چاروں عاملینِ پیدائش — زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم — کو بالترتیب لگان، اجرت، سود اور منافع کی صورت میں معاوضہ حاصل ہوتا ہے۔ ان معاوضوں کے تعین کے نظریات کو نظریہ تقسیم (Theory of Distribution) کہا جاتا ہے۔
اس باب میں لگان کا مفہوم و اقسام، ریکارڈو کا نظریہ لگان، اجرت کا مفہوم و اقسام، نظریہ مختتم پیداواری، مزدور انجمنیں، کم سے کم اجرت، سود کا مفہوم و اقسام، زر ترجیح کا نظریہ سود، اور منافع کا مفہوم و اقسام تفصیل سے زیرِ بحث آئیں گے۔
تعلیمی مقاصد
- لگان کا مفہوم، اقسام اور ریکارڈو کے نظریہ لگان کو سمجھنا
- زری و حقیقی اجرت میں فرق اور حقیقی اجرت کے تعین کرنے والے عوامل بیان کرنا
- نظریہ مختتم پیداواری کی گوشوارے اور خاکے کی مدد سے وضاحت کرنا
- مزدور انجمنوں کے فرائض اور کم سے کم اجرت کے فوائد و نقصانات بیان کرنا
- سود کا مفہوم، اقسام اور زر ترجیح کے نظریہ سود کو سمجھنا
- منافع کا مفہوم، کردار، اقسام اور منافع میں فرق کی وجوہات بیان کرنا
کلیدی تصورات
لگان کا مفہوم اور تعین (Definition & Determination of Rent)
لگان وہ رقم ہے جو ایک شخص زمین کے استعمال کے عوض زمین کے مالک کو باقاعدہ وقفوں سے ادا کرتا ہے۔ آدم سمتھ کے مطابق لگان زمین کے استعمال کا وہ معاوضہ ہے جو اس کی پیداواری قوت اور محلِ وقوع کے لحاظ سے مالک کو حاصل ہوتا ہے۔ زمین کی رسد معین (غیر لچکدار) ہونے کی وجہ سے لگان کی سطح مکمل طور پر زمین کی طلب پر منحصر ہوتی ہے — طلب بڑھنے سے لگان بڑھتا ہے، رسد جوں کی توں رہتی ہے۔ زمین کی طلب کا خط دراصل مختتم وصولی پیداوار (MRP) کا خط ہے، جو MRP=MPP×MR کے فارمولے سے ماپا جاتا ہے۔
لگان کی اقسام (Kinds of Rent)
(۱) خالص/معاشی لگان — صرف زمین کے استعمال کا معاوضہ، کوئی اور ادائیگی شامل نہیں۔ (۲) مرکب/خام لگان — زمین کے ساتھ دیگر سہولتوں (ٹیوب ویل، ٹریکٹر) کا معاوضہ بھی شامل: مرکب لگان = خالص لگان + اضافی سہولتوں کی ادائیگیاں۔ (۳) تفریقی لگان — زرخیزی یا محلِ وقوع کے فرق سے پیدا ہونے والا لگان کا فرق۔ (۴) کمیابی لگان — زمین کی کمیابی (رسد کا طلب سے کم ہونا) کی وجہ سے پیدا ہونے والا لگان۔ (۵) نام نہاد/مثل لگان (Quasi Rent) — مارشل کے مطابق انسان کے بنائے آلات و مشینوں سے حاصل عارضی آمدنی، جو قلیل عرصہ میں رسد کی کمی سے پیدا ہو کر طویل عرصہ میں ختم ہو جاتی ہے۔
ریکارڈو کا نظریہ لگان (David Ricardo's Theory of Rent)
ریکارڈو کے مطابق لگان زمین کی پیداوار کا وہ حصہ ہے جو کاشت کار زمین کی ازلی اور لافانی صلاحیتوں کے استعمال کے بدلے زمیندار کو ادا کرتا ہے۔ ریکارڈو چار قسم کے قطعاتِ زمین (الف بہترین سے د بدترین) کی مثال دیتا ہے — جیسے جیسے آبادی بڑھتی ہے، کم زرخیز زمین بھی زیرِ کاشت آتی ہے، اور بہتر زمین کی پیداوار کا کم زرخیز (مختتم) زمین کی پیداوار سے فرق ہی لگان کہلاتا ہے۔ فارمولا: لگان = کل پیداوار − کل مصارف۔ مختتم زمین چونکہ سب سے کم زرخیز ہوتی ہے، وہ بے لگان رہتی ہے۔
مفروضات: مکمل مقابلہ؛ زمین کی زرخیزی کا پیشگی علم؛ زمین کی ازلی و لافانی صلاحیتیں؛ مختتم زمین کا تصور؛ لگان زمین کی قیمت کا حصہ نہیں؛ اور قانونِ تقلیلِ حاصل کا آغاز سے نفاذ۔
تنقید: مکمل مقابلہ کا مفروضہ غیر حقیقی؛ زرخیزی کا پیشگی علم ناممکن؛ زمین کی صلاحیتیں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں؛ آج کوئی زمین بے لگان نہیں (میکر کے مطابق لگان کی اصل وجہ کمیابی ہے)؛ لگان کو قیمت کا حصہ نہ ماننا جدید ماہرین کے نزدیک غلط؛ صرف تقلیلِ حاصل پر انحصار حقیقت پسندانہ نہیں؛ نظریہ ناقص ہے کیونکہ یہ صرف بتاتا ہے کہ لگان کیوں ملتا ہے نہ کہ کیسے متعین ہوتا ہے؛ لگان کا مفہوم واضح نہیں؛ اور راشر و کیرے کے مطابق ترتیبِ کاشت کا مفروضہ غلط ہے۔
آجرت — تعریف اور اقسام (Wage — Definition & Kinds)
آجرت وہ معاوضہ ہے جو کام کرنے والا اپنی جسمانی یا ذہنی محنت کے صلے میں حاصل کرتا ہے۔ زری اجرت (Money Wage) — نقد رقم کی صورت میں ملنے والا معاوضہ۔ حقیقی اجرت (Real Wage) — زری اجرت کے علاوہ دیگر سہولتیں (طبی امداد، مکان، وردی وغیرہ) بھی شامل۔
حقیقی اجرت کے تعین کرنے والے 9 عوامل: زری قوت خرید، اضافی آمدنی کے امکانات، اضافی سہولتیں، ملازمت کا مستقل/عارضی ہونا، کام کے اوقات، کام کا ماحول، ترقی کے امکانات، معاشرتی مقام، اور پیداواری صلاحیت۔
نظریہ مختتم پیداواری (Marginal Productivity Theory)
یہ نیوکلاسیکل نظریہ محنت کی طلب کی وضاحت کرتا ہے۔ فرم اس وقت پیش ترین منافع کماتی ہے جب محنت کے مختتم مصارف (MCL) محنت کی مختتم وصولی پیداوار (MRPL) کے برابر ہوں: MCL=MRPL۔ مکمل مقابلہ میں چونکہ فرم طے شدہ اجرت قبول کرتی ہے، اس لیے اجرت ہی MCL ہے: W=MCL۔ مختتم وصولی پیداوار = مختتم مادی پیداوار × مختتم وصولی (MRPL=MPPL×MRL)۔
مثال کے گوشوارے میں محنت کی اکائیاں بڑھنے پر MRPL 130 سے گھٹتے ہوئے 100 روپے تک آتی ہے جبکہ منڈی کی طے شدہ اجرت 100 روپے یکساں رہتی ہے۔ فرم چوتھی اکائی تک مزدور ملازم رکھے گی جہاں MRPL=W ہو جائے، کیونکہ اس کے بعد مزید مزدور لگانے سے MRPL، W سے کم ہو کر نقصان کا باعث بنے گی۔
مفروضات: محنت کی منڈی میں مکمل مقابلہ؛ محنت کی تمام اکائیاں یکساں؛ محنت کی نقل پذیری؛ مروجہ اجرت پر لامحدود رسد؛ اور قانونِ تقلیلِ حاصل کا نفاذ۔ تنقید: مزدوروں کی پیداواری استعداد یکساں نہیں؛ نقل پذیری میں رکاوٹیں؛ رسد کے پہلو کو نظرانداز کرنا؛ مکمل مقابلہ کا نایاب ہونا؛ عاملینِ پیدائش کی باہمی انحصاری کی وجہ سے محنت کی مادی پیداوار الگ کرنا مشکل؛ اور شروع سے تقلیلِ حاصل کا نفاذ ضروری نہیں۔
مزدور انجمنیں (Labour Unions)
پروفیسر ویب کے مطابق مزدور انجمن ایسی منظم تنظیم ہے جس کا مقصد مزدوروں کی مادی و اخلاقی حالت بہتر بنانا ہے۔ مزدور انجمنوں کے اہم فرائض: مادی و اخلاقی حالت بہتر بنانا؛ کام کی شرائط آسان بنانا؛ کام کا ماحول بہتر بنانا؛ استعداد کار میں اضافہ؛ قوتِ سودابازی مضبوط بنانا؛ مسائل کی انتظامیہ کو آگاہی؛ حادثات پر معاوضہ دلوانا؛ بچوں کی تعلیم و رہائش کا انتظام؛ مقدمات کی پیروی؛ رسد پر کنٹرول؛ پنشن کا انتظام؛ اور مزدوروں میں اتحاد قائم رکھنا۔
کم سے کم اجرت کا تصور (Concept of Minimum Wages)
حکومت مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے لیے اجرت کی کم از کم حد (اجرتِ اقل) مقرر کرتی ہے، جس سے کم اجرت دینا قانونی جرم ہوتا ہے۔
فوائد: مزدور کا استحصال ناممکن؛ بہتر معیارِ زندگی؛ صلاحیت میں اضافہ؛ بہتر معاشرتی حالت؛ آجرین کی مستعدی میں اضافہ؛ اور معاشی انصاف۔ نقصانات: اشیا کی قیمتوں میں اضافہ؛ بے روزگاری میں اضافہ (نااہل آجر مشینوں کی طرف رخ کرتے ہیں)؛ مستعد مزدوروں کو نقصان (یکساں اجرت کی وجہ سے)؛ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی؛ اور تعین و نفاذ میں مشکلات۔
سود — تعریف اور اقسام (Interest — Definition & Kinds)
سود سرمائے کے استعمال کا معاوضہ ہے۔ پروفیسر ایسٹہم کے مطابق نقد زر کسی کو ادھار دینے سے انسان بعض فوائد سے محروم ہو جاتا ہے — اس محرومی کا معاوضہ سود ہے۔
خالص سود — صرف سرمائے کے استعمال کا معاوضہ۔ مرکب سود — خالص سود کے علاوہ خطرات کا معاوضہ، دشواریاں برداشت کرنے کا معاوضہ، اور حساب کتاب کے اخراجات بھی شامل: مرکب سود = خالص سود + خطرات کا معاوضہ + دشواری کا معاوضہ + حساب کتاب کے اخراجات۔
زر ترجیح کا نظریہ سود (Liquidity Preference Theory of Interest)
یہ نظریہ جے۔ ایم۔ کینز نے 1936ء میں پیش کیا۔ کینز کے مطابق سود اس بات کا معاوضہ ہے کہ قرض دینے والا اپنی رقم کی نقدیت سے دستبردار ہوتا ہے۔ زر کی طلب کی تین اہم وجوہات: (۱) روزمرہ ضروریات کی طلب — آمدنی کا تفاعل۔ (۲) کاروباری محرک۔ (۳) ناگہانی ضروریات کی طلب — آمدنی پر منحصر، شرح سود سے غیر متاثر۔ (۴) تخمینی ضروریات کی طلب — شرح سود کا تفاعل، شرح سود کم ہو تو زیادہ، زیادہ ہو تو کم۔
زر کی رسد دھاتوں کی فراہمی، مرکزی بینک کی پالیسی، اور زر کی رفتارِ گردش پر منحصر ہے اور عمومی طور پر معین (عمودی خط) ہوتی ہے۔ مالیاتی توازن اس مقام پر ہوتا ہے جہاں زر کی طلب اور رسد برابر ہوں — یہاں توازنی شرح سود متعین ہوتی ہے۔ زر کی طلب بڑھنے سے شرح سود بڑھتی، رسد بڑھنے سے شرح سود گرتی ہے۔
تنقید: زر کی رسد کا مفہوم غیر واضح؛ بچتوں اور سرمایہ کاری کے اثر کو نظرانداز کرنا؛ سرمائے کی متوقع شرحِ منافع اور شرحِ سود کا تعلق نظرانداز کرنا؛ دیگر عوامل کے کردار کو کم اہمیت دینا؛ اور یہ صرف عرصہ قلیل کا نظریہ ہے۔
منافع — تعریف، کردار اور اقسام (Profit — Definition, Role & Kinds)
منافع آجر کو اس کی خدمات کے عوض ملنے والا معاوضہ ہے — لگان، اجرت اور سود ادا کرنے کے بعد بچ جانے والی رقم۔ پروفیسر نائٹ کے مطابق منافع غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کا معاوضہ ہے۔ پروفیسر بولڈنگ کے مطابق منافع کل وصولی اور کل مصارف کے درمیان فرق ہے۔ منافع کا کردار: آجر کو خطرات اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے؛ استعمال کی پیدائش کرتا ہے؛ اور نئی اشیا و طریقہ پیدائش متعارف کرانے کا محرک بنتا ہے۔ شومپیٹر کے مطابق ترقی کے بغیر منافع نہیں اور منافع کے بغیر ترقی نہیں۔
خالص منافع — صرف آجر کی خدمات اور خطرہ مول لینے کا معاوضہ۔ مرکب منافع — خالص منافع کے ساتھ چھ مزید عناصر شامل: آجر کی اپنی محنت کی اجرت، سرمائے کا سود، اتفاقی منافع (Windfall Gains)، تخمینی منافع، اجارہ دار منافع، اور ایجاد و اختراع سے حاصل منافع۔
منافع میں فرق کی وجوہات اور منافع بمقابلہ سود
منافع کی شرح میں فرق کی 10 وجوہات: آجر کی قابلیت، سرمائے کی مقدار، طریقہ پیدائش کی نوعیت، ذیلی پیداوار کا استعمال، کاروبار کی نوعیت (خطرہ)، اجارہ داری، نعم البدل اشیا کی موجودگی، اشتہار بازی، تجارتی پالیسی، اور سرکاری سہولتیں۔
منافع اور سود میں فرق: منافع آجر کی خدمات کا غیر معین معاوضہ ہے جو نقصان کی صورت میں صفر بھی ہو سکتا ہے، جبکہ سود سرمائے کا معین معاوضہ ہے جو ہر حال میں ادا کرنا پڑتا ہے۔ منافع کے لیے دیگر عاملین کا اشتراک لازمی ہے، سود کے لیے صرف قرض دہندہ اور قرض گیرندہ کافی ہیں۔ اسلامی معیشت میں سود حرام مگر منافع حلال ہے۔ سرمایہ کاری کا فیصلہ متوقع شرحِ منافع اور رائج شرحِ سود کے موازنے سے ہوتا ہے۔
اہم تعریفات
لگان کی تعریف کریں (آدم سمتھ)۔
لگان زمین کے استعمال کا وہ معاوضہ ہے جو اس کی پیداواری قوت اور محلِ وقوع کے لحاظ سے مالک زمین کو حاصل ہوتا ہے۔
مثل لگان (Quasi Rent) کی تعریف کریں (مارشل)۔
مثل لگان وہ آمدنی ہے جو ان مشینوں اور آلات سے حاصل ہو جو خود انسان کے بنائے ہوئے ہوں۔
ریکارڈو کے مطابق لگان کیا ہے؟
لگان زمین کی پیداوار کا وہ حصہ ہے جو کاشت کار زمین کی ازلی اور لافانی صلاحیتوں کے استعمال کے بدلے زمیندار کو ادا کرتا ہے۔
حقیقی اجرت کی تعریف کریں۔
زری اجرت کے علاوہ دیگر سہولتیں (طبی امداد، مکان، وردی وغیرہ) بھی جس میں شامل ہوں، وہ حقیقی اجرت کہلاتی ہے۔
مزدور انجمن کی تعریف کریں (پروفیسر ویب)۔
مزدور انجمن ایسی باقاعدہ اور منظم تنظیم ہے جس کا نصب العین مزدوروں کی مادی اور اخلاقی حالت کو برقرار رکھنا اور بہتر بنانا ہے۔
سود کی تعریف کریں (پروفیسر کینز)۔
سود اس معاوضے کو کہتے ہیں جو زرِ نقد کی ترجیح سے دستبرداری کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔
منافع کی تعریف کریں (پروفیسر نائٹ)۔
منافع غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کا معاوضہ ہے۔
منافع کی تعریف کریں (پروفیسر بولڈنگ)۔
منافع وہ فرق ہے جو آجر کی کل وصولی اور کل مصارفِ پیدائش کے درمیان ہوتا ہے۔
اہم فارمولے اور نکات
| عنوان | خلاصہ |
|---|---|
| چار عاملین کے معاوضے | زمین → لگان؛ محنت → اجرت؛ سرمایہ → سود؛ تنظیم → منافع |
| لگان کا فارمولا (ریکارڈو) | لگان = کل پیداوار − کل مصارف |
| مختتم وصولی پیداوار | MRP = MPP × MR |
| فرم کا توازن (محنت کی منڈی) | MCL = MRPL (مکمل مقابلہ میں: اجرت W = MCL) |
| مرکب سود | مرکب سود = خالص سود + خطرات کا معاوضہ + دشواری کا معاوضہ + حساب کتاب کے اخراجات |
| مرکب منافع کے اجزا | خالص منافع + ذاتی محنت کی اجرت + سرمائے کا سود + اتفاقی منافع + تخمینی منافع + اجارہ دار منافع + ایجاد و اختراع کا منافع |
خاکہ جات و تصاویر
ریکارڈو کے نظریہ لگان کا خاکہ: چار اقسام کی زمین (الف، ب، ج، د) کی پیداواری صلاحیت اور لگان کا موازنہ

نظریہ مختتم پیداواری کا خاکہ: محنت کی اکائیاں بڑھنے پر مختتم وصولی پیداوار MRPL اور مروجہ اجرت W کا ملاپ

زر ترجیح کے نظریہ سود کا خاکہ: زر کی رسد کا عمودی خط اور زر کی طلب کا نیچے کو گرتا خط، توازنی شرحِ سود کا تعین

مختصر سوالات و جوابات
لگان سے کیا مراد ہے؟
وہ رقم جو زمین کے استعمال کے عوض مالکِ زمین کو باقاعدہ وقفوں سے ادا کی جائے۔
زری اور حقیقی اجرت میں کیا فرق ہے؟
زری اجرت صرف نقد معاوضہ ہے جبکہ حقیقی اجرت میں نقد کے علاوہ دیگر سہولتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔
مختتم زمین کیا ہوتی ہے؟
ریکارڈو کے نظریے کے مطابق سب سے کم زرخیز زمین جو بے لگان ہوتی ہے۔
خالص اور مرکب سود میں فرق بیان کریں۔
خالص سود صرف سرمائے کے استعمال کا معاوضہ ہے، جبکہ مرکب سود میں خطرات، دشواری اور حساب کتاب کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔
زرِ تخمینی طلب کس چیز پر منحصر ہے؟
شرحِ سود پر — شرح سود کم ہو تو تخمینی طلب زیادہ، شرح سود زیادہ ہو تو تخمینی طلب کم ہوتی ہے۔
منافع اور سود میں کوئی ایک بنیادی فرق بیان کریں۔
منافع غیر معین ہے اور صفر بھی ہو سکتا ہے، جبکہ سود ایک معین رقم ہے جو ہر حال میں ادا کرنا پڑتی ہے۔
کم سے کم اجرت کا کوئی ایک نقصان بیان کریں۔
نااہل آجر مزدوروں کی بجائے مشینیں استعمال کرنے لگتے ہیں جس سے بے روزگاری بڑھتی ہے۔
مثل لگان (Quasi Rent) کب پیدا ہوتا ہے؟
کسی عامل پیدائش کی رسد قلیل عرصہ میں کم ہونے کے باعث، جو طویل عرصہ میں ختم ہو جاتا ہے۔
تفصیلی سوالات و جوابات
ریکارڈو کے نظریہ لگان کی گوشوارے کی مدد سے وضاحت کریں اور اس پر تنقید بیان کریں۔
ریکارڈو کے مطابق لگان زمین کی مختلف قطعات کی پیداواری صلاحیت کے فرق سے پیدا ہوتا ہے۔ چار قسم کی زمینوں (الف بہترین سے د بدترین) میں سے بہتر زمین کی پیداوار اور مختتم (بدترین، بے لگان) زمین کی پیداوار کا فرق لگان کہلاتا ہے (لگان = کل پیداوار − کل مصارف)۔ اس نظریے پر تنقید: مکمل مقابلہ کا مفروضہ غیر حقیقی، زرخیزی کا پیشگی علم ناممکن، زمین کی صلاحیتیں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں، آج کوئی زمین بے لگان نہیں (اصل وجہ کمیابی ہے)، اور نظریہ صرف یہ بتاتا ہے کہ لگان کیوں ملتا ہے، کیسے متعین ہوتا ہے یہ واضح نہیں کرتا۔
حقیقی اجرت کے تعین کرنے والے عوامل تفصیل سے بیان کریں۔
حقیقی اجرت نو عوامل سے متعین ہوتی ہے: زری قوتِ خرید (قیمتیں بڑھیں تو حقیقی اجرت کم)، اضافی آمدنی کے امکانات، اجرت کے ساتھ اضافی سہولتیں، ملازمت کا مستقل یا عارضی ہونا، کام کے اوقات، کام کا ماحول، ترقی کے امکانات، معاشرتی مقام، اور پیداواری صلاحیت۔ یہ تمام عوامل مل کر طے کرتے ہیں کہ ایک جیسی زری اجرت کے باوجود دو مختلف ملازمین کی حقیقی اجرت مختلف کیوں ہو سکتی ہے۔
نظریہ مختتم پیداواری کی گوشوارے اور خاکے کی مدد سے وضاحت کریں۔
اس نظریے کے مطابق فرم محنت کی اس مقدار تک ملازم رکھے گی جہاں مختتم وصولی پیداوار (MRPL) مروجہ اجرت (W) کے برابر ہو جائے۔ مثال کے گوشوارے میں محنت کی اکائیاں بڑھنے سے MRPL 130 روپے سے گھٹتے ہوئے چوتھی اکائی پر 100 روپے (یعنی اجرت کے برابر) ہو جاتی ہے۔ اس نقطے کے بعد مزید مزدور لگانے سے MRPL، اجرت سے کم ہو کر نقصان کا باعث بنے گی، اس لیے فرم یہیں رک جاتی ہے۔
منافع کی اقسام اور منافع میں فرق کی وجوہات بیان کریں۔
منافع کی دو اقسام ہیں: خالص منافع (صرف آجر کی خدمات اور خطرے کا معاوضہ) اور مرکب منافع (خالص منافع کے ساتھ ذاتی محنت کی اجرت، سرمائے کا سود، اتفاقی منافع، تخمینی منافع، اجارہ دار منافع اور ایجاد و اختراع کا منافع شامل)۔ منافع کی شرح میں فرق دس وجوہات سے پیدا ہوتا ہے: آجر کی قابلیت، سرمائے کی مقدار، طریقہ پیدائش، ذیلی پیداوار کا استعمال، کاروبار کی نوعیت، اجارہ داری، نعم البدل اشیا، اشتہار بازی، تجارتی پالیسی، اور سرکاری سہولتیں۔
معروضی سوالات (MCQs)
لگان کی تعریف کس نے دی؟ (الف) ایڈم سمتھ (ب) کینز (ج) نائٹ (د) بولڈنگ
درست جواب: (الف) ایڈم سمتھ۔ لگان کی تعریف آدم سمتھ نے دی ہے۔
ریکارڈو کے نظریے میں مختتم زمین کیسی ہوتی ہے؟ (الف) زیادہ زرخیز (ب) لگان دار (ج) بے لگان (د) درمیانی زرخیزی
درست جواب: (ج) بے لگان۔ مختتم زمین سب سے کم زرخیز اور بے لگان ہوتی ہے۔
مثل لگان کی اصطلاح کس نے دی؟ (الف) ریکارڈو (ب) مارشل (ج) کینز (د) نائٹ
درست جواب: (ب) مارشل۔ مثل لگان (Quasi Rent) کی اصطلاح مارشل نے دی۔
مکمل مقابلہ کی منڈی میں محنت کے مختتم مصارف کس کے برابر ہوتے ہیں؟ (الف) منافع (ب) اجرت (ج) لگان (د) سود
درست جواب: (ب) اجرت۔ مکمل مقابلہ میں محنت کے مختتم مصارف اجرت کے برابر ہوتے ہیں (W=MCL)۔
مزدور انجمن کی تعریف کس نے دی؟ (الف) ویب (ب) ریکارڈو (ج) کینز (د) بولڈنگ
درست جواب: (الف) ویب۔ مزدور انجمن کی تعریف پروفیسر ویب نے دی۔
زر ترجیح کا نظریہ سود کس نے پیش کیا؟ (الف) ایڈم سمتھ (ب) ریکارڈو (ج) کینز (د) مارشل
درست جواب: (ج) کینز۔ زر ترجیح کا نظریہ جے۔ ایم۔ کینز نے 1936ء میں پیش کیا۔
زرِ تخمینی طلب کس چیز کا تفاعل ہے؟ (الف) آمدنی (ب) شرحِ سود (ج) قیمت (د) پیداوار
درست جواب: (ب) شرحِ سود۔ زرِ تخمینی طلب شرحِ سود کا تفاعل ہے۔
منافع کی تعریف کس نے دی (غیر یقینی حالات کا معاوضہ)؟ (الف) بولڈنگ (ب) نائٹ (ج) کینز (د) شومپیٹر
درست جواب: (ب) نائٹ۔ پروفیسر نائٹ کے مطابق منافع غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرنے کا معاوضہ ہے۔
اسلامی معیشت میں سود کی کیا حیثیت ہے؟ (الف) حلال (ب) حرام (ج) لازمی (د) مشروط
درست جواب: (ب) حرام۔ اسلامی معاشی نظام میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔
خالص سود میں کیا شامل نہیں ہوتا؟ (الف) سرمائے کا معاوضہ (ب) خطرات کا معاوضہ (ج) کوئی اضافی رقم (د) الف اور ج دونوں
درست جواب: (ب) خطرات کا معاوضہ۔ خالص سود میں صرف سرمائے کے استعمال کا معاوضہ شامل ہوتا ہے، خطرات کا معاوضہ نہیں۔
تیز نظرثانی خلاصہ
- چار عاملین کے معاوضے: زمین→لگان، محنت→اجرت، سرمایہ→سود، تنظیم→منافع
- لگان کی 5 اقسام: خالص، مرکب، تفریقی، کمیابی، مثل (Quasi)
- ریکارڈو: لگان = کل پیداوار − کل مصارف؛ مختتم زمین بے لگان
- حقیقی اجرت کے 9 عوامل: قوتِ خرید، اضافی آمدنی، سہولتیں، دوام، اوقات، ماحول، ترقی، سماجی مقام، پیداواری صلاحیت
- نظریہ مختتم پیداواری: MCL=MRPL؛ مکمل مقابلہ میں W=MCL
- سود: خالص سود + خطرات + دشواری + حساب کتاب = مرکب سود
- کینز کا نظریہ سود: زرِ طلب (لین دین، کاروباری، ناگہانی، تخمینی) = زرِ رسد پر توازنی شرحِ سود
- منافع: خالص منافع بمقابلہ مرکب منافع (6 اضافی اجزا)؛ منافع غیر معین، سود معین
امتحانی نکات
- چاروں عاملین کے معاوضے اور ان کی تعریفیں (خصوصاً حوالہ جاتی شخصیات کے نام) از بر یاد رکھیں
- ریکارڈو کے نظریہ لگان کا گوشوارہ اور لگان نکالنے کا طریقہ (کل پیداوار − کل مصارف) مشق کریں
- حقیقی اجرت کے 9 عوامل کی فہرست ترتیب سے یاد رکھیں
- نظریہ مختتم پیداواری کا گوشوارہ اور MRPL=W کی شرط اچھی طرح سمجھیں
- کینز کے نظریہ سود میں زر کی طلب کی چار اقسام اور ان کا آمدنی/شرحِ سود سے تعلق واضح رکھیں
- منافع اور سود کے فرق کے چھ نکات الگ الگ یاد رکھیں، امتحان میں اکثر پوچھے جاتے ہیں