Economics Class 10 Chapter 10: Bank Notes – Punjab Board (PCTB) (Urdu Medium)

باب 10: بنک (Bank)

پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت جماعت دہم کے مضمون معاشیات کے اس باب میں بنک کے موضوع کا مطالعہ کیا جاتا ہے: بنک کی تعریف، بنک کی اقسام، مرکزی بینک کے فرائض، اور پاکستان میں غیر سودی بینکاری کا نظام۔

بنک جدید معیشت کا اہم ستون ہیں — یہ بچتوں کو یکجا کرکے سرمایہ کاری کی طرف موڑتے ہیں۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔

تعلیمی مقاصد

  • بنک کی تعریف اور اس کے بنیادی کاموں کو سمجھیں۔
  • بنک کی مختلف اقسام میں فرق بیان کریں۔
  • مرکزی بینک کے فرائض کی مثالوں سے وضاحت کریں۔
  • افراطِ زر و تفریطِ زر پر قابو پانے کی زری پالیسی کے اوزار بیان کریں۔
  • پاکستان میں غیر سودی بینکاری نظام کی تاریخ بیان کریں۔
  • غیر سودی بینکاری کے مختلف طریقے بیان کریں۔

کلیدی تصورات

بنک کی تعریف اور تعارف

کراوتھر کے مطابق بنک وہ ادارہ ہے جو قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضے مہیا کرتا ہے۔ بنک لوگوں کی چھوٹی چھوٹی بچتوں کو یکجا کرکے صنعت و تجارت کے لیے قابلِ استعمال سرمایہ بناتا ہے۔

بنک عوام کی امانتیں محفوظ رکھنے، لین دین میں سہولت دینے، اور بچتوں کو سرمایہ کاری کی طرف موڑنے جیسے بنیادی کام سرانجام دیتا ہے، جس سے معیشت کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔

بنک کی اقسام

مرکزی یا ریاستی بنک (اسٹیٹ بینک آف پاکستان) ملک کا سب سے بڑا اور نگران بنک ہے جو نوٹ جاری کرتا ہے اور دیگر بینکوں کی نگرانی کرتا ہے۔ تجارتی بنک عوام سے امانتیں وصول کرکے قرضے دیتے ہیں — پاکستان میں حبیب بنک، ایم سی بی اور یو بی ایل جیسے تجارتی بینک اس کی مثالیں ہیں۔

صنعتی بنک صنعتوں کو طویل المیعاد قرضے فراہم کرتا ہے، جیسے صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان اور پی آئی سی آئی سی۔ زرعی بنک کاشتکاروں کو قرضے دیتا ہے، جیسے زرعی ترقیاتی بنک۔ شیڈول بنک اسٹیٹ بینک کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہوتے ہیں جبکہ نان شیڈول بنک ان قوانین کے پابند نہیں ہوتے۔

مرکزی بینک کے فرائض — نوٹ کا اجراء، حکومت اور بینکوں کا بینک

مرکزی بینک ملک میں کاغذی نوٹ جاری کرنے کا واحد مجاز ادارہ ہے۔ اس کے لیے دو طریقے رائج ہیں: مقررہ ذخیرہ نظام اور متناسب ذخیرہ نظام — پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام رائج ہے، یعنی جاری کردہ نوٹوں کے مقابلے میں کم از کم 33 فیصد سونا و زرِ مبادلہ ذخیرہ رکھنا لازمی ہے۔

مرکزی بینک حکومت کا بینک بھی ہے: یہ حکومتی اکاؤنٹس رکھتا ہے، حکومت کو قرضے دیتا ہے، حکومتی واجبات وصول کرتا ہے، اور مالی مشیر کا کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح یہ بینکوں کا بینک بھی ہے: تمام تجارتی بینکوں کے نقد ذخائر رکھتا ہے، انہیں قرضے دیتا ہے، ان کی نگرانی کرتا ہے اور ان کے درمیان لین دین کا نظام چلاتا ہے۔

مرکزی بینک کے فرائض — آخری قرض خانہ، کلیئرنگ ہاؤس اور زری منڈی کی نگرانی

مرکزی بینک آخری قرض خانے کی حیثیت سے تجارتی بینکوں کو مالی مشکل کے وقت قرض فراہم کرتا ہے تاکہ بینکاری نظام میں استحکام برقرار رہے۔ یہ کلیئرنگ ہاؤس کے طور پر بھی کام کرتا ہے، یعنی مختلف بینکوں کے آپس کے چیکوں اور واجبات کا حساب برابر کرتا ہے۔

مرکزی بینک زری منڈی کا امین ہوتے ہوئے زری پالیسی کے ذریعے افراطِ زر اور تفریطِ زر پر قابو پاتا ہے۔ اس کے چار اہم اوزار ہیں: شرح سود کی پالیسی، کھلی منڈی میں کاروائی، ذخیرہ کی شرح میں تبدیلی، اور راشن بندی۔ مرکزی بینک زرِ مبادلہ کا امین بھی ہے اور ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کی نگرانی کرتا ہے۔

پاکستان میں غیر سودی بینکاری کا آغاز

دنیا میں غیر سودی بینکاری کا آغاز 1963ء میں مصر کے مِٹ غمر سوشل بنک اور ملائیشیا کے پلگرمز مینجمنٹ ادارے سے ہوا۔ اس کے بعد سعودی عرب میں البرکہ بنک جیسے ادارے قائم ہوئے۔

پاکستان میں 1981ء میں تجارتی بینکوں میں پی ایل ایس (منافع و نقصان میں شرکت) اکاؤنٹس متعارف کرائے گئے، اور 1985ء میں مکمل طور پر غیر سودی بینکاری کی طرف منتقلی کی گئی۔

غیر سودی بینکاری کے طریقے

غیر سودی بینکاری چھ بنیادی طریقوں پر مبنی ہے: مشارکہ (شراکتی سرمایہ کاری جس میں نفع نقصان دونوں فریقین میں تقسیم ہوں)، مضاربہ (ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا محنت، نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہو)، اور کرایہ و خریداری (اثاثہ کرائے پر دے کر بتدریج ملکیت منتقل کرنا)۔

باقی تین طریقے ہیں: حصصی شراکت (کسی منصوبے میں براہ راست حصہ داری)، سروس چارجز کے ساتھ بلا سود قرضے، اور قرضِ حسنہ (بغیر کسی اضافی چارج کے دیا جانے والا قرض، جو خالصتاً فلاحی نوعیت کا ہوتا ہے)۔

اہم تعریفات

بنک (Bank)

وہ ادارہ جو قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضے مہیا کرتا ہے۔

مرکزی بنک (Central Bank)

ملک کا سب سے بڑا اور نگران بینک، جیسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جو نوٹ جاری کرتا ہے اور دیگر بینکوں کی نگرانی کرتا ہے۔

تجارتی بنک (Commercial Bank)

وہ بنک جو عوام سے امانتیں وصول کرکے تجارت و صنعت کے لیے قرضے فراہم کرتا ہے، جیسے حبیب بنک اور یو بی ایل۔

زرعی بنک (Agricultural Bank)

وہ بنک جو کاشتکاروں کو زرعی مقاصد کے لیے قرضے فراہم کرتا ہے، جیسے زرعی ترقیاتی بنک۔

شیڈول بنک (Scheduled Bank)

وہ بنک جو اسٹیٹ بینک کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہو اور اس کی نگرانی میں کام کرے۔

آخری قرض خانہ (Lender of Last Resort)

مرکزی بینک کا وہ فرض جس کے تحت وہ مالی مشکل کے وقت تجارتی بینکوں کو قرض فراہم کرتا ہے۔

متناسب ذخیرہ نظام (Proportional Reserve System)

نوٹ اجراء کا وہ نظام جس میں جاری کردہ نوٹوں کے تناسب سے سونا و زرِ مبادلہ ذخیرہ رکھنا لازمی ہو — پاکستان میں یہ شرح 33 فیصد ہے۔

قرضِ حسنہ (Qarz-e-Hasna)

بغیر کسی اضافی چارج کے دیا جانے والا قرض، جو خالصتاً فلاحی اور تعاون کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

اہم حقائق

عنوانتفصیل
نوٹ اجراء کے دو نظاممقررہ ذخیرہ نظام اور متناسب ذخیرہ نظام — پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام رائج ہے
زری پالیسی کا پہلا اوزارشرح سود کی پالیسی — قرضوں کی شرح سود میں تبدیلی سے زر کی رسد کو کنٹرول کرنا
زری پالیسی کا دوسرا اوزارکھلی منڈی میں کاروائی — سرکاری مالیاتی کاغذات کی خرید و فروخت سے زر کی رسد میں تبدیلی
زری پالیسی کا تیسرا اوزارذخیرہ کی شرح میں تبدیلی — تجارتی بینکوں کے لازمی نقد ذخائر کی شرح گھٹانا بڑھانا
زری پالیسی کا چوتھا اوزارراشن بندی — مخصوص شعبوں کو دیے جانے والے قرضوں کی مقدار محدود کرنا

خاکہ جات و تصاویر

بنک کی اقسام کا خاکہ: ایک درجہ بندی خاکہ جو بنک کی پانچ بنیادی اقسام کو ان کی مختصر وضاحت کے ساتھ دکھاتا ہے۔

بنک کی اقسام کا خاکہ - معاشیات جماعت دہم اردو میڈیم (Freebooks.pk)

مرکزی بینک کے فرائض کا خاکہ: ایک خاکہ جو مرکزی بینک کے سات اہم فرائض کو یکجا دکھاتا ہے۔

مرکزی بینک کے فرائض کا خاکہ - معاشیات جماعت دہم اردو میڈیم (Freebooks.pk)

مختصر سوالات و جوابات

بنک کی تعریف کراوتھر کے مطابق بیان کریں۔

کراوتھر کے مطابق بنک وہ ادارہ ہے جو قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضے مہیا کرتا ہے۔

تجارتی بنک کی کوئی دو مثالیں دیں۔

حبیب بنک اور یو بی ایل تجارتی بینکوں کی مثالیں ہیں۔

شیڈول اور نان شیڈول بنک میں کیا فرق ہے؟

شیڈول بنک اسٹیٹ بینک کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہوتا ہے، جبکہ نان شیڈول بنک ان قوانین کا پابند نہیں ہوتا۔

پاکستان میں نوٹ اجراء کا کون سا نظام رائج ہے؟

پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام رائج ہے، یعنی جاری کردہ نوٹوں کے مقابلے میں کم از کم 33 فیصد سونا و زرِ مبادلہ ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔

مرکزی بینک آخری قرض خانہ کیسے ہے؟

مرکزی بینک مالی مشکل کے وقت تجارتی بینکوں کو قرض فراہم کرتا ہے تاکہ بینکاری نظام میں استحکام برقرار رہے۔

کلیئرنگ ہاؤس کا کیا مطلب ہے؟

کلیئرنگ ہاؤس سے مراد مرکزی بینک کا وہ کردار ہے جس میں وہ مختلف بینکوں کے آپس کے چیکوں اور واجبات کا حساب برابر کرتا ہے۔

زری پالیسی کے کوئی دو اوزار بیان کریں۔

شرح سود کی پالیسی اور کھلی منڈی میں کاروائی زری پالیسی کے دو اہم اوزار ہیں۔

پاکستان میں غیر سودی بینکاری کب مکمل نافذ ہوئی؟

پاکستان میں 1981ء میں پی ایل ایس اکاؤنٹس متعارف کرائے گئے اور 1985ء میں مکمل طور پر غیر سودی بینکاری نافذ کی گئی۔

قرضِ حسنہ سے کیا مراد ہے؟

قرضِ حسنہ وہ قرض ہے جو بغیر کسی اضافی چارج کے، خالصتاً فلاحی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

مضاربہ سے کیا مراد ہے؟

مضاربہ میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، اور نفع طے شدہ تناسب سے دونوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

تفصیلی سوالات و جوابات

بنک سے کیا مراد ہے؟ بنک کی مختلف اقسام کی وضاحت کریں۔

بنک کی تعریف کیا ہے؟

کراوتھر کے مطابق بنک وہ ادارہ ہے جو قرضوں کا کاروبار کرتا ہے، عوام سے امانتیں وصول کرتا ہے اور ضرورت مند لوگوں کو قرضے مہیا کرتا ہے، اور یوں چھوٹی بچتوں کو قابلِ استعمال سرمایہ بناتا ہے۔

مرکزی اور تجارتی بنک میں کیا فرق ہے؟

مرکزی بینک ملک کا سب سے بڑا نگران ادارہ ہے جو نوٹ جاری کرتا ہے اور دیگر بینکوں کی نگرانی کرتا ہے۔ تجارتی بنک عوام سے امانتیں وصول کرکے قرضے فراہم کرتا ہے، جیسے حبیب بنک اور یو بی ایل۔

صنعتی اور زرعی بنک کا کیا کردار ہے؟

صنعتی بنک صنعتوں کو طویل المیعاد قرضے فراہم کرتا ہے، جیسے صنعتی ترقیاتی بنک۔ زرعی بنک کاشتکاروں کو قرضے دیتا ہے، جیسے زرعی ترقیاتی بنک۔

شیڈول اور نان شیڈول بنک میں کیا فرق ہے؟

شیڈول بنک اسٹیٹ بینک کے قوانین کے تحت رجسٹرڈ ہو کر اس کی نگرانی میں کام کرتا ہے، جبکہ نان شیڈول بنک ان قوانین کا پابند نہیں ہوتا۔

مرکزی بینک کے فرائض تفصیل سے بیان کریں۔

مرکزی بینک نوٹ کیسے جاری کرتا ہے؟

مرکزی بینک ملک میں کاغذی نوٹ جاری کرنے کا واحد مجاز ادارہ ہے۔ پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام رائج ہے، جس میں جاری کردہ نوٹوں کے مقابلے میں سونا و زرِ مبادلہ ذخیرہ رکھا جاتا ہے۔

مرکزی بینک حکومت اور بینکوں کا بینک کیسے ہے؟

مرکزی بینک حکومتی اکاؤنٹس رکھتا ہے، حکومت کو قرضے دیتا ہے اور مالی مشیر کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بینکوں کا بینک بھی ہے، ان کے نقد ذخائر رکھتا ہے اور انہیں قرضے دیتا ہے۔

آخری قرض خانہ اور کلیئرنگ ہاؤس کے فرائض کیا ہیں؟

مرکزی بینک مالی مشکل کے وقت تجارتی بینکوں کو قرض فراہم کرتا ہے، اور کلیئرنگ ہاؤس کے طور پر بینکوں کے آپس کے چیکوں و واجبات کا حساب برابر کرتا ہے۔

زری منڈی اور زرِ مبادلہ کی نگرانی کیسے کی جاتی ہے؟

مرکزی بینک زری پالیسی (شرح سود، کھلی منڈی میں کاروائی، ذخیرہ کی شرح، راشن بندی) کے ذریعے افراطِ زر اور تفریطِ زر پر قابو پاتا ہے، اور ملک کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا امین بھی ہوتا ہے۔

معروضی سوالات (MCQs)

پاکستان کا مرکزی بینک کون سا ہے؟ (الف) حبیب بنک (ب) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ج) زرعی ترقیاتی بنک (د) یو بی ایل

درست جواب: (ب) اسٹیٹ بینک آف پاکستان۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کا مرکزی اور نگران بینک ہے۔

مرکزی بینک کاغذی نوٹ کس نظام کے تحت جاری کرتا ہے؟ (الف) صرف مقررہ ذخیرہ نظام (ب) صرف متناسب ذخیرہ نظام (ج) پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام (د) کوئی نظام نہیں

درست جواب: (ج) پاکستان میں 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام۔ پاکستان میں نوٹ اجراء کے لیے 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام رائج ہے۔

مالی مشکل کے وقت تجارتی بینکوں کو قرض کون فراہم کرتا ہے؟ (الف) دوسرے تجارتی بینک (ب) مرکزی بینک بطور آخری قرض خانہ (ج) زرعی بنک (د) صنعتی بنک

درست جواب: (ب) مرکزی بینک بطور آخری قرض خانہ۔ مرکزی بینک آخری قرض خانے کی حیثیت سے مالی مشکل کے وقت تجارتی بینکوں کو قرض دیتا ہے۔

بینکوں کے آپس کے چیکوں کا حساب برابر کرنے کا کام کیا کہلاتا ہے؟ (الف) راشن بندی (ب) کلیئرنگ ہاؤس (ج) کھلی منڈی میں کاروائی (د) ذخیرہ کی شرح

درست جواب: (ب) کلیئرنگ ہاؤس۔ کلیئرنگ ہاؤس کے ذریعے مختلف بینکوں کے آپس کے چیکوں اور واجبات کا حساب برابر کیا جاتا ہے۔

زری پالیسی کا کون سا اوزار سرکاری مالیاتی کاغذات کی خرید و فروخت سے متعلق ہے؟ (الف) راشن بندی (ب) شرح سود کی پالیسی (ج) کھلی منڈی میں کاروائی (د) ذخیرہ کی شرح

درست جواب: (ج) کھلی منڈی میں کاروائی۔ کھلی منڈی میں کاروائی کے ذریعے سرکاری مالیاتی کاغذات کی خرید و فروخت سے زر کی رسد کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔

صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان کس قسم کا بنک ہے؟ (الف) تجارتی بنک (ب) زرعی بنک (ج) صنعتی بنک (د) مرکزی بنک

درست جواب: (ج) صنعتی بنک۔ صنعتی ترقیاتی بنک آف پاکستان صنعتوں کو طویل المیعاد قرضے فراہم کرتا ہے، اس لیے یہ صنعتی بنک ہے۔

پاکستان میں پی ایل ایس اکاؤنٹس کب متعارف کرائے گئے؟ (الف) 1963ء (ب) 1970ء (ج) 1981ء (د) 1990ء

درست جواب: (ج) 1981ء۔ پاکستان میں 1981ء میں تجارتی بینکوں میں پی ایل ایس اکاؤنٹس متعارف کرائے گئے۔

غیر سودی بینکاری کے کس طریقے میں ایک فریق سرمایہ اور دوسرا محنت فراہم کرتا ہے؟ (الف) مشارکہ (ب) مضاربہ (ج) قرضِ حسنہ (د) کرایہ و خریداری

درست جواب: (ب) مضاربہ۔ مضاربہ میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے۔

بغیر کسی اضافی چارج کے دیا جانے والا فلاحی قرض کیا کہلاتا ہے؟ (الف) مشارکہ (ب) مضاربہ (ج) قرضِ حسنہ (د) حصصی شراکت

درست جواب: (ج) قرضِ حسنہ۔ قرضِ حسنہ وہ قرض ہے جو بغیر کسی اضافی چارج کے خالصتاً فلاحی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔

زرعی ترقیاتی بنک کس طبقے کو قرضے فراہم کرتا ہے؟ (الف) صنعتکاروں (ب) کاشتکاروں (ج) تاجروں (د) حکومت

درست جواب: (ب) کاشتکاروں۔ زرعی ترقیاتی بنک کاشتکاروں کو زرعی مقاصد کے لیے قرضے فراہم کرتا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • بنک کی کراوتھر کی تعریف اور اس کے بنیادی کام یاد رکھیں۔
  • بنک کی پانچ اقسام: مرکزی، تجارتی، صنعتی، زرعی، شیڈول/نان شیڈول۔
  • مرکزی بینک کے سات فرائض: نوٹ اجراء، حکومت کا بینک، بینکوں کا بینک، آخری قرض خانہ، کلیئرنگ ہاؤس، زری منڈی کا امین، زرِ مبادلہ کا امین۔
  • پاکستان میں نوٹ اجراء کا نظام: 33 فیصد متناسب ذخیرہ نظام۔
  • زری پالیسی کے چار اوزار: شرح سود، کھلی منڈی میں کاروائی، ذخیرہ کی شرح، راشن بندی۔
  • پاکستان میں غیر سودی بینکاری: 1981ء پی ایل ایس اکاؤنٹس، 1985ء مکمل نفاذ، چھ طریقے۔

امتحانی نکات

  • بنک کی پانچ اقسام کا خاکہ بنا کر ہر ایک کی ایک مثال کے ساتھ یاد کریں۔
  • مرکزی بینک کے سات فرائض کو مختصر عنوانات میں فہرست بنا کر رٹ لیں۔
  • زری پالیسی کے چار اوزار اور ہر ایک کی ایک جملے میں وضاحت یاد رکھیں۔
  • غیر سودی بینکاری کی تاریخی تاریخیں (1963، 1981، 1985) کو ترتیب وار یاد کریں۔
  • غیر سودی بینکاری کے چھ طریقوں کے نام اور ہر ایک کی مختصر تعریف یاد کریں۔
  • مشارکہ اور مضاربہ کے فرق کو الجھن سے بچنے کے لیے موازنہ جدول بنا کر یاد کریں۔