معاشیات اول سال باب 8: پیمانہ پیدائش اور قوانین حاصل

کاروبار کا پیمانہ پیدائش اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اشیا چھوٹے (صغیر) پیمانے پر تیار کی جائیں یا بڑے (کبیر) پیمانے پر۔ اس فیصلے پر مالی وسائل، طریق پیدائش، منڈی کی وسعت، آجر کی قابلیت اور ذرائع آمدورفت جیسے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس باب میں پیمانہ پیدائش کے تعین کے عوامل، اندرونی و بیرونی کفائتیں، وسیع اور چھوٹے پیمانہ پیدائش کے فوائد و نقصانات، اور پیدائش کے تین بنیادی قوانین — قانونِ تکثیرِ حاصل، قانونِ یکسانی حاصل، قانونِ تقلیلِ حاصل — نیز قانونِ متغیر تناسبات پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔

تعلیمی مقاصد

  • پیمانہ پیدائش کے تعین کے عوامل بیان کرنا
  • اندرونی اور بیرونی کفائتوں میں فرق کرنا
  • وسیع اور چھوٹے پیمانہ پیدائش کے فوائد اور نقصانات کا موازنہ کرنا
  • قانونِ تکثیرِ حاصل، قانونِ یکسانی حاصل اور قانونِ تقلیلِ حاصل کی گوشوارے اور خاکے کی مدد سے وضاحت کرنا
  • قوانینِ حاصل کو قوانینِ مصارف کے تناظر میں سمجھنا
  • قانونِ متغیر تناسبات کے تین مراحل بیان کرنا

کلیدی تصورات

پیمانہ پیدائش کے تعین کے عوامل (Determinants of Scale of Production)

کسی کاروبار کا پیمانہ پیدائش — چھوٹا (صغیر) ہو یا بڑا (کبیر) — درج ذیل پانچ عوامل سے متعین ہوتا ہے:

(۱) مالی ذرائع — وافر سرمائے والا آجر جدید مشینری خرید کر بڑے پیمانے پر پیداوار کر سکتا ہے، جبکہ محدود وسائل والا آجر چھوٹے پیمانے تک محدود رہتا ہے۔ (۲) طریق پیدائش — جدید تکنیک سے پیمانہ وسیع اور روایتی طریقوں سے پیمانہ محدود رہتا ہے۔ (۳) منڈی کی وسعت — بین الاقوامی منڈی کے لیے بڑے پیمانے پر اور مقامی منڈی کے لیے چھوٹے پیمانے پر پیداوار کی جاتی ہے (مثلاً کاریں بمقابلہ آئس کریم)۔ (۴) آجر کی قابلیت — دانشمند اور جری آجر بڑے پیمانے پر کاروبار کر سکتا ہے۔ (۵) نقل و حمل کی سہولتیں — سستی اور آسان ترسیل سے پیمانہ وسیع ہو جاتا ہے۔

اندرونی کفائتیں (Internal Economies)

اندرونی کفائتیں وہ فائدے ہیں جو کسی مخصوص کاروبار یا فرم کے ساتھ ہی منسوب ہوتے ہیں اور دوسرے کاروبار ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ ان کی پانچ اہم اقسام ہیں:

(۱) فنی/تکنیکی کفائتیں — جدید آلات و مشینوں سے مصارف پیدائش میں کمی۔ (۲) انتظامی کفائتیں — انتظامی امور میں تخصیص سے استعداد کار بہتر اور اخراجات یکساں رہنا۔ (۳) مالی کفائتیں — آسان شرائط پر قرضے اور سرمائے کی سہولت۔ (۴) تجارتی کفائتیں — سستا خام مال اور منافع بخش منڈی میں فروخت کی سہولت۔ (۵) خطرات برداشت کرنے میں کفائتیں — بڑے پیمانے کا کاروبار نقصان برداشت کرنے کی زیادہ سکت رکھتا ہے۔

بیرونی کفائتیں (External Economies)

بیرونی کفائتیں کسی خاص فرم کے لیے مخصوص نہیں ہوتیں بلکہ علاقے میں موجود تمام کاروباری اداروں کو یکساں فائدہ پہنچاتی ہیں۔ ان کی پانچ اہم اقسام ہیں:

(۱) امدادی صنعتوں کا قیام — مرکزی صنعت کے ارد گرد معاون صنعتیں قائم ہو جانا (مثلاً کپڑا صنعت کے ساتھ دھاگہ و رنگ کی صنعتیں)۔ (۲) نقل و حمل کی سہولتیں — سڑکوں اور ریلوے کے جال سے مصارف میں کمی۔ (۳) بینکاری کی سہولتیں — مالیاتی اداروں کی شاخیں کھلنے سے سستا سرمایہ میسر آنا۔ (۴) ریسرچ کی سہولتیں — تحقیقی ادارے اور لیبارٹریاں قائم ہونے سے نئے طریقِ پیدائش دریافت ہونا۔ (۵) مرمت گاہوں کی سہولتیں — مشینری کی بروقت مرمت سے پیداواری عمل جاری رہنا۔

وسیع (کبیر) پیمانہ پیدائش کے فوائد و نقصانات (Large Scale Production)

فوائد: خرید و فروخت میں کفائت؛ صحت و ہنر مندی میں کفائت (تقسیمِ کار)؛ جدید مشینری کا استعمال؛ معین مصارف میں کفائت؛ فالتو مواد کا مفید استعمال؛ تحقیق و تجربہ؛ مقابلے کی صلاحیت؛ نشرو اشاعت کی سہولت؛ قرضے کی سہولت؛ حکومتی اعانت؛ اپنی مرمت گاہیں۔

نقصانات: کاروباری معاملات سے عدم توجہی؛ ذاتی تعلقات کا فقدان؛ زائد پیداوار کا خطرہ؛ اجارہ داری کا قیام؛ غیر ملکی منڈیوں پر انحصار؛ سخت مقابلہ؛ مزدوروں کی تخلیقی صلاحیتوں کا دب جانا؛ حادثات کا زیادہ امکان۔

چھوٹا (صغیر) پیمانہ پیدائش کے فوائد و نقصانات (Small Scale Production)

فوائد: ذاتی دلچسپی اور کنٹرول؛ صارفین کی پسند کا خیال؛ خود مختاری؛ طلب کے مطابق پیداوار (زائد پیداوار کا خطرہ نہیں)؛ بلا تاخیر فیصلے؛ مالک اور مزدور کے درمیان مضبوط رابطہ؛ مختلف النوع اشیا کی تیاری۔

نقصانات: اندرونی و بیرونی کفائتوں سے محرومی؛ تقسیمِ کار کی عدم موجودگی؛ سرمائے کی کمی؛ ناقص و پرانا طریقِ پیدائش؛ خرید و فروخت میں نقصان (مہنگا خام مال، کم منافع)؛ ضمنی پیداوار کا ضیاع؛ تحقیق و تجربہ کا فقدان۔

قوانینِ پیدائش کا تعارف اور قانونِ تکثیرِ حاصل (Introduction & Law of Increasing Returns)

عاملین پیدائش میں زمین اور تنظیم عموماً معین (Fixed) رہتے ہیں جبکہ محنت اور سرمایہ متغیر (Variable) عاملین کہلاتے ہیں۔ جب معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی اکائیاں بڑھائی جاتی ہیں تو تین مراحل سامنے آتے ہیں: قانونِ تکثیرِ حاصل، قانونِ یکسانی حاصل، اور قانونِ تقلیلِ حاصل۔

پروفیسر بینہم (Prof. Benham) کے مطابق جب متحرک متغیر عوامل بڑھائے جائیں اور مختتم پیداوار میں اضافہ ہوتا رہے تو قانونِ تکثیرِ حاصل کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے گوشوارے میں (زمین 15 ایکڑ معین، محنت و سرمایہ کی 1 تا 5 اکائیاں) کل پیداوار 5، 15، 30، 50، 75 کلوگرام اور مختتم پیداوار 5، 10، 15، 20، 25 کلوگرام رہی — یعنی ہر اضافی اکائی سے مختتم پیداوار بڑھتی چلی گئی جبکہ فی اکائی مختتم مصارف (100 روپے کو مختتم پیداوار پر تقسیم کر کے) مسلسل کم ہوتے گئے (20، 10، 6.6، 5، 4 روپے)۔ اسی لیے اسے قانونِ تقلیلِ مصارف بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مفروضات ہیں: طریقِ پیدائش میں تبدیلی نہ ہو، معین عامل ناقابلِ تقسیم ہو، متغیر و معین عاملین کا بہترین اشتراک ہو، اور پیداواری عمل میں انسانی عمل دخل زیادہ ہو۔ یہ قانون بالخصوص صنعت کے شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔

قانونِ یکسانی یا استقرارِ حاصل (Law of Constant Returns)

قانونِ یکسانی حاصل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں قانونِ تکثیرِ حاصل ختم ہوتا ہے — یعنی جب عاملینِ پیدائش اپنے بہترین اشتراک تک پہنچ چکے ہوں۔ اگر متغیر عاملین کی مزید اکائیاں لگانے کے باوجود مختتم پیداوار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو یہ قانونِ یکسانی حاصل کہلاتا ہے۔ مثال کے گوشوارے میں ہر اکائی پر مختتم پیداوار 25 کلوگرام اور مختتم مصارف 4 روپے یکساں رہتے ہیں۔ اسی لیے اسے قانونِ یکسانی مصارف بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا اطلاق عموماً ان صنعتوں پر ہوتا ہے جہاں قدرت اور انسانی محنت کو برابر عمل دخل حاصل ہو، مثلاً گھریلو دستکاریاں۔

قانونِ تقلیلِ حاصل (Law of Diminishing Returns)

قانونِ تقلیلِ حاصل ایک عالمگیر قانون ہے۔ جب معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی زائد اکائیاں لگائی جائیں تو ایک حد کے بعد ہر زائد اکائی پہلے سے کم پیداوار دیتی ہے۔ جے ایس مل نے اس قانون کو ربڑ سے تشبیہ دی — ربڑ کو ایک حد تک کھینچا جا سکتا ہے، اس کے بعد مزید کھنچاؤ ممکن نہیں رہتا۔ مثال کے گوشوارے میں مختتم پیداوار 25، 20، 15، 10، 5 کلوگرام تک گرتی چلی گئی جبکہ مختتم مصارف 4، 5، 6.6، 10، 20 روپے تک بڑھتے گئے — اسی لیے اسے قانونِ تکثیرِ مصارف بھی کہا جاتا ہے۔ نفاذ کی وجوہات: عاملینِ پیدائش کا غلط ملاپ، معین عامل کی کمیابی، اور عاملین کا ایک دوسرے کا مکمل نعم البدل نہ ہونا۔ استثنیات: جدید طریقِ پیدائش اپنانے یا نئی زمین زیرِ کاشت لانے سے یہ قانون وقتی طور پر معطل ہو سکتا ہے۔ یہ قانون بالخصوص زراعت، جنگلات، ماہی گیری اور مرغی بانی پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ یہ شعبے قدرتی عوامل پر زیادہ منحصر ہیں۔

قوانینِ حاصل بحیثیت قوانینِ مصارف (Laws of Returns as Laws of Cost)

تینوں قوانین ایک ہی پیداواری عمل کے تین لگاتار مراحل ہیں۔ مثال کے مشترکہ گوشوارے میں (8 اکائیاں تک) پہلی سے تیسری اکائی تک مختتم پیداوار بڑھتی ہے (قانونِ تکثیرِ حاصل/تقلیلِ مصارف)، چوتھی اور پانچویں اکائی پر مختتم پیداوار یکساں (20 کلوگرام) رہتی ہے (قانونِ یکسانی حاصل/مصارف)، اور چھٹی سے آٹھویں اکائی تک مختتم پیداوار گرتی چلی جاتی ہے (قانونِ تقلیلِ حاصل/تکثیرِ مصارف)۔ اس طرح پیداوار کے بڑھنے، ٹھہرنے اور گرنے کے ساتھ ساتھ مصارف بالترتیب کم ہونے، یکساں رہنے اور بڑھنے کا رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔

قانونِ متغیر تناسبات (Law of Variable Proportions)

یہ قانون ڈبلیو جے ریان نے پیش کیا۔ اس کے مطابق معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی اکائیاں بڑھانے سے پہلے پیداوار میں اضافہ متغیر اکائیوں کی نسبت زیادہ تیزی سے ہوتا ہے، پھر یکساں رفتار سے، اور آخر میں کم رفتار سے — یہاں تک کہ مختتم پیداوار منفی بھی ہو سکتی ہے۔ کیرن کراس کے مطابق زمین کے ایک ٹکڑے پر محنت و سرمائے کی اکائیاں لگاتے چلے جانے سے مختتم پیداوار میں اضافہ اسی نسبت سے کم ہوتا چلا جاتا ہے۔

تین مراحل: پہلا مرحلہ (تیز رفتاری) — کل اور اوسط پیداوار بڑھتی ہیں، قانونِ تکثیرِ حاصل لاگو ہوتا ہے۔ دوسرا مرحلہ (یکساں سے ست رفتاری) — مختتم پیداوار گرنا شروع ہو جاتی ہے، قانونِ تقلیلِ حاصل لاگو ہوتا ہے۔ تیسرا مرحلہ (منفی حاصل) — کل پیداوار بھی گرنے لگتی ہے اور مختتم پیداوار منفی ہو جاتی ہے۔ مفروضات: فنِ پیدائش میں تبدیلی نہ ہو، تمام عاملین کی نقل پذیری و استعداد کار یکساں ہو، اور ایک عامل معین جبکہ دیگر متغیر ہوں۔

اہم تعریفات

پیمانہ پیدائش سے کیا مراد ہے؟

کسی کاروبار کی جسامت یا وسعت جس کی بنیاد پر اشیا چھوٹے یا بڑے پیمانے پر تیار کی جاتی ہیں، پیمانہ پیدائش کہلاتی ہے۔

اندرونی کفائتوں کی تعریف کریں۔

ایسی کفائتیں جو کسی خاص کاروبار یا فرم کے ساتھ منسوب ہوں اور دوسرے کاروبار ان سے استفادہ نہ کر سکیں۔

بیرونی کفائتوں کی تعریف کریں۔

ایسی کفائتیں جو کسی خاص فرم کے لیے مخصوص نہ ہوں بلکہ علاقے میں موجود تمام فرموں کو یکساں فائدہ پہنچائیں۔

قانونِ تکثیرِ حاصل کی تعریف کریں۔

جب کسی معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی اکائیاں بڑھانے سے ہر زائد اکائی سے مختتم پیداوار بڑھتی چلی جائے تو اسے قانونِ تکثیرِ حاصل کہتے ہیں۔

قانونِ یکسانی حاصل کی تعریف کریں۔

جب متغیر عاملین کی مزید اکائیاں لگانے کے باوجود مختتم پیداوار میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو اسے قانونِ یکسانی حاصل کہتے ہیں۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کی تعریف کریں۔

جب معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی زائد اکائیاں لگانے سے ہر زائد اکائی پہلے سے کم پیداوار دے تو اسے قانونِ تقلیلِ حاصل کہتے ہیں۔

قانونِ متغیر تناسبات کی تعریف کریں۔

معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی اکائیاں بڑھانے سے پیداوار میں اضافے کی شرح پہلے تیز، پھر یکساں اور آخر میں کم ہو جانے کے رجحان کو قانونِ متغیر تناسبات کہتے ہیں۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کو ربڑ سے کس نے تشبیہ دی؟

جے ایس مل (J.S. Mill) نے قانونِ تقلیلِ حاصل کو ربڑ سے تشبیہ دی، کیونکہ ربڑ کو ایک حد تک ہی کھینچا جا سکتا ہے۔

اہم فارمولے اور گوشوارے

عنوانخلاصہ
قانونِ تکثیرِ حاصل کا گوشوارہاکائیاں 1-5 → مختتم پیداوار 5,10,15,20,25 (بڑھتی ہوئی)؛ مختتم مصارف 20,10,6.6,5,4 روپے (کم ہوتے)
قانونِ یکسانی حاصل کا گوشوارہاکائیاں 1-5 → مختتم پیداوار ہر بار 25 کلوگرام یکساں؛ مختتم مصارف ہر بار 4 روپے یکساں
قانونِ تقلیلِ حاصل کا گوشوارہاکائیاں 1-5 → مختتم پیداوار 25,20,15,10,5 (گھٹتی ہوئی)؛ مختتم مصارف 4,5,6.6,10,20 روپے (بڑھتے)
متبادل نامتکثیرِ حاصل = تقلیلِ مصارف؛ یکسانی حاصل = یکسانی مصارف؛ تقلیلِ حاصل = تکثیرِ مصارف

خاکہ جات و تصاویر

پیمانہ پیدائش کے تعین کے عوامل اور کفائتوں کا خاکہ: پانچ تعین کنندہ عوامل اور اندرونی/بیرونی کفائتوں کی اقسام

پیمانہ پیدائش کے تعین کے عوامل اور اندرونی بیرونی کفائتیں

تینوں قوانینِ حاصل کا مشترکہ خاکہ: مختتم پیداوار کے بڑھنے، یکساں رہنے اور گرنے کے تین مراحل — تکثیرِ حاصل، یکسانی حاصل، تقلیلِ حاصل

تینوں قوانین حاصل کا مشترکہ خاکہ

قانونِ متغیر تناسبات کا خاکہ: کل، اوسط اور مختتم پیداوار کے تین مراحل — تیز رفتاری، یکساں/ست رفتاری اور منفی حاصل

قانون متغیر تناسبات کا خاکہ

مختصر سوالات و جوابات

پیمانہ پیدائش کے تعین کے کوئی تین عوامل بیان کریں۔

مالی ذرائع، طریقِ پیدائش، اور منڈی کی وسعت۔

اندرونی اور بیرونی کفائتوں میں بنیادی فرق کیا ہے؟

اندرونی کفائتیں کسی خاص فرم سے مخصوص ہوتی ہیں جبکہ بیرونی کفائتیں علاقے کی تمام فرموں کو یکساں فائدہ دیتی ہیں۔

بڑے پیمانہ پیدائش کا کوئی ایک نقصان بیان کریں۔

اجارہ داری قائم ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔

قانونِ تکثیرِ حاصل کو قانونِ تقلیلِ مصارف کیوں کہا جاتا ہے؟

کیونکہ پیداوار بڑھنے کے ساتھ ساتھ فی اکائی مصارف مسلسل کم ہوتے جاتے ہیں۔

قانونِ یکسانی حاصل کہاں لاگو ہوتا ہے؟

عموماً گھریلو دستکاریوں پر جہاں قدرت اور انسانی محنت کو برابر عمل دخل حاصل ہو۔

قانونِ تقلیلِ حاصل زراعت پر زیادہ کیوں لاگو ہوتا ہے؟

کیونکہ زراعت زیادہ تر قدرتی حالات پر منحصر ہے اور زمین کی زرخیزی محدود ہے۔

قانونِ متغیر تناسبات کے تین مراحل کیا ہیں؟

تیز رفتاری کا مرحلہ، یکساں/ست رفتاری کا مرحلہ، اور منفی حاصل کا مرحلہ۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کی کوئی دو استثنیات بیان کریں۔

جدید طریقِ پیدائش اپنانا اور نئی زمین زیرِ کاشت لانا۔

تفصیلی سوالات و جوابات

پیمانہ پیدائش کے تعین کرنے والے عوامل تفصیل سے بیان کریں۔

پیمانہ پیدائش پانچ عوامل سے متعین ہوتا ہے: مالی ذرائع (وافر سرمائے سے بڑا پیمانہ ممکن)، طریقِ پیدائش (جدید تکنیک سے وسیع پیمانہ)، منڈی کی وسعت (بین الاقوامی طلب پر بڑا پیمانہ)، آجر کی قابلیت (باصلاحیت آجر بڑا کاروبار چلا سکتا ہے) اور نقل و حمل کی سہولتیں (سستی ترسیل سے پیمانہ بڑھتا ہے)۔

وسیع پیمانہ پیدائش کے فوائد اور نقصانات بیان کریں۔

وسیع پیمانہ پیدائش کے فوائد میں خرید و فروخت میں کفائت، تقسیمِ کار کے فوائد، جدید مشینری کا استعمال، فالتو مواد کا استعمال، تحقیق و تجربہ، مقابلے کی صلاحیت، اشتہار بازی، قرضے کی سہولت اور حکومتی اعانت شامل ہیں۔ اس کے نقصانات میں کاروباری امور سے عدم توجہی، ذاتی تعلقات کا فقدان، زائد پیداوار، اجارہ داری کا خطرہ، غیر ملکی منڈیوں پر انحصار اور سخت مقابلہ شامل ہیں۔

قانونِ تکثیرِ حاصل کی وضاحت گوشوارے کی مدد سے کریں۔

قانونِ تکثیرِ حاصل کے مطابق معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی اکائیاں بڑھانے سے مختتم پیداوار مسلسل بڑھتی جاتی ہے۔ مثال کے گوشوارے میں 5 اکائیوں پر مختتم پیداوار 5، 10، 15، 20، 25 کلوگرام رہی جبکہ مختتم مصارف 20 سے کم ہو کر 4 روپے تک آ گئے۔ اسی لیے اسے قانونِ تقلیلِ مصارف بھی کہا جاتا ہے، اور یہ بالخصوص صنعت کے شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔

قانونِ تقلیلِ حاصل سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کریں اور بتائیں کہ یہ کس شعبے پر زیادہ لاگو ہوتا ہے۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کے مطابق معین عامل کے ساتھ متغیر عاملین کی زائد اکائیاں لگانے سے ایک حد کے بعد ہر زائد اکائی پہلے سے کم پیداوار دیتی ہے۔ جے ایس مل نے اسے ربڑ سے تشبیہ دی۔ مثال کے گوشوارے میں مختتم پیداوار 25 سے گر کر 5 کلوگرام تک آ گئی جبکہ مصارف بڑھتے گئے۔ یہ قانون بالخصوص زراعت، جنگلات، ماہی گیری اور مرغی بانی پر لاگو ہوتا ہے کیونکہ یہ شعبے قدرتی حالات پر زیادہ منحصر ہیں۔

معروضی سوالات (MCQs)

پیمانہ پیدائش کے تعین کے کتنے اہم عوامل ہیں؟ (الف) تین (ب) چار (ج) پانچ (د) چھ

درست جواب: (ج) پانچ۔ پیمانہ پیدائش کے تعین کے پانچ اہم عوامل ہیں۔

ایسی کفائتیں جو صرف ایک مخصوص فرم کے ساتھ منسوب ہوں، کیا کہلاتی ہیں؟ (الف) بیرونی کفائتیں (ب) اندرونی کفائتیں (ج) فنی کفائتیں (د) تجارتی کفائتیں

درست جواب: (ب) اندرونی کفائتیں۔ کسی خاص فرم سے مخصوص کفائتیں اندرونی کفائتیں کہلاتی ہیں۔

قانونِ تکثیرِ حاصل کا دوسرا نام کیا ہے؟ (الف) قانونِ تکثیرِ مصارف (ب) قانونِ تقلیلِ مصارف (ج) قانونِ یکسانی مصارف (د) قانونِ متغیر تناسبات

درست جواب: (ب) قانونِ تقلیلِ مصارف۔ قانونِ تکثیرِ حاصل کو قانونِ تقلیلِ مصارف بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اخراجات کم ہوتے جاتے ہیں۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کا خط کس طرف رجحان رکھتا ہے؟ (الف) بائیں سے دائیں چڑھتا ہوا (ب) بائیں سے دائیں گرتا ہوا (ج) افقی سیدھی لکیر (د) عمودی لکیر

درست جواب: (ب) بائیں سے دائیں گرتا ہوا۔ قانونِ تقلیلِ حاصل کا خط اوپر سے نیچے، بائیں سے دائیں گرتا ہے۔

قانونِ تقلیلِ حاصل عموماً کس شعبے پر لاگو ہوتا ہے؟ (الف) صنعت (ب) تجارت (ج) زراعت (د) بینکاری

درست جواب: (ج) زراعت۔ قانونِ تقلیلِ حاصل بالخصوص زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں پر لاگو ہوتا ہے۔

قانونِ متغیر تناسبات کس ماہرِ معاشیات نے پیش کیا؟ (الف) جے ایس مل (ب) ڈبلیو جے ریان (ج) پروفیسر بینہم (د) کیرن کراس

درست جواب: (ب) ڈبلیو جے ریان۔ قانونِ متغیر تناسبات ڈبلیو جے ریان نے پیش کیا۔

قانونِ یکسانی حاصل کا دوسرا نام کیا ہے؟ (الف) قانونِ تکثیرِ مصارف (ب) قانونِ تقلیلِ مصارف (ج) قانونِ یکسانی مصارف (د) قانونِ تقلیلِ حاصل

درست جواب: (ج) قانونِ یکسانی مصارف۔ قانونِ یکسانی حاصل کو قانونِ یکسانی مصارف بھی کہا جاتا ہے۔

قانونِ متغیر تناسبات کے تیسرے مرحلے میں مختتم پیداوار کیسی ہوتی ہے؟ (الف) زیادہ (ب) یکساں (ج) صفر (د) منفی

درست جواب: (د) منفی۔ تیسرے مرحلے میں کل پیداوار گرنے لگتی ہے اور مختتم پیداوار منفی ہو جاتی ہے۔

چھوٹے پیمانہ پیدائش کا ایک فائدہ کیا ہے؟ (الف) اجارہ داری (ب) خود مختاری (ج) زائد پیداوار (د) سخت مقابلہ

درست جواب: (ب) خود مختاری۔ چھوٹے پیمانہ پیدائش میں آجر کو اپنے کاروباری معاملات میں خود مختاری حاصل ہوتی ہے۔

قانونِ تقلیلِ حاصل کو جے ایس مل نے کس چیز سے تشبیہ دی؟ (الف) دھاگے سے (ب) ربڑ سے (ج) پانی سے (د) لوہے سے

درست جواب: (ب) ربڑ سے۔ جے ایس مل نے قانونِ تقلیلِ حاصل کو ربڑ سے تشبیہ دی کیونکہ ربڑ ایک حد تک ہی کھینچا جا سکتا ہے۔

تیز نظرثانی خلاصہ

  • پیمانہ پیدائش کے 5 تعین کنندہ عوامل: مالی ذرائع، طریقِ پیدائش، منڈی کی وسعت، آجر کی قابلیت، نقل و حمل
  • اندرونی کفائتیں = خاص فرم تک محدود؛ بیرونی کفائتیں = پورے علاقے کو فائدہ
  • بڑا پیمانہ: کفائتیں زیادہ لیکن اجارہ داری کا خطرہ؛ چھوٹا پیمانہ: خود مختاری لیکن سرمائے کی کمی
  • قانونِ تکثیرِ حاصل = مختتم پیداوار بڑھے = مصارف کم ہوں (تقلیلِ مصارف)
  • قانونِ یکسانی حاصل = مختتم پیداوار یکساں = مصارف یکساں
  • قانونِ تقلیلِ حاصل = مختتم پیداوار گھٹے = مصارف بڑھیں (تکثیرِ مصارف)
  • قانونِ متغیر تناسبات کے 3 مراحل: تیز رفتاری، یکساں/ست رفتاری، منفی حاصل
  • قانونِ تقلیلِ حاصل زراعت پر، قانونِ تکثیرِ حاصل صنعت پر زیادہ لاگو ہوتا ہے

امتحانی نکات

  • تینوں قوانینِ حاصل کے گوشوارے اور ان کے متبادل نام (تقلیلِ/یکسانی/تکثیرِ مصارف) ذہن نشین رکھیں
  • اندرونی اور بیرونی کفائتوں کی مثالیں الگ الگ یاد کریں، امتحان میں فرق پوچھا جاتا ہے
  • بڑے اور چھوٹے پیمانہ پیدائش کے فوائد و نقصانات کا موازنہ جدول بنا کر یاد کریں
  • قانونِ متغیر تناسبات کے گوشوارے میں TP، AP، MP کا رشتہ سمجھیں، عددی سوال ممکن ہے
  • قانونِ تقلیلِ حاصل کے اطلاق اور استثنیات کو الگ الگ یاد رکھیں