باب 2: معاشیات کے موضوعات (Subject Matter of Economics)
پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے تحت جماعت نہم کے مضمون معاشیات کے دوسرے باب ‘معاشیات کے موضوعات’ میں ان بنیادی تصورات پر بحث کی جاتی ہے جو معاشیات کے مطالعے کی اساس ہیں: حاجات، جدوجہد، تسکین، اشیاء و خدمات، افادہ، قلت، قدر و قیمت اور دولت۔ یہ سب تصورات آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور انسان کے معاشی طرزِ عمل کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
انسان کی حاجات لامحدود ہیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے وہ مسلسل معاشی جدوجہد کرتا ہے۔ اسی جدوجہد سے وہ اشیاء و خدمات پیدا کرتا ہے جن کے استعمال سے اسے تسکین حاصل ہوتی ہے۔ چونکہ ذرائع محدود اور حاجات لامحدود ہیں، اس لیے قلت پیدا ہوتی ہے، جو ہر معاشی نظام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ یہ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے ہیں۔
تعلیمی مقاصد
- حاجات کے مفہوم، خصوصیات اور اقسام کی وضاحت کریں۔
- حاجات کے تین درجات (ضروری، آسائشی، تعیشاتی) میں فرق بیان کریں۔
- ذہنی اور جسمانی جدوجہد اور تسکین کے تصور کو سمجھیں۔
- اشیاء و خدمات کی مختلف اقسام کی وضاحت کریں۔
- افادہ کے مفہوم، اقسام اور خصوصیات بیان کریں۔
- قلت اور معاشی مسئلے کے باہمی تعلق کو سمجھیں۔
- قدر، قیمت اور دولت کے تصورات اور ان کے باہمی تعلق کی وضاحت کریں۔
کلیدی تصورات
حاجات کا مفہوم، خصوصیات اور اقسام
حاجات (Wants) سے مراد وہ تمام مادی اور غیر مادی چیزیں ہیں جن کی انسان کو اپنی زندگی میں ضرورت رہتی ہے۔ انسان انہیں پورا کرنے کے لیے مسلسل معاشی جدوجہد کرتا ہے۔ حاجات کی چند اہم خصوصیات یہ ہیں: یہ لامحدود ہیں اور ان کا شمار ممکن نہیں؛ ایک حاجت پوری ہونے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے؛ یہ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے انتخاب کرنا پڑتا ہے؛ یہ مختلف ذرائع سے پوری ہو سکتی ہیں؛ اور شدت کے لحاظ سے ان کی اہمیت میں فرق ہوتا ہے۔
حاجات کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: معاشی حاجات (Economic Wants) وہ ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، جیسے کھانا خریدنا۔ غیر معاشی حاجات (Non-Economic Wants) وہ ہیں جن کے لیے رقم ادا نہیں کرنی پڑتی، جیسے تازہ ہوا اور دھوپ — انہیں مفت اشیاء بھی کہا جاتا ہے۔
حاجات کے درجات: ضروری، آسائشی، تعیشاتی
شدت کے لحاظ سے حاجات کو تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ضروری حاجات (Necessities) وہ ہیں جن کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں، جیسے خوراک، لباس اور رہائش۔ آسائشی حاجات (Comforts) وہ ہیں جن کے بغیر بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے مگر ان کی موجودگی زندگی کو آسان بنا دیتی ہے، جیسے سائیکل یا پنکھا۔
تعیشاتی حاجات (Luxuries) سب سے کم اہم درجہ ہیں، جن سے زندگی نہ صرف آسان بلکہ آرام دہ اور شاندار بن جاتی ہے، جیسے مہنگی گاڑی یا وسیع و عریض رہائش۔ یہ تینوں درجات ایک اہرام کی شکل میں سمجھے جا سکتے ہیں: ضروری حاجات سب سے نیچے اور بنیادی، آسائشی درمیان میں، اور تعیشاتی سب سے اوپر۔
جدوجہد اور تسکین
انسان اپنی حاجات پوری کرنے کے لیے جو کوشش کرتا ہے اسے جدوجہد (Struggle) کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ذہنی جدوجہد (Mental Struggle) کا تعلق دماغ سے ہے — کسی بھی معاشی عمل سے پہلے منصوبہ بندی کرنا؛ جسمانی جدوجہد (Physical Struggle) کا تعلق جسمانی مشقت سے ہے، جیسے کسی شے کو پیدا کرنے کے لیے محنت کرنا۔
جب کسی شے کے استعمال سے انسان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے اور مزید اس شے کی حاجت باقی نہیں رہتی، تو اس کیفیت کو تسکین (Satisfaction) کہتے ہیں۔ صارف (شے استعمال کرنے والا) باشعور فرض کیا جاتا ہے جو اپنی محدود آمدنی سے زیادہ سے زیادہ تسکین یعنی ‘افادہ’ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اشیاء اور خدمات کی اقسام
اشیاء (Goods) وہ ٹھوس چیزیں ہیں جن سے براہِ راست یا بالواسطہ حاجات پوری ہوتی ہیں۔ استعمال کے لحاظ سے یہ دو طرح کی ہوتی ہیں: اشیائے صرف (Consumer Goods) جو صارف براہِ راست استعمال کر کے تسکین حاصل کرتا ہے؛ اور اشیائے پیداوار یا اشیائے سرمایہ (Capital Goods) جو مزید پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہیں — ایک ہی شے وقت کے لحاظ سے دونوں قسموں میں شمار ہو سکتی ہے، فرق نوعیت پر نہیں بلکہ استعمال پر ہوتا ہے۔
قلت کے اعتبار سے اشیاء کی دو قسمیں ہیں: مفت اشیاء (Free Goods) لامحدود ہوتی ہیں اور بغیر قیمت کے دستیاب ہوتی ہیں، جیسے تازہ ہوا؛ معاشی اشیاء (Economic Goods) محدود ہوتی ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ خدمات (Services) غیر مرئی اشیاء ہیں جو براہِ راست حاجات پوری کرتی ہیں، جیسے استاد کا پڑھانا یا ڈاکٹر کا علاج کرنا۔
افادہ کا تصور اور اقسام
معاشیات میں افادہ (Utility) سے مراد وہ تسکین ہے جو کسی شے کے استعمال سے صارف کو حاصل ہوتی ہے۔ افادہ اور فائدہ مندی مختلف تصورات ہیں — کوئی شے طبی لحاظ سے مضر ہونے کے باوجود افادہ رکھ سکتی ہے۔ افادہ کی تین اہم اقسام ہیں: کل افادہ (Total Utility) کسی شے کی تمام اکائیوں سے حاصل کردہ مجموعی افادہ ہے؛ متناہی افادہ (Marginal Utility) کسی شے کی اگلی اکائی کے استعمال سے کل افادہ میں ہونے والی تبدیلی ہے۔
تفتیش پذیر افادہ (Diminishing Utility) اس اصول کو بیان کرتی ہے کہ کسی شے کی ہر اگلی اکائی کے استعمال سے حاصل ہونے والا افادہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔ افادہ کی چند خصوصیات یہ ہیں: یہ شخص کی خواہش کی شدت پر منحصر ہے، شے کی شکل، جگہ، موسم اور دستیاب معلومات میں تبدیلی سے تبدیل ہو جاتا ہے، اور یہ ایک ذیلی (Subjective) تصور ہے جس کی پیمائش ممکن نہیں۔
قلت، قدر و قیمت اور دولت
قلت (Scarcity) اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دستیاب ذرائع ہر انسان کی خواہش پوری کرنے کے لیے کافی اشیاء و خدمات پیدا نہیں کر پاتے۔ چونکہ حاجات لامحدود اور ذرائع محدود ہیں، اسی لیے قلت پیدا ہوتی ہے، جو معاشی مسئلے کی بنیادی وجہ ہے اور جس نسبت سے کوئی شے کم یاب ہوگی اسی نسبت سے اس کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔
قدر (Value) دو طرح استعمال ہوتی ہے: استعمالی قدر (Value-in-use) کسی شے کی خواہش پوری کرنے کی صلاحیت ہے، جبکہ متبادل قدر (Value-in-exchange) وہ قوتِ خرید ہے جس کی بنا پر شے کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے۔ دولت (Wealth) وہ ہر چیز ہے جس میں افادہ ہو، جو محدود ہو، اور جو ایک شخص سے دوسرے کو منتقل کی جا سکے — اس کی چار اقسام ہیں: انفرادی، سرکاری، ملکی اور بین الاقوامی دولت۔
اہم تعریفات
حاجات (Wants)
وہ تمام مادی و غیر مادی چیزیں جن کی انسان کو زندگی میں ضرورت رہتی ہے۔
معاشی حاجات (Economic Wants)
وہ حاجات جن کو پورا کرنے کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔
مفت اشیاء (Free Goods)
وہ اشیاء جو لامحدود ہوں اور بغیر قیمت کے حاصل ہو جائیں، جیسے تازہ ہوا۔
افادہ (Utility)
کسی شے کے استعمال سے صارف کو حاصل ہونے والی تسکین۔
متناہی افادہ (Marginal Utility)
کسی شے کی اگلی اکائی کے استعمال سے کل افادہ میں ہونے والی تبدیلی۔
تفتیش پذیر افادہ (Diminishing Utility)
ہر اگلی اکائی کے استعمال سے افادہ کا بتدریج کم ہوتے جانا۔
قلت (Scarcity)
دستیاب ذرائع کا اتنی اشیاء و خدمات پیدا نہ کر پانا کہ ہر خواہش پوری ہو سکے۔
دولت (Wealth)
ہر وہ چیز جس میں افادہ ہو، جو محدود ہو اور منتقل کی جا سکے۔
اہم حقائق
| عنوان | تفصیل |
|---|---|
| حاجات کے درجات | ضروری < آسائشی < تعیشاتی (اہمیت میں ترتیب) |
| حاجات کی اقسام | معاشی حاجات (قیمت درکار) + غیر معاشی حاجات (مفت) |
| افادہ کی اقسام | کل افادہ + متناہی افادہ + تفتیش پذیر افادہ |
| اشیاء کی اقسام (قلت کے اعتبار سے) | مفت اشیاء (لامحدود) + معاشی اشیاء (محدود، قیمت والی) |
| دولت کی اقسام | انفرادی + سرکاری + ملکی + بین الاقوامی دولت |
خاکہ جات و تصاویر
حاجات کے درجات کا اہرام: ایک اہرام نما خاکہ جو حاجات کے تین درجات — ضروری، آسائشی اور تعیشاتی — کو ان کی اہمیت کی ترتیب میں دکھاتا ہے۔

افادہ کی تین اقسام کا موازنہ: ایک تقابلی خاکہ جو کل افادہ، متناہی افادہ اور تفتیش پذیر افادہ کے مرکزی نکات کو ایک ساتھ ظاہر کرتا ہے۔

مختصر سوالات و جوابات
حاجات کسے کہتے ہیں؟
حاجات وہ تمام مادی و غیر مادی چیزیں ہیں جن کی انسان کو اپنی زندگی میں ضرورت رہتی ہے۔
معاشی اور غیر معاشی حاجات میں کیا فرق ہے؟
معاشی حاجات کو پورا کرنے کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، جبکہ غیر معاشی حاجات بغیر رقم کے پوری ہو جاتی ہیں، جیسے تازہ ہوا۔
حاجات کے تین درجات کون سے ہیں؟
ضروری حاجات، آسائشی حاجات اور تعیشاتی حاجات۔
ذہنی اور جسمانی جدوجہد میں کیا فرق ہے؟
ذہنی جدوجہد کا تعلق منصوبہ بندی اور دماغ سے ہے، جبکہ جسمانی جدوجہد کا تعلق مشقت اور جسمانی محنت سے ہے۔
تسکین سے کیا مراد ہے؟
تسکین وہ کیفیت ہے جس کے بعد کسی شے کے مزید استعمال کی حاجت باقی نہیں رہتی اور انسان مطمئن ہو جاتا ہے۔
اشیائے صرف اور اشیائے پیداوار میں کیا فرق ہے؟
اشیائے صرف صارف براہِ راست استعمال کرتا ہے، جبکہ اشیائے پیداوار مزید پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہیں — فرق نوعیت پر نہیں بلکہ استعمال پر ہے۔
مفت اشیاء کی ایک مثال دیں۔
تازہ ہوا، دھوپ یا بارش کا پانی مفت اشیاء کی مثالیں ہیں۔
کل افادہ اور متناہی افادہ میں کیا فرق ہے؟
کل افادہ کسی شے کی تمام اکائیوں سے حاصل مجموعی افادہ ہے، جبکہ متناہی افادہ اگلی اکائی کے استعمال سے کل افادہ میں ہونے والی تبدیلی ہے۔
تفتیش پذیر افادہ سے کیا مراد ہے؟
کسی شے کی ہر اگلی اکائی کے استعمال سے افادہ کا بتدریج کم ہوتے جانا تفتیش پذیر افادہ کہلاتا ہے۔
قلت سے کیا مراد ہے؟
قلت سے مراد یہ ہے کہ دستیاب ذرائع ہر انسان کی خواہش پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
انسانی حاجات کی خصوصیات، اقسام اور درجات پر تفصیل سے بحث کریں۔
حاجات کی خصوصیات کیا ہیں؟
حاجات لامحدود ہیں اور ان کا شمار ممکن نہیں؛ ایک حاجت پوری ہونے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے؛ یہ ایک دوسرے کا مقابلہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے انتخاب کرنا پڑتا ہے؛ یہ مختلف ذرائع سے پوری ہو سکتی ہیں؛ اور شدت کے لحاظ سے ان کی اہمیت میں فرق ہوتا ہے۔
معاشی اور غیر معاشی حاجات میں کیا فرق ہے؟
معاشی حاجات وہ ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے رقم خرچ کرنی پڑتی ہے، جیسے کھانا خریدنا۔ غیر معاشی حاجات بغیر رقم کے پوری ہو جاتی ہیں، جیسے تازہ ہوا اور دھوپ، جنہیں مفت اشیاء بھی کہا جاتا ہے۔
حاجات کے تین درجات کیا ہیں؟
ضروری حاجات (خوراک، لباس، رہائش) کے بغیر زندگی ممکن نہیں؛ آسائشی حاجات (سائیکل، پنکھا) زندگی کو آسان بناتی ہیں؛ اور تعیشاتی حاجات (مہنگی گاڑی، عالی شان رہائش) زندگی کو شاندار بناتی ہیں مگر سب سے کم اہم ہیں۔
حاجات اور جدوجہد کا کیا تعلق ہے؟
انسان اپنی لامحدود حاجات کو پورا کرنے کے لیے مسلسل ذہنی اور جسمانی جدوجہد کرتا ہے۔ اسی جدوجہد سے اشیاء و خدمات پیدا ہوتی ہیں جن کے استعمال سے حاجات پوری ہو کر تسکین حاصل ہوتی ہے۔
افادہ کے تصور، اقسام اور خصوصیات پر نوٹ لکھیں۔
افادہ سے کیا مراد ہے؟
افادہ سے مراد وہ تسکین ہے جو کسی شے کے استعمال کے بعد صارف کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ افادہ رکھنے والی ہر شے فائدہ مند بھی ہو — نشہ آور اشیاء افادہ رکھتی ہیں مگر فائدہ مند نہیں۔
کل، متناہی اور تفتیش پذیر افادہ میں فرق کیا ہے؟
کل افادہ کسی شے کی تمام اکائیوں سے حاصل مجموعی افادہ ہے۔ متناہی افادہ اگلی اکائی کے استعمال سے کل افادہ میں ہونے والی تبدیلی ہے۔ تفتیش پذیر افادہ اس اصول کو بیان کرتی ہے کہ ہر اگلی اکائی سے حاصل افادہ بتدریج کم ہوتا جاتا ہے۔
افادہ کی کوئی چار خصوصیات بیان کریں۔
افادہ شخص کی خواہش کی شدت پر منحصر ہے؛ شے کی شکل، جگہ اور موسم کی تبدیلی سے افادہ بدل جاتا ہے؛ یہ ایک ذیلی (Subjective) تصور ہے جس کی پیمائش ممکن نہیں؛ اور نئی معلومات و ٹیکنالوجی سے بھی افادہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
افادہ اور فائدہ مندی میں فرق کیا ہے؟
افادہ سے مراد محض تسکین ہے، جبکہ فائدہ مندی سے مراد شے کا صحت یا معیارِ زندگی کے لیے حقیقتاً مفید ہونا ہے۔ کوئی شے طبی لحاظ سے نقصان دہ ہونے کے باوجود افادہ رکھ سکتی ہے۔
معروضی سوالات (MCQs)
قلت کی وجہ سے معاشرے کو کیا کرنا پڑتا ہے؟ (الف) وسائل ضائع کرنا (ب) انتخاب کرنا (ج) کام بند کر دینا (د) قیمتیں کم کرنا
درست جواب: (ب) انتخاب کرنا۔ قلت کی وجہ سے لامحدود حاجات میں سے اہم ترین کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
قلت ہر معاشرے میں کیوں موجود ہوتی ہے؟ (الف) لامحدود خواہشات اور لامحدود وسائل کی وجہ سے (ب) محدود وسائل اور لامحدود حاجات کی وجہ سے (ج) محدود معلومات کی وجہ سے (د) حکومتی پالیسی کی وجہ سے
درست جواب: (ب) محدود وسائل اور لامحدود حاجات کی وجہ سے۔ قلت اس لیے پیدا ہوتی ہے کیونکہ حاجات لامحدود جبکہ وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں۔
لفظ ‘معاشی’ کا تعلق کس سے ہے؟ (الف) صرف قلت سے (ب) صرف قیمت سے (ج) قلت، لامحدودیت اور قیمت تینوں سے (د) کسی سے نہیں
درست جواب: (ج) قلت، لامحدودیت اور قیمت تینوں سے۔ معاشی شے وہ ہے جو محدود (قلیل) ہو، جس کی طلب لامحدود ہو، اور جس کی کوئی قیمت ہو۔
معاشی شے وہ ہوتی ہے جس کی (الف) منافع پر نیکی جائے (ب) قیمت ہو (ج) بہترین کوالٹی ہو (د) حکومت نے بنائی ہو
درست جواب: (ب) قیمت ہو۔ معاشی شے کی نشانی یہ ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لیے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
معاشیات میں ‘متناہی’ (Marginal) کا مطلب کیا ہے؟ (الف) زیادہ سے زیادہ (ب) کم از کم (ج) اگلی اکائی کا اضافہ (د) ان میں سے کوئی نہیں
درست جواب: (ج) اگلی اکائی کا اضافہ۔ متناہی سے مراد کسی شے کی اگلی اکائی کے استعمال سے پیدا ہونے والی تبدیلی ہے۔
حاجات کا کون سا درجہ سب سے اہم سمجھا جاتا ہے؟ (الف) تعیشاتی حاجات (ب) آسائشی حاجات (ج) ضروری حاجات (د) تمام برابر ہیں
درست جواب: (ج) ضروری حاجات۔ ضروری حاجات (خوراک، لباس، رہائش) کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں، اس لیے یہ سب سے اہم درجہ ہیں۔
اشیائے پیداوار کی طلب کو کیا کہتے ہیں؟ (الف) براہِ راست طلب (ب) ماخوذ طلب (ج) مجموعی طلب (د) غیر معاشی طلب
درست جواب: (ب) ماخوذ طلب۔ اشیائے پیداوار کی طلب اشیائے صرف کی طلب کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے اسے ماخوذ طلب کہتے ہیں۔
مفت اشیاء کی ایک مثال کون سی ہے؟ (الف) پیٹرول (ب) تازہ ہوا (ج) موبائل فون (د) کتاب
درست جواب: (ب) تازہ ہوا۔ تازہ ہوا لامحدود اور بغیر قیمت کے دستیاب ہوتی ہے، اس لیے یہ مفت شے کی مثال ہے۔
اشیائے صرف اور اشیائے پیداوار میں فرق کس بنیاد پر ہے؟ (الف) شے کی قیمت پر (ب) شے کے استعمال پر (ج) شے کے وزن پر (د) شے کے رنگ پر
درست جواب: (ب) شے کے استعمال پر۔ دونوں کا فرق شے کی نوعیت پر نہیں بلکہ اس کے استعمال پر ہے — ایک ہی شے وقت کے لحاظ سے دونوں قسموں میں شمار ہو سکتی ہے۔
دولت کی کتنی اقسام بیان کی گئی ہیں؟ (الف) دو (ب) تین (ج) چار (د) پانچ
درست جواب: (ج) چار۔ دولت کی چار اقسام ہیں: انفرادی، سرکاری، ملکی اور بین الاقوامی دولت۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- حاجات: لامحدود، دوبارہ پیدا ہونے والی، ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والی۔ اقسام: معاشی (قیمت والی) اور غیر معاشی (مفت)۔
- حاجات کے تین درجات: ضروری (خوراک، لباس، رہائش) < آسائشی (سائیکل، پنکھا) < تعیشاتی (مہنگی گاڑی)۔
- جدوجہد: ذہنی (منصوبہ بندی) + جسمانی (مشقت)۔ تسکین = وہ کیفیت جب مزید استعمال کی حاجت نہ رہے۔
- اشیاء: اشیائے صرف (براہِ راست استعمال) بمقابلہ اشیائے پیداوار (مزید پیداوار کے لیے)۔ قلت کے اعتبار سے: مفت اشیاء بمقابلہ معاشی اشیاء۔
- افادہ: کل افادہ (مجموعی) + متناہی افادہ (اگلی اکائی کی تبدیلی) + تفتیش پذیر افادہ (بتدریج کمی)۔ ذیلی تصور، پیمائش ممکن نہیں۔
- قلت = محدود ذرائع + لامحدود حاجات۔ قدر: استعمالی (افادہ) اور متبادل (قوتِ خرید)۔ دولت کی چار اقسام: انفرادی، سرکاری، ملکی، بین الاقوامی۔ نوٹس Freebooks.pk نے تیار کیے۔
امتحانی نکات
- حاجات کے تین درجات (ضروری، آسائشی، تعیشاتی) کو ایک اہرام کی شکل میں تصور کریں تاکہ ترتیب یاد رہے۔
- افادہ کی تین اقسام (کل، متناہی، تفتیش پذیر) کو الگ الگ مثالوں کے ساتھ رٹ لیں — امتحان میں اکثر پوچھی جاتی ہیں۔
- اشیائے صرف اور اشیائے پیداوار کا فرق ‘استعمال پر ہے نہ کہ نوعیت پر’ کے جملے سے یاد رکھیں۔
- مفت اور معاشی اشیاء کی ایک ایک آسان مثال ذہن نشین کریں (ہوا بمقابلہ پیٹرول)۔
- دولت کی چار اقسام (انفرادی، سرکاری، ملکی، بین الاقوامی) کو مثالوں کے ساتھ یاد رکھیں۔
- قلت اور معاشی مسئلے کا تعلق ‘محدود ذرائع + لامحدود حاجات = قلت’ کے مختصر جملے میں یاد رکھیں۔