باب 3: طلب (Demand)
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت جماعت نہم کے مضمون معاشیات کے تیسرے باب ‘طلب’ میں طلب کے مفہوم، قانونِ طلب، اس کے مفروضات اور حدود، اور قیمت کے علاوہ ان عوامل پر بحث کی جاتی ہے جو کسی شے کی مقدارِ طلب کو متاثر کرتے ہیں۔ طلب معاشیات کے بنیادی ترین تصورات میں سے ایک ہے۔
کسی شے کو خریدنے کا محض ارادہ طلب نہیں کہلاتا — طلب کے لیے خریدنے کا ارادہ اور خریدنے کی قوت (روپیہ) دونوں کا بیک وقت موجود ہونا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر قیمت اور مقدارِ طلب کا رشتہ سمجھا جاتا ہے، جسے قانونِ طلب کہا جاتا ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
تعلیمی مقاصد
- طلب کے مفہوم اور اس کی دو بنیادی شرائط کی وضاحت کریں۔
- قانونِ طلب اور اس کی تفاعلی مساوات بیان کریں۔
- قانونِ طلب کے مفروضات کی وضاحت کریں۔
- طلب کا گوشوارہ اور خطِ طلب بنانا اور پڑھنا سیکھیں۔
- قانونِ طلب کی حدود (استثنائی حالات) بیان کریں۔
- قیمت کے علاوہ طلب پر اثرانداز ہونے والے دیگر عوامل کی وضاحت کریں۔
- نعم البدل، تکمیلی اور خودمختار اشیاء میں فرق کریں۔
کلیدی تصورات
طلب کا مفہوم اور اس کی شرائط
طلب (Demand) سے مراد کسی شے کو خریدنے کا ارادہ اور خریدنے کی قوت ہے۔ محض خواہش طلب نہیں کہلاتی، کیونکہ ہماری خواہشات لامحدود ہوتی ہیں مگر جب تک ہم انہیں خریدنے کے قابل نہ ہوں، وہ طلب میں تبدیل نہیں ہوتیں۔ اس لیے طلب کے لیے دو شرائط کا بیک وقت پورا ہونا ضروری ہے: شے خریدنے کا ارادہ (Will to Purchase) اور شے خریدنے کی قوت (Power to Purchase)۔
طلب کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی شے کی وہ مقدار ہے جو خریدار مختلف قیمتوں پر خریدنے کے لیے رضامند ہوتے ہیں۔ چونکہ لوگ کم قیمت والی اشیاء زیادہ اور زیادہ قیمت والی اشیاء کم خریدتے ہیں، اس لیے طلب اور قیمت کے درمیان ایک مضبوط اور مخصوص رشتہ پایا جاتا ہے۔
قانونِ طلب اور اس کے مفروضات
قانونِ طلب (Law of Demand) بیان کرتا ہے کہ ‘دیگر حالات بدستور رہتے ہوئے، اگر کسی شے کی قیمت بڑھے تو اس کی مقدارِ طلب کم ہو جاتی ہے، اور اگر قیمت کم ہو جائے تو مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔’ اسے تفاعلی مساوات کی صورت میں Qd = f(P) لکھا جاتا ہے، یعنی مقدارِ طلب قیمت کا تفاعل ہے۔
‘دیگر حالات بدستور رہنے’ سے مراد چند مفروضات ہیں جنہیں یکساں تصور کیا جاتا ہے: صارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو؛ متبادل اشیاء کی قیمت نہ بدلے؛ صارف کی پسند و ناپسند اور فیشن یکساں رہے؛ آبادی کے حجم میں اچانک تبدیلی نہ ہو؛ مستقبل کے بارے میں توقعات یکساں رہیں؛ اور زر کی مقدار میں کوئی رد و بدل نہ ہو۔
طلب کا گوشوارہ اور خطِ طلب
طلب کے گوشوارے (Demand Schedule) میں مختلف قیمتوں پر مقدارِ طلب کو جدول کی صورت میں دکھایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جب پیاز کی قیمت 40 روپے فی کلوگرام ہو تو مقدارِ طلب صرف 5 کلوگرام ہوتی ہے، مگر قیمت 10 روپے ہونے پر مقدارِ طلب بڑھ کر 20 کلوگرام ہو جاتی ہے۔
اسی گوشوارے کو گراف کی صورت میں دکھایا جائے تو خطِ طلب (Demand Curve) حاصل ہوتا ہے۔ افقی خط (OX) پر مقدارِ طلب اور عمودی خط (OY) پر قیمت دکھائی جاتی ہے۔ خطِ طلب ہمیشہ اوپر سے نیچے بائیں سے دائیں کی طرف گرتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قیمت گرنے سے مقدارِ طلب بڑھتی ہے۔
قانونِ طلب کی حدود
بعض خاص حالات یا اشیاء پر قانونِ طلب لاگو نہیں ہوتا۔ گھٹیا اشیاء (Inferior Goods) کی قیمت گرنے پر بھی صارف انہیں زیادہ نہیں خریدتا۔ کمیاب اشیاء (Scarce Goods) کے متعلق اگر مستقبل میں قلت کا خدشہ ہو تو قیمت بڑھنے پر بھی لوگ زیادہ خریدتے ہیں۔
گفن اشیاء (Giffen Goods) — جن کا تصور پروفیسر گفن نے پیش کیا — پر بھی یہ قانون لاگو نہیں ہوتا، جیسے جو کی قیمت کم ہونے کے باوجود لوگ گندم کی طرف رجحان رکھیں۔ نہایت قیمتی و امتیازی اشیاء (Precious Goods) جیسے ہیرے جواہرات کی قیمت بڑھنے پر بھی طلب کم ہونے کے بجائے بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ان کا استعمال حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
طلب پر اثرانداز ہونے والے دیگر عوامل
قیمت کے علاوہ کئی عوامل مقدارِ طلب کو متاثر کرتے ہیں: صارف کی پسند و ناپسند اور فیشن؛ آمدنی (آمدنی بڑھنے سے نارمل اشیاء کی طلب بڑھتی ہے جبکہ گھٹیا اشیاء کی طلب کم ہو جاتی ہے)؛ آبادی کا حجم؛ اور دیگر متعلقہ اشیاء کی قیمتیں۔
متعلقہ اشیاء تین طرح کی ہوتی ہیں: نعم البدل اشیاء (Substitute Goods) جیسے چائے اور کافی — ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب بڑھتی ہے؛ تکمیلی اشیاء (Complementary Goods) جیسے ٹینس بال اور ریکٹ — ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب گرتی ہے؛ اور خودمختار اشیاء (Independent Goods) جن پر ایک دوسرے کی قیمت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس کے علاوہ مستقبل کی توقعات، زر کی مقدار، موسمی حالات، شے کا معیار اور نئی تکنیک بھی طلب کو متاثر کرتے ہیں۔
اہم تعریفات
طلب (Demand)
کسی شے کو خریدنے کا ارادہ اور خریدنے کی قوت — یہ دونوں شرائط بیک وقت پوری ہونی چاہئیں۔
قانونِ طلب (Law of Demand)
دیگر حالات یکساں رہتے ہوئے، قیمت بڑھنے سے مقدارِ طلب کم اور قیمت گرنے سے مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔
خطِ طلب (Demand Curve)
طلب کے گوشوارے کی گرافی شکل، جو قیمت اور مقدارِ طلب کے درمیان الٹا تعلق دکھاتی ہے۔
نعم البدل اشیاء (Substitute Goods)
وہ اشیاء جن میں سے ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب بڑھ جاتی ہے، جیسے چائے اور کافی۔
تکمیلی اشیاء (Complementary Goods)
وہ اشیاء جو ساتھ استعمال ہوتی ہیں، ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب کم ہو جاتی ہے، جیسے ٹینس بال اور ریکٹ۔
خودمختار اشیاء (Independent Goods)
وہ اشیاء جن میں سے ایک کی قیمت میں تبدیلی سے دوسری کی طلب متاثر نہیں ہوتی۔
نارمل اشیاء (Normal Goods)
وہ اشیاء جن کی مقدارِ طلب آمدنی بڑھنے سے بڑھ جاتی ہے۔
گھٹیا اشیاء (Inferior Goods)
وہ اشیاء جن کی مقدارِ طلب آمدنی بڑھنے سے کم ہو جاتی ہے۔
اہم حقائق
| عنوان | تفصیل |
|---|---|
| طلب کی تفاعلی مساوات | Qd = f(P) — مقدارِ طلب قیمت کا تفاعل ہے |
| طلب کا گوشوارہ (پیاز کی مثال) | قیمت 40 روپے پر طلب 5 کلوگرام؛ قیمت 10 روپے پر طلب 20 کلوگرام |
| قانونِ طلب کی حدود | گھٹیا اشیاء + کمیاب اشیاء + گفن اشیاء + نہایت قیمتی اشیاء |
| متعلقہ اشیاء کی اقسام | نعم البدل (طلب ایک ساتھ بڑھے) + تکمیلی (طلب مخالف سمت) + خودمختار (کوئی اثر نہیں) |
| آمدنی اور طلب کا تعلق | نارمل اشیاء (آمدنی بڑھنے سے طلب بڑھے) بمقابلہ گھٹیا اشیاء (آمدنی بڑھنے سے طلب کم ہو) |
خاکہ جات و تصاویر
خطِ طلب — پیاز کی مثال: ایک گرافی خاکہ جو پیاز کے طلب کے گوشوارے (قیمت بمقابلہ مقدارِ طلب) کو خطِ طلب کی صورت میں دکھاتا ہے۔

متعلقہ اشیاء کی اقسام کا موازنہ: ایک تقابلی خاکہ جو نعم البدل، تکمیلی اور خودمختار اشیاء کے فرق کو واضح کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات
طلب کسے کہتے ہیں؟
طلب سے مراد کسی شے کو خریدنے کا ارادہ اور خریدنے کی قوت ہے، جو بیک وقت موجود ہونی چاہئیں۔
قانونِ طلب بیان کریں۔
دیگر حالات بدستور رہتے ہوئے، قیمت بڑھنے سے مقدارِ طلب کم اور قیمت گرنے سے مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔
طلب کی تفاعلی مساوات کیا ہے؟
Qd = f(P)، یعنی مقدارِ طلب قیمت کا تفاعل ہے۔
قانونِ طلب کا کوئی ایک مفروضہ بیان کریں۔
صارف کی آمدنی میں کوئی تبدیلی نہ ہو — یہ قانونِ طلب کے مفروضات میں سے ایک ہے۔
خطِ طلب کس سمت میں گرتا ہے؟
خطِ طلب اوپر سے نیچے، بائیں سے دائیں طرف گرتا ہے، جو قیمت اور مقدارِ طلب کے الٹے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
گھٹیا اشیاء پر قانونِ طلب کیوں لاگو نہیں ہوتا؟
گھٹیا اشیاء کی قیمت گرنے پر بھی صارف انہیں زیادہ مقدار میں نہیں خریدتا، اس لیے قانونِ طلب ان پر لاگو نہیں ہوتا۔
نعم البدل اور تکمیلی اشیاء میں کیا فرق ہے؟
نعم البدل اشیاء میں ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب بڑھتی ہے، جبکہ تکمیلی اشیاء میں ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب گرتی ہے۔
نارمل اور گھٹیا اشیاء میں کیا فرق ہے؟
نارمل اشیاء کی طلب آمدنی بڑھنے سے بڑھتی ہے، جبکہ گھٹیا اشیاء کی طلب آمدنی بڑھنے سے کم ہو جاتی ہے۔
گفن اشیاء سے کیا مراد ہے؟
گفن اشیاء وہ ادنیٰ اشیاء ہیں جن پر قانونِ طلب لاگو نہیں ہوتا — قیمت کم ہونے کے باوجود ان کی طلب نہیں بڑھتی، جیسے جو بمقابلہ گندم۔
زر کی مقدار طلب پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟
زر کی مقدار بڑھنے سے اشیاء کی مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے، اور زر کی مقدار کم ہونے سے مقدارِ طلب کم ہو جاتی ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
قانونِ طلب کی تعریف کریں اور اس کے مفروضات و حدود پر تفصیل سے بحث کریں۔
قانونِ طلب کیا ہے؟
قانونِ طلب کے مطابق، دیگر حالات بدستور رہتے ہوئے، اگر کسی شے کی قیمت بڑھے تو اس کی مقدارِ طلب کم ہو جاتی ہے، اور اگر قیمت کم ہو تو مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔ اسے Qd = f(P) کی تفاعلی مساوات سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
قانونِ طلب کے مفروضات کیا ہیں؟
اس قانون کے درست ہونے کے لیے صارف کی آمدنی، متبادل اشیاء کی قیمت، پسند و ناپسند، آبادی کا حجم، مستقبل کی توقعات اور زر کی مقدار — ان سب کو یکساں تصور کیا جاتا ہے۔
قانونِ طلب کی حدود کیا ہیں؟
گھٹیا اشیاء، کمیاب اشیاء، گفن اشیاء اور نہایت قیمتی و امتیازی اشیاء پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ ان کی طلب قیمت کے برعکس رویہ ظاہر کرتی ہے۔
گفن اشیاء کی مثال سے حدود کی وضاحت کریں۔
جو ایک ادنیٰ شے ہے۔ اگر جو کی قیمت کم ہو جائے تو غریب صارفین اپنی بچت سے تھوڑی گندم بھی خرید لیتے ہیں، جس سے جو کی طلب بڑھنے کے بجائے کم ہو سکتی ہے — یہی گفن اشیاء کی خاصیت ہے۔
قیمت کے علاوہ ان عوامل کی وضاحت کریں جو طلب میں تبدیلی کا باعث بنتے ہیں۔
آمدنی طلب کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
نارمل اشیاء کی طلب آمدنی بڑھنے سے بڑھتی ہے، جیسے اچھے کپڑے، جبکہ گھٹیا اشیاء کی طلب آمدنی بڑھنے سے کم ہو جاتی ہے، کیونکہ صارف بہتر متبادل کی طرف رجحان کرتا ہے۔
متعلقہ اشیاء کی قیمتیں طلب کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟
نعم البدل اشیاء (چائے، کافی) میں ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب بڑھتی ہے۔ تکمیلی اشیاء (ٹینس بال، ریکٹ) میں ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی طلب گرتی ہے۔ خودمختار اشیاء ایک دوسرے سے متاثر نہیں ہوتیں۔
توقعات اور موسم طلب کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟
اگر مستقبل میں قیمت بڑھنے کا اندیشہ ہو تو لوگ ابھی زیادہ خریدتے ہیں۔ اسی طرح موسمی حالات بھی طلب بدلتے ہیں، جیسے گرمیوں میں برف کی طلب بڑھ جانا۔
آبادی اور زر کی مقدار طلب پر کیا اثر ڈالتے ہیں؟
آبادی بڑھنے سے خریداروں کی تعداد بڑھتی ہے، جس سے مجموعی طلب بڑھ جاتی ہے۔ زر کی مقدار بڑھنے سے بھی لوگوں کی قوتِ خرید بڑھتی ہے، جس سے طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
اگر کسی شے کی قیمت گر جائے تو اس کی مقدارِ طلب: (الف) بڑھ جاتی ہے (ب) گر جاتی ہے (ج) یکساں رہتی ہے (د) صفر ہو جاتی ہے
درست جواب: (الف) بڑھ جاتی ہے۔ قانونِ طلب کے مطابق قیمت گرنے سے مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔
خطِ طلب کا رجحان کیسا ہوتا ہے؟ (الف) نیچے سے اوپر (ب) افقی (ج) اوپر سے نیچے، بائیں سے دائیں (د) عمودی
درست جواب: (ج) اوپر سے نیچے، بائیں سے دائیں۔ خطِ طلب ہمیشہ اوپر سے نیچے، بائیں سے دائیں طرف گرتا ہے۔
قانونِ طلب کا اطلاق کن اشیاء پر نہیں ہوتا؟ (الف) گھٹیا اشیاء (ب) نایاب اشیاء (ج) گفن اشیاء (د) الف، ب اور ج تمام
درست جواب: (د) الف، ب اور ج تمام۔ گھٹیا، نایاب اور گفن — سبھی اقسام کی اشیاء قانونِ طلب کی حدود میں شامل ہیں۔
کسی ایک شے کی قیمت چڑھنے سے اس کی متبادل (نعم البدل) شے کی: (الف) قیمت گر جاتی ہے (ب) قیمت بڑھ جاتی ہے (ج) طلب بڑھ جاتی ہے (د) طلب گر جاتی ہے
درست جواب: (ج) طلب بڑھ جاتی ہے۔ نعم البدل اشیاء میں ایک کی قیمت بڑھنے سے دوسری کی مقدارِ طلب بڑھ جاتی ہے۔
تکمیلی اشیاء کی مثال کون سی ہے؟ (الف) چائے اور کافی (ب) ٹینس بال اور ریکٹ (ج) کمپیوٹر اور گرم پانی (د) چاول اور گندم
درست جواب: (ب) ٹینس بال اور ریکٹ۔ ٹینس بال اور ریکٹ ساتھ استعمال ہونے والی تکمیلی اشیاء کی مثال ہیں۔
گھٹیا شے کی قیمت کم ہونے سے اس کی مقدارِ طلب: (الف) بڑھ جاتی ہے (ب) کم یا یکساں رہتی ہے (ج) دگنی ہو جاتی ہے (د) صفر ہو جاتی ہے
درست جواب: (ب) کم یا یکساں رہتی ہے۔ گھٹیا اشیاء پر قانونِ طلب لاگو نہیں ہوتا، اس لیے قیمت کم ہونے کے باوجود طلب نہیں بڑھتی۔
طلب کی تفاعلی مساوات کیا ہے؟ (الف) Qd = f(Y) (ب) Qd = f(P) (ج) P = f(Qd) (د) Qd = P + Y
درست جواب: (ب) Qd = f(P)۔ مقدارِ طلب بنیادی طور پر قیمت کا تفاعل ہے، اس لیے Qd = f(P)۔
نارمل اشیاء کی طلب آمدنی بڑھنے سے: (الف) کم ہو جاتی ہے (ب) بڑھ جاتی ہے (ج) یکساں رہتی ہے (د) صفر ہو جاتی ہے
درست جواب: (ب) بڑھ جاتی ہے۔ نارمل اشیاء کی تعریف ہی یہ ہے کہ ان کی طلب آمدنی بڑھنے سے بڑھتی ہے۔
قیمتی و امتیازی اشیاء کی طلب قیمت بڑھنے سے کیوں بڑھ جاتی ہے؟ (الف) وہ سستی ہو جاتی ہیں (ب) لوگ انہیں حیثیت کی علامت سمجھتے ہیں (ج) حکومت خریدنے پر مجبور کرتی ہے (د) ان کی کوئی وجہ نہیں
درست جواب: (ب) لوگ انہیں حیثیت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ہیرے جواہرات جیسی اشیاء کا استعمال حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لیے قیمت بڑھنے پر بھی طلب بڑھ جاتی ہے۔
درج ذیل میں سے کون سا عنصر قانونِ طلب کا مفروضہ نہیں ہے؟ (الف) صارف کی آمدنی یکساں رہے (ب) متبادل اشیاء کی قیمت نہ بدلے (ج) شے کا رنگ تبدیل نہ ہو (د) پسند و ناپسند یکساں رہے
درست جواب: (ج) شے کا رنگ تبدیل نہ ہو۔ شے کا رنگ قانونِ طلب کا مفروضہ نہیں؛ آمدنی، متبادل اشیاء کی قیمت اور پسند و ناپسند اس کے اصل مفروضات ہیں۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- طلب = خریدنے کا ارادہ + خریدنے کی قوت (دونوں بیک وقت ضروری)۔ Qd = f(P)۔
- قانونِ طلب: قیمت بڑھنے سے مقدارِ طلب کم، قیمت گرنے سے مقدارِ طلب زیادہ (دیگر حالات یکساں رہتے ہوئے)۔
- مفروضات: آمدنی، متبادل اشیاء کی قیمت، پسند و ناپسند، آبادی، توقعات، زر کی مقدار — سب یکساں۔
- حدود: گھٹیا اشیاء + کمیاب اشیاء + گفن اشیاء + نہایت قیمتی اشیاء۔
- متعلقہ اشیاء: نعم البدل (طلب ایک ساتھ بڑھے) + تکمیلی (طلب مخالف سمت) + خودمختار (کوئی اثر نہیں)۔
- نارمل اشیاء: آمدنی بڑھنے سے طلب بڑھے۔ گھٹیا اشیاء: آمدنی بڑھنے سے طلب کم ہو۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔
امتحانی نکات
- قانونِ طلب کا مختصر جملہ یاد رکھیں: ‘قیمت اور مقدارِ طلب کا الٹا تعلق’۔
- مفروضات یاد رکھنے کے لیے مخفف بنائیں: آمدنی، متبادل، پسند، آبادی، توقعات، زر (آ-م-پ-آ-ت-ز)۔
- خطِ طلب ہمیشہ بائیں سے دائیں نیچے کی طرف جاتا ہے — یہ نکتہ ڈایاگرام سوالات میں اکثر پوچھا جاتا ہے۔
- نعم البدل اور تکمیلی اشیاء کی ایک ایک مثال زبانی یاد رکھیں (چائے-کافی؛ بال-ریکٹ)۔
- قانونِ طلب کی چار حدود (گھٹیا، کمیاب، گفن، قیمتی) کو مخفف ‘گ-ک-گ-ق’ سے یاد رکھیں۔
- گوشوارے کے چار نکات (a,b,c,d) کو قیمت-مقدار جوڑوں کے ساتھ رٹ لیں تاکہ گراف بنانا آسان ہو۔