں و ثقافتی میلوں کے انعقاد، لائسنس و پرمٹ کے اجرا، اور بیواؤں، معذوروں و آفات کے متاثرین کی امداد جیسے وسیع فرائض انجام دیتی ہے۔ اس کا سربراہ لارڈ میئر ہوتا ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
صوبائی حکومت کا سربراہ جسے وفاق نامزد کرتا ہے: (الف) گورنر (ب) صدر (ج) لارڈ میئر (د) میئر
درست جواب: (الف) گورنر۔ صوبائی حکومت کا سربراہ گورنر ہوتا ہے جسے صدر نامزد کرتا ہے۔
صوبائی فرائض کی انجام دہی کے لیے جو ادارہ قانون سازی کرتا ہے: (الف) قومی اسمبلی (ب) سینٹ (ج) صوبائی اسمبلی (د) مقامی حکومتیں
درست جواب: (ج) صوبائی اسمبلی۔ صوبائی سطح پر قانون سازی متعلقہ صوبائی اسمبلی کرتی ہے۔
کشمیر کونسل کے ارکان کی تعداد ہے: (الف) 12 (ب) 14 (ج) 16 (د) 18
درست جواب: (ب) 14۔ کشمیر کونسل کے کل 14 ارکان ہوتے ہیں (8 آزاد جموں و کشمیر سے، 6 وفاق کے نمائندے)۔
گلگت بلتستان کونسل کے ارکان کی تعداد ہے: (الف) 12 (ب) 14 (ج) 16 (د) 18
درست جواب: (الف) 12۔ گلگت بلتستان کونسل کے کل 12 ارکان ہوتے ہیں (6 نامزد، 6 منتخب)۔
آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے علاوہ ججز کی تعداد ہے: (الف) 3 (ب) 4 (ج) 5 (د) 6
درست جواب: (الف) 3۔ آزاد جموں و کشمیر کی سپریم کورٹ ایک چیف جسٹس اور تین ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔
پاکستان میں مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی لائی گئی: (الف) 2001ء میں (ب) 2003ء میں (ج) 2005ء میں (د) 2007ء میں
درست جواب: (ج) 2005ء میں۔ جون 2005ء میں مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی لا کر اختیارات صوبوں کو واپس دیے گئے۔
مقامی حکومتوں کے دیہی علاقوں کے عمومی نظام کے درجے ہیں: (الف) ایک (ب) دو (ج) تین (د) چار
درست جواب: (ب) دو۔ دیہی علاقوں میں عمومی طور پر دو درجاتی نظام (یونین کونسل، ضلع/تحصیل کونسل) رائج ہے، سوائے خیبر پختونخوا کے جہاں تین درجاتی نظام ہے۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ ہوتا ہے: (الف) چیئرمین (ب) میئر (ج) لارڈ میئر (د) ناظم
درست جواب: (ج) لارڈ میئر۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا انتظامی سربراہ لارڈ میئر ہوتا ہے۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- وفاقی درجہ بندی: صدر -> وزیرِ اعظم -> کابینہ -> سیکرٹری (21-22) -> ایڈیشنل سیکرٹری (21) -> جوائنٹ سیکرٹری (20) -> ڈپٹی سیکرٹری (19) -> سیکشن آفیسر (17-18)
- صوبائی درجہ بندی: گورنر -> وزیرِ اعلیٰ -> کابینہ -> سیکرٹری (20) -> ایڈیشنل سیکرٹری (19) -> ڈپٹی سیکرٹری (18) -> سیکشن آفیسر (17)
- عدلیہ کے چار فرائض: عدل کی فراہمی، تشریح، مشورہ، عدالتی نظرِ ثانی
- کشمیر کونسل = 14 ارکان؛ AJK اسمبلی = 53 ارکان
- گلگت بلتستان کونسل = 12 ارکان؛ GB اسمبلی = 33 ارکان؛ 2009ء میں نام و خود مختاری
- وفاقی-صوبائی تعلقات: CCI، NEC، NSC
- مقامی حکومتیں: قیام اگست 2001ء، تبدیلی جون 2005ء، شق 140-A
- شہری درجات: میونسپل/ٹاؤن کمیٹی -> میونسپل کارپوریشن -> میٹروپولیٹن کارپوریشن
امتحانی نکات
- وفاقی و صوبائی سرکاری عہدوں کے گریڈ نمبر ترتیب سے یاد رکھیں
- AJK اور گلگت بلتستان کے ارکان کی تعداد الگ الگ یاد کریں (14 بمقابلہ 12، 53 بمقابلہ 33)
- CCI، NEC اور NSC کی سربراہی اور رکنیت کا فرق واضح رکھیں
- مقامی حکومتوں کی تاریخ (2001، 2005، 2013) کو ترتیب سے یاد رکھیں
- شہری و دیہی مقامی حکومتوں کے درجات کا موازنہ کریں