Pakistan Studies Class 12 Chapter 1: Islam Aur Pakistan Notes (Urdu Medium)

یہ باب پاکستان کی نظریاتی اساس بطور اسلام، دو قومی نظریہ، اسلام کے بنیادی اصولوں، اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف و فرائض، قائد اعظم و علامہ اقبال و لیاقت علی خان کے افکار، اور اسلام میں امن و رواداری کے فروغ پر مشتمل ہے۔

اس باب کا مقصد طلبہ کو یہ سمجھانا ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ نظریہ اسلام کی عملی تعبیر تھا۔

تعلیمی مقاصد

  • اسلام کو بحیثیت پاکستان کی نظریاتی اساس بیان کرنا
  • دو قومی نظریہ کی وضاحت کرنا
  • اسلام کے بنیادی اصولوں کی نشان دہی کرنا
  • اسلامی فلاحی ریاست (ریاستِ مدینہ) کی تعریف اور اس کے فرائض بیان کرنا
  • قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، لیاقت علی خان اور قراردادِ مقاصد کی روشنی میں پاکستان بحیثیت اسلامی ریاست کا جائزہ لینا
  • اسلام موجودہ معاشرے میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کو کیسے فروغ دیتا ہے، اس کا جائزہ لینا

کلیدی تصورات

اسلام بحیثیت پاکستان کی نظریاتی اساس

نظریہ سے مراد ایسا ضابطہ یا پروگرام ہے جس کی بنیاد فکر و فلسفہ پر رکھی گئی ہو۔ اسلامی معاشرہ اسلامی اصولوں اور آفاقی صداقتوں پر قائم ہے جو قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کی سنت سے حاصل کیے گئے ہیں۔ اسلامی نظریہ کا ماخذ شریعتِ اسلامی ہے۔ قرآن مجید ایک دائمی دستورِ حیات ہے جس کے اصول ہر دور اور ہر مقام کے لیے قابلِ عمل ہیں، جب کہ سنتِ رسول اللہ ﷺ قرآن مجید کی تعلیمات کی مفصل تشریح فراہم کرتی ہے — نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد کی تفصیلات آپ ﷺ نے ہی بیان فرمائیں۔

دو قومی نظریہ

برصغیر پاک و ہند میں ہندو اور مسلمان اپنی الگ مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور معاشی اقدار رکھتے تھے، جو دو قومی نظریے کی بنیاد بنیں۔ دو قومی نظریہ اس بنیادی تصور کا نام ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں جن کا ایک متحدہ ہندوستان میں یکجا رہنا ممکن نہ تھا۔ سر سید احمد خان کے مطالبۂ جداگانہ انتخابات سے اس نظریے کو تقویت ملی؛ 1906ء کے شملہ وفد نے یہی نکتہ وائسرائے کے سامنے پیش کیا، جسے تسلیم کرتے ہوئے 1909ء کے قانون میں جداگانہ انتخاب کا اصول نافذ کر دیا گیا۔

علامہ محمد اقبال نے 1930ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دو قومی نظریے کی کھل کر وضاحت کی اور برصغیر کے شمال مغربی حصوں میں ایک الگ مسلم ریاست کا تصور پیش کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ 1940ء میں لاہور میں مسلم لیگ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قرارداد لاہور کے ذریعے ایک علیحدہ مسلم ریاست کا مطالبہ پیش کیا، جو سات سال کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

اسلام کے بنیادی اصول

اقتدارِ اعلیٰ: اسلامی معاشرہ ایمان رکھتا ہے کہ اس کائنات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور وہی اس کا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ عوام کے نمائندے صرف اسلام کی متعین کردہ حدود میں اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، اور عوام کو صالح و پرہیزگار افراد منتخب کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔

عدل و انصاف: عدل کے لفظی معنی ہیں صحیح چیز کو صحیح جگہ پر رکھنا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'اگر آپ فیصلہ فرمائیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما دیجیے، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے' (سورۃ المائدہ: 42)، اور 'میرے رب نے عدل کا حکم دیا ہے' (سورۃ الاعراف: 29)۔

مساوات: اسلام رنگ، نسل، زبان و ثقافت اور امارت و غربت کے تمام امتیازات کی نفی کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: 'کسی عربی کو کسی عجمی پر، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔'

اخوت: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'بے شک تمام اہلِ ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں' (سورۃ الحجرات: 10)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔'

رواداری: قرآن مجید میں ارشاد ہے: 'دین میں کوئی زبردستی نہیں، بے شک ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہو چکی ہے' (سورۃ البقرۃ: 256)۔ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے جائز حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔

اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف اور فرائض

اسلامی فلاحی ریاست سے مراد ایسی ریاست ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو، عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہو اور جہاں انصاف، مساوات، اخوت اور معاشی خوشحالی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جس میں توحید، مساوات، عدل و انصاف اور حصولِ علم کے اصول اپنائے گئے۔

اسلامی فلاحی ریاست کے فرائض میں شامل ہیں: اسلامی قوانین کا نفاذ، بنیادی ضروریات (روٹی، کپڑا، مکان) کی تکمیل، دولت کی منصفانہ تقسیم (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور اس کی مثالی مثال ہے)، عدل و انصاف اور مساوات کا قیام (اسلامی ریاست میں عدلیہ سربراہِ مملکت کو بھی جوابدہ ٹھہرا سکتی ہے)، اظہارِ رائے کی آزادی، امن و امان کا نفاذ، اور ملکی دفاعی نظام کا قیام۔

پاکستان بحیثیت اسلامی ریاست: قائد اعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان اور قراردادِ مقاصد

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو جدید اسلامی ریاست بنانے کے بڑے حامی تھے۔ آپ نے فرمایا: 'پاکستان تو اسی روز وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا۔' 1943ء کے کراچی اجلاس میں آپ نے فرمایا: 'وہ رشتہ، وہ چٹان اور وہ لنگر جس سے امتِ مسلمہ کی کشتی محفوظ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید ہے۔' مارچ 1944ء میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: 'ہمارا راہ نما اسلام ہے اور یہی ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ ہے۔' 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے قوم کو صوبائی و لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر متحد ہونے کی تلقین کی: 'ہم تو بس مسلمان ہیں۔' 'اتحاد، ایمان، تنظیم' (Unity, Faith, Discipline) قائد اعظم کا دیا ہوا قومی نصب العین ہے جو پاکستان کے قومی نشان پر درج ہے۔

علامہ محمد اقبال بنیادی طور پر فلسفی اور شاعر تھے۔ آپ نے خطبہ الہ آباد 1930ء کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا مطالبہ کیا اور فرمایا: 'مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک اسلامی ریاست قائم کرنی پڑے گی۔' علامہ اقبال نے فلسفیانہ دلائل دیے اور چودھری رحمت علی نے انہی دلائل کو لفظ 'پاکستان' میں سمو دیا۔

لیاقت علی خان قائد اعظم کے دستِ راست تھے۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے انہوں نے قراردادِ مقاصد کا مسودہ تیار کیا، جو 12 مارچ 1949ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں منظور ہوئی۔ اس کے اہم نکات ہیں: اللہ تعالیٰ کی حاکمیت، اسلامی اصولوں (جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری، معاشرتی انصاف) کا نفاذ، اسلامی طرزِ حیات، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ، وفاقی نظام، بنیادی حقوق، اور آزاد عدلیہ۔

اسلام اور جدیدیت

جدیدیت سے مراد نئے شعور، عقلیت پسندی اور تخلیقی تجربات کو اپنانا ہے۔ اسلام میں قرآن و سنت میں عقل کے استعمال اور حکمتِ عملی پر زور دیا گیا ہے، جو جدیدیت کے ساتھ ایک قدرِ مشترک بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوہا اتارا جس میں سخت طاقت ہے (سورۃ الحدید: 25) — یعنی اسلام میں صنعتی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی گنجائش موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'دانائی کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے، وہ اسے جہاں پائے، لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے' (سنن ابن ماجہ: 4169)۔

اسلام میں امن، رواداری اور بقائے باہمی کا فروغ

اسلام کی بنیاد امن پر ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 'جس نے کسی جان کو (ناحق) قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا' (سورۃ المائدہ: 32)۔ امن کے قیام کے اصولوں میں ایمان و اصلاح، خالص عبادت اور اخوت و ہمدردی کا فروغ شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: 'تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے' (صحیح بخاری: 13)۔

مذہبی رواداری کا بنیادی اصول ہے: 'دین میں کوئی زبردستی نہیں' (سورۃ البقرۃ: 256) اور 'تمہارے لیے تمہارا دین، میرے لیے میرا دین' (سورۃ الکافرون: 6)۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ ایلیا کو جان، مال، گرجا اور صلیب کے تحفظ کی امان دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنر کو غیر مسلموں سے نرمی برتنے کی ہدایت دی۔ بقائے باہمی کا مطلب ہے دوسرے انسانوں کے ساتھ امن، صلح اور محبت کے ساتھ رہنا — 'اور اللہ کی راہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑیں اور زیادتی نہ کرو' (سورۃ البقرۃ: 190)۔

اہم تعریفات

نظریہ کی تعریف کریں۔

ایسا ضابطہ یا پروگرام جس کی بنیاد فکر و فلسفہ پر رکھی گئی ہو، نظریہ کہلاتا ہے۔

دو قومی نظریہ سے کیا مراد ہے؟

یہ تصور کہ ہندو اور مسلمان مذہب، ثقافت اور طرزِ زندگی کے لحاظ سے دو الگ الگ قومیں ہیں، دو قومی نظریہ کہلاتا ہے۔

عدل کے لفظی معنی کیا ہیں؟

صحیح چیز کو صحیح جگہ پر رکھنا عدل کہلاتا ہے۔

اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف کریں۔

ایسی ریاست جو اسلامی اصولوں کے مطابق ہو اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے، اسلامی فلاحی ریاست کہلاتی ہے۔

جدیدیت سے کیا مراد ہے؟

نئے شعور، عقلیت پسندی اور تخلیقی تجربات کو اپنانا جدیدیت کہلاتا ہے۔

قراردادِ مقاصد کیا ہے؟

12 مارچ 1949ء کو دستور ساز اسمبلی سے منظور ہونے والی وہ قرارداد جس نے پاکستان کے آئندہ دستور کے لیے راہنما اصول فراہم کیے، قراردادِ مقاصد کہلاتی ہے۔

اہم حقائق و خلاصہ جدول

عنوانخلاصہ
شملہ وفد1906ء
جداگانہ انتخابات کا نفاذ1909ء کے قانون کے تحت
خطبہ الہ آباد (علامہ اقبال)1930ء
قرارداد لاہورمارچ 1940ء، منٹو پارک، لاہور
قیامِ پاکستان14 اگست 1947ء
قراردادِ مقاصد کی منظوری12 مارچ 1949ء
قومی نصب العیناتحاد، ایمان، تنظیم

خاکہ جات

اسلام کے بنیادی اصول: اقتدارِ اعلیٰ، عدل و انصاف، مساوات، اخوت اور رواداری کا خاکہ

Islam ke Bunyadi Usool - Pakistan Studies 12 Chapter 1 Diagram

اسلامی فلاحی ریاست کے فرائض: قوانین کا نفاذ، بنیادی ضروریات، منصفانہ تقسیمِ دولت، عدل، آزادیِ اظہار، امن، دفاع

Islami Falahi Riyasat ke Faraiz - Pakistan Studies 12 Chapter 1 Diagram

مختصر سوالات و جوابات

نظریہ کی تعریف بیان کریں۔

ایسا ضابطہ یا پروگرام جس کی بنیاد فکر و فلسفہ پر رکھی گئی ہو، نظریہ کہلاتا ہے۔

دو قومی نظریہ سے کیا مراد ہے؟

یہ تصور کہ ہندو اور مسلمان مذہبی، ثقافتی اور معاشرتی لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں اور ایک متحدہ ہندوستان میں یکجا نہیں رہ سکتے۔

علامہ محمد اقبال نے 1930ء میں خطبہ الہ آباد میں کیا فرمایا؟

انہوں نے شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا۔

قائد اعظم نے 1943ء کے کراچی اجلاس میں کیا فرمایا؟

آپ نے فرمایا کہ وہ رشتہ، وہ چٹان اور وہ لنگر جس سے امت کی کشتی محفوظ ہے، قرآن مجید ہے۔

جدیدیت کیا ہے؟

نئے شعور، عقلیت پسندی اور تخلیقی تجربات کو اپنانا جدیدیت کہلاتا ہے۔

دولت کی منصفانہ تقسیم سے کیا مراد ہے؟

دولت کو چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہونے دینا بلکہ اس کی گردش کو یقینی بنانا تاکہ معاشرے کا ہر فرد اس سے مستفید ہو سکے۔

رواداری کا مفہوم تحریر کریں۔

دوسروں کی غلطیوں سے درگزر کرنا اور ان کے عقائد و ثقافت کا احترام کرنا رواداری کہلاتا ہے۔

بقائے باہمی کا کیا مطلب ہے؟

دوسرے انسانوں کے ساتھ امن، صلح اور محبت کے ساتھ رہنا بقائے باہمی کہلاتا ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

اسلام، پاکستان کی نظریاتی اساس ہے، بحث کریں۔

پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی عملی تعبیر تھا، جس کی بنیاد اس تصور پر تھی کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں۔ اسلامی معاشرہ قرآن و سنت کی آفاقی صداقتوں پر قائم ہے۔ سر سید احمد خان، علامہ اقبال اور قائد اعظم نے اس نظریے کو مختلف مراحل میں تقویت دی، یہاں تک کہ 1940ء کی قرارداد لاہور کے ذریعے علیحدہ مسلم ریاست کا باضابطہ مطالبہ سامنے آیا۔ قائد اعظم کے نزدیک پاکستان کا مطالبہ دراصل تقاضائے اسلام تھا، اور آپ نے بارہا فرمایا کہ اسلام ہی پاکستانی قوم کا راہ نما اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔

اسلام کے بنیادی اصول بیان کریں۔

اسلام کے بنیادی اصولوں میں اقتدارِ اعلیٰ (کہ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے)، عدل و انصاف، مساوات (رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر)، اخوت (باہمی بھائی چارہ) اور رواداری (دوسروں کے عقائد کا احترام) شامل ہیں۔ یہ تمام اصول قرآن مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ماخوذ ہیں اور اسلامی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی ایک متوازن اور پرامن اسلامی معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔

اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف اور اس کے فرائض بیان کریں۔

اسلامی فلاحی ریاست وہ ریاست ہے جو اسلامی اصولوں کے مطابق عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں اس کی پہلی مثال قائم کی۔ اس کے فرائض میں اسلامی قوانین کا نفاذ، بنیادی ضروریات کی تکمیل، دولت کی منصفانہ تقسیم، عدل و مساوات کا قیام، آزادیِ اظہار، امن و امان اور دفاعی نظام شامل ہیں۔ یہ تمام فرائض ریاست کو عوام کا خادم اور ذمہ دار بناتے ہیں، نہ کہ محض حکمران۔

اسلام امن اور رواداری کو فروغ دیتا ہے، وضاحت کریں۔

اسلام ایک جان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ امن کے قیام کے لیے ایمان و اصلاح، خالص عبادت اور اخوت کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ مذہبی رواداری کا سب سے بنیادی اصول 'دین میں کوئی زبردستی نہیں' ہے۔ حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے دور کی مثالیں غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کی روشن نظیر ہیں۔ اسلام بقائے باہمی کو فروغ دیتے ہوئے ہر فرد کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتا ہے۔

پاکستان بحیثیت ایک جدید اسلامی ریاست، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے حوالے سے بیان کریں۔

قائد اعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک جدید اسلامی ریاست کے طور پر تشکیل دینے کے زبردست حامی تھے اور اسلام کو مکمل ضابطہ حیات سمجھتے تھے۔ علامہ اقبال نے فلسفیانہ اور شاعرانہ انداز میں مسلمانانِ ہند کو ایک الگ ریاست کے تصور سے روشناس کرایا۔ ان دونوں رہنماؤں کی فکر نے مل کر پاکستان کی نظریاتی بنیاد رکھی، اور بعد ازاں لیاقت علی خان کی قراردادِ مقاصد نے اس نظریے کو دستوری تحفظ فراہم کیا۔

معروضی سوالات (MCQs)

قراردادِ مقاصد 1949ء پیش کرنے والے وزیرِ اعظم کا نام ہے: (الف) خواجہ ناظم الدین (ب) محمد علی بوگرہ (ج) چوہدری محمد علی (د) لیاقت علی خان

درست جواب: (د) لیاقت علی خان۔ لیاقت علی خان نے قراردادِ مقاصد پیش کی جو 12 مارچ 1949ء کو منظور ہوئی۔

برصغیر پاک و ہند میں جداگانہ انتخابات کا مطالبہ سب سے پہلے کیا: (الف) علامہ محمد اقبال نے (ب) سر سید احمد خان نے (ج) چودھری رحمت علی نے (د) قائد اعظم نے

درست جواب: (ب) سر سید احمد خان نے۔ سر سید احمد خان نے سب سے پہلے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔

قرارداد لاہور پیش ہوئی: (الف) 1930ء میں (ب) 1935ء میں (ج) 1940ء میں (د) 1945ء میں

درست جواب: (ج) 1940ء میں۔ قرارداد لاہور مارچ 1940ء میں پیش ہوئی۔

عدل کے لفظی معنی ہیں: (الف) پرامن اور خوشحال معاشرہ (ب) اجتماعی بہتری (ج) کردار کی تعمیر و تشکیل (د) کسی صحیح چیز کو صحیح جگہ پر رکھنا

درست جواب: (د) کسی صحیح چیز کو صحیح جگہ پر رکھنا۔ عدل کے لفظی معنی صحیح چیز کو صحیح جگہ پر رکھنا ہیں۔

علامہ اقبال نے 1930ء میں اپنا مشہور صدارتی خطبہ دیا: (الف) دہلی میں (ب) لاہور میں (ج) کراچی میں (د) الہ آباد میں

درست جواب: (د) الہ آباد میں۔ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد 1930ء میں دیا۔

قائد اعظم نے ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے قوم کو صوبائی تعصبات سے گریز کی تلقین کی: (الف) جولائی 1946ء میں (ب) فروری 1947ء میں (ج) ستمبر 1947ء میں (د) مارچ 1948ء میں

درست جواب: (د) مارچ 1948ء میں۔ قائد اعظم نے 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں یہ خطاب فرمایا۔

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے مساوات کا درس کب دیا؟ (الف) نبوت کے فوراً بعد (ب) ہجرتِ مدینہ کے موقع پر (ج) حجۃ الوداع کے موقع پر (د) صلحِ حدیبیہ کے موقع پر

درست جواب: (ج) حجۃ الوداع کے موقع پر۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں مساوات کا یہ درس دیا۔

'اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے' کس سورت میں ارشاد ہوا؟ (الف) البقرۃ (ب) آل عمران (ج) النساء (د) المائدہ

درست جواب: (ب) آل عمران۔ یہ ارشاد سورۃ آل عمران، آیت 19 میں ہے۔

پاکستان کا قومی نصب العین ہے: (الف) اتحاد، ایمان، تنظیم (ب) عدل، مساوات، اخوت (ج) ایمان، تقویٰ، جہاد (د) علم، عمل، اخلاص

درست جواب: (الف) اتحاد، ایمان، تنظیم۔ قائد اعظم کا دیا ہوا قومی نصب العین 'اتحاد، ایمان، تنظیم' ہے۔

لفظ 'پاکستان' سب سے پہلے کس نے تجویز کیا؟ (الف) علامہ محمد اقبال نے (ب) قائد اعظم نے (ج) چودھری رحمت علی نے (د) لیاقت علی خان نے

درست جواب: (ج) چودھری رحمت علی نے۔ چودھری رحمت علی نے 1933ء میں لفظ 'پاکستان' تجویز کیا۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • نظریہ = فکر و فلسفہ پر مبنی ضابطہ؛ دو قومی نظریہ = ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں
  • شملہ وفد 1906ء؛ جداگانہ انتخابات 1909ء؛ خطبہ الہ آباد 1930ء (علامہ اقبال)
  • قرارداد لاہور: مارچ 1940ء، منٹو پارک لاہور
  • اسلام کے بنیادی اصول: اقتدارِ اعلیٰ، عدل، مساوات، اخوت، رواداری
  • اسلامی فلاحی ریاست کے فرائض: قانون کا نفاذ، بنیادی ضروریات، منصفانہ تقسیمِ دولت، عدل، آزادیِ اظہار، امن، دفاع
  • قراردادِ مقاصد: 12 مارچ 1949ء، لیاقت علی خان
  • قومی نصب العین: اتحاد، ایمان، تنظیم
  • اسلام امن، رواداری اور بقائے باہمی کا داعی ہے

امتحانی نکات

  • پیئرنگ اسکیم کے مطابق باب اول سے معروضی و مختصر سوالات باقاعدگی سے پوچھے جاتے ہیں
  • اہم تاریخیں (1906، 1909، 1930، 1940، 1947، 1949) ترتیب سے یاد رکھیں
  • قائد اعظم، علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کے اقوال کو درست حوالے کے ساتھ یاد کریں
  • قراردادِ مقاصد کے سات نکات کو ترتیب سے یاد رکھیں
  • قرآنی آیات کے حوالہ جات درست سورت اور آیت نمبر کے ساتھ لکھیں